Author: شفیق منصور

پاکستان میں مدارس سے متعلقہ اصلاحات کا مسئلہ بظاہر تشخیص اور حل دونوں کے اعتبار سے نہایت پیچیدہ رہا ہے۔ اس کی اساسی وجہ مسئلے کی وہ ہمہ گیریت اور پھیلاؤ ہے جو اپنے اثرات کے اعتبار سے ہلکا یا محدود نہیں ہے اور سنجیدہ اصلاحات کے اقدام کی صورت میں نتائج و عواقب کے لحاظ سے بھی خاصا اعصاب شکن ہے جس کی نہ ریاستی نفسیات متحمل نظر آتی ہے اور نہ سماج اسے آسانی سے قبول کرے گا۔ حکومتوں کی جانب سے اصلاحات کے بارہا عزم اور بیرونی دباؤ کے باوجود یہ قضیہ رجسٹریشن سے آگے نہیں بڑھ…

Read More

فیمینزم کی اصطلاح پہلی مرتبہ اُنیسیوں صدی میں 80کی دہائی کے دوران سامنے آئی۔ اس کا سب سے پہلے استعمال فرنچ مصنفہ Hubertine Auclert نے اپنی کتاب ’شہریت‘ میں کیا، ان کا کہنا تھا کہ مرد و عورت کے مابین امتیازی فرق کا خاتمہ انقلابِ فرانس کا ایک اہم تقاضا تھا جسے اب نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد اس اصطلاح کا استعمال یکے بعد دیگرے برطانیہ، امریکا اور پھر ساری دنیا میں ہونے لگا۔ مسلم دنیا میں بھی عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کی کئی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین…

Read More

نوآبادیاتی عہد میں جب مسلم سماج کا تعارف جدید ریاستی نظم اور اس کی اقدار سے ہوا تو اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی کہ ترقی کے نئے مرحلے کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے روایتی فکری و انتظامی خدوخال کے حامل دائروں سے باہر نکلنا ہوگا۔ جدید مرحلے کی ایک اساسی خصوصیت یہ تھی کہ یہ سلاطین و آمریت کے عہد سے عوامی ترجیحات کو اہمیت دینے کی طرف انتقال تھا۔ گویا یہ سیاسی و سماجی ساختیاتی تبدیلی تھی اور اس کا منطقی تقاضا یہ بھی تھا کہ ایک نیا فکری طبقہ وجود میں آئے…

Read More

کولمبیا یونیورسٹی میں پروفسیر سلیمان بشیر دیان نے اپنی کتاب اسلام اینڈ اوپن سوسائٹی میں لکھا ہے کہ علامہ اقبال نے ایک دفعہ اپنے احباب میں سے کسی سے کہا کہ اگر میری کتاب the reconstruction of religious thought in islam عباسی خلیفہ مامون کے عہد میں لکھی جاتی تو اس کے مسلم فکر پر گہرے اثرات مرتب ہوتے۔ مامون کے دور کو اس لحاظ سے امتیازی خصوصیت حاصل ہے کہ اس مرحلے میں سماج پر اثرانداز ہونے کا فکری حق ایک محدود روایتی حلقے کی بالادستی سے نکل کر قدرے پھیل گیا اور اس میں عام سماجی فعالیت کا…

Read More

مذہب اور فنونِ لطیفہ کا تعلق اتنا قدیم ہے جتنا کہ یہ دونوں شعبے۔ قدیم دور سے دینی شعائر اور اس کے مختلف عملی و اخلاقی  مظاہر و تعلیمات کا فنونِ لطیفہ کی متنوع صورتوں میں اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ بلکہ آرٹس کی چند نمایاں شاخیں مذہبی میلانات و رجحانات کی فنی تعبیر کے ساتھ ہی وجود میں آئیں، یا کم ازکم ان کا غالب محور کسی نہ کسی حیثیت میں مذہب رہا۔ جدید دور میں فلم اور سینما کی ایجاد کے بعد مذہب بھی اس کے موضوعات میں شامل رہا ہے۔ مسلم دنیا میں سینما کو خصوصاََ سماجی…

