Browsing: مضامین

قومی شناخت کی تشکیل نَو کا مسئلہ تشکیلِ پاکستان کے وقت سے لے کر اب تک مسلسل زیرِبحث ہے اور اس کی تازہ جہات سامنے آتی رہتی ہیں۔ ڈاکٹر خالد مسعود نے اس مسئلے کو اقبال کی تین نظموں "مسجدِ قرطبہ”، شکوہ” اور "جوابِ شکوہ” کے تناظر میں اور دورِ حاضر کے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے سمجھنے کی سعی کی ہے۔ مطالعے کا یہ زاویہ بیک وقت سیاسی، سماجی، تہذیبی اور ادبی جہات کا حامل ہے سو اس میں فکرانگیزی اور دلچسپی کے زاویے گوناگوں ہیں۔ قارئینِ "تجزیات” سے یہ تحریر خاص توجہ چاہتی ہے۔ (مدیر) 

ہمارے پڑوس میں انڈیا میں ہندی اور انگریزی کے ساتھ 22 دیگر زبانوں کو سرکاری استعمال کے لیے منظور شدہ زبان قرار دیا گیا ہے اور ہندی کو بزور کسی پر مسلط نہیں کیا گیا۔ وہاں ہر ریاست اس بات میں آزاد ہے کہ وہ ہندی، انگریزی یا کسی علاقائی زبان کو سرکاری امور میں استعمال کرے۔

ہمیں دانش ور کی بحث میں اکیڈیمیا اور دانش وری میں فرق کرنا ہوگا۔ افلاطون اپنے ”مکالمات“میں اکیڈیمیا کا نمائندہ ہے جب کہ ’ریاست‘ کے تصور کی تشکیل میں وہ دانش ور ہے۔ میکیاولی (Machiavelli) کا "جنگ کا فن” (The Art of War) اکیڈمک کام ہے، جب کہ The Princeمیں اس کا نقطہ نظر دانش ورانہ ہے۔ حسن عسکری کی ‘’وقت کی راگنی“ اکیڈیمیا کی بحثیں ہیں، جب کہ جدیدیت کی فکری گمراہیوں میں وہ سماج کی دانش ورانہ اصلاح کے قائل نظر آتے ہیں۔

سندھ میں سکھ، ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم سے قبل ایک بہت بڑی تعداد میں…