سندھ میں سکھ، ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم سے قبل ایک بہت بڑی تعداد میں آباد تھے۔ تقسیمِ ہند کے بعد سندھ میں آباد ہندو اور سکھ فسادات کے بعد انڈیا منتقل ہو گئے، لیکن ہندوؤں کی ایک بہت بڑی تعداد اب بھی سندھ میں آباد ہے لیکن سکھوں کی آبادی اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ گو کہ اب بھی ان کے سندھ بھر میں گرودوارے موجود ہیں اور ایسے ہندو بھی بے شمار تعداد میں آباد ہیں جو گرو نانک کے پیروکار ہیں۔ یہ سکھ صرف کراچی ہی میں نہیں بلکہ حیدآباد، میرپور خاص اور شکارپور میں بھی…
Author: اختر بلوچ
صوفی شاہ عنایت شہید المعروف جھوک شریف والے کو بجا طور پر دنیا کا پہلا کمیونسٹ یا سوشلسٹ صوفی قرار دیا جاسکتا ہے۔ شاہ عنایت نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے حکمران طبقوں سے کسی قسم کی بھی مفاہمتی پالیسی اختیار نہیں کی اور اس وقت کے حکمرانوں کے معاشی استحصال کے خلاف نہ صرف آواز بلند کی بلکہ عملی جدوجہد بھی کی۔ان کا مقابلہ صرف حکمرانوں سے نہ تھا بلکہ ان کے حواری جاگیرداروں، پیروں اور مولویوں سے بھی تھا ۔ بعد ازاں یہی ناپاک اتحاد شاہ عنایت اور ان کے حامیوں کے قتل کا سبب بنا۔یہ تحریک…
سندھ میں سکھ، ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم سے قبل ایک بہت بڑی تعداد میں آباد تھے۔ تقسیمِ ہند کے بعد سندھ میں آباد ہندو اور سکھ فسادات کے بعد انڈیا منتقل ہو گئے ،لیکن ہندوؤں کی ایک بہت بڑی تعداد اب بھی سندھ میں آباد ہے لیکن سکھوں کی آبادی اب نہ ہونے کے برابر ہے۔گو کہ اب بھی ان کے سندھ بھر میں گرودوارے موجود ہیں اورایسے ہندو بھی بے شمار تعداد میں آباد ہیں جو گرو نانک کے پیروکار ہیں۔ یہ سکھ صرف کراچی ہی میں نہیں بلکہ حیدآباد، میرپور خاص اور شکارپور میں بھی آباد تھے۔…
اسے حالات کی ستم ظریفی کہیں یا ان کے خاندان کی خواہش، کہ جو شخص 1947 میں میرپور خاص چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھا اسے موت کے بعد کراچی منتقل کردیا گیا میرپور خاص اب ایک ضلع ہے، تقسیمِ ہند سے قبل بھی یہ ایک ضلع ہوتا تھا اور تقسیم کے بعد بھی ایک طویل عرصے تک یہ ایک ضلع رہا، لیکن اس ضلع کا نام میرپور خاص نہیں بلکہ تھرپارکر تھا۔ میرپور خاص تھرپارکر ضلع کا ہیڈکوارٹر تھا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ تھرپارکر ضلع محدود ہونا شروع ہوا۔ سب سے پہلے اِس کی ایک تحصیل سانگھڑ کو…
یوں تو وہ عورت کی حکمرانی کے خلاف تھے لیکن انھوں نے ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی تھی
شِورتن مہوٹہ قائد کے خیالات سننے کے بعد سکتے میں آگئے کہ ریاست کا سربراہ اس بات کی حیثیت نہیں رکھتا کہ ان کا گھر خالی کروا سکے موہٹہ کراچی کی ایک انتہائی امیر ترین شخصیت تھی۔ تقسیم ہند کے باوجود وہ کراچی کسی حال میں چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھا۔کراچی چھوڑنے کی بنیادی وجہ کلفٹن کے علاقے میں اس کا محل موہٹہ پیلس تھا۔ اس محل پر قبضہ کر لیا گیا تھا۔ قبضہ کسی اور نے نہیں حکومت پاکستان نے کیا تھا۔موہٹہ ایک مخیر شخص تھا اور اپنے اس محل میں گاہے بہ گاہے آنے والے سوالیوں کی…
جب میں چلنے لگا تو مُجھے ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے اس ٹی سیٹ میں جتنے بھی پہیے ہیں وہ سونے کے ہیں اور میں نے آپ کو اس سے پہلے اس لیے آگاہ نہیں کیا کہ آپ یہ سن کر میرا تحفہ قبول کرنے سے انکار نہ کر دیں کنور مہندر سنگھ بیدی سحرکا شمار برصغیر ہند و پاک کی ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے تقسیم ہند کے بعد اس کی جغرافیائی حدود کو تو ذہنی طور پر قبول کر لیا تھا لیکن ہجرت کے بعد پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں سے ان کی دوستی…
باچا خان پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا کردارہے جن پراُن کے مخالفین نے ہر طرح کے الزامات عائد کیے، ان میں مُلک دشمنی کا الزام سب سے نمایاں ہے۔ وہ برطانوی سامراج کے عتاب کا نشانہ تو رہے ہی لیکن تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان میں بھی قید وبند کا شکاررہے۔ اُن کی خود نوشت سوانح حیات میں پنجابی بھائیوں کا ذکر جابجا نظر آتا ہے آج ہمارا موضوع بھی یہی ہے۔ 1921 میں جب باچا خان پہلی بار جیل گئے تو وہاں کے ماحول اور قیدیوں کے بارے لکھتے ہیں کہ: یہ مجاہدین بونیر سے آئے تھے۔…
کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایک کاروبار جو ہر وقت عروج پر رہتا ہے وہ ٹھگی کا کاروبار ہے۔۔دکاندار آئے دن اشیائے خورد و نوش کے نرخ ٹھگی سے بڑھا دیتے ہیں ہیں۔ یہی حال ٹرانسپورٹ کا ہے، ہم یہ سمجھے تھے کہ کراچی میں ٹیکسیاں ختم ہونے کے بعد جو رینٹ اے کار کی کمپنیاں آئیں تھیں، ان کے نرخ نسبتاً کم ہوں گے اور تھے بھی، لیکن اب انھوں نے بھی ٹھگی کے نئے نئے ذریعے نکال لیے ہیں۔ جہاں یہ گاڑیاں پہلے250 روپے میں جاتیں تھیں اب دورانِ سفر رش کے اوقات کے نام پر ٹھگی کرکے…
پیپلز پارٹی کے بانی چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاسی و غیر سیاسی زندگی میں دو ایسے فیصلے کیے جو ان کو تاریخ میں امر کر گئے۔ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اپنی کرشماتی شخصیت کی ایسی جھلک چھوڑ گئے جس کا ذکران کے ناقدین ، پیروکاروں اور غیر جانبدار تجزیہ نگاروں نے اپنے اپنے انداز میں کیا ہے ۔ سیاسی مخالفین پر ان کے مبینہ جبر اور تشدد کی داستانوں کے ساتھ ساتھ اپنے حماتیوں کے ساتھ بھی بے رحمی سے پیش آنے کی کہانیاں عام ہیں۔ان کی زندگی کے کم و بیش تمام گوشوں…
