Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ
    تما م آرٹیکلز

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    tajziat_adminBy tajziat_adminاکتوبر 22, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔24 Mins Read7 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    تحریر: سید بشارت موسوی تھگسوی

    مقدمہ

    کلامی اور فقہی اختلافات کسی بھی دین یا مذہب میں ایک طبیعی امر ہیں۔ اس سے مراد عالمِ اسلام کے علماء، متکلمین، دانشوروں اور فقہائے کرام کے مابین رائے کا وہ اختلاف ہے جس میں وہ اس امر پر بحث کرتے ہیں کہ کون سا عمل زیادہ بہتر، درست اور حقیقت کے قریب ہے، اور کون سا عقیدہ شریعتِ محمدی کے مطابق ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تمام فقہاء، متکلمین اور علمائے کرام کی بنیادی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ صحیح سند اور حقیقت تک رسائی حاصل کریں، اعمال کو ان کے بہتر طریقے سے رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق بجا لائیں، نیز اس عقیدے کو اختیار کریں جو ان کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیان کردہ ہے۔ اس بہتر اور درست طریقۂ کار کے حصول میں اختیار کی جانے والی مختلف روشوں اور مناہج کے باہمی فرق کی بنیاد پر آراء کا اختلاف سامنے آتا ہے۔اسلام کے آغاز ہی سے یہ اختلاف پیشِ نظر رہا ہے، تاہم رسولِ گرامیِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اس مسئلے کا حل نسبتاً آسان تھا، کیونکہ کسی بھی مشکل یا اختلاف کی صورت میں اہلِ بیت علیہم السلام یا اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کرتے، اور جب حقیقت معلوم ہو جاتی تو اختلافِ رائے کی گنجائش باقی نہ رہتی۔

    دعوتِ اسلام کی غرض سے اصحابِ کرام کا مدینہ منورہ سے باہر مختلف علاقوں میں جانا، قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی کے بعض الفاظ میں متعدد معانی کا احتمال، نیز افراد کی علمی صلاحیت اور استعداد میں تفاوت وغیرہ ایسے عوامل تھے جن کی وجہ سے اجتہاد میں اختلاف کا امکان پیدا ہوا۔ اسی بنا پر متعدد کلامی اور فقہی مذاہب وجود میں آئے اور ان میں سے بہت سے مذاہب وقت گزرنے کے ساتھ ختم بھی ہو گئے۔ تاہم بعض شخصیات کے علمی اور اجتہادی نظریات اس قدر مؤثر اور مستحکم ثابت ہوئے کہ آج تک ان کے پیروکار اور ان کے فتاویٰ کو تسلیم کرنے والے انہی شخصیات سے منسوب فقہی نظریات پر عمل پیرا ہیں۔

    حضرت میر سید محمد نوربخش قدس سرہ کا شمار بھی انہی فقہاء و مجتہدین میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی علمی صلاحیتوں کی بنیاد پر کلامی اور فقہی امور میں واضح اور قابلِ ذکر نظریات پیش کیے۔ ان کے ان نظریات کو قبول کرنے والوں کا ایک باقاعدہ کلامی و فقہی مکتبِ فکر تاریخ میں ان کی طرف منسوب ہو کر معروف ہوا، اور آج بھی ان کے پیروکار آپ کے کلامی نظریات پر مشتمل کتاب ’’رسالہ اعتقادیہ‘‘ کو ایک بنیادی کلامی ماخذ کے طور پر پیش کرتے ہیں، نیز آپ کے فقہی نظریات پر مشتمل کتاب ’’الفقہ الاحوط‘‘ کے مطابق عمل پیرا ہیں۔

    لغوی معنی

    "نوربخشیہ" سید محمد نوربخش سے منسوب ہے۔ لفظ "نوربخش" مصدر ہے، جس کے معنی روشنی اور نور عطا کرنے والے کے ہیں، یا اسمِ فاعل ہے، جس کے معنی ہیں: روشن کرنے والا۔ چنانچہ فارسی لغت میں "نوربخش" کے معنی "روشنی دینے والا" اور "روشنی بخشنے والا" بیان ہوئے ہیں۔ "لغت‌نامہ دہخدا" کے مطابق بھی "نوربخش" کے معنی نور بکھیرنے اور روشنی پھیلانے کے ہیں۔

    یا یہ اسمِ مفعول ہے، جس کے معنی ہیں: روشن کیا گیا اور نور یافتہ۔ چنانچہ خود سید محمد نوربخش کے شاگرد و خلیفہ، اسیری محمد لاہیجی نے بھی اپنے شعر میں اسی معنی کو استعمال کیا ہے:

