قائد اعظم کے ارشادات میں پاکستان کے آئینی، قانونی، سماجی و ثقافتی اور مذہبی و اخلاقی اور بین الاقوامی تعلّقات کے حوالے سے رہنما خطوط ملتے ہیں جن پر عمل در آمد سے ملک ترقی و سربلندی حاصل کر سکتا تھا لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی ابتدائی مشکلات کے دوران ہی قائد اعظم کی موت کے سبب ان مصائب و مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ لیاقت علی خان بھی اپنے قائد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کو ایک ایسی ترقی پسند اور فلاحی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے جس میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری، روشن خیالی اور سماجی انصاف، جو اسلام میں پیش کیے گئے ہیں، مہیا ہو سکے۔ لیکن مجموعی طور پر قائد اعظم کی وفات کے بعد بتدریج ان کی ہدایات اور حکمت عملیوں کو نظر انداز کیا گیا جس کے باعث قومی شناخت کا مسئلہ گھمبیر ہوتا گیا۔ ڈاکٹر نیک عالم راشد نے تاریخی اور تحقیقی تناظر میں مسئلے کے دونوں پہلو اجاگر کیے ہیں جو توجہ طلب اور قابلِ غور ہیں۔ (مدیر)
برّصغیر ہند پر انگریزوں کے قبضے کے بعد مسلمانوں میں دو ملے جلے نظریات پروان چڑھے۔ ایک نظریہ یہ تھا کہ انگریزوں نے ہندوستان پر غاصبانہ قبضہ جما لیا ہے جس سے نہ صرف ہماری حکومت کا خاتمہ ہوا بلکہ ہماری مذہبی اقدار، ادب وشاعری، تہذیب و ثقافت بلکہ من حیث المجموع زندگی کے تمام پہلوؤں کو بے پناہ نقصان پہنچا۔ اس نقطۂ نظر کی حمایت زیادہ تر مذہبی حلقے اور دینی مدرسے کر رہے تھے۔ دوسرا نظریہ یوں پروان چڑھا کہ برّصغیر میں انگریزوں کی آمد اور ان کی عملداری سے بظاہر نقصان کا پہلو نظر آتا ہے لیکن درحقیقت ان کی عملداری سے بالعموم ہندوستان کو اور بالخصوص یہاں کے مسلمانوں کو بے پناہ فوائد حاصل ہوئے۔برطانوی عملداری کے سبب یہاں جدید تعلیم، انگریزی زبان، سائنس اور ٹیکنالوجی اور معیشت و سیاست کے جدید قابلِ عمل اور فائدہ بخش نظریات و تصوّرات اور سرگرمیوں سے ہندوستانیوں کی زندگی کا قرینہ ہی بدل گیا۔اور بالواسطہ جدید یورپی تہذیب و ثقافت برّ صغیر ہند کے لیے ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہوئی۔
مؤخّرالذّکر نقطۂ نظر کی بھر پور حمایت سرسیداحمد خان اور ان کے رفقائے کارنے کی۔سرسیّد نے برّصغیرہند کے باشندوں اور بالخصوص مسلمانوں کو پسماندگی سے نکلنے کے لیے جدید تعلیم اور خاص طور پر مغربی علوم و فنون اور انگریزی کی تعلیم پر زور دیا۔انھوں نے لکھا کہ: ’’قوم کی اس خراب حالت سے میرا دل دکھا اور میں نے یقین کیا کہ تعلیم اور صرف تعلیم ہی ان کی اس خراب حالت کے درست کرنے کا علاج ہے۔‘‘ ۱؎ ایک موقع پر انھوں نے کہا کہ: ’’جو شخص علوم کی تحصیل کرنا چاہے وہ مجبور ہے کہ اس کو یورپ کی زبانوں میں کسی زبان کے ذریعے حاصل کرے‘‘۔ ۲؎ انھوں نے مسلمانوں میں مغربی علوم و فنون اور انگریزی زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کا منصوبہ بنایا۔ علی گڑھ میں ایم۔اے۔او کالج قائم کردیا اور سائنسی علوم کے فروغ کے لیے سائنٹفک سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا۔ نیز انھوں نے تحریر و تقریر کے ذریعے مسلمانوں کے ذہن نشین کیا کہ انھیں تعلیم جدید کے حصول میں کماحقّہ،کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ زمانے کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے قابل ہوسکیں۔
سرسیّد کے علاوہ کئی دیگر ہندوستانی سیاسی قائدین اور زعماء نے بھی اس نقطۂ نظر کی طرفداری کی اور انگریزی زبان و ثقافت اور برطانوی راج کو زحمت کے بجائے رحمت قرار دیا۔چنانچہ ۱۸۸۶ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے دوسرے سالانہ اجلاس کے صدارتی خطبے میں ہندوستان کے عظیم رہنما دادا بھائی نوروجی نے نوآبادیاتی نظام کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ: ’’یہ ملکہ [وکٹوریہ] اور انگلستان کے عوام کی تہذیب افروز حکومت کا پھل ہے کہ ہم یہاں اکٹھے ہیں۔ کوئی ہماری مزاحمت نہیں کرتا اور ہم پر ہر قسم کے خوف کے بغیر اپنے خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں اور کسی جھجھک کی ضرورت ہی نہیں۔ یہ بات محض اور محض برطانوی راج میں ممکن ہے۔‘‘ ۳؎
اسی طرح ہندوستان میں انگریزی تعلیم اور مغربی افکار کی افادیت کا اعتراف نہ صرف سرسیّد اور ان کے رفقائے کار، جیسے چراغ علی، امیر علی اور حالی ؔ وغیرہ کر تے نظر آتے ہیں بلکہ ان کی اگلی نسل کے نامور مدبّر اور عالمِ دین سیّد ابو الاعلیٰ مودودی بھی اس طرف گئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
’’یہ ہر شخص جانتا ہے کہ ہندوستان کی موجودہ وطنی تحریک براہِ راست انگریزی تعلیم سے پیدا ہوتی ہے۔ مخالف اور موافق دونوں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ انگریزی حکومت کی قائم کی ہوئی یونیورسٹیوں میں ہندوستانیوں نے تعلیم حاصل کی۔ وہاں یہ تاریخ، سیاسیات اور معاشیات سے روشناس ہوئے۔ انگریزی تعلیم کے توسط سے مغربی افکارتک پہنچے اور ان میں آہستہ آہستہ وہ سیاسی شعور بیدار ہوا جو حکومت خود اختیاری کی خواہش کا موجب ہوا کرتا ہے۔‘‘ ۴؎
معلوم ہوتا ہے کہ انیسویں صدی عیسوی کے نصفِ آخر کے ابتدائی عشروں اور بعد کے وقتوں میں بھی بنیادی طور پر کُل ہند قومیت یا متحدہ ہندوستانی قومیت کا تصوّر پروان چڑھا تھا، لیکن وقت اور حالات کی تبدیلیوں کے ساتھ یہ تصوّر فروغ نہ پا سکا اوربرگ و بار نہ لا سکا اور ہندو اور مسلمان دو قومیتوں میں فرق و امتیاز کا تصوّر ابھرنے لگا۔
یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ متّحدہ ہندوستان میں قوم پرستی کا تصوّر نوآبادیاتی دَور میں متعارف ہوا تھا۔ کیونکہ صنعتی انقلاب کے بعد یورپ میں قومی ریاستوں کا قیام عمل میں آیا تھا اور غالباً یہ تصوّر انگریزوں کی ہندوستان میں آمد اور ان کی عملداری کے نتیجے میں ہندوستان میں متعارف ہوا تھا۔ ہندوستانیوں کے بہت سے دانشوروں اور سیاسی و سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے لیڈران نے، جن میں سے بعض کا اس سے پیشتر ذکر ہوا، برطانوی عملداری کو ہندوستان کو متّحد کرنے اور جدید علوم سے انھیں روشناس کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔ اس طرح وہ متحدہ ہندوستان کی قومیت کا خواب دیکھنے لگے۔
لیکن بعد کے دنوں میں متّحدہ ہندوستانی قومیت کا حسین خواب اس بناء پر چکنا چور ہوا کہ ہند کے دو بڑے گروہ یعنی ہندوؤں اور مسلمانوں میں کچھ ناگزیر حالات کے سبب دُوریاں پیدا ہوئیں تھیں جنہوں نے کانگریس اور مسلم لیگ کی دو بڑی سیاسی و سماجی تنظیموں بلکہ سیاسی جماعتوں کو جنم دیا۔ کانگریس، جس کی بنیاد ۱۸۸۵ء میں قائم ہوئی تھی، ہندوؤں کی نمائندہ سیاسی جماعت بن کر سامنے آگئی جبکہ مسلم لیگ، جس کا قیام ۱۹۰۶ء میں ڈھاکہ میں عمل میں آیا تھا،برِّ صغیر ہند کے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت بن کر ابھری۔کانگریس نے اگرچہ متّحدہ ہندوستان کا نعرہ لگایا لیکن اس کے پیش نظر ہندومذہب، قومیت، ثقافت اور تہذیب تھی۔ یوں وہ درپردہ ہندو قومیت کا پرچار کرنے لگی۔جبکہ مسلم لیگ، جس کی ہندوستان کے اکثر مسلمان حمایت و طرفداری کرتے تھے،مسلم قومیت کی علمبردار جماعت بن کر آگے آئی۔ برِّ صغیر ہند میں ان دونوں سیاسی پارٹیوں نے ہندو اور مسلمان قومیتوں کو اس زور و شور سے ابھارا کہ اس کے نتیجے میں۱۹۴۷ء میں بھارت اور پاکستان کے نام سے دو ممالک معرضِ وجود میں آگئے۔
بھارت میں اپنے قیام کے آغاز، بلکہ خود کانگریس کے قیام کے ساتھ ہی بورژوا نیشنلزم مقبول ہوا۔ جیساکہ پروفیسر قاضی جاوید لکھتے ہیں کہ:’’ ہندوؤںمیں بورژوا نیشنلزم کو مقبولیت حاصل ہوئی۔‘‘ ۵؎ نیز بھارت میں اشتراکیت بھی پھیلنے لگی، عوامی جمہوریت برگ و بار لانے لگی اور یوں پارلیمانی جمہوری نظام بھارت کا مقدّر بن گیا۔ اس طرح بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی حیثیت سے منظرِ عام پر آگیا۔
دوسری طرف مسلم لیگ کی کاوشوں کے سبب پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ جیساکہ اس سے قبل کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ کے قیام کے وقت سے ہی مسلم قومیت کے نام سے مذہبی طرز کی سیاست اور جاگیردارانہ نیشنلزم کو فروغ دیا گیا تھا۔ جیساکہ قاضی جاوید لکھتے ہیں کہ’’۔۔۔ اور مسلمانوںمیں جاگیردارانہ قوم پرستی کو جگہ ملی جس کا اظہار عموماً مذہبی انداز ہوتا ہے۔‘‘ ۶؎ غالباً انھیں نظریات کو قیام پاکستان کے بعد ہی یہاں تقویت ملی۔ پاکستان اور بھارت کے ان سیاسی و سماجی نظریات اور رجحانات کی بنیاد پر ان کی خارجہ پالیسی تشکیل پا گئی۔ چنانچہ بھارت نے اپنے بورژوائی قومیت اور اشتراکی رجحانات سے وابستگی کے سبب سوویت یونین کے ساتھ اپنے تعلّقات استوار کیے جبکہ پاکستان اپنی جاگیردارانہ قومیت اوردین اسلام کے ساتھ اپنی مذہبی وابستگی کے پیش نظر مغرب کے سرمادارانہ نظام، خاص طور پر امریکی کیمپ سے وابستہ ہوا۔
