(یہ مضمون سہ ماہی تجزیات، شمارہ نمبر 100 سے لیا گیا ہے)
Author: ممتاز حسین
ہمارے ہاں کہیں دو چار بندے جمع ہو جائیں تو قانون نافذ کرنے، امن بحال رکھنے، سیکیورٹی دینے اور معلومات جمع کرنے کو قسم قسم کے اداروں کے لوگ پہنچ جاتے ہیں۔ اکثر ان اداروں کے بیچ افہام و تفہیم کا فقدان ہوتا ہے کہ کس نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ عموماً ایک ادارہ دوسرے ادارے کی راہ میں رکاوٹ ڈالتا نظر آتا ہے۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ہجوم سے زیادہ سرکاری لوگ ہوتے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد افسروں کی ہوتی ہے۔ حج کے دوران مکہ میں اس کی اصل آبادی سے کوئی تین…
سعودی عرب دنیا کے خشک ترین خطوں میں سے ہے۔ یہاں بارشیں شاذ و نادر ہی ہوتی ہیں اس لیے کوئی مستقل دریا، ندی نالہ نہیں بہتا۔ زیر زمین پانی بھی نہایت کمیاب ہے۔ آپ سینکڑوں میل چلتے جائیں، سبزے یا درخت کا نام و نشان نہیں ملے گا۔ مکہ تو ایک سنگلاخ زمین ہے اس لیے یہاں کبھی کبھار ہونے والی بارش بھی زمین میں جذب ہونے کے بجائے سیلاب بن کر بہہ جاتا ہے۔ ایسے حالات میں یہاں پینے کا پانی سب سے قیمتی چیز ہے۔ شدید گرمی میں پانی نہ ملے تو انسان چند گھنٹوں میں مر…
انقلاب کا لفظ اپنے اندر ایک دائمی رومان اور دلچسپی رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہیروازم اور خوش امکان مستقبل کے تصورات ازخود جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو دنیا میں انقلاب کے ثمرات دیرپا نہیں رہے۔ مصنف نے اس مؤقف کے ساتھ انقلاب اور سیاسی ارتقا میں سے ترجیح تلاش کرنے کی سعی کی ہے جس میں بات تاریخ کے مختلف انقلابات سے ہوتے ہوئے پاکستان کے موجودہ حالات تک پہنچتی ہے۔ پروفیسر ممتاز حسین چترال سے تعلق رکھنے والے سکالر ہیں۔ ماحولیات، کلچر، علاقائی زبانیں اور تاریخ ان کی تخصیص کے علاقے ہیں۔ (مدیر)…
ہمارے پڑوس میں انڈیا میں ہندی اور انگریزی کے ساتھ 22 دیگر زبانوں کو سرکاری استعمال کے لیے منظور شدہ زبان قرار دیا گیا ہے اور ہندی کو بزور کسی پر مسلط نہیں کیا گیا۔ وہاں ہر ریاست اس بات میں آزاد ہے کہ وہ ہندی، انگریزی یا کسی علاقائی زبان کو سرکاری امور میں استعمال کرے۔
