Browsing: تراجم

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ہم آزادی اظہار کے سنہری دور میں رہتے ہیں۔ ‘یونائیٹڈ سٹیٹس بل آف رائٹس’ اور ‘اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا اعلامیہ’ جیسی دستاویزات دنیا کے بیشتر باشندوں کو آزادانہ تقریر کا قانونی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ اور، میڈیا اور انٹرنیٹ میں تکنیکی ترقی کی بدولت، اپنا موقف بیان کرنا اور اپنے خیالات کو پھیلانا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ ہم آزادانہ بات کرنے کے اتنے عادی ہیں کہ ہم اسے معمولی سمجھتے ہیں، یہ بھول جاتے ہیں کہ انسانی تاریخ کے بیشتر حصوں میں ایسی آزادی کا رواج نہیں تھا۔

ماضی کی مسلم فکر میں تاریخی طور پہ اس حد تک تنوع رہا ہے کہ عصر حاضر میں اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ آج چھوٹے چھوٹے فروعی مسائل پہ مذہبی طبقات میں تناؤ محسوس کیا جاسکتا ہے اور انہی فروعی مسائل کی بنیادپہ تحریکیں بھی برپا ہیں۔ جبکہ ماضی میں جو فکری و علمی مسالک موجود رہے ہیں ان کا باہمی اختلاف عقائد میں بنیادی نوعیت کا بھی رہا ہے، تاہم ان موضوعات پر خوب مکالمہ کیا جاتا تھا اور دلیل کی بنیاد پہ برتری ثابت کی جاتی۔ اگرچہ بعض طبقات پر سیاسی مفادات کی وجہ سے گھیرا تنگ کیا گیا اور ان کی فکر کو آگے نہیں چلنے دیا گیا، مگر اس کی وجوہات زیادہ تر سیاسی ہی رہیں۔ ان طبقات میں سرفہرست معتزلہ کا نام آتا ہے جنہیں اپنے وقت کے جدیدیت پسند کہا گیا۔ معتزلہ کے بارے میں آج منفی رائے غالب ہے لیکن کیا وہ ہر طرح سے غلط تھے اور کیا ان کے وجود و افکار کو مٹادینا درست اقدام تھا، زیرنظرمضمون میں مصطفی اکیول نے اسی موضوع پر بات کی ہے۔)