ماضی کی مسلم فکر میں تاریخی طور پہ اس حد تک تنوع رہا ہے کہ عصر حاضر میں اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ آج چھوٹے چھوٹے فروعی مسائل پہ مذہبی طبقات میں تناؤ محسوس کیا جاسکتا ہے اور انہی فروعی مسائل کی بنیادپہ تحریکیں بھی برپا ہیں۔ جبکہ ماضی میں جو فکری و علمی مسالک موجود رہے ہیں ان کا باہمی اختلاف عقائد میں بنیادی نوعیت کا بھی رہا ہے، تاہم ان موضوعات پر خوب مکالمہ کیا جاتا تھا اور دلیل کی بنیاد پہ برتری ثابت کی جاتی۔ اگرچہ بعض طبقات پر سیاسی مفادات کی وجہ سے گھیرا تنگ کیا گیا اور ان کی فکر کو آگے نہیں چلنے دیا گیا، مگر اس کی وجوہات زیادہ تر سیاسی ہی رہیں۔ ان طبقات میں سرفہرست معتزلہ کا نام آتا ہے جنہیں اپنے وقت کے جدیدیت پسند کہا گیا۔ معتزلہ کے بارے میں آج منفی رائے غالب ہے لیکن کیا وہ ہر طرح سے غلط تھے اور کیا ان کے وجود و افکار کو مٹادینا درست اقدام تھا، زیرنظرمضمون میں مصطفی اکیول نے اسی موضوع پر بات کی ہے۔)
Author: رشاد بخاری
جدید دنیا میں خواتین کی مساوی حیثیت اور ان کے حقوق کا مسئلہ اگرچہ کافی حد تک تسلیم شدہ ہے، لیکن یہ مکمل طور پہ غیرمتنارعہ کہیں بھی نہیں ہے۔ اگر مسلم دنیا کی بات کی جائے تو یہ مسئلہ بنیادی مفروضات کے حوالے سے بھی کافی اختلافی ہے، عوامی سطح پہ اور فکری حلقوں میں بھی۔ کچھ اثر اس میں تہذیبی اقدار کی الجھنوں کا بھی ہے جنہیں سلجھانا آسان نہیں، اور اس کے اپنے عوامل ہیں۔ تاہم جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب محض نظری نہیں رہا بلکہ تیزرفتار تبدیلیوں نے کئی عملی…
حکومت کی یہ خواہش ہے کہ ’کالعدم تحریک طالبان پاکستان‘ (TTP) عسکریت پسندی ترک کردے اور مرکزی دھارے کی سیاست میں اپنا کردار ادا کرے۔ جبکہ ٹی ٹی پی کا مطالبہ ہے کہ حکومت سابقہ فاٹا کے ضم شدہ علاقوں سے اپنے فوجی واپس بلائے، فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے فیصلے کو واپس لینے کے لیے آئین کی 25ویں ترمیم کو منسوخ کیا جائے اور مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت کا نفاذ کیا جائے۔ عام طور پر اس مسئلے میں بس انہی دو اطراف کے تناظر میں بات کی جاتی ہے، لیکن کیا کبھی سوچا جاتا ہے کہ ان…
ماہرین تعلیم اور حکومتوں کے سامنے ایک بڑا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ اس ’’ڈیجیٹل ایج‘‘ یعنی جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بچوں کو کیا اور کیسے تعلیم دی جائے کہ اپنے علمی، ذہنی اور عملی امکانات اور رجحانات کے مطابق وہ بہترین انسان اور مفید شہری بن سکیں اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیتوں اوردیگر ضروری مہارتوں سے مزین ہوسکیں۔ سب سے زیادہ تشویش اس امر پر ہے کہ ہمارے ہاں بچوں کو یہ تو سکھایا جاتا ہے کہ وہ کیا سوچیں، لیکن یہ نہیں سکھایا جاتا کہ کس طرح سوچیں۔ نتیجے میں ایک ایسی نسل…
