تحریر: شوذب عسکری
زیدی شیعہ کون ہیں؟
زیدیہ، معروف شیعہ فرقہ ہے جن کا عقیدہ ہے کہ "حضرت علی، امام حسن اور امام حسین، امام زین العابدین اور ان کے صاحبزادے "زید بن علی" کے بعد امامت کا عہدہ ہر اس فاطمی سید کے لئے قائل ہے جو لوگوں کو اپنی طرف بلائے اور ظاہری طور پر عادل، عالم اور شجاع ہو اور لوگ اس کے ساتھ جہاد کے لئے تلوار اٹھانے کی شرط پر بیعت کریں۔ یہ فرقہ دوسری صدی ہجری کے ابتدائی برسوں (آٹھویں صدی عیسوی) میں شیعیت کے مرکزی دھارے سے جدا ہوا اور دیگر شیعہ مکاتب فکر کے مقابلے میں آ کھڑا ہوا۔ اس فرقے کی خصوصیات یہ ہیں کہ یہ "مسئلۂ حسن و قبح" میں معتزلہ کی طرف مائل ہیں اور دوسرے شیعہ فرقوں کی نسبت اہل سنت سے زيادہ قریب ہیں۔
آج یمن کی تقریبا 45 فیصد آبادی کا تعلق زیدی مذہب سے ہے۔ زیدی شیعہ اس وقت شمالی یمن میں سعودی سرحد کے قریبی علاقوں میں آباد ہیں ۔ یمن میں زیدی مذہب کی بنیاد اور آمد کا آغاز 897ء میں ہوا جب ابو حسین یحییٰ بن حسین بن قاسم رسی (جو "الھادی الی الحق" کے لقب سے مشہور ہیں) حجاز (مدینہ) سے یمن کے شہر صعدہ آئے۔ صعدہ اور یمن کے مختلف قبائل کے درمیان تنازعات تھے، اور وہاں کے لوگوں نے ایک ایسے عادل اور عالم رہنما کی تلاش میں حجاز سے امام یحییٰ بن حسین کو یمن آنے کی دعوت دی۔ امام یحییٰ 897ء میں صعدہ پہنچے، جہاں یمنی قبائل نے ان کی مذہبی اور سیاسی امامت پر بیعت کی۔ انہوں نے صعدہ میں اپنی حکومت کی بنیاد رکھی اور یمن میں زیدی ریاست قائم کی۔ امام یحییٰ کی آمد کے بعد یمن کے شمالی اور پہاڑی علاقوں میں زیدی مسلک جڑ پکڑ گیا، اور ان کی اولاد (سلسلہ رسیہ) نے طویل عرصے تک یمن کے مختلف حصوں پر حکمرانی کی جو 1962 کے عرب نیشنلسٹ انقلاب تک کسی نہ کسی شکل میں قائم رہی۔
زیدی شیعہ سندھ اور ملتان میں
برصغیر پاک و ہند کے وہ علاقے جو پاکستان میں شمار میں ہوتے ہیں یہاں بھی آٹھویں صدی عیسوی کے وسط ہی میں اہل بیت کے بعض حامی اموی خلافت کے مظالم سے بچتے ہوئے سندھ پہنچ گئے تھے۔ ان میں سب سے معروف عبداللہ اشتر علوی تھے، جنہوں نے زیدیہ شیعہ عقیدہ کی تبلیغ کی۔ سندھ کے گورنر عمرو بن حفص اور بعد ازاں ایک ہمسایہ ہندو راجا کی سرپرستی میں وہ 768ء تک اس دعوت کو پھیلاتے رہے، یہاں تک کہ ایک فوجی مہم کے نتیجے میں وہ اور ان کے پیروکار شکست کھا گئے۔
غالب امکان ہے کہ زیدیہ شیعوں کے چھوٹے چھوٹے گروہ سندھ میں اسماعیلی دعوت کے آغاز تک موجود رہے ہوں گے، جو نویں صدی میں سندھ اور جنوبی پنجاب میں پھیلنا شروع ہوئی تھی۔
1005ء میں ملتان کے نزدیک قائم اسماعیلی ریاست کے خاتمے کے بعد شاید اسی زمانے میں اسماعیلیوں اور زیدیوں میں اثنا عشری شیعیت اختیار کرنے کا ایک رجحان شروع ہوا ہو، جو بعد کے زمانے میں وادی سندھ کے دیگر علاقوں تک جا پہنچا۔موجودہ پاکستان میں زیدی شیعہ موجود نہیں ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور حوثی تحریک
