Browsing: مضامین

پاکستان میں مذہبیت کا عنصر بہت طاقتور اور فعال ہے۔ اس کے اثرات سماج ہی میں نہیں بلکہ سیاست و ریاستی پالیسیوں میں بھی واضح نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آئین و قوانین سے لے کر پالیسیوں تک مذہب ایک محور ہونے کے باوجود پاکستان ایک مثالی ریاست کیوں نہ بن سکا اور ہماری شناخت تشدد پسند کی کیوں بن گئی؟صاحبزادہ امانت رسول اِس مضمون میں بتاتے ہیں کہ اس کی وجہ جبر اور مخصوص مذہبی تعبیر پر اصرار ہے۔ وہ اس مسئلے کو تُرکی کی مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مضمون نگار ’ادارہ فکرِ جدید‘ کے سربراہ ہیں۔ سماجی موضوعات پر ان کی گہری دسترس ہے اور وہ سماجی اور مذہبی ہم آہنگی کے داعی ہیں۔ (مدیر)

سیرتِ طیبہ کے پیغام کو عصر حاضر سے مربوط کرنے کی کاوشیں ایک تو مسلمانوں کے اس اعتقاد کا اظہار ہیں کہ اللہ کے آخری پیغمبر کی صورت میں انھیں جو راہ نمائی عطا کی گئی ہے، وہ آج بھی ہمارے لیے بامعنی ہے اور دوسرے اس کا تعلق اس سوال سے بھی ہے جو جدید دور میں خاص طور پر اٹھایا جا رہا ہے کہ مذہب کے پاس آج کی دنیا کے پیچیدہ اور گمبھیر مسائل کے حل کے سلسلے میں، انسانیت کو دینے کے لیے کیا ہے؟

 وجبہ کی 1893ء کی لڑائی میں قطر نے عثمانی افواج کو شکست دے کر ان سے بھاری مقدار میں اسلحہ قبضے میں لے لیا تھا۔ جس کے بعد 21 اپریل کو برطانوی قونصلر دوحہ پہنچا اور شیخ جاسم اور عثمانی گورنر کے درمیان صلح کروانےکے لیے ثالثی کی پیشکش کی، لیکن عثمانی گورنر نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔

کسی باقاعدہ تحقیق کے نہ ہونے کے باوجود چترال کے اندر رائین توریکھو، چرُن اور برنس کے سامنے پختوردینی کے مقامات پر بدھ مت کے سٹوپوں کو دریافت کیا گیا ہے اور وہ بھی بیرونی محققین اور ماہرین آثار قدیمہ کے طفیل ممکن ہوچکا ہے جنہوں نے انہیں پڑھا اور سنسکرت یا جو بھی زبان میں یہ کتبے ہیں، انکا انگریزی میں ترجمے کرائے.

پاکستان کے دانشوروں نے نظریۂ ضرورت کے تحت پاکستان جیسے نظریاتی، جغرافیائی اور تزویراتی اہمیّت کی حامل ریاست کی بنیادوں کی حسّاسیت کو درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے غیر سنجیدگی اور غیر علمی طریقے سے مختلف تشریحات و تعبیرات سامنے لائے۔ کبھی اسلامی نیشنلزم اور کبھی روحانیت پر مبنی پاکستانی نیشنلزم کے نظریات پیش کیے گئے۔ چنانچہ ایک پاکستانی دانشور پی۔ کے۔ خان نے کہا کہ ’’ اسلامی نیشنلزم بنیادی طور پر دوسری قوموں کے نیشنلزم سے مختلف ہے۔‘‘ نیز کہا کہ یہ ایک طرز حیات ہے اور جس میں عوام افلاس اور لالچ سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور پاکستانی صحافی اور دانشور زیڈ۔ اے سلہری کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی نیشنلزم منفرد ہے اور نوعیت کے اعتبار سے علاقائی ہونے کے بجائے روحانی ہے۔

ہمارے معاشرے کے فکری ماحول میں جس طرح دیگر بہت سے لفظ اپنی معنویت اور انفرادیت کھو چکے ہیں، اسی طرح ‘دانشور’ کا لفظ بھی ارزانی اور کثرتِ استعمال کے باعث بے معنی سا ہو کر رہ گیا ہے۔ فی الاصل دانشور کون ہوتا ہے اور اس کی خصوصیات کیا ہیں، اس حوالے سے ڈاکٹر سید جعفر احمد حقیقی اور آزاد فکر، کثیر الشعبہ علمی بنیاد، سماج سے متعلقہ خیالات اور تصورات کا علم ہونا اور بعض دیگر پیشہ ورانہ اور علمی امتیازات کو زیربحث لاتے ہیں۔ ہمارے ہاں دانشوری کی روایت مستحکم نہ ہو پانے کے حوالے سے بھی انھوں نے فکرانگیز نکات اٹھائے ہیں۔ مصنف ڈائریکٹر، انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹوریکل اینڈ سوشل ریسرچ، کراچی اور ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز، سہیل یونیورسٹی، کراچی ہیں۔ (مدیر)

اگرچہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان ایک مذہبی ملک یا تھیوکریسی نہیں رہے گا مگر ہمارا یہ خیال ہے کہ بعد کی حکومتیں قائد کے نظریات کی عکاسی کے لیے قومی بیانیہ یا نظریہ تیار کرنے میں ناکام رہیں۔