Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»پاکستانی بحران دراصل سیاسی جماعتوں کا بحران ہے
    کالم

    پاکستانی بحران دراصل سیاسی جماعتوں کا بحران ہے

    ظفر اللہ خانBy ظفر اللہ خاندسمبر 17, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    مفکرین سیاسی جماعتوں کو ’’جمہوریت کے بچے‘‘ کہتے ہیں۔ جمہوری سماج کا ارتقاء دیگر عوامل کے علاوہ مضبوط، فعال اور مؤثر سیاسی جماعتوں کا مرہونِ منت ہے۔ پولیٹیکل سائنس کی تعریف کے مطابق سیاسی جماعتیں عوام کا رضاکارانہ انداز میں اپنی اپنی سوچ اور اپروچ کے مطابق منظم ہونے کا ادارہ ہے۔ سیاسی جماعتیں ہمنوا طبقات کی خواہشات اور مختلف النوع افکار و نظریات کے لیے اقتدار کی خاطر جدوجہد کرتی ہیں اور الیکشن لڑکر اقتدار میں پہنچ کر اپنے اپنے منشور کے مطابق کام کرتی ہیں۔ اگر کوئی سیاسی جماعت عوامی تائید سے محروم رہے تو بھی اُس کی آواز ایک متبادل کے طور پر سماج میں زندہ رہتی ہے۔

    میں اکثر پاکستانی جمہوریت کو خوش قسمت کہتا ہوں کہ یہاں تقریباََ ہر فکر، ہر سوچ اور ہر طبقے کی کوئی نہ کوئی سایسی جماعت موجود ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس الیکشن ایکٹ 2017ء کے بعد 125 سیاسی جماعتیں انتخابی نشان کے لیے لسٹ میں موجود ہیں۔ اِس سیاسی فیملی پلاننگ سے پہلے 300 سے زائد سیاسی جماعتیں پاکستانی سیاسی منظرنامہ پر موجود تھیں۔ یہ فیملی پلاننگ اس لیے ممکن ہوئی کہ اب سیاسی جماعت کے اندراج کے لیے دوہزار شناختی کارڈ والے ممبر چاہیئں اور دو لاکھ روپے فیس بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ اِن میں سے 85 نے الیکشن 2018ء میں اپنی قسمت آزمائی لیکن صرف درجن بھر ہی پارلیمانی اداروں تک پہنچ پائیں۔

    اگر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ اندراج رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے مزاج کو دیکھیں تو 15 علاقائی یا نسلی نام کی حامل ہیں۔ 26 کے نام مذہبی رنگ کے ہیں۔ 4 کا تعلق مذہبی اقلیتوں سے ہے۔ 6 جماعتوں کی سربراہ خواتین ہیں۔ تعداد کے اعتبار سے سب سے زیادہ سیاسی جماعتیں پنجاب میں ہیں، یعنی کہ 52۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی میں فقط چار جماعتوں کو نمائندگی حاصل ہے۔ اسلام آباد میں 22 سیاسی جماعتوں کا اندراج ہے جن میں حکمران تحریک انصاف ، اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی شامل ہیں۔ سندھ میں 20، خیبرپختونخوا میں 8 اور بلوچستان میں 10 سیاسی جماعتیں وجود رکھتی ہیں۔

    جیت کے ہجوم کے بعد بھی سیاسی جماعتوں کو ٹیکنو کریٹس کی تلاش رہتی ہے۔ اگرسیاسی جماعتیں مؤثر و منظم ہوں تو یہ سارے کام وہ خود نارمل انداز میں بھی انجام دے سکتی ہیں

    یہ سیاسی جماعتیں کتنی جمہوری ہیں؟ بچپن کا ایک کھیل ’’جس کا بلّا وہی کپتان‘‘ یاد آگیا۔ جس بچے کے والدین کھیل کا سامان خریدنے کی سکت رکھتے تھے اُن کے بچے محلے کی ٹیم کے کپتان ہوتے تھے اور باریاں بھی بار بار لیتے۔ حکمران جماعت کے سربراہ 1996ء سے اپنی جماعت کے کپتان ہیں، پی پی کی قیادت بھی بھٹو خاندان تک محدود ہے، مسلم لیگ کی قیادت بھی صرف بحرانوں کے اوقات میں اِدھر اُدھر جاتی ہے۔

    کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے سپریم کورٹ کے حکم پر رہائشی علاقوں سے دفاتر کا خاتمہ کیا تو سیاسی جماعتوں کے دفاتر بند ہوگئے۔ اگرچہ نمائشی طور پر چھوٹے موٹے دفاتر قائم ہوئے لیکن آج پی ٹی آئی کا بھی کچھ بنی گالہ میں، مسلم لیگ نواز کا مرکز جاتی امراء یا ماڈل ٹاؤن ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کا گھر بلاول ہاؤس ہے۔ سیاسی قیادت تک رسائی عام نہیں۔ لہٰذا ایک طرح سے اپنے اپنے گھروں میں قید سیاسی جماعتیں منظم ادارہ نہیں بن سکیں۔

    میرے خیال میں پاکستانی بحرانوں کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں انتہائی کمزور ہیں۔ الیکشن کے وقت جیتنے والے گھوڑے اِدھر اُدھر کرنے سے سیاسی ریاضی بدل جاتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے تھنک ٹینک نہیں ہیں۔ دستور کی منشا ہے کہ الیکشن کمیشن کی تقرریوں کے لیے سیاسی جماعتیں نام دیں۔ سیاسی جماعتوں کے ریسرچ ونگ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لہٰذا وقت پڑتے پر سینہ گزٹ یا ذاتی تعلق کی بنیاد پر نامزدگی ہوتی ہے۔ جیت کے ہجوم کے بعد بھی سیاسی جماعتوں کو ٹیکنو کریٹس کی تلاش رہتی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں مؤثر و منظم ہوں تو یہ سارے کام وہ خود نارمل انداز میں بھی انجام دے سکتی ہیں۔

    پاکستان کی سیاسی دولت کی تقسیم دیکھی جائے تو تو کُل پارلیمانی آبادی 1195 ہے۔ جس میں سے 330 یعنی 28 فیصد نمائندے پارٹی لسٹ پر آتے ہیں۔ ان میں 104 سینیٹر بھی شامل ہیں۔ قومی اسمبلی میں 60 خواتین اور 10 مذہبی اقلیتوں کے نمائندے، 4 صوبائی اسمبلیوں میں 132 خواتین اور 24 مذہبی اقلیتوں کے نمائندے تو خالصتاََ پارٹی لسٹ پر آتے ہیں۔ لہٰذا سیاسی جماعتوں کا منظم ہونے کے علاوہ جمہوری ہونا بھی اہم ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleایغور حراستی مراکز اور چینی نقطہ نظر
    Next Article تمیم، ایردوان سربراہی اجلاس؟
    ظفر اللہ خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by