مسلم دنیا کی مذہبی سیاسی جماعتوں کے اندر ماضی قریب سے ایک نمایاں تبدیلی واقع ہوئی ہے کہ وہ اب اپنے عوامی بیانیوں میں پہلے کی طرح نفاذشریعت کا مطالبہ نہیں کرتیں، کم ازکم اس اسلوب میں نہیں جیسے کچھ عرصہ پہلے تک کرتی آئی ہیں۔ سیاسی اسلام کی ایک مخصوص زبان جس کا محور حاکمیت، جاہلیت جدیدہ، امربالمعروف ونہی عن المنکر، ارتداد، حدود، استعمار وغیرہ جیسی اصطلاحات تھیں، اب ان کا استعما ل کم ہوگیا ہے۔ اس رجحان کے تشکیلی جائزے کے دو عنوان ہیں۔ یہ مابعد سیاسی اسلام کا مرحلہ ہے۔ اور محترم خورشیدندیم کے الفاظ میں فرقہ…
Author: شفیق منصور
مغرب میں ویسے تو انسانی حقوق پر بحث کی دو سو سالہ تاریخ ہے لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کے چارٹر کے سامنے آنے کے بعد عالمی سیاست میں اس کا اثر نمایاں ہوا۔ انسانی حقوق کی زبان آزادی اور طاقت کی زبان خیال کی جاتی رہی ہے۔ مسلم ادب میں اس موضوع پر گفتگو کی تاریخ سو سال پرانی ہے، لیکن عوامی سطح پر آزادی اور طاقت کی نمائندہ زبان کے طور پر اس اصطلاح کا زیادہ استعمال 80 سے دہائی شروع ہوا۔ اس مرحلے کے دوران مسلم ممالک میں انسانی حقوق کی کافی تنظیمیں بھی…
اسلام میں پاپائیت کا تصور موجود نہیں ہے۔ ہم مسلمان اس چیز کو دیگر سماوی ادیان کے مقابلے میں برتری اور آزادفکری کے ثبوت کے طور پہ پیش کرتے ہیں۔ یہ پہلو تاریخی اعتبار سے اپنی جگہ درست بھی ہے اور اسی کے نتیجے میں صدراسلام سے لے کر اب تک مختلف فقہی، کلامی اور فکری مدارس وجود میں آئے۔ اگرچہ ہر دور میں مذہب کی نمائندگی کے بعض ثقافتی مراکز بھی سماج میں قائم رہے ہیں لیکن ان میں تعبیری تنوع، درجہ بندی او اجتہاد کے تصور کا رسوخ اس مظہر کو پاپائیت کی شکل عطا نہیں کرتا۔ پاپائیت…
آزادی کی تحریک چند مثالیت پسند افراد کے خواب و فکرکے ساتھ شروع ہوتی ہے اور تیز رفتاری کے ساتھ اپنے طبقے میں مقبولیت حاصل کرلیتی ہے۔ گزشتہ 25 سالوں کے دوران دنیا کے نقشے پر 9 نئے ممالک وجود میں آئے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ علیحدگی پسندی کا رجحان 90 کی دہائی میں ختم ہوچکا ہوتا لیکن سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد اس کو دوبارہ تحریک ملی۔ اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں تقریباََ 100 کے قریب آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ یورپ میں بھی شناخت و حقوق کی بنیاد پر بعض ممالک میں یہ…
عصر حاضر کی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے جب مذاہب اور آئیڈیالوجیز کے درمیان فرق رکھنا مشکل ہوگیا ہے تو اس تناظر میں دونوں سے جنم لینے والی شدت پسندی کی تحلیل ایک ساتھ کرنا غلط نہیں ہوگا۔ شدت پسندی مذہبی ہو یا غیر مذہبی اس کی ہر نوع میں کچھ عناصر مشترک ہوتے ہیں۔ ان عناصر کو شدت پسندی کی وجوہات و اسباب سے زیادہ اس کی علامات و مظاہر سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ وہ مظاہر یہ ہیں: ماضی کوعظیم خیال کرنا اور اس کی جانب واپسی کی خواہش۔ اپنی جماعت کو برتر خیال کرنا۔ ہیرو ازم…