    آمده از غیب نامش نوربخش

    بود چون خورشید ذاتش نوربخش

    اصطلاحی معنی

    نوربخشیہ، دیگر مذاہب کی طرح، ایک توصیفی اور نسبتی نام ہے۔ اس مذہب کا نام "امامیہ صوفیہ" ہے، جو "نوربخشیہ" کے نام سے معروف ہے۔ مصطفی شیبی اصطلاحِ "نوربخشیہ" کے بارے میں لکھتے ہیں: "نوربخشیہ کا شمار اسلامی مذاہب میں ہوتا ہے۔ 'نوربخشیہ' کی اصطلاح سید محمد نوربخش کے پیروکاروں کے لیے ایک خاص نام بن گئی ہے، نیز یہ ان کی مخصوص طریقت کا نام بھی ہے۔"

    صوفی ملا محمد کے مطابق: نوربخشیہ کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جو سید محمد نوربخش کے علمی، اعتقادی اور فقہی اصول و مبانی کی پیروی کرتے ہیں اور ان کے اجتہادی منہج کو قبول کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کے احکام و معارف کو بلا کم و کاست طالبانِ حق کی رہنمائی کے لیے بیان فرمایا ہے۔

    عربی کی مشہور لغت "المنجد" کے مصنف نوربخشیہ کی تعریف کے حوالے سے یوں رقم طراز ہیں:

    "نوربخش قہستان میں پیدا ہوئے اور ری میں وفات پائے۔ وہ طریقتِ نوربخشیہ کے بانی تھے۔ انہوں نے لوگوں کو بطور ہادی، امام اور خلیفہ ایمان لانے کی دعوت دی۔ انہیں قید کیا گیا، پھر رہا کر دیا گیا۔ ان کی ایک کتاب 'الفقہ الأحوط' ہے، جس میں، بقولِ بعض، انہوں نے ایک ایسا مذہب وضع کیا جو اہلِ سنت اور شیعہ کی تعلیمات کے درمیان ایک متوسط/معتدل مسلک تھا۔" (لوئيس معلوف، المنجد، رومن کیتھولک پریس، بیروت، مادہ "نوربخش")

    تاہم، اس رائے سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ خود میر سید محمد نوربخش نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ شیعہ اور سنی تعلیمات کے مابین کوئی نئی چیز بیان کریں گے، بلکہ ان کا دعویٰ واضح تھا کہ وہ شریعتِ محمدیہ کو کسی کمی بیشی کے بغیر ہوبہو نقل کریں گے۔

    کلامی، فقہی اور عرفانی مکتب

    جیسا کہ بیان ہوا، میر سید محمد نوربخش اپنے زمانے کے عرفانی شاعر، متکلم، عالم، فقیہ اور مجتہد تھے۔ آپ مشہور عالم علامہ ابن فہد حلی (متوفی ۸۴۱ھ) اور سلسلۂ ذہب کے سرخیل خواجہ اسحاق ختلانی (متوفی ۸۲۶ھ) کے شاگرد، اور مشہور عارف و شاعر اور صاحبِ شرحِ گلشن راز، اسیری محمد لاہیجی (متوفی ۹۱۲ھ) کے استاد و مرشد تھے۔ کئی علما و محققین نے ان کے اجتہاد اور کلامی نظریات کو زیرِ بحث لایا ہے۔ ان کے عقائد و نظریات کا دقیق مطالعہ کیا جائے، نیز نوربخشیہ مکتب کی تعلیمات کا کلی جائزہ لیا جائے تو اس مسلک کو تین پہلوؤں سے بیان کیا جا سکتا ہے:

    بعنوانِ مکتبِ کلامی

    عالمِ اسلام کے مشہور کلامی مکاتب، جیسے اشاعرہ، معتزلہ اور امامیہ وغیرہ کے بنیادی عقائد کی روشنی میں سید محمد نوربخش اور نوربخشیوں کے عقائد کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نوربخشی پیروکار کلامی اعتبار سے امامی ہیں، کیونکہ سید محمد نوربخش نے اپنی کلامی کتاب "رسالۂ اعتقادیہ" میں توحید و نبوت کے ساتھ امامت و ولایت پر بھی اعتقاد کو واجب قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ امامت و ولایت کی ابتدا حضرت علی علیہ السلام اور اختتام حضرت امام مہدی علیہ السلام پر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، ان کے نزدیک رسولِ گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کے ساتھ ائمۂ معصومین علیہم السلام کے فرامین، افعال و تقریرات کو بھی بطورِ حجت مانا جاتا ہے، جن کی کئی مثالیں ان کی بنیادی کتابوں میں ملتی ہیں۔