موجودہ دنیا انہیں انصار اللہ حوثی تحریک کے نام سے بھی جانتی ہے جنہوں نے رواں سال ستمبر کے ابتدائی دنوں میں حیران کن رفتار سے پیش قدمی کرتے ہوئے سعودی حمایت یافتہ یمنی افواج کو پے درپے شکستیں دیتے ہوئے بحیرہ احمر کی اہم سمندری گزرگاہ باب المندب سے متصل ساحلی شہروں اور اس آبنائے میں واقع جزائر پہ قبضہ کر لیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگی صورتحال اور اسرائیل کی جانب سے خطے میں جارحانہ کاروائیوں کے پس منظر میں یہ واقعہ اپنے آپ میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔
انصار اللہ حوثی تحریک ایران کی حلیف سمجھی جاتی ہے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پہ سمندری تجارت پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے بعد حوثی تحریک کے پاس بحیرہ احمر میں ایسی صلاحیت عالمی تجارت کو ایک بحرانی دور میں مبتلا کر سکتی ہے۔
حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ یہ سمندری رستہ تمام ملکوں کے لئے کھلا ہے سوائے اسرائیل اور سعودی عرب کے، حوثیوں کی جانب سے اسرائیل کے لیے اس گزرگاہ کے استعمال کی پابندی کوئی نئی بات نہیں ہے سال دوہزار چوبیس سے حوثی مسلح حملے بحیرہ احمر میں متعدد بحری جہازوں کو اسرائیلی تجارت سے متعلق ہونے پر نشانہ بنا چکے ہیں۔ اسرائیل اس ناکہ بندی کو ختم کروانے کے لئے حوثیوں پہ متعدد فضائی حملے کر چکا ہے جبکہ حوثیوں نے بھی اسرائیل میں اہم حساس مقامات کو میزائلوں کا نشانہ بنایا ہے۔ گزشتہ اسرائیل اور امریکہ مل کر اکاون دن تک حوثیوں پہ بمباری کرتے رہے مگر پھر ٹرمپ نے اس فوجی آپریشن معطل کردیا۔ اس دوران حوثیوں نے ناصرف متعدد امریکی ریپر ڈرونز مار گرائے بلکہ ان کے ایک میزائل نے امریکی طیارہ بردار جہاز کو نشانہ بنایا۔ اپنے بچاؤ میں جب امریکی طیارہ بردار جہاز نے تیزی سے رخ بدلا تو ایک ایف اٹھارہ جنگی طیارہ عرشے سے پھسل کر سمندر برد ہوگیا۔
اسرائیل کے خلاف حوثیوں کی ناکہ بندی کے سبب بحیرہ احمر پر واقع اسرائیلی بندرہ گاہ ایلات پر آپریشن عملاً معطل ہے۔ اسرائیل کے لیے آنے اور جانے والے بحری جہاز بحیرہ احمر کو استعمال کرنے کی بجائے قرن افریقہ سے گھوم کر آتے ہیں۔
حوثی زیدی تحریک کا آغاز کیسے ہوا؟
نصار اللہ حوثی تحریک کی ابتدا ایک مذہبی تحریک سے ہوئی تھی جس کا مقصد شمالی یمن میں سعودی سرحد کے قریب آباد زیدی مسلک کے لوگوں کی ثقافت اور عقائد کا تحفظ تھا۔ انیس سو نوے کی دہائی میں شمالی و جنوبی یمن کے اتحاد کے بعد بدر الدین حوثی نام کے ایک زیدی مذہبی رہنما نے بڑھتی ہوئی وہابی فکر کے مقابلے میں الشباب المومن کے نام سے مذہبی تحریک شروع کی جسے ان کے بعد ان کے بیٹے حسین بدرالدین حوثی نے جاری رکھا۔
سرد جنگ کے خاتمے اور جنوبی و شمالی یمن کے اتحاد کے بعد یمن پہ علی عبد اللہ الصالح کی آمرانہ حکومت لگ بھگ پچیس سال تک باقی رہی جسے دوہزار گیارہ کے عرب بہار میں گرادیا گیا۔ اس دوران علی عبداللہ صالح نے سعودی عرب نے پناہ دی اور وہ نائب صدر عبدالرب منصور ہادی کو صدارت سونپ کر خود مستعفی ہو گئے۔ وہ دو سال کے لیے اپنے حامیوں اور قبائلیوں کے ہمراہ حوثیوں کے حلیف بن گئے مگر پھر وہ جب حوثیوں کے خلاف لڑائی پہ آمادہ ہوئے تو صنعا میں ایک جھڑپ میں مارے گئے۔ وہ سن اٹھہتر میں شمالی یمن میں ایک فوجی بغاوت کے بعد صدر بنے تھے اور پھر انہوں نے بارہ سال شمالی یمن پہ اپنے حامی قبائل کے ذریعے آمرانہ حکومت کی اور پھر شمالی و جنوبی یمن کے اتحاد کے بعد متحدہ یمن کے صدر بن گئے۔
