Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»اُمید کی ثقافت زندہ کریں
    کالم

    اُمید کی ثقافت زندہ کریں

    شفیق منصورBy شفیق منصوردسمبر 5, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    تہذیب و ترقی اور بالادستی کے استعارے کے طور پہ مشرق ومغرب کی روایتی تقسیم رفتہ رفتہ اپنی معنویت اور حیثیت کھو رہی ہے۔ گلوبلائزیشن کے اثرات اور اس کے پیداکرہ مواقع نے طاقت و ترقی کے توازن اور ان کے مراکز میں بدلاؤ پیدا کیا ہے۔ یوں تو دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے یہ تمام تغیرات علم، معیشت اور منصوبہ بندی جیسے ذرائع کے استعمال کا نتیجہ ہیں لیکن اس بدلتے منظرنامے کی توجیہ ایک اور طرح سے بھی کی جاتی ہے۔ فرنچ مفکر ڈومینک موئسی کے مطابق دنیا میں دراصل احساسات و جذبات کی حکومت قائم ہوتی ہے۔ ترقی یا تنزلی کی ظاہری صورتیں ان احساسات وجذبات کی نوعیت کے زیراثر متشکل ہوتی ہیں۔ معاشروں میں جس طرح کے احساسات کا عمومی غلبہ ہوتا ہے ان کی ظاہری مادی حالت بھی اسی طرح کی ہوتی ہے۔ لہذا جو سماج اپنی ظاہری حیثیت ومقام تبدیل کرنا چاہتا ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنے اندر احساسات کی مخصوص عمومی ثقافت میں تبدیلی لائے۔

    موئسی نے اپنی کتاب The Geopolitics of Emotion: How Cultures of Fear, Humiliation and Hope are Reshaping the World (2009ء) میں یہ مقدمہ پیش کیا ہے کہ اس وقت دنیا میں تین طرح کے احساسات کی ثقافت غالب ہے۔ خوف، اُمید اور اہانت۔ مغربی معاشروں میں ایک گونہ خوف کا احساس غالب آرہا ہے، یہ احساس انفرادی دائرے سے نکل کر ثقافت کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ بے چینی فوبیا، دہشت گردی کا خطرہ اور ایشیائی ممالک بڑھتا ہوا نفوذ اوران کی کارکردگی۔ مغربی سیاست وسماج میں خوف کے اس احساس کی عملداری و اثرات نمایاں ہیں اور ان کی ہر پالیسی اسی کے زیراثر تشکیل پارہی ہے۔ یہ جذبہ ایک نئے مغرب کی صورت گری کررہا ہے۔

    دنیا میں دوسرا احساس جو بطور ثقافت غالب نظر آتا ہے وہ ’امید‘ ہے۔ اس کی عملی تمثیل ایشائی ممالک ہیں، بالخصوص چین اور بھارت۔ امید کا دوسرا نام اعتماد ہے۔ ایشائی ممالک کا مستقبل واضح ہے، زبردست اٹھان، اور طاقت اس کی روح ہے۔ جذبات کی تیسری غالب ثقافت کو موئسی نے ’اہانت و تذلیل‘ سے تعبیر کیا ہے۔ تقریباََ تمام مسلم ممالک میں اہانت کا احساس غالب ہے۔ یہ معاشرے اس بھاری پتھر کے نیچے پِسے جارہے ہیں۔ ان کی ظاہری حالت اور عالمی سطح پر مقام اسی احساس کے زیراثر نمو پارہے ہیں۔

    اگر پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں بھی سماج میں اہانت و تذلیل کا احساس عمومی ثقافت بن کرغالب آگیا ہے اور ہم اس سے باہر نہیں نکل پا رہے۔ اس گڑھے سے نکلنے کے لیے کوئی کوشش بھی بروئے کار نہیں لائی جارہی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہم اہانت کے احساس اور اس کے اثرات کو ان کی حقیقی منفی شکل میں دیکھ ہی نہیں پارہے۔ اس طرح یہ مختلف روایتی سیاسی، مذہبی اور طبقاتی بیانیوں کے راستے ہمارے اندر گھر کرگیا ہے۔ نتیجتاََ ہم ایک ایسا ناراض سماج بن گئے ہیں جو اپنی ساری صلاحیت ناراضی کے اظہار میں صرف کرتا ہے، نہ کہ اس گڑھے سے باہر نکلنے میں۔

    ہمارے اندر بحرانوں سے نہ نکل سکنے کا شعور گہرا ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے پاس نوجوانوں کی ایسی قوت ہے جو ناکامی و تذلیل کے احساسات کے ساتھ لبالب بھری ہوئی ہے