    فقہی مسلک

    جس طرح اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے ہاں مختلف فقہی مذاہب، جیسے حنبلی، شافعی، مالکی، حنفی، جعفری اور زیدی وغیرہ کے ناموں سے موجود ہیں، اسی طرح میر سید محمد نوربخش کے پیروکار اپنے آپ کو "نوربخشی" کے نام سے متعارف کراتے ہیں۔ مسلکِ نوربخشیہ کے پیروکاروں کے ہاں احکام کا سب سے اہم منبع "الفقہ الاحوط" نامی کتاب ہے، جسے حضرت میر سید محمد نوربخش نے قرآنِ مجید، احادیثِ رسولِ خدا، روایاتِ ائمۂ طاہرین، اجماع، عقل اور کشف و شہود کی بنیاد پر تالیف فرمایا ہے۔ (اشراقی، شیخ محمد محسن، ماخذ فقه احوط اور جدید مسائل کا حل) یہ کتاب فقہ کے ۵۳ ابواب پر مشتمل ہے، جو باب الطہارت سے لے کر باب حجب عن الارث تک کے مباحث پر مشتمل ہے۔ مصنف نے تقریباً ہر باب کا آغاز قرآنِ مجید کی آیت یا حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث سے کیا ہے۔ اس کتاب کی اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اختلافی موارد میں اکثر جگہوں پر احتیاطی پہلو کو مدنظر رکھا ہے۔ اس کتاب کا نام "الفقہ الاحوط" رکھنے کے حوالے سے غلام حسن حسنو کے بقول: "احوط مطلب احتیاط اور قابلِ اعتماد کے ہے، کیونکہ مصنف نے بعض مسائل کے بیان کے حد میں بہت زیادہ احتیاط سے کام لیا ہے، بلکہ ان کا یہ کہنا ہے کہ جس مسئلے کے بارے میں امت میں اتفاق نہ پایا جاتا ہو، اس کے بارے میں دو ٹوک موقف اختیار نہیں کرنا چاہیے اور کسی ایک پہلو پر ضد کرنا درست نہیں۔" جبکہ اعجاز حسین غریبی کے بقول: "احوط کے معنی مکمل احاطہ کیے ہوئے کے آتے ہیں، لہٰذا فقہ احوط کے استنباط کا ماخذ قرآنِ مجید، افعال، اقوال و تقریراتِ نبوی و ائمۂ اہلِ بیت، حکمِ عقل اور کشف و شہود سے ماوراء نہیں۔ اس لیے اس کا نام فقہ احوط رکھا گیا ہے۔" (غریبی، اعجاز حسین، مقدمہ فقہ احوط اردو، ص ۱۵)بہرحال، خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس کتاب کا نام خود مصنف نے نہیں رکھا ہے، بعد میں محققین نے اس کے مطالب کے پیشِ نظر اسے "فقہ احوط" کا نام دیا ہے۔

    عرفانی سلسلہ

    کلامی اور فقہی نظریات کے ساتھ ساتھ نوربخشیت کا ایک اور اہم امتیاز تصوف و عرفان کے سلسلے سے منسلک ہونا ہے۔ عالمِ اسلام میں جس طرح بہت سارے تصوف و عرفان کے سلسلے موجود ہیں، انہی میں سے "سلسلۂ ذہب" کو اُمّ السلاسل کہا جاتا ہے اور نوربخشی پیروکار اسی سلسلے سے متصل ہیں۔ یہ سلسلہ حضرت امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام کے شاگرد شیخ معروف کرخی (متوفی ۲۰۰ھ) سے چلا ہے اور شیخ جنید بغدادی، شیخ نجم الدین کبریٰ، شیخ علاءالدولہ سمنانی اور شاہ ہمدان میر سید علی ہمدانی جیسے بزرگ اس سلسلے کے اقطاب میں شمار ہوتے ہیں۔

    معاصر عالم علامہ محمد بشیر (متوفی ۲۰۱۶ء) نوربخشیہ کی جامع تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "ہم نوربخشیوں کا تعلق ان رنگین گروہوں سے نہیں جو صوفیائے کرام کا لبادہ اوڑھ کر اسلامی تعلیمات مسخ کرتے رہے ہیں۔ ہم نوربخشی تو صحیح معنوں میں حقیقی صوفیوں کے طریقے پر چلنے والے ہیں۔ ہمارا سلسلہ کسی قسم کے انقطاع کے بغیر چہاردہ معصومین علیہم السلام سے متصل ہے۔ ہم طریقۂ اعتدال کے راہی ہیں۔ ہم نوربخشی وہ حقیقی شیعہ ہیں جن کو روحانیت چہاردہ معصومین علیہم السلام سے ورثہ میں ملی ہے۔ جناب سید العارفین شاہ سید محمد نوربخش کی جملہ تعلیمات اور نظریات چہاردہ معصومین علیہم السلام کی تعلیمات کا آئینہ دار ہیں۔"

    موجودہ آبادی

    گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کی اکثریت نوربخشی براردی کی ہے جبکہ دیگر اضلاع شگر، سکردو اور کھرمنگ میں بھی نوربخشی آباد ہیںسکردو شہر میں نوربخشی آبادی کے لیے مساجد، خانقاہ، مدراس، مراکز موجود ہیں ۔بلتستان سے تعلیم، روزگار اور کاروبار کے سلسلے میں ہجرت کر پاکستان کے دیگر شہروں میں آنے والے نوربخشی اس وقت اسلام آباد، کراچی،کوئٹہ، لاہور، فیصل آباد، پشاور، راولپنڈی اور گلگت میں بھی ہزاروں کی تعداد میں بستے ہیں۔ یوں پاکستان میں اس وقت کم و بیش تین سے چار لاکھ نوربخشی آبادی بستے ہیں۔ ہندوستان کے اضلاع لداخ اور بغدانگ میں بھی نوربخشی کافی تعداد میں موجود ہیں۔ بلتستان یا لداخ سے بیرون ملک ہجرت کرے مختلف ممالک میں مقیم نوربخشی خلیجی ممالک، یورپ اور امریکہ میں بھی آباد ہو چکے ہیں۔

