Author: شفیق منصور

ترقی یافتہ معاشروں میں دانشور کا عوامی سطح پر ایک کردار ہوتا ہے۔ یہ کردار دو دہائیاں قبل تک زیادہ وسیع اور مؤثر تھا کہ دانشور سیاسی اور سماجی منظرنامے میں مقتدرہ اور عوام کے مابین ایک ربط کی حیثیت سے موجود تھے۔ مگر سوشل میڈیا کے آنے کے بعد عوام مقتدرہ سے براہ راست ربط میں آگئے ہیں اور ایک غیرمنظم مگر پراثر طریقے سے وہ مقتدرہ و ریاست سے بات چیت کر رہے ہیں۔ تاہم ترقی یافتہ معاشروں میں دانشور کے اس کردار کے قدرے کم ہونے کے باوجود وہاں بے یقینی اور بے چینی کی وہ فضا…

Read More

سوشل میڈیا نے صحافت کے شعبے اور مین سٹریم میڈیا پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں؟ اس موضوع پر بہت ساری تحقیقات اور آراء موجود ہیں جن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ شروع میں جب سوشل میڈیا محض لوگوں کے باہمی رابطے کا ذریعہ ہونے کے کردار سے نکل کر ایک مؤثر سماجی تبدیلی کے وسیلے کے طور پہ سامنے آنے لگا اور لوگ اس پر سیاسی و معاشرتی موضوعات پر بحثیں کرنے لگے اور خبر کے لیے بھی اس کی کی جانب رجوع کیا جانے لگا تو تب یہ تأثر سامنے آیا تھا کہ سوشل میڈیا کبھی بھی مین…

Read More

’’آزادی‘‘ جس قدر ایک خوبصورت احساس ہے، ہمارے معاشرے میں بطور اصطلاح اس کا مفہوم اتنا مبہم بھی ہے۔ آزادی کے حوالے سے خالص فلسفیانہ مباحث تو موجود ہیں اور اس کا ایک گونہ گاڑھا تناظر بھی زیربحث رہتا ہے، لیکن عصرحاضر میں اس کی معنویت کیا ہے اور اس کے اطلاقات و مظاہر کونسے ہوسکتے ہیں، ہمارے ہاں عوامی سطح پر یہ پہلی نظر میں ہی سماجی سے زیادہ تہذیبی اور آئیڈیالوجی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس لیے آزادی پر آزادی کے ساتھ بات نہیں ہوسکتی۔ پھر یہاں چونکہ سماجی ساخت میں طبقاتی پہلو زیادہ غالب اور نمایاں…

Read More

اسلام کسی قومیت، ثقافت اور زبان کو نہ تو فرد پر مسلط کرتا ہے اور نہ ہی کسی قومیت، ثقافت اور زبان کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ یہ دین کا دائرہ کار ہے ہی نہیں۔ جوسماجی قومیتیں، شناختیں، ثقافتیں اور زبانیں اسلام سے قبل اپنا وجود رکھتی تھیں وہ اس کے بعد آنحضرتﷺ کی حیات مبارکہ میں بھی موجود رہیں۔ بلکہ قرآن کریم میں تو اس تنوع کی تعریف کی گئی ہے اور اسے خدائے تعالی کی جانب سے گویا نعمت قرار دیا گیا ہے۔ بلاشبہ دین اسلام اسلام عربی زبان میں منصہ شہود پر آیا تاہم وہ باقی زبانوں…

Read More

بعض اوقات سماج کے اندر کسی نوع کی متعصب طبقاتی وابستگی انسان کی ذات سے اس کی غوروفکر کی صلاحیت کو ختم کردیتی ہے۔ یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ کئی لوگ اپنی جماعتی اتھارٹی کے کہنے پر ایسے اقدامات کر گزرتے ہیں جو اخلاقیات کے منافی ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال خودکش دھماکے اور کسی جہادی جماعت کی قتل وغارت بھی ہے کہ جہاں اس سے وابستہ نوجوان کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوتے ہیں۔ اسی طرح کبھی کبھار سیاسی اتھارٹی کے ساتھ وابستگی بھی لوگوں سے ایسے کام سرانجام دلواتی ہے جو درست نہیں ہوتے…

