سیرتِ طیبہ کے پیغام کو عصر حاضر سے مربوط کرنے کی کاوشیں ایک تو مسلمانوں کے اس اعتقاد کا اظہار ہیں کہ اللہ کے آخری پیغمبر کی صورت میں انھیں جو راہ نمائی عطا کی گئی ہے، وہ آج بھی ہمارے لیے بامعنی ہے اور دوسرے اس کا تعلق اس سوال سے بھی ہے جو جدید دور میں خاص طور پر اٹھایا جا رہا ہے کہ مذہب کے پاس آج کی دنیا کے پیچیدہ اور گمبھیر مسائل کے حل کے سلسلے میں، انسانیت کو دینے کے لیے کیا ہے؟
Author: عمار خان ناصر
لبرل ازم کی اصطلاح ہمارے ہاں عموماً سماجی آزادیوں کے تناظر میں استعمال ہوتی ہے اور اس سے مراد انفرادی آزادیوں پر ایسی قدغنوں کو رد کرنا لیا جاتا ہے جو سماج، مذہب یا ریاست کی طرف سے عائد کی جائیں۔ اس مفہوم میں مذہبی معاشرے اور لبرل ازم میں بنیادی تضاد ہے۔ مذہبی معاشرہ سماجی حدود وقیود، مذہبی احکام اور ان پر مبنی تہذیبی روایات سے اخذ کرتا ہے۔ لبرل ازم کا فکری منبع اور عملی آئیڈیل جدید مغربی معاشرے ہیں جو عقلیت اور روشن خیالی کو راہ نما مانتے ہیں۔ اس سیاق میں پاکستان جیسے مذہبی معاشرے میں…
گزشتہ دنوں میں قومی منظرنامے پر تحریک لبیک سے وابستہ خبروں کی موجودگی نمایاں رہی۔ مذہبی قوتیں جب بھی سیاسی میدان میں متحرک ہوتی ہیں تو اس مظہر سے روایتی طور پر وابستہ بعض تصورات ازخود بحث کا حصہ بن جاتے ہیں۔ محمد عمار خان ناصر ماہنامہ "الشریعہ” کے مدیر اور مذہبی و سماجی موضوعات پر علمی مؤقف رکھنے والے معروف سکالر ہیں جنھوں نے تحریک لبیک کی حالیہ سرگرمیوں کے مضمرات کی تفہیم تاریخ اور سماجی علوم کے تناظر میں کرنے کی سعی کی ہے، جو قارئینِ "تجزیات” کے استفادے لیے پیش ہے۔ (مدیر)
بچوں کی رسمی تعلیم کا عمل کس عمر سے شروع کیا جائے اور ابتدائی تعلیم کے مندرجات اور ترجیحات کیا ہونی چاہیئں؟ یہ کسی بھی معاشرے میں تعلیمی نظام سے متعلق سوالات میں ایک بنیادی اور اہم ترین سوال ہے۔ ہمارے ہاں جدید تمدن کے زیر اثر پروان چڑھنے والا ایک نہایت لا یعنی رجحان بہت چھوٹی عمر میں بچوں کو رسمی تعلیمی اداروں کے سپرد کر دینے کا پیدا ہوا ہے جو کاروباری محرکات کے تحت روز بروز فروغ پا رہا ہے۔ اس حوالے سے میں نے ایک دفعہ سوشل میڈیا پر اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کیا تو…
عمار خان ناصرماہنامہ ”الشریعہ“کے مدیر ہیں اور گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں درس و تدریس سے منسلک ہیں۔آپ کا شمار ملک کے مذہبی مفکرین کی توانا آوازوں میں ہوتا ہے۔انہوں نے زیرنظر مضمون میں برصغیر کے مسلم عہد اور تقسیم کے بعد پاکستان میں غیرمسلموں کوحاصل ہونے والی حیثیت کے بارے میں گفتگو کی ہے۔مسلم کلاسیکی فکر میں غیر مسلموں کو ”اہل ذمہ“ کہا جاتا تھا اور انہیں مسلم شہریوں والے مساوی حقوق حاصل نہیں تھے۔بعدازاں جب استعماری دور ختم ہوا اور قومی ریاستیں وجودمیں آئیں تو اقلیتوں کے حقوق سے متعلقہ دستوری خدوخال کے حوالے سے جدیدتقاضوں کی رعایت تو…
