Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»مختاریا ! گل ودھ گئی اے
    کالم

    مختاریا ! گل ودھ گئی اے

    ظفر اللہ خانBy ظفر اللہ خانجون 19, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں ـقومی اسمبلی اور سینٹ کے بجٹ اجلاس ـ محدود اراکین کے ساتھ جاری ہیں۔ قائد حزب اختلاف سمیت اپوزیشن کے فرنٹ بینچ سے سابق وزیر اعظم سابق اسپیکر پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور سیکرٹری اطلاعات کے علاوہ متعدد اراکین کرونا پازیٹو ہوکر خود کو قرنطینہ کرچکے ہیں۔ حکومتی بینچوں سے چیف وہپ سمیت ایک وفاقی وزیر ایک وزیر مملکت اور کئی اراکین کرونا پازیٹو ہو کر خود تنہائی اختیار کرچکے۔ سوشل فاصلہ رکھ کر روزانہ 46 حکومتی اور 46 اپوزیشن ارکان اجلاس میں آتے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل اگرچہ کرونا کے ہاتھوں اپنے ایک معزز رکن قومی اسمبلی منیر اورکزئی کو  بھی کھو چکی ہے پھر بھی اصرار کرکے پوری کی پوری اجلاس میں آنے کی متمنی ہے۔ متحد ہ مجلس عمل نے  کہا ہے کہ اراکین کو اجلاس سےروکنا انہیں حق نمائندگی سے روکنا ہے۔

    تاہم اسمبلی اور سینٹ سیکرٹریٹ کے ملازمین اور متعدد اراکین کے کرونا پازیٹو ہونے کے بعد اجلاس میں شرکت کے لئے کرونا ٹسٹ کرانا لازمی ہے اور صرف صحت مند اراکین ہی اجلاس میں آسکتے ہیں ۔ صوبائی سطح پر پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس فلیٹیز ہوٹل میں ہورہا ہے۔ جبکہ سندھ اسمبلی کا اجلاس ورچوئل اور فزیکل کا امتزاج ہوگا ۔

    ملکی تاریخ میں پہلی بار بجٹ ماسک پہن کر پیش کیا گیا۔

    بجٹ پر بحث تو ہورہی ہے لیکن طے شدہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کے مطابق کٹوتی کی تحریکوں پر بات تو ہوگی لیکن ووٹنگ نہیں کی جائے گی۔ اسی طرح بجٹ پر ووٹ کے ذریعے حکومت پر عدم اعتماد کے امکانات نہیں ہوں گے۔ دستور پاکستان کے آرٹیکل 63-اے کے مطابق اراکین اسمبلی کو جن تین معاملات پر ووٹ پارٹی لائنز کے مطابق دینا ہوتا ہے ان میں وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ کا انتخاب اور عدم اعتماد اور دستوری ترامیم کے علاوہ مالیاتی بل پر ووٹ بھی شامل ہے۔ اپوزیشن کی صفوں میں بجٹ کے حوالے سے اچھے خاصے تحفظات پائے جاتے ہیں اوراسے  کرونا سے متاثر عوام کے لئے ریلیف کی بجائے اشرافیہ کے لئے مراعات کا بجٹ  کہا جارہا ہے۔ اور اس سے ہالٹ ہوئی معیشت کے احیاء کے امکانات کم ہیں۔

    بجٹ تو ویسے بھی آمدن اور اخراجات کا تخمینہ ہوتا ہے اور معاشی نشیب و فراز کے سفر میں کبھی کبھار منی بجٹ آجاتے ہیں اور کبھی کبھی اہداف کا حصول خواب ہی رہتا ہے۔

    1947 سے لے کر 2020 تک 73 سالوں میں فقط 55 بجٹ اسمبلی میں آئے  ۔ 18 بجٹ سرکاری فائلوں میں تیار ہوئے اور مارشل لاء احکامات کے ذریعے نافذ ہوئے۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ پر جب یہ بجٹ تقاریر پڑھیں تو معلوم ہوا کہ کم و بیش ہر حکومت کو ورثے میں تباہ حال معیشت ملی ۔ ماضی کو کوسنا بجٹ تقاریر کا نمایاں حصہ رہا۔ اپوزیشن کی بجٹ تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی بھی اچھی خاصی قدیم رسم ہے۔ ایوب خان کے دور میں تو اراکین اسمبلی بجٹ پہ فقط تقریر کرسکتے تھے اسے منظور یا مسترد کرنے کی رسم زندہ ہوتی نظر آتی ہے۔ اپوزیشن کی تقاریر کے بعد ایک وزیر جب بار بار جوابی تقریر کرے گا تو شائد ہاؤس بزنس کمیٹی میں ہونے والا اتفاق رائے ختم ہوجائے۔ حکمران- پاکستان تحریک انصاف کو یہ سمجھنا ہوگاکہ پارلیمانی سوشیالوجی میں جب اپوزیشن شور شرابہ کرتی ہے تو اس کی کوریج بڑھتی ہے لیکن جب حکمران جماعت کے لوگ شور شرابہ کرتے ہیں تو ان کا وقت سکڑ جاتا ہے اور مفاہمت اور اتفاق رائے کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں۔

    بجٹ 2020-2021میں حکومت کے پاس عوام کو دینے کے لئے بہت کم ہے۔ عرصے کے بعد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں رتی بھر بھی اضافہ نہیں کیا گیا۔ کرونا سے نمٹنے کے لئے ، صحت کا بجٹ بہت ہی کم ہے۔ آن لائن تعلیم کے خواب کے زمانے میں اعلیٰ تعلیم کا بجٹ کم ہوگیا ہے۔ بے روزگاری  کے طوفان ، ڈیلی ویجرز کی ختم ہوئی مزدوری، غربت کی کھائیوں کی طرف رواں دواں لوگوں  کے لئے کوئی  آس اور امید نظر نہیں آتی ۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے سماعتوں سے یہ جملہ خود بخود ٹکرا رہا ہو؛

    "مختاریا! گل واقعی ودھ گئی اے”۔

    مرشد! یہ تو وقت تھا کہ قوم کے وافر وسائل زندگیا ں بچانے کے لئے وقف ہوتے ۔ بعد از کرونا معیشت کی بحالی کے لئے نئی راہیں ہوتیں ، منصوبے ہوتے ۔ پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔ اس طرح یہ دنیا کی بڑی مارکیٹ بھی ہے۔ زراعت ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ زراعت پر ٹڈی دل کا حملہ ہے اور ہم اسےروک نہیں پارہے۔اس بجٹ کی تمام تر ترجیحات مختلف ہونی چاہیے تھیں کیونکہ معیشت اور عوام بلبلا رہے ہیں کہ؛

    ؔہمارا دم گھٹ رہا ہے چارہ گر کچھ تو کیجئے!

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleتزویراتی تبدیلی ؟
    Next Article جاہل عوام اور پڑھی لکھی حکومتیں
    ظفر اللہ خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by