انصار اللہ کب بنی؟
مذہبی عقائد اور ثقافتی تحفظ کے لئے بنائی گئی شباب المومن سال دوہزار چار میں انصار اللہ حوثی تحریک میں اس وقت تبدیل ہوئی جب حسین بدرالدین الحوثی کو صدر صالح کی حامی افواج نے قتل کردیا۔ آس کے بعد اس تحریک کی قیادت عبدالمالک الحوثی کے ہاتھ میں آئی اور یمن کی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد میں یہ تحریک سال دوہزار نو میں سعودی عرب کے سرحدی علاقوں میں سعودی افواج سے بھی الجھی۔
یمن اور سعودی کی سرحد کے دونوں جانب زیدی یمنی قبائل آباد ہیں۔ صعدہ، الجوف، الحجہ اور امران کے علاقے یمن میں جبکہ نجران، عسیر اور جیزان سعودی حدود میں واقع یمنی زیدی اکثریت رکھتے ہیں۔ جنگ عظیم اول کے بعد جب جدید سعودی ریاست کی تشکیل ہوئی تو یمن کے یہ تاریخی قبائل سرحد کے سبب تقسیم ہو گئے۔ سعودی حوثی کشیدگی میں یہ تاریخ اور بعد ازاں زیدی ثقافت کے تحفظ کی تحریک اختلافات کی بڑی وجوہات ہیں۔
سعودی عرب کے حوثیوں کے ساتھ جنگ کیسے شروع ہوئی؟
سال دوہزار گیارہ میں جب بحرین میں عوامی بغاوت اٹھی اور مقامی اکثریتی شیعہ آبادی نے شاہی خاندان کے خلاف سیاسی اور جمہوری حقوق کی تحریک چلائی تو سعودی شاہی افواج نے منامہ میں مظاہروں کو کچل دیا۔
مبصرین کے مطابق سعودی عرب کو بحرین میں آباد شیعہ آبادی پر ایرانی اثرورسوخ کا خوف تھا۔ یہی خوف سعودی عرب کو یمن میں حوثی تحریک سے بھی تھا جس نے سال دوہزار گیارہ میں شروع ہوئی یمنی خانہ جنگی میں رہتے ہوئے دوہزار چودہ میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس دوران یمن میں اگر حوثیوں کو ایرانی حمایت حاصل تھی تو ایک متحارب گروہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل امارات کے پے رول پہ تھا۔ جبکہ ریاض میں موجود جلاوطن حکومت کی حمایت یافتہ افواج سعودی عسکری اتحاد میں شامل تھیں۔ سال دوہزار پندرہ تک صنعا پہ قبضے کے بعد لگ بھگ ستر فیصد یمنی آبادی حوثیوں کے زیر انتظام علاقے میں آباد تھی جب سعودی عسکری اتحاد نے یمن کا زمینی فضائی اور سمندری محاصرہ شروع کیا۔ اس دوران خوراک ادویات اور زندگی کو درکار دیگر سامان کی ترسیل یمنی عوام کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن گئی۔
دوہزار پندرہ سے دوہزار بائیس تک یمن میں حوثی علاقوں پر لگ بھگ تمام خلیجی افواج نے بمباری کی۔ یورپ امریکہ سے تعلق رکھنے والی اور دیگر معتبر انسانی حقوق تنظیموں نے اس دوران ان حملوں کو جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ۔ برطانوی حکومت نے اس دوران یمن میں انسانیت سوز حملوں پر سعودی افواج کو ایسے اسلحے کی ترسیل روک دی جو ممکنہ طور پر یمنی عوام کے خلاف استعمال ہونا تھا۔ یو این کے اعداد وشمار کے مطابق ان بارہ سالوں میں جنگی کاروائیوں اور محاصرے کے سبب بھوک اور بیماریوں سے تین لاکھ ستر ہزار سے زائد یمنی مارے گئے۔ ان ہلاکتوں میں بچوں کی تعداد گیارہ ہزار ہے۔