اگرچہ پاکستان کے قیام کے دورانیے میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے ریاست کو سیکولر بنانے کا عندیہ دیا تھا اور بعد میں بھی اپنی وفات تک اس کے لیے بلیغ کوششیں کیں۔ جیسا کہ انھوں نے مورخہ ۱۱، اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے اپنے اوّلین خطاب میں فرمایا کہ: ’’آپ اس ریاست پاکستان میں آزاد ہیں، چاہیں تواپنے مندروں میں جائیں،چاہیں تو مسجد میں یا کسی اور عبادت گاہ میں جہاں آپ کی مرضی ہو جا سکتے ہیں۔ آپ کا واسطہ کسی بھی مذہب سے ہو،امور مملکت سے اس کا کوئی سروکار نہیں‘‘۔ ۷؎ قائداعظم نے اس کے علاوہ بھی دیگر خطبات و تقاریر میں تکرار سے اس نکتے پر زور دیا کہ پاکستان میں سیکولرزم، جس میں اسلامی اخوّت، رواداری اور روشن خیالی کے اصول بھی آتے ہیں،کو اپنا کر ہی ملک کو ترقی و استحکام دینا ممکن ہوگا۔ چنانچہ انھوں نے فروری ۱۹۴۸ء میں اہلیانِ امریکہ کے نام اپنے براڈ کاسٹ میں کہا کہ: ’’۔۔۔پاکستان میں کسی صورت میں بھی تھیوکریسی رائج نہیں ہوگی جس میں حکومت مذہبی پیشواؤں کے ہاتھوں میں دے دی جاتی ہے کہ وہ (بزعمِ خویش) خدائی مشن پورا کریں‘‘۔ ۸؎
بابائے قوم کے ان ارشادات میں پاکستان کے آئینی، قانونی، سماجی و ثقافتی اور مذہبی و اخلاقی اور بین الاقوامی تعلّقات کے حوالے سے رہنما خطوط ملتے ہیں جن پر عمل در آمد سے ملک ترقی و سربلندی حاصل کر سکتا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی ابتدائی مشکلات کے دوران ہی قائد اعظم کی موت کے سبب ان مصائب و مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوا۔تاہم، قائد کی وفات کے بعد ان کے دست راست اور ملک کے پہلے وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان بھی اپنے قائد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کو ایک ایسی ترقی پسند اور فلاحی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے جس میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری، روشن خیالی اور سماجی انصاف، جو اسلام میں پیش کیے گئے ہیں، مہیا ہو سکے۔
لیکن قائد اعظم کی وفات کے بعد بتدریج ان کی ہدایات اور حکمت عملیوں کو نظر انداز کیا گیا۔ لیاقت علی خان نے ان ہدایات پر عمل کرنے کی مقدور بھر کوشش تو کی لیکن ان کی قیادت کے دوران ہی ان کے مخالفین نے اپنے مطالبات منوالیے، لیکن ان کی وفات کے بعد راستہ صاف ہوا اور من مانیاں ہونے لگیں۔اس میں حکمران اور دانشور طبقہ دونوں ملوّث تھے۔ جیساکہ ایک آزاد خیال مؤرّخ اور محقّق ڈاکٹر حمزہ علوی لکھتے ہیں کہ: ’’ ۱۹۵۲ء میں ہی جناح کے نالائق جانشینوں نے سیکولر نصب العین سے منہ موڑ لیا اور اپنی گرتی ہوئی سیاسی مقبولیت کو بحال کرنے کی گھسی پٹی لفّاظی کا سہارا لینا شروع کردیا۔وہ چیخنے لگے کہ اسلام خطرے میں ہے۔‘‘ ۹؎