ملک میں صدقہ اور خیرات کے رجحانات کے بارے میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں لوگوں کی طرف سے ہر سال قریب قریب اڑھائی سو ارب (بلین) روپے غریبوں، مسکینوں، یتیموں، بیواؤں، لاچاروں، بیماروں، مستحق طالبعلموں و دیگر ضرورت مندوں کی بہبود اور امداد کے لیے خیرات کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے ڈیڑھ سو ارب سے زیادہ صرف رمضان کے مہینے میں خیرات کیے جاتے ہیں۔ ڈان اخبار کی طرف سے پچھلے سال کیے جانے والے ایک غیر رسمی سروے کے مطابق درمیانے اور امیر طبقے سے تعلق رکھنے والے پچانوے فیصد سے زیادہ خاندان کسی…
جب پاکستان بنا تھا تو اس کے وجود کے جواز کی بہت سی دلیلیں دی گئی تھیں اور بدقسمتی سے یہ دلیلیں دینے کی ضرورت ابھی تک محسوس کی جاتی ہے، جیسے ابھی اس ملک کے قیام کا فیصلہ ہونا باقی ہو؟ لیکن ہم ان نظری، فکری جوازوں سے آگے بڑھتے ہوئے دیکھیں تو نوآبادیات کے چنگل سے آزاد ہونے والے دیگر ممالک کی طرح اپنے ملک کی ترقی ہی پاکستان کا اصل قومی مقصد تھا۔ پاکستان کے بارے میں زیادہ تر عوامی مباحث چونکہ نظریاتی اور سیاسی پیرائے میں ہوتے ہیں، اس لئے ترقی کا تصور دھندلایا ہوا سا…
ایک بار ایک نوجوان دوست نے بہت دلچسپ سوال پوچھا۔ کیا حق کو تلاش کیا جاتا ہے یا اس کی حفاظت کی جاتی ہے؟ میں نے سیدھا سا جواب دینے کی بجائے بات گھمانے کی کوشش کی، ’تلاش اسے کیا جاتا ہے جو کھو گیا ہو یا ابھی ملا نہ ہو اور حفاظت اس کی کی جاتی ہے جو کمزور ہو یا جس کے کھو جانے، لٹ جانے یا ختم ہوجانے کا خطرہ ہو۔ تم حق کس کو کہتے ہو؟‘ کہنے لگا میری مراد مطلق سچائی سے ہے؟ چونکہ میرے پاس اس سوال کا کوئی سیدھا سادہ جواب موجود نہیں…
کہتے ہیں میٹھے بول میں جادو ہے۔ وہ تو ہے۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض کلام جادو اثر ہوتا ہے۔ یہ بھی ٹھیک ہے۔ سنتے ہیں محبت فاتح عالم ہے، بالکل ہے۔ لیکن کیا تیکھے بول میں بھی جادو ہے؟ نمکین بات میں بھی جادو ہے؟ کڑوے لفظ میں بھی جادو ہے؟ نفرت بھرے سخن میں بھی جادو ہے؟ اگر تو جادو کا مطلب کسی کے دل و دماغ کو مسخر کرکے اپنی راہ پر لگانا ہے تو ہر طرح کا کلام یہ کام کرتا آیا ہے، شرط صرف یہ ہے کہ انسان کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھ…
جب تک اپنے اپنے موقف کے تیقن کی چوٹیوں سے نیچے جھانکنے کی ہمت پیدا نہ کرلی جائے، مکالمہ مشکل ہے۔ جب تک اپنی ناک سے آگے دیکھنے کا حوصلہ نہ ہو، مکالمہ مشکل ہے۔ جب تک اپنی فیصلہ کن رائے کو تھوڑی دیر کے لیے معطل نہ کیا جاسکے، مکالمہ مشکل ہے۔ جب تک دوسروں کو، چاہے وہ کتنے ہی غلط کیوں نہ ہوں، سننے کا ارادہ نہ کرلیا جائے، مکالمہ مشکل ہے۔ جب تک اپنی ذات اور مفاد کے ہمالیہ سے کچھ نیچے اترنے کی نیت نہ کی جائے، مکالمہ مشکل ہے۔ جب تک خلوص نیت سے کسی…
ہمارے ایک بہت مخلص، سادہ طبیعیت، لکھنے پڑھنے کا شوق رکھنے والے، دین دار اور آئیڈیلسٹ دوست ہیں۔ چند دن قبل فون پر یاد کیا، میں شہر سے باہر تھا۔ واپسی پر پھر یاد کیا، بڑی محبت سے بلایا اور اسلام آباد میں سیکٹر آئی نائن کے معروف چھپر ہوٹل، جو اب ایک پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر نیو سٹائلش ریسٹورنٹ بن چکا ہے، کے باہر پارک کے سامنے رکھی پلاسٹک کی میز کرسی پر لذیذ مچھلی کھلائی۔ پھر کڑک پتی والی چائے پلائی۔ موسم خوش گوار تھا، ہلکی دھوپ دسمبر کی سردی میں لازوال نعمت کی طرح پھیلی ہوئی…