حوثیوں کے حملوں میں ایک ہزار کے لگ بھگ سعودی فوجی اہلکار جبکہ متعدد قومیتوں کے حامل ایک سو بیس سویلین مارے گئے ہیں۔
سال دوہزار بائیس سے جولائی دوہزار چھبیس تک حوثیوں اور سعودی حکومت کے درمیان سیز فائر تھا۔ یہ سیز فائر عمان کی حکومت اور یو این کی ثالثی میں ہوا تھا۔
ستمبر کے وسط میں عمان میں ہونے والی گلف ایران ملاقات ملتوی کر دی گئی تھی جس کا مقصد آبنائے ہرمز کے مجوزہ انتظام سے متعلق بات چیت تھی۔ میرے خیال میں یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کاروائی میں مدد کے لئے امریکہ اور گلف ممالک سے انکار کے بعد اب یہ افواہ چونکہ پختہ ہو گئی تھی کہ سعودی ولی عہد نے سینٹکام کے ذریعے اسرائیل سے اس معاملے میں انٹیلی جنس اور دیگر نوعیت کی معاونت مانگی ہے تو ایسی صورتحال میں ایران کے لیے یہ ناقابل قبول تھا کہ وہ کسی ایسی ملاقات میں بیٹھے ۔ بعد ازاں خود سعودی ذرائع نے بھی تصدیق کی بحیرہ احمر میں انصار اللہ حوثی جنگجوؤں کی پیش قدمی کے بعد اس ملاقات کے خواہاں نہیں تھے ۔
سعودی عرب پر حملے کے بعد مذاکرات کی کوششیں
ہم نے دیکھا کہ ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملے کے بعد جب یہاں سے انرجی فراہمی معطل ہوئی تو سعودی عرب نے کہا کہ یہ حملے عراق سے ہوئے ہیں۔ عراق اگرچہ اربعین کے موقع پر سعودی و امریکی اتحاد کے پی ایم یو فورسسز (حشد الشعبی) پر حملوں پر خفگی ظاہر کر چکا تھا، عراقی وزیر اعظم نے سعودی دورہ ملتوی کر رکھا تھا۔ اور یہ امکان بھی تھا کہ پی ایم یو فورسسز شاید سعودیہ سے ان حملوں کا بدلہ بھی لے سکتی ہیں۔ مگر عراق میں اسلامی مزاحمتی فورسسز نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملے کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا ہے۔ عراق نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور اس حملے میں کسی ممکنہ ایرانی تعلق کے پیش نظر ایرانی سرحد تین مقامات سے بند کردی۔ ایران نے بھی عراق کو ان حملوں میں ملوث نامعلوم عناصر کی تلاش میں مدد کی پیشکش کی جسے عراق نے قبول کیا۔ سعودیہ نے اس پیش رفت پہ اعلان کیا کہ وہ اس حملے کے ذمہ داروں کے تعین تک جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اس دوران برکس اجلاس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہم سعودی سے حالت جنگ میں نہیں ہیں اور ہمسایہ عرب ممالک ہمارے بھائی ہیں۔ ہمارا مطالبہ صرف ان ممالک سے امریکی اڈوں کو نکال باہر کرنے کا ہے کیونکہ امریکہ و اسرائیل نے ایران کے خلاف جارحانہ جنگ مسلط کی ہے۔
ایران نے تواتر سے کہا ہے کہ حوثی سعودی مسئلہ ایران کا پیدا کردہ نہیں ہے۔ اور سعودی حوثی تنازع مذاکرات سے ہی حل ہو سکتا ہے۔ جبکہ دوہزار بائیس میں عمان اور یو این کی ثالثی میں ایسے کامیاب مذاکرات پہلے ہو بھی چکے ہیں۔ یمنی عوام کا محاصرہ اجتماعی سزا ہے جسے یو این سمیت بہت سے ادارے ناجائز تصور کرتے ہیں۔