پاکستان کے دانشوروں نے نظریۂ ضرورت کے تحت پاکستان جیسے نظریاتی، جغرافیائی اور تزویراتی اہمیّت کی حامل ریاست کی بنیادوں کی حسّاسیت کو درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے غیر سنجیدگی اور غیر علمی طریقے سے مختلف تشریحات و تعبیرات سامنے لائے۔ کبھی اسلامی نیشنلزم اور کبھی روحانیت پر مبنی پاکستانی نیشنلزم کے نظریات پیش کیے گئے۔ چنانچہ ایک پاکستانی دانشور پی۔ کے۔ خان نے کہا کہ ’’ اسلامی نیشنلزم بنیادی طور پر دوسری قوموں کے نیشنلزم سے مختلف ہے۔‘‘ نیز کہا کہ یہ ایک طرز حیات ہے اور جس میں عوام افلاس اور لالچ سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور پاکستانی صحافی اور دانشور زیڈ۔ اے سلہری کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی نیشنلزم منفرد ہے اور نوعیت کے اعتبار سے علاقائی ہونے کے بجائے روحانی ہے۔ ۱۰؎ نیز ضیاء الحق دَور کے ایک اور دانشور اور قانون دان اے۔ کے۔ بروہی کی رائے یہ تھی کہ ظہورِ پاکستان کو قوم پرستی کے مغربی تصوّرات کے مقابلے میں روحانی اصول کی کامیابی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ۱۱؎
نہ صرف اس پر اکتفا کیا گیا بلکہ پاکستان کو کفر اور باطل قوّتوں کے ساتھ نبرد آزما ہونے والے مدافع اسلام ریاست کے طور پر بھی پیش کیا گیا۔ جیساکہ پروفیسر خواجہ غلام صادق نے لکھا ہے کہ : ’’ پاکستان ہندوؤں کے ساتھ تصادم کے نتیجے کے طور پر وجود میں نہیں آیا بلکہ ان قوّتوں کے خلاف دفاع کے طور پر جو مسلمانوںکو ایک آزاد اور جداگانہ ہستی کے طور پر فنا کردینا چاہتی تھی۔‘‘ ۱۲؎
مذکورہ بالا نظریات و آراء پاکستان کے دانشوروں کے ہیں جنہوں نے اپنی اپنی سوچ اور اپروچ کے مطابق پاکستان کی قومی شناخت کا تعیّن کیا اور ان کے بزعم ریاست کو اسلامی بنانے میں ہی پاکستان کا مفاد ہے۔ لیکن جہاں تک پاکستان کے مختلف حکمرانوں کے نظریات اور منشورات کا تعلّق ہے تو انھوں نے محض ایسے نعرے بلند کیے کہ جن کے ذریعے اُن کی حکومت کی مدّت میں اضافہ توہوسکتا تھا لیکن ملک و قوم کے مفادات کے تحفّظ کی ضمانت نہیں ملتی تھی۔سب سے پہلے لیاقت علی خان کے رجیم کے دوران ۱۹۴۹ء میں ’’قرار دادِ مقاصد‘‘کے ذریعے پاکستان کا نام عوامی جمہوریۂ پاکستان کی جگہ اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا۔ اس کے بعد ایّوب خان کی فوجی آمریّت کے دَور میں ملک کے آئین کو سیکولر بنانے کی کوشش کی گئی لیکن دینی علماء اور جاگیرداروں کے دباؤ کے باعث یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی۔
۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ بھٹو نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ بلند کیا، مذہبی طبقے کو مطمئن کرنے کے لیے ملک میں جمعہ کے دن عام تعطیل، شراب کی ممانعت اور ۱۹۷۴ء کو لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقاد جیسے اقدامات کیے گئے۔لیکن اپنی مذکورہ عملی کاوشوںسمیت اسلامی سوشلزم کا نعرہ بھی ثمرآور ثابت نہ ہوا۔ کیونکہ یہ کسی علمی و تحقیقی بنیاد پر مرتّب نہیں ہوا تھا اور نہ اس میں تسلسل تھا نہ سنجیدگی۔ سچ تو یہ ہے کہ بھٹو حکومت کو مستحکم کرنے اور اسے طول دینے کے لیے یہ نعرۂ فلک شگاف بلند کیا گیا تھا۔ بہر حال، یہ نظریہ بھٹو کے عہدِ حکومت ہی میں ناکامی کا شکار ہوچکا تھا۔ تاہم، بھٹو رجیم کاایک جزوی پہلو مذہبی رواداری اور سیکولر سیاسی نظریے کی کسی حد تک ترویج و اشاعت تھا۔
