14 ،15جنوری2019 کوپاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے زیراہتمام لاہور میں وسطی وجنوبی پنجاب کے کالجز اور جامعات کے اساتذہ کے ساتھ دو روزہ "علمی مکالمہ اور مشق” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد عمل میں لایاگیا۔سیمینار کی تعارفی نشست کا آغاز ادارہ کی پروگرام مینیجر شگفتہ حیات نے کیا۔انہوں مکالمہ کے مقاصد کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ واحد ذریعہ ہے جس سے پرامن بقائے باہمی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔مکالماتی فضا کے فروغ کی ضرورت اگرچہ سماج کے ہر شعبہ میں ہے لیکن تعلیمی اداروں کی اہمیت اس لیے دوچند ہوجاتی ہے، کیونکہ کمرہ…
Author: شفیق منصور
مابعدسیاسی اسلام کی اصطلاح نوے کی دہائی میں وضع ہوئی۔اس وقت بعض مسلم وغیرمسلم مفکرین نے پیش گوئی کی تھی کہ سیاسی اسلام بطور فکر وتحریک اپنی جگہ بنانے میں ناکام ہوگیا ہے، آئندہ برسوں میں مذہبی سیاسی جماعتیں انسانی حقوق،آزادی اور تکثیریت پسندی جیسی اقدار کے لیے اپنے فکری گوشے وا کردیں گی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دینی تعلیمات سے دستبردار ہوجائیں گی بلکہ وہ واجبات کے ساتھ حقوق،ایمان کے ساتھ آزادی اور اختلاف کے ساتھ تکثیریت کو بھی قبول کرلیں گی ۔یہ پیش گوئی اور اصطلاح اگرچہ جدید ہے لیکن اس مرحلہ کے لیے راہ ہموار…
یہ مضمون حال ہی میں پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اسلام آباد کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ ’میں کون ہوں؟‘ کے نتائج و حاصلات کی بنیاد پر تحریر کیا گیا ہے شناخت کا سوال بظاہر بہت سادہ ہے۔ میں کون ہوں،یا ہم کون ہیں؟ کا جواب اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ اس کے لیے کچھ لوگ مل بیٹھیں اور سوچ بچار کی ضرورت محسوس کریں۔ لیکن اگر غور کیا جائے تویہ سوال اس قدرمتنوع جہتیں اور تہہ در تہہ پرتیں رکھتا ہے کہ تشخص کاتعین ایک پہیلی بن جاتا ہے۔خصوصاً ایسے عہد میں کہ جب فرد،…