Read More

26 جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر بی جے پی حکومت نے پدم وبھوشن ایوارڈ کے لیے 119 شخصیات کو نامزد کیا جن میں مولانا وحیدالدین خان بھی شامل ہیں۔ 96 برس کے بزرگ مسلم عالم جنہیں ’مسلمانوں کا گاندھی‘ بھی کہا جاتا ہے اپنی عدم تشدد کی فکر کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ پندرہ سالوں تک مولانا مودودی کی رفاقت میں رہے اور پھر راستے یوں جدا کیے کہ آج تک مولانا مودودی اور ان کی سوچ پر تنقید جاری ہے۔ مولانا وحیدالدین خان کو بھارت کا تیسرا بڑا قومی ایوارڈ ملنے پر بھارت میں…

Read More

اپریل 2017ء میں انتخابی مہم کے دوران ترکی کی حاکم جماعت ’جسٹس اینڈ ڈویلپٹمنٹ پارٹی‘ نے ملک کے ٹی وی چینلز پر ایک اشتہار دیا جس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ اردغان کی سربراہی میں ترکی نے مسلم دنیا میں بے حد مقبولیت اور پذیرائی حاصل کی ہے۔ اشتہار میں ترکی کے ایک جوڑے کو دکھایا گیا تھا جو پاکستان کے اندر ایک ہوٹل میں کچھ کھاتا ہے، اس کے بعد ویٹر کھانے کا بل لے کر آتا ہے جس کے پیسے ادا کردیے گئے ہوتے ہیں۔ جوڑا حیرانی سے ویٹر کی جانب دیکھاتا ہے تو…

Read More

علم نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ ایک بچہ جب پرورش کے ابتدائی مراحل میں ہوتا ہے تو اس دوران دو طرح کے احساسات اس کی ذات میں نمایاں ہوتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر اس کی ذہنی تشکیل ہو رہی ہوتی ہے۔ ایک تحفظ اور امن کا احساس ہوتا ہے، اور دسرا نامعلوم خوف کا احساس، یہ نامعلوم خوف اس کی ذات میں مبہم شکل کی صورت میں اور خفیف سا ہوتا ہے جو ابتداءََ منفی نہیں ہے، مگر وقت کے ساتھ اور ماحول کے اعتبار سے اس کی خارجی شکلیں متعین ہوتی جاتی ہیں جس کے منفی…

Read More

پاکستان میں تشدد سے جڑی ہوئی خبریں ایک عرصہ سے معمول ہیں۔ تشدد کو مختلف حربوں سے دبانے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں لیکن یہ ختم نہیں ہوا۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ یہ عفریت اب ہمارا پیچھا چھوڑ دے لیکن ایسا ہوتا نظر بھی کسی کو نہیں آرہا۔ اس کی وجہ بظاہر یہ ہے کہ ہمارے ہاں ریاستی سطح پر بھی اور سماجی حیثیت میں بھی مجموعی طور پہ تشدد ایک مجاز عنصر کی حیثیت میں موجود ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم اس کو حدود میں پابند بنانا چاہتے ہیں اور اس کے اصول طے کرنے کی…

Read More

گزشتہ کچھ وقت سے اسرائیل اور بعض مسلم ممالک کے درمیان تعلقات میں سردمہری کے اختتام کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ حال ہی میں یکے بعد دیگرے عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی و تجارتی روابط قائم کرنے کا اعلان کیا، اور اسرائیلی حکام کے بقول اس فہرست میں مزید مسلم ممالک کی شمولیت متوقع ہے۔ فلسطین تنازع مسلم ممالک کے لیے مجموعی طور پہ ایک دینی مسئلہ رہا ہے اور عربوں کے لیے یہ دینی کے ساتھ قومی نوعیت کا قضیہ بھی تھا تاہم ان کے ہاں اس کی مذہبی حیثیت زیادہ نمایاں رہی…

Read More