ٹیکنالوجی کی ترقی تو اپنی جگہ ہوش رُبا تھی ہی، اب جس میدان میں انسان…
Browsing: تراجم
نجود علی یمن سے تعلق رکھنے والی ایک بچی ہے جس کی شادی اس کے بچپن میں کسی ادھیڑ عمر شخص سے کردی جاتی ہے جو بجائے خود ایک ظلم ہے مگر اس پر مستزاد یہ کہ اس پر شوہر کی جانب سے کام کاج اور دیگر امورِ خانہ داری سے ساس سسر کی خدمت تک کی سبھی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس پر ظلم و زیادتی اور تشدد کو بھی روا رکھا جاتا ہے۔ اس ظلم وجبر سے نجات کے لیے گھر سے نکلنے اور طلاق لینے میں کامیابی تک کے مراحل کو آپ بیتی کی صورت میں ایرانی نژاد فرانسیسی صحافی اور مصنفہ ڈیلفن مینوئے (Delphine Minoui) نے”I’m Nujood: Age 10 and Divorced” کے نام سے تحریر کیا ہے۔ نجود علی جبری اورکم عمری کی شادی کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھی جاتی ہیں اوران کی آپ بیتی کا اب تک تیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔ اردو میں اس کتاب کا ابھی تک کوئی ترجمہ سامنے نہیں آیا۔ ہمارے سماج میں بھی جبری و کم عمری کی شادی اور گھریلو تشدد ایک المیے کی صورت موجود ہے۔ ایک باہمت کم عمر لڑکی کی آپ بیتی یقیناً ہمارے ذہنوں کو ضرور جھنجھوڑے گی۔ سہ ماہی تجزیات اس کتاب کا اردو ترجمہ قسط وار شائع کرتا رہا ہے جسے قارئین میں پذیرائی حاصل رہی۔ اس سلسلے کی آٹھویں قسط پر سلسلہ اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ (مدیر)
پاکستان میں صحت سے متعلق امور سماجی اور انتظامی سطح پر جس لاپروائی کا شکار ہیں، اس کا نتیجہ مسلسل دگرگوں ہوتی ہوئی صورت حال میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ ستم یہ ہے کہ اگر انتظامی طور پر بہتری کے کچھ اقدامات کرنے کی کوشش کی بھی جائے تو اس نوع کی مہم خود مسائل و مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے جس کا باعث مختلف سماجی عوامل ہیں۔ معروف و متحرک صحافی عون ساہی نے اپنے شعبے کے حوالے سے پاکستان میں کورونا ویکسین لگوانے سے عوام میں پائے جانے والے گریز کا تجزیہ کیا ہے جس میں انھوں نے حالیہ تحقیقات سے استفادہ کیا ہے۔ مضمون کی اصل زبان انگریزی ہے تاہم اس کی اہمیت متقاضی تھی کہ قارئین "تجزیات” کے لیے اس کا اردو ترجمہ پیش کیا جائے۔ (مدیر)
سیاسی مالیات ، یعنی سیاسی جماعتوں کی جانب سے کئے گئے اخراجات ، ان خرچوں…
انسانی نفسیات کا جہان ایسا ہے جہاں ہر قدم حیرتیں بانہیں پھیلائے ہوئے ہیں۔ انسان جس قدر اس کے بارے میں زیادہ جانتا جاتا ہے، اتنا ہی اسے احساس ہوتا ہے کہ جو گرفت میں آنے سے رہ گیا ہے، وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ گذشتہ شمارے میں کارل یونگ کے افکار کی تلخیص کا ترجمہ پییش کیا گیا تھا جس میں خوابوں اور ان میں ظاہر ہونے والی علامات کے بارے میں دلچسپ معلومات قارئین "تجزیات” کو پڑھنے کو ملیں۔ متخیلہ اور تخلیقی محرکات کے حوالے سے دماغ میں پیدا ہونے والے ایک کیمیائی ذرے کی کرشماتی خصوصیات پر مبنی تحریر کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ (مدیر)
