Author: شفیق منصور

کئی عرب ممالک میں طویل عرصہ تک بادشاہتیں قائم رہی ہیں اور اب بھی ہیں۔ بادشاہت اور آمریت کے سائے میں بہت کم ہی انسانی حقوق  کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اس لیے عرب دنیا اس حوالے سے اچھا تعارف نہیں رکھتی۔ وہاں اختلاف رائے رکھنے والوں، خصوصا سیاسی مخالفین کو عبرت کی مثال بنادینے کی پوری ایک تاریخ ہے۔ گوانتا ناموبے بدنام زمانہ جیل ہے، لیکن عرب دنیا کی کچھ جیلیں اسے مات دیدیتی ہیں۔ مصر میں ایک جیل ہے، اس کا نام ہے ماوراء الشمس، یعنی سورج کے پار۔ یہاں جو لوگ منتقل کیے جاتے ہیں کم ہی…

Read More

یہ بحث اگرچہ نئی نہیں ہے کہ مسلم دنیا میں سیاسی اسلام کی تحریکات کیوں ناکام ہوئیں۔ اس کے اسباب، اس میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کی جہت اور اس کے مستقبل بارے مختلف زاویوں سے تجزیے کیے گئے۔ ان امور پر بات چیت کے لیے جو مناہج سامنے آئے وہ بھی کئی طرح کے تھے۔ ہم یہاں فرنچ مفکر اولیور رائے کے منہج ِفکر کے مطابق اس قضیہ کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ذریعہ مذہب کی حالیہ شکل اور اس کی تحریکات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ منہج…

Read More

گزشتہ ہفتے یورپی یونین پارلیمنٹ اور انڈیا کے عام انتخابات کے نتائج نے پوری دنیا کے صحافتی وفکری حلقوں کو ایک بار پھر اس طرف متوجہ کردیا ہے کہ غیرمعتدل دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی سطح پر کیا نتائج مرتب کرے گی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک رائج رہنے والا مخصوص لبرل نظم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے اس کے اصلی مراکز اور حمایتی آہستہ آہستہ اس سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ نتیجہ میں گلوبلائزیشن کے عمل کو بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔ دائیں بازو کی…

Read More

بیسویں صدی میں مسلم دنیا کے اندر ناول نگاری کی صنف میں کئی بڑے نام سامنے آئے۔ نجیب محفوظ ان میں سے ایک مشہور شخصیت ہیں۔ انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا اور ان کے ناولوں کے تراجم دنیا کی متعدد زبانوں میں کیے گئے۔ اس عظیم ادیب کی شخصیت اور فن کے کئی اہم اور دلچسپ پہلو ہیں۔ ان میں سے بعض کو یہاں درج کرنے کی کوشش کریں گے۔ نجیب محفوظ سادہ گو اور خوشگوار طبیعت کے مالک تھے۔ انہیں غصے میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اعصاب انتہائی مضبوط تھے۔ قاتلانہ حملے اور شدید مخالفت کا سامنا کرنے…

Read More

سماجیات کے سائنسدانوں کے مطابق دنیا میں آئیڈیالوجی کی سیاست کا مرحلہ ختم ہوچکا ہے۔ اب ہر جگہ شناخت پسند سیاست کی گہما گہمی ہے۔ آئیڈیالوجی کا دائرہ عمل وسیع ہوتا ہے اور یہ کامل سماج کی تشکیل کی سعی کرتی ہے۔ جبکہ شناخت پسند سیاست میں احترام اور پہچانے جانے کا عنصر اور اس کے احساسات نمایاں ہوتے ہیں۔ آئیڈیالوجی سے شناخت کی سیاست کی جانب انتقال معاشی ابتری وعدم مساوات اور بدامنی کی وجہ سے ہوا ہے۔ یورپ کی جامعات میں 70 کی دہائی سے شناخت کا موضوع سیاسیات کا حصہ ہے۔ وہاں جنگ عظیم اول دوم کے…

Read More

ہزارہ وہ بدقسمت قوم ہیں جنہوں نے لگ بھگ ڈیڑھ صدی قبل امن کا خواب لے کر کوئٹہ کی جانب ہجرت کی تھی۔ لیکن اس خواب کی تعبیر اس قدر بھیانک نکلے گی انہوں نے یقینا نہیں سوچا ہوگا۔ 1880 میں افغانستان کے فرمانروا امیر عبدالرحمان نے بامیان میں بسنے والی اس برادری کے خلاف علما سے کفر کا فتوی حاصل کیا اور اپنے ہی شہریوں پر دھاوا بول دیا۔ ان کا قتل عام کیا، املاک ضبط کیں اور ایک بڑی تعداد کو قید میں ڈال دیا۔ ہزارہ کی نسل کشی اتنی منظم اور تکلیف دہ تھی کہ ایران کے…

Read More

یورپ کو دنیا میں ہم آہنگی اور اتحاد کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سخت ترین اختلافات اور جنگخوں کی تاریخ کو بھلا یا جانا ممکن ہوتا ہے۔ سیاست، معیشت اور امن و امان پر باہمی تعاون ممکن بنایا جاسکتا ہے اور ایک مشترکہ پالیسی تشکیل دی جاسکتی ہے۔ یہ یورپی ممالک کی عوام کا خواب تھا جو 1952ء میں کوئلے واسٹیل کمیونٹی کی بنیاد رکھنے کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ لیکن کیا اس خواب کی عملی تعبیر مستقبل میں بھی باقی رہے گی یا حالات بدل رہے ہیں تو نئے سماجی معاہدہ…

Read More

شفیق منصور ’’تجزیات ‘‘ کے معاون مدیر ہیں، اوربین الاقوامی اسلامی یونیور سٹی سے عربی ز بان و ادب میں ایم فل کی سند حاصل کر رکھی ہے ، مذہب ، سماج اور جدید دور میں ان کی باہمی کشمکش اور اس سے جڑے مسائل ان کے پسندیدہ موضوعات میں سے ہیں۔ شفیق منصور ’’سیاسی اسلام اور جدید ریاست‘‘ کے مصنف ہیں۔ مسلم سماج اور بالخصوص پاکستان کے تناظر میں شناخت کا موضوع انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔نو آبادیاتی عہد کے اختتام کے بعد مسلم معاشرے اپنے تشخص اوراقدار کے حوالے سے ابہام کا شکاررہے ہیں۔ اجتماعی شعوری آزادی کے…

Read More

عرب بہار سے قبل ایک عرصہ تک مشرق وسطیٰ پر سعودی عرب کی گرفت مضبوط رہی ہے ۔اس کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔چندسالوں کے اندر سعودی عرب نے اپنے کئی حلیف کھودیے ہیں جن کی فہرست طویل ہے ۔ان ممالک میں ترکی،قطر،مصر،تیونس ،الجزائر،اردن،یمن ،عراق اور لیبیا شامل ہیں۔اس وقت مشرق وسطیٰ ٹکڑوں میں تقسیم ہے اور طاقت کاایک مرکز باقی نہیں رہا۔ سعودی عرب کے علاوہ ایران،ترکی اور اسرائیل خطے کی قیادت کے حصول کے لیے میدان میں ہیں ۔ اس منظرنامے نے سعودی عرب کو شدید دھچکا پہنچایا ہے ،اس کی اثرپذیری یکلخت کم ہوگئی ہے۔یمن جنگ اور…

Read More