اس سارے پس منظر میں اگر حوثیوں کے خلاف لڑنے کے لئے ترکیہ پاکستان گلف اور امریکہ تک نے سعودی ولی عہد کی خاطر یمنی حوثیوں سے براہ راست لڑائی پہ آمادگی ظاہر نہیں کی تو یہ اطلاعات کہ سعودیہ اسرائیل سے معاونت چاہتا ہے۔ خاصی عجیب سی پیش رفت لگتی ہے۔ اگر ان اطلاعات میں صداقت ہوئی اور سعودی عرب کی جانب سے گلف ایران ملاقات میں شرکت سے انکار کے پیچھے اسرائیلی یا امریکی دباؤ ہوا تو واضح ہے کہ ایران آئندہ بھی ایسی کسی ملاقات میں دلچسپی نہیں رکھے گا۔
اب یہاں یہ خبریں یاد کیجیے۔ عراقی سیکورٹی آپریٹس کے ایک بڑے اہلکار نے اقرار کیا تھا کہ عراقی سرزمین پر غیر ملکی عناصر اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے موجود ہیں۔ وال اسٹریٹ جنرل پہ عراق میں صحرائی نجف میں اسرائیلی فوجی اڈے کی موجودگی کی تفصیلی رپورٹ شائع ہو چکی ہے۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو شاید کسی یوکرینی گروپ کی موجودگی کی بھی بات ہوئی تھی۔
یہاں یہ بھی دھیان میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ صدر ٹرمپ نے آئرلینڈ میں یہ بیان دیا کہ ایسٹ ویسٹ پائپ لائن ہوئے اس حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ ان کا ایک اور بیان اور وہ یہ کہ اُن سے آج ہی عمان میں ہرمز کے انتظام سے متعلق گلف ایران ملاقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا
“ملتے رہیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا”
یہی صدر ٹرمپ عمان پہ بم برسانے کی دھمکی دے چکے ہیں اگر اس نے ایران کے ساتھ ہرمز کا معاہدہ طے کرنے کی کوشش کی تو۔۔۔
یہ ملاقات بظاہر بنیادی طور پر ہرمز نے ہی انتطام سے متعلق بات چیت کے لئے منعقد ہو رہی تھی۔
جنگ میں دھکیلنے کی سازش کے امکانات
ہم نے دیکھا اور بہت معتبر حلقوں سے سُنا کہ ایران میں اسرائیلی انٹیلی جنس عناصر بہت مضبوط رہے ہیں اور اس کا عملی مظاہرہ بارہ روزہ جنگ اور اب چالیس روزہ جنگ میں بھی دیکھا گیا اور جنوری میں عوامی مظاہروں کے دوران بھی دیکھا سُنا گیا۔ ہم نے خلیج میں بھی خاص طور پر یو اے ای کے ساتھ اسرائیل کا انٹیلیجنس تعاون دیکھا۔
اب وہ واقعہ یاد کیجیے جو حوثیوں اور سعودیوں کے درمیان حالیہ جنگ کا باعث بنا۔
شہید آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے سے واپسی پہ ایرانی سویلین طیارہ یمنیوں کو واپس صنعا لا رہا تھا جب اطلاعات آئیں کہ سعودی عسکری اتحاد نے رن وے پر بمباری کی ہے جس کے بعد یہ سویلین جہاز الحدیدہ میں اترنے پر مجبور ہوا تھا۔
یاد کیجیے کہ سعودی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اور کہا تھا کہ ہمیں نہیں علم کہ یہ حملہ کس نے کیا۔ بعد ازاں یہ ذمہ داری سعودی حمایت یافتہ یمنی افواج کی فضائیہ پہ ڈال دی گئی جسے سال دوہزار پندرہ کی جنگ کے بعد حال ہی میں اماراتی اور سعودی افواج نے مضبوط کیا تھا۔
میں یہ مشاہدہ بھی اپنے ذہن میں بہت زور دے کر رکھتا ہوں کہ صنعا ائیر پورٹ پہ جس کسی نے بھی حملہ کروایا تھا اور چین آف کمانڈ بے شک چاہے یو اے ای اور وہاں سے آگے اسرائیل تک ہی کیوں نہ جاتی ہو۔ اس حملے کے بعد ہونے والی حالیہ حوثی پیشقدمیوں نے یہ اسٹرٹیجک کیلکولیشن بالکل غلط ثابت کر دی ہے۔ جس تیزی اور جس اسٹرٹیجک کامیابی سے حوثیوں نے باب المندب پہ قبضہ مضبوط کیا ہے اور جو امریکی و دیگر مغربی جدید اسلحہ ان کے ہاتھ لگا ہے مجھے تو یہ مناظر دیکھ کر پندرہ اگست دوہزار اکیس کا افغانستان یاد آگیا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری لارجر جنگ میں یہ منظرنامہ آئی آر جی سی کے لئے کسی آئیڈیل کی حیثیت رکھتا ہے۔
