محترمہ بینظیر بھٹو کی 30 سالہ جدوجہد جو 1977ء میں شروع ہوئی عزم، ہمت اور وژن کی کئی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ تاہم اِس سفر میں ایک حوالہ اُن کا پارلیمانی کردار ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کا پارلیمانی کردار 1988ء سے لے کر 1999ء تک کم وبیش گیارہ سالوں پر محیط ہے۔ اِس عرصہ کے دوران محترمہ کو دنیا کی کم عمر ترین عالَم اسلام اور پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہونے کا تاریخی اعزاز نصیب ہوا۔ اس مرحلے میں انہیں دو بار قائدِایوان(وزیراعظم) اور دو بار قائدٍ حزب ِ اختلاف کا کردار نبھانے کا موقع ملا۔ محترمہ…
Author: ظفر اللہ خان
پاکستانی سماج کو کیا ہوگیا ہے؟ جسے دیکھو وہی نفرت کے نصاب کی مجسم تصویر بنتا جا رہا ہے۔ ہاتھوں میں پتھر، تیزابی لہجے اور سوچ کا فقدان۔ المختصر فکری افلاس اور تدبر کے قحط کا زمانہ لگتا ہے۔ ویسے تو ہجو اور قصیدہ ہمارے ادب کی عرصہ سے معروف اصناف ہیں۔ ہجو اپوزیشن کا بیانیہ ہے تو قصیدہ دربارِ شاہی کی شان وشوکت کا اظہاریہ۔ بھلا ہو 24/7 ٹیلی ویژن کا کہ دونوں دبستانوں کے معروف ہمنوا کھل کر ہمارے سامنے ہیں۔ جو کہیں بھی نہیں وہ تجاہلِ عارفانہ کا شکار لگتے ہیں۔ اگرچہ سیاست اور سماج میں ’نیوٹرل…
مفکرین سیاسی جماعتوں کو ’’جمہوریت کے بچے‘‘ کہتے ہیں۔ جمہوری سماج کا ارتقاء دیگر عوامل کے علاوہ مضبوط، فعال اور مؤثر سیاسی جماعتوں کا مرہونِ منت ہے۔ پولیٹیکل سائنس کی تعریف کے مطابق سیاسی جماعتیں عوام کا رضاکارانہ انداز میں اپنی اپنی سوچ اور اپروچ کے مطابق منظم ہونے کا ادارہ ہے۔ سیاسی جماعتیں ہمنوا طبقات کی خواہشات اور مختلف النوع افکار و نظریات کے لیے اقتدار کی خاطر جدوجہد کرتی ہیں اور الیکشن لڑکر اقتدار میں پہنچ کر اپنے اپنے منشور کے مطابق کام کرتی ہیں۔ اگر کوئی سیاسی جماعت عوامی تائید سے محروم رہے تو بھی اُس کی…
ویسے تو کیلنڈر کا ہر دن انسانی حقوق کا دن ہونا چاہیے، تاہم 10 دسمبر کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پہ منایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کا آغاز کب ہوا؟ غالباََ اسی دن جب روئے زمین پر دوسرا انسان آیا انسانی حقوق کی پامالی کی کہانی بھی اتنی ہی پرانی ہے۔ قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا قتل الہامی کتابوں میں رقم ہے۔ گویا انسان ہی انسانوں کے حقوق غضب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی و دنیاوی مذاہب اور فکر و فلسفہ کے مباحث کا مرکز و محور حرمتِ انسانی ہے۔ حضرت موسیٰؐ…
پاکستانی سیاست میں جس واحد نکتے پر محمود و ایاز ایک پیج پر ہیں وہ 21 کروڑ عوام کو مؤثر لوکل گورنمنٹ کے نظام سے محروم رکھنا ہے۔ اگر پاکستان کی حقیقی تصویر دیکھی جائے تو یہ اصل میں وفاق، دفاع، ڈونرز اور عالمی ڈیبٹ اسٹیبلشمنٹ(قرضہ دینے والی) کی راج دھانی بن چکی ہے۔ صوبے تاریخی طور پر سیاسی نظریات کا اکھاڑہ اور اضلاع ڈی ایم جی(نیا نام پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس)، پولیس اور پٹوار کی جاگیر ہیں۔ وفاق والے اچھی اور مؤثر سیاست کو اُوپر نہیں آنے دیتے جبکہ صوبے والے عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لانے والے لوکل گورنمنٹ…