‘‘خواتین کو گڈ مارننگ کے مسیج بھیجنا ہراسمنٹ ہے’’ یہ بات ہمارے کلچر میں درست ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کسی خاتون سے بلا ضرورت بے تکلف ہونے کی خواہش کا آئینہ دار ہے جس میں veiled جنسی کشش کے پیغام کو خاتون محسوس کر لیتی ہے اور یوں یہ ایک ابتدائی نوعیت کی ’’ہراسمنٹ‘‘ بن جاتی ہے۔ ظاہر ہے، اس میں تعلق کی نوعیت اور دیگر فوارق کے شامل ہونے سے صورت حال مختلف بھی ہو سکتی ہے، لیکن اپنے اصل سیاق وسباق میں یہ شکایت درست ہے۔ البتہ یہ بات جو ہمارے ہاں صرف حقوق…
عمار خان ناصرماہنامہ ’’الشریعہ‘‘کے مدیر ہیں اور گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں درس و تدریس سے منسلک ہیں ۔ آپ کا شمار مذہبی مفکرین کی توانا آوازوں میں ہوتا ہے۔ آپ کا زیر نظر مضمون مقدس شخصیات کی توہین کے حوالے سے عالمی سطح پر جاری بحث کے حوالے سے ہے۔ توہینِ مذہب کے حوالے سے پاکستان میں بھی آئے روز ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جن کی اساس پر اس قانون پہ نظرثانی کی دعوت دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کی تفصیلات میں کچھ سقم ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پس منظر…
عمار خان ناصر گفٹ یونیورسٹی گجرات میں اسسٹنٹ پروفیسر اور ماہنامہ ’’الشریعہ ‘‘ گوجرانوالہ کے مدیر ہیں ۔ان کا زیر نظر مضمون دینی مدارس کے طرز تعلیم میں مجوزہ اصلاحات کے حوالے سے ہے ۔دینی مدارس میں لاکھو ں طلباء زیر تعلیم ہیں جنہیں دینی کے ساتھ عصری علوم سے بھی بہرہ مند ہونا ہے تاکہ وہ مسجد و منبر کے ساتھ دیگر شعبوں میں متحرک کردار ادا کر کے قومی دھارے کا حصہ بن سکیں ۔عمومی تعلیم میں بھی وسیع اور بنیادی اصلاحات کی جا رہی ہیں ، نئی حکومت یکساں نظام تعلیم کے ویژن کے ساتھ آئی ہے…
ابن خلدون نے سائنس (یعنی طبیعی مظاہر کے قوانین کی دریافت) میں کسی ذہن کے بڑے یا چھوٹے ہونے کو شطرنج کی مثال سے واضح کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ شطرنج کے ایک کھلاڑی کا دوسرے کھلاڑی سے فرق اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک کسی بھی چال کے ان نتائج کو دیکھ پاتا ہے جو تین یا چار قدم تک ہو سکتے ہیں، جبکہ دوسرے کا ذہن ان نتائج کا تصور آٹھ یا دس قدم تک کر سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جس آدمی کا ذہن کسی بھی عمل کےزیادہ دور رس نتائج کو سمجھ…
گزشتہ دنوں ایک ٹاک شو میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے معروف کرکٹر شاہد آفریدی کے بعض تبصروں پر سوشل میڈیا میں بحث ومباحثہ کا بازار گرم رہا۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ کشمیر کو بھارت یا پاکستان میں سے کسی کا بھی حصہ بنانےکے بجائے خود کشمیریوں کے حوالے کر دینا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان سے اپنے موجودہ صوبے نہیں سنبھالے جا رہے تو ایک اور صوبے کے انتظام وانصرام سے وہ کیسے عہدہ برآ ہوگا۔ شاہد آفریدی پر تنقید کرنے والوں کی طرف سے مختلف نکتے پیش کیے گئے۔ مثلا یہ کہ یہ ایک…