فرقہ واریت اپنے پہلے اظہاریے اور تشکیل کے منہج میں عصبیت پر قائم ہوتی ہے۔ اس کا مزاج علیحدگی پسند ہوتا ہے اس طور کہ یہ اپنی الگ خاص پہچان رکھتی ہے اور دوسرے طبقات کے مقابل خود کو زیادہ برحق گردانتی ہے۔ اس نوع کی فرقہ واریت تاریخ میں ہمیشہ موجود رہی ہے۔ بمع اسلام کے ہر دین میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ لیکن فرقہ واریت کی ایک جدید قسم ہے جو ماضی میں نہیں رہی۔ یہ بطور استحصالی نظام کے ظہور کرتی ہے۔ اس کی شکل دینی ہوتی ہے لیکن یہ اپنے اثرات اور عملی منہج کے…
ہم میں سے ہر فرد بات کرتے ہوئے دعویٰ رکھتا ہے یا سوچتا ہے کہ وہ آزاد ہے، اسے یہ گمان بھی ہوتا ہے کہ وہ جو سوچ رہا ہے آزادی کے ساتھ اس کا سو فیصد ابلاغ بھی کر رہا ہے۔ لیکن یہ بات اتنی درست نہیں ہے جتنی کہ ہر فرد سمجھ رہا ہے ہوتا ہے۔ ہر سماج میں بسنے والے انسان اپنی زبان (لغت) کے اسیر ہوتے ہیں۔ زبان کے ہر لفظ میں ایک خاص معنی و جذبہ پنہاں ہوتا ہے۔ فرد جب سوچتا ہے یا اس کا ابلاغ کرتا ہے تو وہ اپنی لغت اور اس…
2011 میں جب عرب بہار کی لہر آئی تو شروع میں پوری عرب دنیا نے اسے خوش آمدید کہا۔ اس کی بنیاد سیاسی جبر، نا انصافی اور بے روزگاری کے خلاف غصے اور مزاحمت پر اُٹھی لیکن آہستہ آہستہ اس میں مختلف سلوگن اور نعرے شامل ہوتے گئے جس نے ارتکاز کو ختم کر دیا اور انتشار و کشمکش کو جنم دیا۔ ریاستی بدعنوانی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج مختلف ممالک میں مختلف دیگر شکلیں اختیار کرتا گیا۔ کہیں یہ سیکولر اور اسلام پسندوں کے درمیان تنازع بن گیا۔ کہیں جمہوری وغیرجمہوری نظاموں میں کشمکش کی صورت میں بدل…
جاپان کے شہر اوساکا میں 28 جُون کو G20 کے اجلاس کے بعد روسی صدر پوتن نے فائناننشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے لبرلزم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ نظم اپنے سیاسی واقتصادی دونوں پہلوؤں سے ناکام ہوچکا ہے۔ یہ اکثریت کے مفادات کا تحفظ کرنے سے سے عاجز ہے۔ انہوں نے یورپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہارا لبرلزم تاریخ کا حصہ بننے والا ہے، یورپ اور امریکا میں پاپولسٹوں کی کامیابی اس کا ثبوت ہے۔ انٹرویو کے دوران پوتن نے مہاجرو ں کے یورپ میں داخل ہونے کی حمایت پر انگیلا مرکل پر…
چند دن پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے 12 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ سنایا کہ دوسری شادی کے لیے بیوی کی اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل سے بھی اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس سے قبل کم عمری کی شادی کے بارے میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے شادی کی کم سے کم عمر 18 سال مقرر کرنے کا بل منظور کیا تھا، جو پیپلز پارٹی کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔ کم عمری کی شادی کے بل پر وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا تھا کہ اس مجوزہ بل کو…