    امتیازی خصوصیت

    مسلکِ نوربخشیہ کی نمایاں اور امتیازی خصوصیات میں اتحادِ بین المسلمین اور وحدتِ امت کی تاکید اور اس کے عملی فروغ کی کوشش بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی فکری بنیاد میر سید محمد نوربخش کے منہجِ ’’رفعِ اختلاف‘‘ میں نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے اپنی بنیادی فقہی تصنیف ’’الفقہ الاحوط‘‘ کے دیباچے ہی میں اپنے اساسی مقصد کو امتِ محمدی کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کے ازالے سے تعبیر کیا ہے۔ ان کے دعوے کے مطابق، انہیں امتِ محمدی کے درمیان اختلافات کے خاتمے کے لیے مامور کیا گیا تھا۔ چنانچہ وہ رقم طراز ہیں:اَوَّلاً فِی الْفُرُوْعِ …. وَثَانِیًا فِی الْاُصُوْلِ مِنْ بَیْنِ الْاُمَمِ۔(الفقہ الاحوط، مقدمہ)یعنی: ’’پہلے فروع میں۔۔۔ اور دوسرے، اصول میں امت کے درمیان [پائے جانے والے اختلافات کے خاتمے کے لیے۔‘‘اسی منہج کے تحت میر سید محمد نوربخش نے پہلے فروعی اختلافات کے ازالے اور ایک متفق علیہ فقہی نظام کی تشکیل کی غرض سے ’’الفقہ الاحوط‘‘ تصنیف فرمائی، جبکہ اصولی و اعتقادی اختلافات کے ازالے کے لیے ’’کتاب الاعتقادیہ‘‘ کی تدوین کی۔ اس طرح ان کی علمی و اصلاحی کاوشوں میں فقہی اور اعتقادی دونوں سطحوں پر اتحاد و اتفاق کے قیام کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔

    اسی فکری تسلسل میں میر سید محمد نوربخش نے تکفیر کی بھی سختی سے تردید کی۔ ان کے نزدیک ہر وہ شخص مسلمان ہے جو قبلہ رُخ ہو کر نماز ادا کرتا ہے۔ مزید برآں، محض اس بنا پر کسی شخص کو کافر قرار دینا کہ اس کا عقیدہ کسی دوسرے شخص کے عقیدے سے مختلف یا متصادم ہے، ان کے نزدیک جہالت کے مترادف ہے۔ (الفقہ الاحوط، باب الصلوٰۃ) اس موقف سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے ہاں دائرۂ اسلام کو وسعت دینا، اختلافِ رائے کو برداشت کرنا اور باہمی تکفیر سے اجتناب کرنا مذہبی و معاشرتی نظم کے اہم اصولوں میں شمار ہوتا ہے۔

    مسلکِ نوربخشیہ کی تاریخی روایت کے مطالعے سے یہ امر بھی سامنے آتا ہے کہ اس کے پیروکاروں نے اپنے مجتہد و فقیہ کے اس تصور کو محض نظری حد تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے اپنی اجتماعی اور معاشرتی زندگی میں بھی نمایاں طور پر ملحوظ رکھا۔ چنانچہ آج بھی وہ کسی کلمہ گو کی تکفیر کو اپنی مذہبی تعلیمات کے منافی سمجھتے ہیں اور تمام مسالک و مذاہب کے ساتھ رواداری، الفت و محبت، باہمی احترام اور امن و آشتی کے ساتھ زندگی گزارنے کو اپنی مذہبی شناخت کا حصہ تصور کرتے ہیں۔

    اس طرزِ فکر کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ نوربخشی اکثریتی آبادی والا علاقہ یعنی ضلع گنگچھےمیں مذہبی و مسلکی تنوع کے باوجود باہمی تعاون، رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کی روایت کو اہمیت حاصل رہی ہے۔ آج بھی مملکتِ پاکستان کا وہ ضلع جہاں نوربخشی تقریباً 95 فیصد آباد ہیں، بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، وہاں جرائم کی شرح صفر ہے اور مقامی تھانوں میں جھگڑے، فساد اور قتل و غارت گری کے حوالے سے کسی قسم کی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی۔