نجود علی یمن سے تعلق رکھنے والی ایک بچی ہے جس کی شادی اس کے بچپن میں کسی ادھیڑ عمر شخص سے کردی جاتی ہے جو بجائے خود ایک ظلم ہے مگر اس پر مستزاد یہ کہ اس پر شوہر کی جانب سے کام کاج اور دیگر امورِ خانہ داری سے ساسس سسر کی خدمت تک کی سبھی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس پر ظلم و زیادتی اور تشدد کو بھی روا رکھا جاتا ہے۔ اس ظلم وجبر سے نجات کے لیے گھر سے نکلنے اور طلاق لینے میں کامیابی تک کے مراحل کو آپ بیتی کی صورت میں ایرانی نژاد فرانسیسی صحافی اور مصنفہ ڈلفن مینوئے (Delphine Minoui) نے”I’m Nujood: Age 10 and Divorced” کے نام سے تحریر کیا ہے۔ نجود علی جبری اورکم عمری کی شادی کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھی جاتی ہیں اوران کی آپ بیتی کا اب تک تیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔ اردو میں اس کتاب کا ابھی تک کوئی ترجمہ سامنے نہیں آیا۔ ہمارے سماج میں بھی جبری و کم عمری کی شادی اور گھریلو تشدد ایک المیے کی صورت موجود ہے۔ ایک باہمت کم عمر لڑکی کی آپ بیتی یقیناً ہمارے ذہنوں کو ضرور جھنجھوڑے گی۔ سہ ماہی تجزیات اس کتاب کا اردو ترجمہ قسط وار شائع کررہاہے۔ اس سلسلے کی ساتویں قسط آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔ (مدیر)
بے مثال دستاویزی تحقیق کے متاثر کن حاصلات پر مبنی، پروفیسر محمد قاسم زمان کی…
نجود علی یمن سے تعلق رکھنے والی ایک بچی ہے جس کی شادی اس کے بچپن میں کسی ادھیڑ عمر شخص سے کردی جاتی ہے جو بجائے خود ایک ظلم ہے مگر اس پر مستزاد یہ کہ اس پر شوہر کی جانب سے کام کاج اور دیگر امورِ خانہ داری سے ساسس سسر کی خدمت تک کی سبھی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ مزید یکہ اس پر ظلم و زیادتی اور تشدد کو بھی روا رکھا جاتا ہے۔ اس ظلم وجبر سے نجات کے لیے گھر سے نکلنے اور طلاق لینے میں کامیابی تک کے مراحل کو آپ بیتی کی صورت میں ایرانی نژاد فرانسیسی صحافی اور مصنفہ ڈلفن مینوئے (Delphine Minoui)نے”I’m Nujood: Age 10 and Divorced”کے نام سے تحریر کیا ہے۔ نجود علی جبری اورکم عمری کی شادی کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھی جاتی ہیں اوران کی آپ بیتی کااب تک تیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔اردو میں اس کتاب کا ابھی تک کوئی ترجمہ سامنے نہیں آیا۔ ہمارے سماج میں بھی جبری و کم عمری کی شادی اور گھریلو تشددایک المیے کی صورت موجود ہے۔ ایک باہمت کم عمر لڑکی کی آپ بیتی یقیناً ہمارے ذہنوں کو ضرور جھنجھوڑے گی۔ سہ ماہی تجزیات اس کتاب کا اردو ترجمہ قسط وار شائع کررہاہے۔ اس سلسلے کی پانچویں قسط آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔(مدیر)
رات کے اوقات میں تین چار مرتبہ ایسا ہوجاتا تھا کہ شدید درد کی وجہ…
20ویں صدی کے اوائل میں برطانوی حکومت نے جب پنجاب اور اُس وقت کے شمال…