    اہانت کا احساس کم یا زیادہ ہر سماج میں پایا جاتا ہے، لیکن اس کی ثقافتی شکل کامطلب وہ نقطہ جمود ہے جہاں اُمید و اعتماد کی روشنی کا گزر نہیں ہوتا۔ اُمید کی کرن کا وجود اہانت کی ثقافت کے خول سے باہر نکلنے میں مدد دیتا ہے۔ جیسا کہ کوریا اور تائیوان نے جاپان کے مقابل کھڑے ہوکر کہا کہ ہم بھی تمہاری طرح عالمی اقتصادی میدان میں نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یا جیساکہ چین انیسوں صدی کے وسط سے بیسویں صدی کے وسط تک کے عرصے کو اہانت کی صدی (century of humiliation) سے تعبیر کرتا ہے۔ مگر بالآخر امید واعتماد کے بیج نے اسے ایک عالمی طاقت بنادیا۔

    اہانت کی ثقافت کا مطلب یہ بھی ہے کہ کوئی سماج اپنی ذات کی کھائی میں ایسا گرے کہ اسے اپنے آپ پر کنٹرول نہ رہے۔ یہ نقطہ جمود ہے۔ امید کی ثقافت اور اہانت کی ثقافت کے فرق کو پچھلے دنوں اقوام متحدہ میں بھارتی ویراعظم اور پاکستانی وزیراعظم کی تقریروں کے فرق سے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی پور ی تقریر میں ایک جملہ بھی ایسا نہیں تھا جس سے امید و اعتماد کی قوت جھلکتی نظر آتی۔ ان کا سارا خطاب ایک شکوہ تھا، ساری دنیا سے اہانت و تذلیل کا شکوہ۔ یہ ہماری ساخت کا جزو بن گیا ہے اور ہم اس کی منفی شکل اور اس کے اثرات کو نہیں سمجھ پارہے۔ طاقت ہمارے اندر سے نہیں پھوٹ رہی، دوسروں سے گمان رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں اٹھا کر چلیں۔ حالانکہ اس بیانیے کی درست مطلب ”بوجھ“، ”نفرت“  اور ’’تنہائی‘‘ ہے۔

    ہمارا سارا سیاسی، مذہبی اور طبقاتی بیانیہ سراسر اہانت کی ثقافت پر تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ احساس سختی سے جاگزیں ہے کہ ہماری اہانت و تذلیل کی گئی ہے اور کی جارہی ہے۔ عالمی برادری نے ہمارے ساتھ یہی رویہ اپنا رکھاہے۔ ساری دنیا ہمیں دہشت گرد کے طور پہ دیکھتی ہے، یہ تذلیل کا گہرا احساس پیدا کرتا ہے۔ مسلم برادر ملک بھی ہمارے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف نے ہماری ذات مجروح کی ہے۔ کشمیر چلاگیا، ہماری انا و شرف زخمی کردیے گئے۔ سارک ممالک ہمارے ملک آنے پر تیار نہیں ہوتے، کتنی بڑی تحقیر ہے۔ جولائی میں وزیراعظم نے یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں تقریرکرتے ہوئے کہا تھا مجھے زندگی میں سب سے زیادہ اپنی تذلیل کا احساس تب ہوا جب اسامہ بن لادن ہمارے ہاں سے برآمد ہوا۔ اور مجھے سخت اہانت محسوس ہوئی کہ ہم جس ملک کو اپنا حلیف کہتے ہیں وہ ہم پہ اعتبار نہیں کرتا اور بغیر بتائے ہماری حدود میں داخل ہوجاتا ہے۔ وغیرہ۔

    یہ سب مظاہر اور مثالیں بلاشبہ حقیقت میں اہانت کے احساس کو ابھارتے ہیں، حالت ایسی ہی ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس میں کہیں بھی ساتھ امید و اعتماد کی روشنی نظر نہیں آتی۔ ہم نے اس احساس اور اس میں رہنے کو ایک نوع کی مقصدیت دے ڈالی ہے۔ اہانت وتذلیل کے بیانیے کو ہمارے حکمران اور مذہبی رہنما بطور ڈپلومیسی کارڈ کے بھی استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنے جبر یا نااہلی پر پردہ ڈالا جاسکے۔ جبر و نااہلی ذمہ داری نبھانے یا اسے قبول کرنے کی بجائے قربانی کا بکرا تلاش کرتے ہیں۔

    اہانت کی ثقافت کا مطلب یہ بھی ہے کہ کوئی سماج اپنی ذات کی کھائی میں ایسا گرے کہ اسے اپنے آپ پر کنٹرول نہ رہے۔ یہ نقطہ جمود ہے