    ملکی اداروں میں نوربخشی نمائندگی

    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف ادیان، مذاہب، مسالک اور مکاتبِ فکر کے پیروکار آباد ہیں۔ اس تنوع کے باوجود اس ملک کا ایک نمایاں حسن یہ ہے کہ مختلف عقائد و نظریات سے وابستہ ہونے کے باوجود اس کے باشندے ایک مشترکہ آئینی و قومی شناخت کے رشتے میں منسلک ہو کر یک جان و یک دل زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہی عقیدتی و نظریاتی تنوع اگر ملکی و ریاستی اداروں میں مناسب اور متوازن نمائندگی کے ذریعے قومی وحدت و اتحاد کے لیے بروئے کار لایا جائے تو معاشرے میں باہمی اعتماد اور یکجہتی کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ جب کسی قومی یا اجتماعی مسئلے کا سامنا ہو تو تمام مسالک و مکاتبِ فکر کے نمائندوں سے مشاورت کے ذریعے ایک متفقہ اور مشترکہ حل تلاش کیا جا سکتا ہے اور یوں مختلف نوعیت کے بحرانوں سے باہمی تعاون کے ساتھ نکلا جا سکتا ہے۔

    تاہم، اس تناظر میں ایک اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ہمارے ملک میں آباد تمام مسالک و مکاتبِ فکر کو ان قومی و ریاستی اداروں میں مناسب نمائندگی حاصل ہے، یا ان اداروں کی رکنیت صرف چند معروف اور مخصوص طبقات تک محدود ہے؟ مزید یہ کہ ان اداروں میں کیے جانے والے فیصلے کیا تمام مکاتب و مسالک کے پیروکاروں کے لیے یکساں طور پر قابلِ قبول اور قابلِ عمل ہوتے ہیں، یا ان فیصلوں میں محض اکثریت کے نقطۂ نظر کو ہی پیشِ نظر رکھا جاتا ہے؟ ان سوالات کے حقیقی جوابات اسی وقت سامنے آ سکتے ہیں جب معاشرے میں موجود مختلف مکاتبِ فکر کے لوگوں، بالخصوص ان کے چیدہ چیدہ نمائندہ افراد سے رائے حاصل کی جائے اور ان کے مسائل و مشکلات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔

    پاکستان میں آباد انہی مختلف مکاتب و مسالک میں سے ایک اہم مکتب "مسلکِ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ" بھی ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے، اس مسلک کے پیروکار ملک کے طول و عرض میں، بالخصوص ہمسایہ ممالک کی سرحدی علاقوں میں، بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ تاہم، قومی و ریاستی سطح پر قائم کیے جانے والے اداروں، مختلف مکاتبِ فکر کے مابین اتحاد و وحدت کے فروغ کے لیے تشکیل دی جانے والی کمیٹیوں اور قانون ساز اداروں میں ان کی نمائندگی دکھائی نہیں دیتی۔ زیرِ نظر بحث میں ہم اسی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔

    قانون ساز اداروں میں نمائندگی

    پاکستان کی پارلیمانی ساخت میں نمائندگی کے مختلف اصول موجود ہیں۔ قومی اسمبلی میں نشستوں کی تقسیم بنیادی طور پر آبادی اور جغرافیائی بنیادوں پر ہوتی ہے، جبکہ سینیٹ کا بنیادی مقصد وفاقی اکائیوں کو نسبتاً مساوی آواز فراہم کرنا ہے۔ خود سینیٹ پاکستان اپنی سرکاری وضاحت میں اسے وفاقی اکائیوں کی نمائندگی، مساوات اور قومی ہم آہنگی کا ادارہ قرار دیتا ہے۔ سینیٹ میں عمومی نشستوں کے علاوہ ٹیکنوکریٹس و علما اور خواتین کے لیے بھی نشستیں موجود ہیں۔ مگر ایوان زیرین اور ایوان بالا دونوں میں نوربخشی اکثریتی آبادی والے علاقے گلگت بلتستان کو ہی رکنیت کا حق نہیں تو اس مکتب فکر کو نمائندگی ملنا ناممکن سا لگتا ہے تاہم پاکستان کے دیگر شہروں میں بسنے والے شہری ان ایوانوں میں رکن کے طور پر منتخب ہو سکتے ہیں لیکن پاکستان کی کسی سیاسی جماعت نے اس مسلک کے پیروکاروں کو ٹکٹ دے کر بھیجنے کی زحمت ابھی تک نہیں کی۔

    سینیٹ اور قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کی مؤثر نمائندگی کا سوال اپنی جگہ اہم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ نوربخشی آبادی کے مذہبی، تعلیمی اور سماجی معاملات کی آواز بھی قومی سطح پر پہنچے۔ علاقائی نمائندہ پورے علاقے کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ کسی مخصوص مذہبی یا علمی روایت کا مستند عالم اپنے مکتب کے مخصوص علمی و مذہبی معاملات کو بہتر انداز میں پیش کر سکتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ پارلیمانی اور متعلقہ سرکاری مشاورتی فورمز پر گلگت بلتستان کی علاقائی نمائندگی کے ساتھ نوربخشی اسکالرز اور ماہرین کی علمی شرکت کے امکانات بھی پیدا کیے جائیں۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ نوربخشی آبادی کے مسائل براہِ راست متعلقہ اداروں تک پہنچیں گے، ریاستی پالیسیوں میں زمینی حقائق بہتر طور پر سامنے آئیں گے اور قومی سطح پر ایک تاریخی مذہبی روایت کے بارے میں براہِ راست علمی رابطہ قائم ہوگا۔