Read More

گزشتہ ہفتے چار دنوں پر محیط کوالالمپور سربراہی اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس دوران سمٹ کے اغراض ومقاصد اور اثرات کے حوالے سے کافی گہماگہمی رہی۔ بالخصوص خلیجی ممالک کی جانب سے اس پر تنقید ہوئی۔ اجلاس میں ایرداوان کی طرف سے پاکستان کے شرکت نہ کرنے پر سعودی دباؤ اور دھمکی کا ذکر بھی کیا گیا جس سے پاکستان کی خودمختار خارجہ پالیسی پر ایک بار پھر سوال اٹھے اور وزیراعظم کے فیصلے پر عوام تقسیم کا شکار نظر آئے۔ قطع نظر اس کے کہ پاکستان پر خلیجی ریاستوں کا دباؤ تھا یا اِس بلاک میں رہنے سے…

Read More

جمہوریت، طرزِ حکومت سے پہلے طرزِ زندگی ہے جس کی اولین اساس آزادانہ سوچنے، سیکھنے اور اظہار کرسکنے کی صلاحیت کا مضبوط ہونا ہے۔ اس صلاحیت کی پرورش تعلیمی ادارے کرتے ہیں اور صرف وہی کرسکتے ہیں۔ یعنی کہ جمہوریت کا حقیقی محافظ کوئی دستاویز یا طبقہ نہیں، بشمول سیاستدانوں کے، بلکہ اجتماعی شعور ہوتا ہے۔ جمہوری اقدار وعناصر کا عملی اظہار جب تک اپنی فطری بنیاد سے نمو پاکر طرزِ زندگی میں نہیں ڈھلتا اس وقت تک یہ طرزِ حکومت میں بھی متشکل نہیں ہوسکتا۔ جمہوریت کی فضا ایک تعلیمی وسماجی فکری ریاضت کا مطالبہ کرتی ہے۔  ہمارے ہاں…

Read More

تہذیب و ترقی اور بالادستی کے استعارے کے طور پہ مشرق ومغرب کی روایتی تقسیم رفتہ رفتہ اپنی معنویت اور حیثیت کھو رہی ہے۔ گلوبلائزیشن کے اثرات اور اس کے پیداکرہ مواقع نے طاقت و ترقی کے توازن اور ان کے مراکز میں بدلاؤ پیدا کیا ہے۔ یوں تو دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے یہ تمام تغیرات علم، معیشت اور منصوبہ بندی جیسے ذرائع کے استعمال کا نتیجہ ہیں لیکن اس بدلتے منظرنامے کی توجیہ ایک اور طرح سے بھی کی جاتی ہے۔ فرنچ مفکر ڈومینک موئسی کے مطابق دنیا میں دراصل احساسات و جذبات کی حکومت قائم ہوتی…

Read More

مجموعی طور پہ مذہبی حلقے کی ادارہ جاتی حیثیت اسے امتیازی مقام عطا کرکے علامتی سیاسی بالادستی کا حامل بناتی ہے۔ یہ ادارہ جاتی حیثیت دو طرح سے متشکل ہوتی اور کردار ادا کرتی ہے۔ ایک تو دعوتی حیثیت میں کہ وہ مثالیت پسند دین کی تبلیغ کرتی ہے، وعظ ونصیحت کے دائرے میں رہتی ہے۔ اس نوع کی فعالیت مسابقتی نہ ہونے یا براہ راست سیاسی نہ ہونے کے باوجود بھی اس کی علامتی سیاسی بالاستی کو قائم رکھتی ہے اور اسے مقتدرہ نفسیات کا حامل بنائے رکھتی ہے۔ جیساکہ ماضی میں غالب صورت یہی نظر آتی ہے۔ ادارہ…

Read More

دینِ اسلام میں پاپائیت نہیں ہے، لیکن مذہبی طبقے کے اندر ایک نوع کی بالادستی کی نفسیات راسخ ہے جو اسے پاپائیت کی حیثیت تو عطا نہیں کرتی تاہم اس کے اندر عوامیت کا احساس بھی موجود نہیں ہے۔ مذہبی طبقہ خود کو عوام کا حصہ شمار نہیں کرتا۔ عوام کالانعام (عوام مثل چوپائے) کا مقولہ اس کے ہاں عام استعمال ہوتا ہے۔ اسے یہ حیثیت مذہب کو ادارہ جاتی شکل دینے کے ساتھ حاصل ہوئی۔ مذہب عام آدمی کو مخاطب کرتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ یاایھا الناس کہہ کر تعلیمات نازل کیں۔ عوام اصل کا…

Read More