Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»فرقہ واریت کس طرح شہریت و جمہوری عمل کو متأثر کرتی ہے؟
    کالم

    فرقہ واریت کس طرح شہریت و جمہوری عمل کو متأثر کرتی ہے؟

    شفیق منصورBy شفیق منصوراگست 18, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    فرقہ واریت اپنے پہلے اظہاریے اور تشکیل کے منہج میں عصبیت پر قائم ہوتی ہے۔ اس کا مزاج علیحدگی پسند ہوتا ہے اس طور کہ یہ اپنی الگ خاص پہچان رکھتی ہے اور دوسرے طبقات کے مقابل خود کو زیادہ برحق گردانتی ہے۔ اس نوع کی فرقہ واریت تاریخ میں ہمیشہ موجود رہی ہے۔ بمع اسلام کے ہر دین میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ لیکن فرقہ واریت کی ایک جدید قسم ہے جو ماضی میں نہیں رہی۔ یہ بطور استحصالی نظام کے ظہور کرتی ہے۔ اس کی شکل دینی ہوتی ہے لیکن یہ اپنے اثرات اور عملی منہج کے اعتبار سے خالصتاََ سیاسی ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں جو فرقہ واریت پائی جاتی ہے وہ مکمل طور پہ یہی ہے۔ یہ بطور نظام کم یا زیادہ استبدادی ہوسکتی ہے لیکن یہ غیر سیاسی بالکل نہیں ہے، چاہے اس کا دعویٰ رکھے یانہیں۔

    اس فرقہ واریت کی بِنا استعماری دور میں پڑی جب مختلف مذہبی گروہوں کا سیاسی استعمال کیا گیا۔ تب سے فرقہ واریت دینی شکل کے ساتھ جس طرح اپنا اظہار کرتی ہے وہ استحصالی ہے اور سیاسی خدوخال کی حامل ہے۔ یہ پہلی قسم سے زیادہ انہدامی ہے لیکن عام آدمی کو منطقی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ جمہوری عممل کی فراہم کردہ آزادیوں کے پس منظر میں اپنا جواز حاصل کرتی ہے اور قانونی تحفظ بھی طلب کرتی ہے۔ پاکستان میں اسے آئینی وقانونی تحفظ حاصل ہے بھی۔ حالانکہ یہ اپنے سیاسی منہج اور سماجی اثرات کے لحاظ سے کسی طور بھی مجاز نہیں ٹھہرتی۔ کیونکہ یہ شہریت اور جمہوری عمل کو سبوتاژ کرتی ہے۔

    یہ فرقہ واریت دیگر مذہبی  طبقات پر برتری کے احساس کے ساتھ مظلومیت کا عنصر بھی رکھتی ہے۔ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اسے خطرات لاحق ہیں اور اس اساس پر وہ مزید متشدد ہوجانے کا جواز بھی حاصل کرلیتی ہے۔ اور عام آدمی اس کو بھی منطقی تصور کرتا ہے۔

    یہ جوں جوں معاشرے میں قبولیت حاصل کرتی ہے اسی رفتار کے ساتھ فرقہ وارانہ تشخص ’’شہریت‘‘ کے مثل ایک قدر بنتا جاتا ہے اور آخر کار مکمل طور پہ شہریت کا درجہ و رُوپ اپنا لیتا ہے

    ایک فرقہ واریت جب عقائد وفقہی مسائل کی غیراستبدادی عصبیت سے باہر نکل کر فسطائی مزاج اپناتی ہے اور باقی دینی طبقات کو جگہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتی تو تو یہ رویہ عملاََ اس وقت تک اپنا اظہار ممکن نہیں بنا سکتا جب تک وہ سماج میں شہریت اور جمہوری عمل کو کمزور نہ کردے۔

    یہ جوں جوں معاشرے میں قبولیت حاصل کرتی ہے اسی رفتار کے ساتھ فرقہ وارانہ تشخص ’’شہریت‘‘ کے مثل ایک قدر بنتا جاتا ہےاور آخر کار مکمل طور پہ شہریت کا درجہ و رُوپ اپنا لیتا ہے۔ ہم اگر اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں  تو پتہ چلے گا کہ فرقہ واریت کی یہ شکل کس حد تک جڑ پکڑ چکی ہے۔ ہمارے ہاں جمہوری عمل اور جمہوری رویے اس لیے بھی مضبوط نہیں ہوسکے کہ فرقہ واریت کو آئینی و قانونی تحفظ فراہم کیا گیا اور اس حد تک کہ تمام فرقہ وارانہ گروہ سیاسی ونگ تک بھی رکھتے ہیں۔

    ایک جدید قانی ریاست اور شہری سماج کے درمیان مثبت لزومی تعلق قائم ہوتا ہے جس کی بنیاد چند اصول ہیں جواسے یقینی بناتے ہیں۔ جدید شہری سماج کے عناصر خیال کیے جانے والے بعض عناصر یہ ہیں، جیساکہ بقائے باہمی پر یقین رکھنا، تمام اکائیوں کے مابین ممکنہ اختلاف کے باوجود تنظیم کاوجود، تشدد سے بُعد، حقوق وآزادیوں کا تحفظ کرنا، عوامی بہبود کے لیے راستہ ہموار کرنا۔ جب ان میں سے کوئی قدر کمزور ہوجائے تو شہریت وجمہور ی عمل  متأثر ہوتے ہیں۔ جبکہ فرقہ واریت ان میں سے کسی پر یقین نہیں رکھتی، بلکہ اس کا وجود تبھی ممکن ہے جب یہ اقدار طاقتور نہ ہوں۔

    فرقہ واریت نے سماج کے اندر جس رویے کو پروان چڑھایا ہے اس نے صحت مند سیاسی عمل کو ٹھیس پہنچائی۔ اب پورا معاشرہ ہر سطح پر فرقہ وارانہ رُوح کا حامل نظر آتا ہے۔ حتیٰ کہ غیر مذہبی سیاسی جماعتوں کا طرز فکروعمل  جس طرح کا غیر روادار، آزادی مخالف، مظلومیت کا دعویدار اور متشدد ہوگیا ہے وہ بھی فرقہ واریت کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ گویا فرقہ واریت اپنی رُوح اور اثرات کے اعتبار سے غلبہ پاچکی ہے۔

    کیا شہریت اور جمہوری عمل کی بحالی کے لیے فرقہ واریت سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب ایک اور سوال میں پوشیدہ ہے۔ کیا ایک مذہبی ریاست سے فرقہ واریت کو ختم کرنا ممکن ہے؟

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ اپنا احتساب بھی کریں
    Next Article بلتستان میں خوبانی میلہ اور اس پھل کی پیداوار کے رنگ
    شفیق منصور

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by