    رویتِ ہلال کمیٹی میں نوربخشی نمائندگی

    وزارتِ مذہبی امور کے مطابق پاکستان میں مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے علاوہ صوبائی، ضلعی اور زونل کمیٹیاں بھی کام کرتی ہیں۔ ان کمیٹیوں کا تعلق اسلامی مہینوں کے آغاز اور چاند کی رویت سے ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا تعلق ملک کے تمام مسلمانوں کے مذہبی معمولات سے ہے۔ اس لیے اس نظام میں مختلف علمی و فقہی روایات کے مستند علما کی شرکت مشاورت کو زیادہ جامع بنا سکتی ہے۔ مکتبِ نوربخشیہ کی اپنی فقہی اور مذہبی روایت ہے۔ اس لیے مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی اور متعلقہ زونل کمیٹیوں میں مستند نوربخشی علما کی نمائندگی ہونی چاہیے۔ اس نمائندگی کا فائدہ یہ ہوگا کہ نوربخشی فقہی نقطۂ نظر براہِ راست متعلقہ فورم پر موجود ہوگا، مذہبی معاملات میں باہمی فہم بڑھے گا اور نوربخشی عوام بھی یہ محسوس کریں گے کہ قومی مذہبی اداروں میں ان کی علمی آواز موجود ہے۔

    نوربخشی مکتبِ فکر کے اپنے فقہی، تقویمی اور مذہبی معمولات ہیں۔ اگر کسی ایسے فورم پر مختلف معروف مکاتبِ فکر کے علما کی شرکت ہو جو پورے ملک کے مسلمانوں کے مذہبی اوقات اور تہواروں سے متعلق فیصلوں میں مشاورت فراہم کرتا ہے، تو ایک تاریخی مکتبِ فکر کے مستند عالم کی موجودگی مشاورت کو مزید جامع بنا سکتی ہے۔ رؤیت ہلال کمیٹیوں میں مخصوص نمائندگی نہ ہونے سے نوربخشی نقطۂ نظر کو ہر معاملے میں کسی دوسرے عالم کے ذریعے پیش کیے جانے کی ضرورت پرتی ہے۔

    قومی نصاب اور نوربخشیوں کی محرومیاں

    نمائندگی کے حوالے سے ایک اور اہم مسئلہ قومی نصاب کمیٹی میں نمائندگی کا بھی ہے ۔نصاب صرف تعلیمی کتاب نہیں بلکہ قومی حافظہ بھی ہوتا ہے۔ جو شخصیات نصاب میں جگہ پاتی ہیں، نئی نسل ان سے واقف ہوتی ہے؛ اور جن شخصیات کا ذکر مسلسل غائب رہے، ان کا تاریخی کردار رفتہ رفتہ اجتماعی حافظے سے بھی دور ہونے لگتا ہے۔ کسی قوم کا نصاب صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہیں ہوتا۔ نصاب یہ بھی طے کرتا ہے کہ آنے والی نسل اپنے ملک، تاریخ، تہذیب، مذہبی روایت اور قومی محسنین کے بارے میں کیا جانتی ہے۔ پاکستان میں قومی نصاب کی تشکیل کے لیے نیشنل کریکولم کونسل اور متعلقہ نصابی کمیٹیاں کام کرتی ہیں۔ وفاقی تعلیمی اداروں کے موجودہ نصابی مواد میں مذہبی تعلیم کے لیے بھی باقاعدہ کمیٹیاں اور جائزہ لینے والے ماہرین شامل کیے جاتے ہیں۔ یہاں مکتبِ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کے حوالے سے مسئلہ سب سے زیادہ حساس اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ بلتستان کی اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ، شاہ سید محمد نوربخشؒ، میر شمس الدین عراقی ؒ، طوسی خاندان سے وابستہ مبلغین، میر عارفؒ، میر ابوسعید سعداؒ، میر یحییٰ ؒ، میر مختار اخیارؒ اور دیگر بزرگوں کی تبلیغی، علمی اور خانقاہی خدمات کا ذکر سامنے آتا ہے۔ ان بزرگوں نے ایسے زمانے میں کام کیا جب بلند پہاڑی علاقوں میں سفر، تعلیم، ابلاغ اور دینی مراکز کا قیام انتہائی دشوار تھا۔ خانقاہیں، مساجد، مکاتب اور مذہبی مراکز محض عبادت گاہیں نہیں تھے بلکہ وہ اس دور میں تعلیم، اخلاقی تربیت، سماجی رابطے اور مذہبی شعور کے مراکز بھی تھے۔ بلتستان میں اسلام کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ان شخصیات کے کردار کا مطالعہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ تاریخ صرف ایک مکتبِ فکر کی داخلی تاریخ نہیں؛ یہ بلتستان کی مجموعی سماجی اور تہذیبی تشکیل کا حصہ ہے۔