ہرمز پہ ایرانی ایریا ڈینائل کیپیسیٹی دیکھی جائے اور اب یہی حالت باب المندب پہ بھی ہو تو یہ وہ امکان تھا جس پہ بات تو کی جاتی تھی مگر یہ عملا ہو جائے گا یہ بہت معدوم امکان تھا۔
امریکہ میں آنے والے نومبر میں وسط مدت انتخاب ہے۔ پچھلی چھے مہینے کی جنگ میں تیل کی عالمی قیمت اُس قدر نہیں بڑھی تھی کہ دنیا بھر میں کساد بازاری ہوجاتی۔ اس کی ایک وجہ چین کا تیل کے ریزور کی طرف جا کر عالمی مارکیٹ میں تیل کا فلو برقرار رکھنے کی ایک کوشش بھی تھا۔ اگرچہ ایران نے ہرمز پہ اختیار جما رکھا ہے مگر اس کے باوجود خلیج سے تیل باہر جا رہا تھا اور کسی طرح تیل کی قیمت سو ڈالر سے تجاوز نہیں کر رہی تھی۔ ماہرین کے مطابق ایران یہ چاہتا تھا کہ اب جوں جوں مڈٹرم قریب آئیں تیل کی عالمی قیمت بھی بڑھے اور امریکی میں مقامی صارف کے لیے بھی تیل مہنگا ہو تاکہ ٹرمپ وسط مدت انتخاب ہاریں۔ نیتن یاہو پوری شدت سے اب ایران سے جنگ چاہتے ہیں کیونکہ یہی صورت میں باقی رکھنے کی امید دلاتی ہے۔ انتخاب جیتنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ایران نیتن یاہو کو یہ موقع نہیں دے رھا تھا چاہے وہ جنوبی لبنان میں مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور جنوب میں شیعہ دیہاتوں میں سویلین انفراسٹرکچر تباہ کئے جا رہے ہیں۔
ایران حزب اللہ پہ دباؤ کو برداشت کر رہا تھا مگر نیتن یاہو کو جنگ کا ایکسکیوز نہیں دے رہا تھا۔
اب جب باب المندب پہ حوثی پہنچ گئے ہیں اور جس کسی نے بھی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو ہٹ کیا ہے۔ اس نے لامحالہ ایران کا ایک مقصد ضرور پورا کیا ہے۔ سعودی تیل کی ترسیل میں بندش سے تیل کی قیمت عالمی سطح پہ اور امریکہ میں مزید بڑھ گئی ہے اور اگر یہ صورتحال چند ہفتے برقرار رہتی ہے تو تیل کی قیمت ماہرین کے اندازوں کے مطابق ایک سو پچاس ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایران کے خلاف جنگی اقدام جاری رکھنا امریکی عوام پر ایسا معاشی دباؤ لائے گا کہ یہ جنگ جاری رکھنا بہت مشکل ہوجائے گا۔
یہ شواہد بہت مضبوط ہیں کہ امریکہ و اسرائیل کسی طرح مکہ دفاعی معاہدے کو اس طرح ایکٹیویٹ کروانا چاہتے ہیں کہ عالم اسلام میں آپسی لڑائی چھڑ جائے لہذا اس کے گرد فرقہ وارانہ زبان کا جال بُنا جارہا ہے۔ جب بھی اسے سنی ممالک کا عسکری اتحاد کہا جاتا ہے اسی لمحے اس کے متوازی ایرانی سرپرستی میں قائم مزاحمت کا محور اس کا فوری مخالف محسوس ہوتا ہے۔ ایسے عالم میں اسرائیل میں آئندہ وزارت عظمٰی کے بڑے امیدوار سابق وزیر اعظم نفتالی بینٹ کا بیان کیا کیجیے۔
“ایران کی قیادت میں شیعہ دشمنوں کو شکست دینے کے بعد اسرائیل کو ترکیہ کی قیادت میں بننے والے سنی دشمنوں کو بھی شکست دینا ہو گی۔”
"اے گرفتارِ ابوبکر و علی ہشیار باش"