۱۹۷۷ء میں ملک میں مارشل لاء لگنے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کے تختہ الٹنے اور بھٹو کو پھانسی دینے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے، جو پہلے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اورپھر صدرِ مملکت بنے تھے، ملک میں نظامِ مصطفی رائج کرنے کا اعلان کیا۔ تمام اداروں کو اسلامیانے (Islamization) کی کوشش کی گئی، اسلامیات اور مطالعہ ٔپاکستان کے مضامین کو ملک کے تمام کالجوں میں بیچلرز تک لازمی قرار دیا گیا، شریعت کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا اور آئین میں اسلامی دفعات داخل کیے گئے۔ اس طرح پاکستان کو قرون اولیٰ کی ایک رجعت پسند دینی ریاست کے طور پر پیش کیا گیا۔
ضیاء الحق کی موت کے بعد بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی بالترتیب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتیں یکے بعد دیگرے قائم ہوئیں۔ بے نظیر اگرچہ سیکولر رجحانات کی حامل تھیں اور مذہبی رواداری اور روشن خیالی کو اپنے منشور کا حصّہ بنا لیا اور اس کی پرچار کرنے کی کوشش بھی کی لیکن حالات کی مجبوری یا وژن اور علم کی کمی یا ارادے کی ناپختگی کے باعث اسے عملی جامہ نہ پہنا سکیں۔جبکہ نواز شریف، اگرچہ خود سیکولر ذہن رکھنے والے ایک صنعت کار تھے لیکن ان پر ضیاء باقیات کا لیبل لگا اور ان کا نقطۂ نظر کھل کر سامنے نہ آسکا۔
۱۲ ،اکتوبر۱۹۹۹ء میں نواز شریف کی جگہ جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آگئے۔پہلے وہ ملک کے چیف ایگزیکٹو بنے، پھر ۲۰ جون ۲۰۰۱ء کو صدارتی ریفرنڈم کے ذریعے صدرِ مملکت کا عہدہ سنبھالا۔انھوں نے اپنے دورِ اقتدار میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ مذہبی روادای اور جدید روشن حیالی کی ترویج واشاعت کی کوشش کی۔ وہ کمال اتا ترک سے متاثر تھے اور ملک کو حقیقی بنیادوں پر سیکولر بنانا چاہتے تھے اور یقیناً وہ بہت حد تک اقتدار اورسیاست کے اغراض اور مصلحتوں سے بالا تر ہوکر محض معقول نظریے کے طور پر رواداری اور روشن خیالی کو نافذ کرنا چاہتے تھے۔لیکن اس ضمن میں کوئی منظّم علمی و انتظامی کام نہ ہو سکنے اور سیاسی تبدیلیوں کے سبب یہ نظریہ ملک میں پنپ نہ سکا۔ بہر حال، اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ پرویز مشرّف پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سب سے زیادہ روشن خیال اور سیکولر نظریات رکھنے والے حکمران گزرے ہیں۔