    اگر کسی خطے کی اسلامی تاریخ کے اہم کردار قومی یا صوبائی نصاب میں جگہ نہ پائیں تو نئی نسل اپنے ہی خطے کی تاریخ سے ناواقف رہ سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طالب علم کو معلوم ہوتا ہے کہ برصغیر کے دوسرے حصوں میں اسلام کیسے پھیلا، لیکن اسے اپنے علاقے میں اسلام کے پھیلاؤ، مقامی علما، خانقاہوں، علمی مراکز اور مذہبی شخصیات کی تاریخ سے مناسب آگاہی نہیں ملتی۔ یہ خلا صرف نوربخشی طلبہ کا مسئلہ نہیں؛ یہ تاریخ نویسی کا مسئلہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بلتستان کی اسلامی تاریخ کو مسلکی کشمکش کے بجائے تحقیقی اور تاریخی انداز میں نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ اور شاہ سید محمد نوربخشؒ سے لے کر بعد کے مبلغین اور علما تک اس خطے کی اسلامی تشکیل کے مختلف مراحل کو مستند حوالوں، تاریخوں اور تحقیقی ماخذ کے ساتھ نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہئے جو ایک نوربخشی علمی شخصیت ہی سرانجام پاسکتی ہے۔ اس لئے قومی نصابی کمیٹیوں میں اس مکتب فکر کی نمائندگی لازمی ہے۔ اگر کسی خطے کی نمایاں مذہبی و تاریخی شخصیات طویل عرصے تک نصابی کتب میں جگہ نہ پائیں تو اس سے محرومی کا احساس ضرور پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ احساس اس وقت مزید گہرا ہوتا ہے جب نئی نسل اپنے ہی علاقے کے مذہبی آثار، خانقاہوں اور بزرگوں کے بارے میں قومی نصاب میں مناسب مواد نہ پائے۔ قومی نصاب کمیٹی میں نوربخشی تاریخ اور مذہبی روایت کے ماہرین کی شمولیت سے مستند مواد تیار کیا جا سکتا ہے، جس میں بلتستان میں اسلام کی آمد اور حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کی خدمات، بلتستان کے ابتدائی مسلم مبلغین، نوربخشی خانقاہی روایت، شاہ سید محمد نوربخشؒ کی علمی و روحانی خدمات، میر شمس الدین محمد عراقیؒ اور بعد کے مبلغین، تاریخی خانقاہوں اور مساجد، اسلامی فنِ تعمیر، مقامی علمی روایت، نوربخشی مخطوطات اور کتب اور بلتستان کی اسلامی تہذیب کی تشکیل کو مستند تاریخی حوالوں کے ساتھ شامل کیا جا سکتا ہے۔

    اسلامی نظریاتی کونسل میں نمائندگی

    اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کا آئینی ادارہ ہے۔ آئین کے آرٹیکل 228 میں کونسل کی تشکیل کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، مختلف مکاتبِ فکر کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ یہی آئینی اصول نوربخشی مکتبِ فکر کے حوالے سے ایک اہم سوال سامنے لاتا ہے۔ نوربخشیہ کی اپنی مذہبی، فقہی اور علمی روایت موجود ہے۔ اس لیے اسلامی نظریاتی کونسل میں کسی مستند نوربخشی عالم یا اسکالر کی نمائندگی یا مشاورتی شمولیت سے کونسل کے سامنے اسلامی مسائل کے ایک مزید علمی زاویے کو پیش کیا جا سکتا ہے۔جس سے نوربخشی فقہی و علمی موقف براہِ راست سامنے آئے گا،مختلف مذہبی مسائل پر مشاورت زیادہ جامع ہوگی،نوربخشی علمی ذخیرے سے ریاستی ادارے براہِ راست استفادہ کر سکیں گے،نوربخشی عوام کے مذہبی و آئینی معاملات کے حوالے سے براہِ راست علمی رابطہ قائم ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک تاریخی مکتبِ فکر کو یہ احساس ملے گا کہ قومی اسلامی مشاورت میں اس کی علمی آواز بھی سنی جا رہی ہے۔کسی مکتبِ فکر کی نمائندگی نہ ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس کے مخصوص مسائل، علمی روایت اور تاریخی نقطۂ نظر متعلقہ ادارے تک براہِ راست نہیں پہنچ پاتے۔