آئین کی اٹھارہویں ترمیم میں تعلیم اور نصاب سے متعلق اداروں اور ذمہ داریوں کو وفاق سے صوبوں کو منتقل کرنا شامل تھا۔ اس اقدام میں بعض اداروں کا انضمام، تشکیلِ نو اور بعض ذمہ داریوں میں ترمیم و تنسیخ کی گئی۔ منتقلی کی اس عمل کے لیے جو خاکہ مرتب کیا گیا اس میں نفاذ و اطلاق کے حوالے سے کئی پہلو قابل توجہ ہیں۔ متعدد نکات ایسے ہیں جن کے اطلاقی پہلو کے بارے میں معاملات عدم وضاحت کا شکار ہیں۔ زیرنظر مضمون اس تناظر میں اس ترمیم کا مفصل تجزیہ پیش کرتا ہے۔ (مدیر) ’’ریاست ۵؍ سال…
مارشل لاؤں کے طویل ادوار نے اسٹوڈنٹس یونین پر 1984ء سے پابندی لگا رکھی ہے ۔مارکیٹ اکانومی نے ٹریڈ یونین کی اسپیس بھی سکیڑ رکھی ہے ۔مقامی حکومتوں کا نظام بھی آتا جاتا رہتا ہے ۔گویا سیاست سیکھنے کی تمام نرسریاں بند ہیں ۔ آغاز تو ہمارا بھی خوب تھا ۔ 10 اگست 1947 ء کو جب پاکستانی کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس ہوا تومنصب ِ صدارت پر دلت رہنما جوگیندر ناتھ منڈل بیٹھے تھے ۔چلیں اگر یہ علامتی تھا تو 1951 کے لاہور چلتے ہیں جہاں ایک مزدور رہنما مرزا ابراہیم احمد ،سعید کرمانی کے مقابلے…
آج چارٹر آف ڈیموکریسی کی دسویں سالگرہ مناتے ہوئے نجانے کیوں لگتا ہے کہ اب اس کی تحریر مدہم پڑرہی ہے بالکل اسی طرح جیسے فیکس کے کاغذ پر لکھے حرف کچھ عرصے بعد خود بخود مٹنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ مئی 2006 ء میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر سیاسی دلدل سے نکلنے کی کنجی میثاقَ جمہوریت میں تلاش کی تو کسی کو یہ یقین نہ تھا کہ اس معاہدے کی حیثیت اس کاغذ سے بڑھ کر بھی ہے جس پر یہ تحریر کیا گیا تھا۔ سیاست…
بھئی مت بھولئے جب1973ءکے آئین میں آرٹیکل6 رکھا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ اس کا اطلاق23 مارچ1956ءسے ہوگا تو اس وقت جنرل ایوب خان بھی زندہ تھے اور جنرل یحییٰ خان بھی لیکن مقدمہ تو کیا ایف آئی آر تک درج نہ ہوئی۔ ہم تسلیم کریں یا نہ کریں ہماری ریاست کا ہارڈ ویئر تو1971ءکے جھٹکے کے باوجود کچھ نہ کچھ قائم و دائم ہے لیکن اس کا سافٹ ویئر خوب کرپٹ ہو چکا ہے اس سافٹ ویئر کی بحالی کی بات ہوتی ہے تو اس پر کوئی غیر جمہوری اینٹی وائرس چلا دیا جاتا ہے جو ہارڈ…
آمریت اور جمہوریت کی میوزیکل چئیر کے کھیل میں اسلام آباد نصف صدی تک جو کچھ پیرا فری دور دراز علاقوں تک بھیجتا رہا،اب لگتا ہے کہ بمعہ سود واپس آ رہا ہے اور اسلام آباد میں اب سب کچھ سنبھالنے کی سکت محدود ہو چکی ہے ۔ پاکستانی سیاست کی ہمہ وقت ہنگامہ خیزی میں ڈی چوک ایک نیا استعارہ بن چکا ہے۔اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے عین سامنے یہ مقام پہلی بار اس وقت با رونق ہوا جب 90 کی دہائی میں اسے 23 مارچ کی پریڈ کے لئے خصوصی رنگ و روپ دیا گیا ۔لیکن آج…