پھر ۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۷ء تک کے دورانیے میں یکے بعد دیگرے آصف علی زردار ی کی قیادت میں پیپلز پارٹی اور نواز شریف کی سربراہی میں مسلم لیگ ن کی حکومتیں قائم ہوئیں۔اس دوران محض حکومت کی گئی اور بہتر حکمرانی کے لیے کوئی کام نہ ہوسکا۔ ۲۰۱۸ء میں عالمی شہرت یافتہ پاکستانی کرکٹر اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی۔عمران خان نے، اگرچہ وہ خود روشن خیال، ترقی پسند اور جدید مغربی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں، مگراپنی حکومت کے دوران ’’ریاستِ مدینہ ‘‘کے نام سے ایک مذہبی نعرہ بلند کیا۔ ایک لحاظ سے عمران خان کی ریاست مدینہ بھی ضیاء الحق کے نظام مصطفی ؐ کی ایک صورت ہے۔بہر حال، ریاست مدینہ کے درست خط و خال تا حال واضح نہ ہو سکے۔ بلاشبہ، ریاستِ مدینہ،جس کے بانی اور سربراہ خود پیغمبرِ اسلام حضرت محمّد ﷺتھے،مسلم امّت اور مسلم ریاستوں کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے، رسول پاک ؐ کی سیرت و تعلیمات سے مسلمانوں کی زندگی کے ہر شعبے میں رہنما خطوط ملتے ہیں۔ لیکن باین ہمہ اس قدیم دینی ریاست کی ہیئت ترکیبی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اوّل میں قائم شدہ یہ ریاست عرب کے خطّۂ حجاز کے اُس وقت کے مخصوص ماحول میں پروان چڑھنے والی ابتدائی اسٹیج کی سادہ سی ریاست تھی جس کی گیسوئے حکمرانی ابھی منّت پذیر شانہ تھے۔ اگرچہ اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ اس ریاست کی سرپرستی و سربراہی رسول ﷺ خود کر رہے تھے، لیکن یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہے کہ رسولؐ پر وحی خداندی نازل ہوتی تھی، نزولِ وحی کے ساتھ ساتھ قرآنی آیات اور سورتوں کی تشریح و تعبیر خود رسولؐ کرتے تھے اور مسلمان ان سے استفادہ کرتے اورانھیں ان ہدایات سے دنیا و آخرت کی رستگاری کا سامان فراہم ہوتا تھا۔ نیز قابلِ غور بات یہ ہے کہ تمام امور میں رسولؐ اختیار کُلّی کے حامل تھے۔ جبکہ آج اکیسویں صدی عیسوی کے ربع اول کے اوخر میں، جبکہ سیاست و ریاست کے قرینے بہت سے معاملات میں بالکل بدل گئے ہیں اور بے شمار پیچیدگیاں اس میں در آئی ہیں، اس قبیل کی قدیم ریاست کا ڈھانچہ قائم کرنا صرف مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ البتہ اس ریاست کے عالمگیر اصولوںو نظریات کو کسی بھی زمانے میں کسی بھی جگہ اور کسی بھی نظامِ سیاست و ریاست میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔
گذشتہ ادوار میں پاکستانی دانشوروں اور حکمرانوں نے مذہب کے ذریعے پاکستان کی قومی شناخت کا تعیّن کی کوشش کی۔بے شک اسلامی آئیڈیالوجی کا پاکستانیوں سمیت تمام دیندار مؤمنین و مسلمین کے لیے ایک دلچسپ اور خوشگوار تصوّر ہونا قدرتی بات ہے۔بعض پاکستانی دانشور خلوصِ نیت سے اس طرف گئے ہوں گے۔