    بہر حال مکتبِ صوفیہ امامیہ نوربخشیہ کی ریاستی اداروں میں نمائندگی کا مسئلہ محض ایک نشست یا عہدے کا مسئلہ نہیں۔ یہ علمی شناخت، تاریخی تحفظ، قومی شمولیت اور ادارہ جاتی مشاورت کا مسئلہ ہے۔ گلگت بلتستان کی علاقائی نمائندگی اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ نوربخشی علمی و مذہبی روایت کے ماہرین کی مناسب نمائندگی بھی اہم ہے۔ مرکزی اور زونل رویتِ ہلال کمیٹیوں میں نوربخشی علما کی شرکت مذہبی مشاورت کو وسیع کرے گی۔ اسلامی نظریاتی کونسل میں نوربخشی عالم یا اسکالر کی شمولیت نوربخشی فقہی و علمی روایت کو آئینی مشاورت کے دائرے میں لائے گی۔ قومی نصاب میں نوربخشی تاریخ کے ماہرین کی شمولیت بلتستان کی اسلامی تاریخ کے ان اہم ابواب کو نئی نسل تک پہنچانے میں مدد دے گی جو اس وقت مطلوبہ سطح پر قومی تعلیمی مواد کا حصہ نہیں۔ اور پارلیمانی و دیگر قومی اداروں میں نوربخشی اسکالرز، ماہرین اور اہلِ علم کی مشاورتی شرکت ریاست اور نوربخشی علمی حلقوں کے درمیان ایک مضبوط رابطہ قائم کر سکتی ہے۔

    مؤثر تجاویز

    ۱۔ مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی اور اسلامی نظریاتی کونسل میں میں کم از کم ایک ایک مستند نوربخشی عالم کو شامل کیا جائے اور جہاں مناسب ہو متعلقہ زونل کمیٹیوں میں بھی نوربخشی علما کی نمائندگی یقینی بنائی جائے تاکہ ان دو اداروں کےحوالے سے اس مکتب کی محرومیوں کا ازلہ ہوسکے ۔

    ۲۔ قومی نصاب کونسل اور متعلقہ نصابی کمیٹیوں میں نوربخشی تاریخ، اسلامیات اور مذہبیات کے ماہرین کو شامل کیا جائے۔

    ۳۔ بلتستان کی اسلامی تاریخ پر ایک مستند تحقیقی منصوبہ شروع کیا جائے جس میں امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ، شاہ سید محمد نوربخشؒ اور دیگر تاریخی شخصیات کی خدمات کو مستند حوالوں کے ساتھ مرتب کیا جائے۔

    ۴۔ نوربخشی خانقاہوں، قدیم مساجد، مخطوطات، کتب اور تاریخی آثار کا باقاعدہ سروے اور ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا جائے۔

    ۵۔ گلگت بلتستان کے تعلیمی نصاب میں خطے کی اسلامی تاریخ کو مستند تحقیقی بنیادوں پر شامل کیا جائے تاکہ نئی نسل اپنے علاقے کے علمی، مذہبی اور تاریخی ورثے سے واقف ہو۔

    کتابیات

    اشراقی، شیخ محمد محسن، ماخذ فقه احوط اور جدید مسائل کا حل، انجمن فلاح و بہبودی نوربخشی بلتستانیاں رجسٹرڈ کراچی، ۲۰۱۸ء

    ده خدا ،علي اکبر ، لغت نامه دهخدا ، دانشگاه تهران ، 1337 ﻫ .ش.

    شيبي، مصطفي، تشيع وتصوّف،ترجمه، علي رضا ذکاوتي، انتشارات امير کبير، تهران، چ سوّم، 1380ش.

    صوفي، محمدابن ملّا محمد ، طبقات النوريه، ترجمه محمد سليمان کيلاني،ناشر مکتبة قدوسيه، کشمير،چ اول، بي تا.

    لاهيجي ، شمس الدين محمد اسيري ، اسرار الشهود، تصحيح سيدعلي آل داود، مؤسسة مطالعات وتحقيقات فرهنگي، تهران، چ اول، 1368ش.

    لوئيس معلوف، المنجد، رومن کیتھولک پریس، بیروت

    محمد معين ، عميد، حسن ، فرهنگ فارسي عميد ، موسسه انتشارات امير کبير ، تهران ، چ دوازدهم، 1377 ﻫ .ش.

    نوربخش ، میر سید محمد، الفقہ الاحوط، مترجم؛ مولانا اعجاز حسین غریبی، انجمن صوفیہ امامیہ نوربخشیہ رجسٹرڈ کریس بلتستان

    نوربخش، سید محمد ، رسالہ اعتقادیہ، مترجم ؛ سید علی موسوی ، انجمن فلاح و بہبود نوربخشی کراچی، ۲۰۲۲ء۔

    نوربخش، میرسید محمد، الفقه الاحوط، مترجم؛ علامہ محمد بشیر براہوی، ندوہ اسلامیہ نوربخشیہ نزد جامع مسجد محمود آباد کراچی، ۱۹۷۳ء

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان میں بین المذاہب بقائے باہمی کی مقامی روایتیں اور نئے امکانات
    Next Article زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر
    tajziat_admin
    • Website

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان میں بین المذاہب بقائے باہمی کی مقامی روایتیں اور نئے امکانات

    اکتوبر 22, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by