    مذہبی بیانیہ بھی ہمیں صرف یہ بتاتا ہے کہ ہم زوال پذیر ہوگئے، ہم سے ہماری سطوت ونخوت چھین لی گئی۔ بیانات میں محض یہ ذکر ہوتا ہے کہ فلاں طبقہ مذہب مخالف ہے، وہ مذہبی شان شوکت کو توڑنا چاہتا ہے۔ نوجوان جہاد کے میدان میں اس احساس کے ساتھ اترتے ہیں کہ فلاں ملک یا گروہ ہماری یا ہمارے عظیم بیانیے کی اہانت کا مرتکب ہوا ہے۔ مذہبی بیانیہ چاہے تبلیغی ہو یا تحریکی، ایجابیت کے اثرات سے قطعی خالی ہے۔

    ہمای ریاست دنیا کے ساتھ تعلق کو اسی معاندانہ و شکوے کے پیرائے میں دیکھتی اور پیش کرتی ہے اور اس سے نکلنے کی ایجابی عملی امید نہیں دیتی۔ یہ داخلہ و خارجہ پالیسی کو اسی تناظر میں تشکیل دیتی ہے۔ اہانت و تذلیل کی ثقافت نفرت کو جنم دیتی ہے۔ اس حساس کی وجہ سے ہم دنیا کے ساتھ باہمی معاونت کا ربط پیدا کرنے سے محروم ہوجاتے ہیں اور بدلے میں دنیا بھی ہم پر اعتماد نہیں کرتی۔ ہم تنہا کھڑے ہیں۔

    اہانت کے پختہ احساس اور اس کی ثقافت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ہم گلوبلائزیشن کے عمل کا درست طور اور فعال حصہ نہیں بن سکے۔ نفرت اور ناراضی ہمیں ایسا نہیں کرنے دے سکتے۔ گلوبلائزیشن کا عمل آزادی اور لامرکزیت کی فضا کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ ہماری ریاست تسلط و پابندی چاہتی ہے اس لیے وہ اہانت کی ثقافت کی ترویج کرتی ہے اور اسی تناظر میں پالیسی تشکیل دیتی ہے۔ مذہبی بیانیہ گلوبلائزیشن کو تاریخی پراسس کی بجائے ایک آئیڈیالوجیکل نظام خیال کرتا ہے۔ اس کے علمی واقتصادی زاویے بالکل نظرانداز کردیے گئے۔ ہمارے ہاں عوامی سطح پر ترقی اور گلوبلائزیشن کے مابین لازمی وفطری تعلق کی فکر موجود نہیں۔ یہ درست ہے کہ گلوبلائزیشن سے جڑا ہر مسئلہ قابلِ بحث ومناقشہ ہوسکتا ہے لیکن اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا تھا، جیساکہ ہوا۔ ہمارا گلوبلائزیشن کے ساتھ محدود تعلق مجبوری کا ہے اور غیرمنصوبہ بند بھی۔ یہ غیرمنصوبہ بند تعلق ہمیں اس سے فائدہ نہیں اٹھانے دے رہا اور یہ ان سماجی و ثقافتی اداروں کو بھی متأثر کررہا ہے جنہیں منصوبہ بند و فعال تعلق کے ذریعے محفوظ کیا جاسکتا تھا۔

    ہم ایک ایسے خطے میں واقع ہیں جہاں ہمارے اردگرد امید کی روشنی ٹھوٹ رہی ہے لیکن اس سے استفادے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ بلکہ یہ روشنی الٹا ہمارے اندر اہانت کی ثقافت کو مزید پختہ کررہی ہے۔ ہم بھارت، افغانستان، ایران، چین، بھوٹان اور دیگر ایشائی ممالک کی ترقی کو اپنی تذلیل کے طور پہ دیکھتے ہیں اور کڑھتے ہیں۔

    ہمارے اندر بحرانوں سے نہ نکل سکنے کا شعور گہرا ہوتا جارہا ہے۔ سیاسی رہنما حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں یہی تأثر چھوڑتے ہیں۔ ہمارے پاس نوجوانوں کی ایسی قوت ہے جو ناکامی و تذلیل کے احساس کے ساتھ لبالب بھری ہوئی ہے۔ ہم ذلتوں کے مارے لوگ ٹوٹے مرتے جاتے ہیں اور کوئی اُمید نظر نہیں آتی۔

    اُمید کی روشنی تک پہنچنے کے آگے کوئی ایک رکاوٹ دخل انداز نہیں ہے۔ کئی گھاٹیاں ہیں جن کو عبور کرنا ہے۔ اْمید کے ہر دِیے کو اہانت کے بیانیوں کے آندھی سے بجھا دیا جاتا ہے۔ مگر ہمیں ان گھاٹیوں سے گزرنا ہے، امید کی ہر روشنی کا پرتپاک استقبال کرنا ہوگا، اسے تحفظ دینا ہوگا، چاہے وہ ابتدائی شکل میں بے سمت ہی کیوں نہ نظر آئے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleشک کرنا نفسیاتی و اخلاقی مرض ہے
    Next Article عقائد قومی شناخت نہیں ہوتے
    شفیق منصور

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by