لیکن یہ حقیقت بھی تسلیم شدہ ہے کہ ایک جدید جمہوری ریاست کے تقاضے صرف اس کا مخصوص سماجی ڈھانچہ اورمذہبی نظریات پورا نہیں کر سکتے ہیں بلکہ زندگی کے جملہ عناصر و عوامل، جیسے تعلیم وصحت، معیشت واقتصادیات، سائنس و ٹیکنالوجی، شہریوں کا معیار زندگی،سماجی بہبود، انتظام و انصرام، بین الاقوامی تعلّقات،قانون کی حکمرانی اور آزادی فکر و رائے وغیرہ کو ایڈریس کرنا ریاست کی بنیادی ذمّے داری ہے۔جبکہ ماضی میں پاکستان میں روبہ عمل لائے جانے والے مذکورہ بالا مذہبی نظریات اور فلک شگاف نعروں میں ان زمینی حقائق کو زیرِ غور لانے کا کوئی معقول انتظام نہیں کیا گیا۔ نیز یہ کہ ملک کی معروضی صورت حال یعنی جغرافیائی، نسلی، مسلکی اور ثقافتی گوناگونی اور تکثیریت (Diversity and Pluralism) پر مبنی معاشرے کے تقاضوں کو بھی پیش نظر نہیں رکھا گیا۔بلکہ من پسند نظریات اور آئیڈیالوجیز کو نافذ کرنے کے لیے پاکستان کو تجربہ گاہ بنایا گیا جس کے سبب ملک و وطن کا بدن لہو لہان ہوا اور ملک معاشی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے کمزور سے کمزور تر ہوتا گیا۔
چنانچہ، آج زندگی کے ہر طبقے سے تعلّق رکھنے والاباشعور اور ملک کا خیرخواہ شخص اپنی عزیز و عظیم مملکت پاکستان کی حالت زار دیکھ کر بہت بے چین و بے قرار اوراضطراب کا شکار ہے۔حالات میں بہتری آنے کے امکانات کم سے کمتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ پاکستان کے عوام،اربابِ اختیار اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد ملک کو صحت مند بنیادوں پر استحکام دینے اور اس کے زوال کو عروج و ارتقاء سے بدلنے اور اسے ترقّی کی روشن راہوں پر گامزن کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لائیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین
حوالہ جات
۱۔ قاضی جاوید۔ ’سرسیّد سے اقبال تک‘ (لاہور: تخلیقات، ۱۹۹۸ء)،ص ص ۱۶؛ ماخوذ از سرسیّد احمد خان۔ ’مقالات سرسیّد ‘، جلد ۱۰، ص۱۹۱
۲۔ ایضاً، ص ۲۱؛ مقالاتِ سرسیّد، جلد ۸، ص ۱۳۰
۳۔ قاضی جاوید۔ ’ پاکستان میں فلسفیانہ رجحانات ‘، سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور، ۱۹۹۳ء، ص ۱۰
۴۔ ابو الاعلی ٰمودودی۔’ تحریک آزادی ہند اور مسلمان ‘، ص۲۵۵۔ ۲۵۶؛ قاضی جاوید، ص ۱۰
۵۔ قاضی جاوید۔ ’پاکستان میں فلسفیانہ رجحانات ‘، ص ۱۱
۶۔ قاضی جاوید۔ ’پاکستان میں فلسفیانہ رجحانات ‘، ص ۱۱
۷۔ ڈاکٹر زوّار حسین زیدی (مدیرِ اعلیٰ)۔ ’جناح پیپرز، باآخر تخلیقِ پاکستان‘، جلد چہارم، تلخیص و ترجمہ: سیّد نصرت اللہ شاہ،پاکستان پیپرزپراجیکٹ، کلچر ڈویژن، حکومتِ پاکستان، اسلام آباد، ۲۰۰۳ء، ص ص ۳۵۱۔۳۵۲
۸۔ الطاف حسین۔ ’اقبال اور اسلامی معاشرہ‘،بزمِ اقبال،لاہور، ۱۹۹۱ء، ص ص ۱۱۹۔۱۲۰
۹۔ حمزہ علوی۔ ’ تخلیقِ پاکستان ‘،ترجمہ: ریاض احمد شیخ، تاریخ پبلیکیشنز، لاہور، ۲۰۱۲ء، ص ۴۱
۱۰۔ قاضی جاوید۔ ’پاکستان میں فلسفیانہ رجحانات ‘، ص ۱۴
۱۱۔ قاضی جاوید۔ ’پاکستان میں فلسفیانہ رجحانات ‘، ص ۱۴؛ بحوالہ A. K. Brohi. Islam in the Modern World
۱۲۔ قاضی جاوید۔ ’پاکستان میں فلسفیانہ رجحانات ‘، ص ۱۴
