ترکی-خلیجی میل جول کا مطلب یہ ہے کہ عمان ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو کشیدگی اور تنازعات کیے بغیر ترقی دے سکتا ہے جو ماضی میں دیکھا گیا ہے۔ عمان کا نقطہ نظر عملیت پسندی پر مبنی ہے اور اس کا مقصد ایک ایسے خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا ہے جو دن بدن غیر مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم عمان اور ترکی کے درمیان تعلقات اب بھی معتدل سطح پر ہیں۔
Browsing: کالم
تکلیف یہی نہیں کہ سرمایہ داروں کی ٹولیوں پر مشتمل مغربی استعماری حکومتیں قومی مفادات…
خیبر پختون خواہ کے معیاری جامعہ یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز IMSciences کے چند طلباء…
ہم پاکستان میں بین المسالک ہم آہنگی کے لیے بہت عرصہ سے مصروف عمل ہیں…
سوات کے مصروف چوراہے گرین چوک کو 2009 میں طالبان کے ہاتھوں خونریزی اور عام لوگوں کے گلے کاٹنے کی وجہ سے مقامی لوگوں نے ”خونی چوک“ کا نام دیا تھا اور 2022ء کو جب سوات میں طالبان دوبارہ نمودار ہوئے تو ایک دوسرے مصروف ترین چوراہے ”نشاط چوک“ پر لوگوں نے سوات کی تاریخ میں سب سے بڑا احتجاج کرکے اس کو تحریر چوک بنادیا کہ یہی مزاحت سوات کے عوام کی اس دہشت گردی سے آزادی کی ضمانت ہے۔
ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے پاکستان کو ایک نئی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی جماعت جو اصلاحات متعارف کرانے کا وژن اور صلاحیت رکھتی ہو اور جو جمود کی قوتوں کو چیلنج بھی کر سکتی ہو۔ ایک ایسی جماعت جو نہ نظریاتی بوجھ سے لدی ہوئی ہو اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں بندھی ہوئی ہو۔ ایسی جماعت جو اپنی طاقت صرف عوام کی حمایت سے حاصل کرنے میں کامیاب ہو۔
روس کا خیال ہے کہ "طاقت” امن کے حصول کا بہترین طریقہ ہے۔ یہ لبرل…
خواتین کی سماجی ذمہ داریاں اور سیرت طیبہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک سیمینار میں…
کسی دور میں مکران بلوچ نیشنلزم سیاست کی اس لحاظ سے مرکز ہوا کرتا تھا…
علاقائی ہتھیاروں کی دوڑ کے اس اقدام سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جاپان کس طرح اپنے آپ کو ایک فوجی طاقت کے طور پر دوبارہ قائم کرنے کے مقصد کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک آزادی کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کی اس نے 1940 کی دہائی سے کوشش نہیں کی۔
