Author: ثاقب اکبر

اہل شام کے امتحانات ابھی ختم نہیں ہوئے، ایک نیا محاذ گرم ہو گیا ہے۔ ترکی نے شام کے شہر عفرین میں اپنی فوجیں داخل کر دی ہیں۔ جب کہ دو روزقبل 20جنوری2018 کو ترک فوج نے کہا تھا کہ اس کے جنگی طیاروں نے شام کے شمال میں کالعدم کردستان ورکررز پارٹی سے منسلک کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ یاد رہے کہ کرد جنگجو 2012سے اس علاقے کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔ ترکی پہلے ہی کردوں کے خلاف مکمل فوجی آپریشن کی دھمکی دے چکا ہے۔ آج 22جنوری 2018کی تازہ ترین اطلاعات کے…

Read More

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کچھ عرصے سے کرپشن کے الزامات کے گرداب میں ہیں۔ ان کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی مظاہرے بھی ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی پولیس کی طرف سے ان کے خلاف دو مقدمات کی بنیادپر تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں پولیس کئی مرتبہ ان کی رہائش گاہ پر آکر ان سے پوچھ گچھ کر چکی ہے۔بعض اوقات انھوں نے تحقیقاتی اداروں کے ساتھ تعاون سے انکار بھی کیا ہے۔ الزامات کے گرداب میں فقط نیتن یاہو نہیں بلکہ ان کا پورا خاندان ہے۔ 8جنوری 2018 کو اسرائیل کے چینل 2نیوز نے اسرائیلی وزیراعظم کے…

Read More

علامہ ثاقب اکبر ایک دردمند مذہبی رہنما اور مفکر ہیں۔ فیض آباد دھرنے سے اہل مذہب کی زبان اور شائستگی پر جو بحث شروع اور جس طرح مذہبی طبقات کا تاثر مجروح ہوا، اسے انھوں زیرنظر تحریر کا موضوع بنایا ہے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں نہ صرف مذہبی رہنماؤں بلکہ عام مسلمانوں کو بھی غوروفکر کی دعوت دی ہے کہ وہ اپنی روزمرہ معاملت کو کیسے سنوار سکتے ہیں۔ انھوں نے اس بحث کو مذہب کی اخلاقیاتی تشکیل کے دائرے میں لانے کی کوشش کی ہے۔(مدیر) مذہبی شخصیات کی قیادت میں برپا دھرنوں کا ایک دور آخر…

Read More

19دسمبر 2017کو پاکستان کے ایوان بالا میں بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اراکین کو بند کمرہ اجلاس میں قومی سلامتی سے متعلق امور پر بریفنگ دی۔ یہ بریفنگ ایک گھنٹے تک دی گئی اور اس کے بعد تین گھنٹوں پر مشتمل سوال وجواب کا طویل سیشن ہوا۔فوجی ترجمان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے قانون سازوں کو آگاہ کیا گیا اور ملک کو درپیش خطرات بھی سینٹ کے سامنے رکھے گئے۔ اس بریفنگ کا اہتمام سینٹ کے اراکین کی دعوت پر کیا گیا تھا۔ سینٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین…

Read More

لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری 3 نومبر2017کو بیروت سے ریاض پہنچے تو بیروت میں ان کی اپنی پارٹی سمیت کسی کو کانوں کان خبر نہ تھی کہ وہ اچانک سعودی ٹیلی ویژن العربیہ کی سکرین پر نمودار ہوں گے اوراپنااستعفی پڑھ کر سنائیں گے۔ جہانِ سیاست کوا س اچانک استعفیٰ نے حیران کرکے رکھ دیا۔اس سفارتی اور سیاسی اچنبھے پر پوری دنیا میں اظہار حیرت کیا جارہا ،ہے طرح طرح کے تبصرے ہیں اور طرح طرح کے سوالات۔ لبنان کے صدر مائیکل عون نے ریاض میں استعفیٰ کے اس اعلان پر کہا کہ سعد الحریری سعودی عرب میں بیٹھ کر…

Read More

ان دنوں سعودی عرب میں’’معتدل اسلام‘‘ کے چرچے ہیں۔ ولی عہد محمد بن سلمان جو 32برس کے پرجوش جوان ہیں اور سعودی تاریخ میں سب سے کم عمر ولی عہد ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب میں ’’معتدل اسلام‘‘ کی واپسی کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے یہ بات 24اکتوبر2017 کو ایک کانفرنس کے میں کہی جو اقتصادی امور کے حوالے سے منعقد ہوئی تھی۔جواں سال سعودی شہزادے نے کہا کہ ہم اپنی زندگیوں کے آئندہ 30سال اِن تباہ کن عناصر کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔ ہم انتہا پسندی کو ختم کردیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم…

Read More

عراق میں دہشت گرد گروہوں، خاص طور پر داعش کے ساتھ حکومت کی نبردآزمائی کو بارزانی نے اپنے لیے ایک غنیمت موقع سمجھا کہ جمہوریت اور عوامی حقوق کے نام پر کردستان کی علیحدگی کے لیے پیش رفت کی جائے۔ انھوں نے کرد مملکت کی حدود کے لیے جو نئے مطالبات شروع کیے ان کے مطابق کرد مملکت دو برابر ہوجاتی ہے۔ مسعود بارزانی معروف کرد راہنما ملا مصطفی بارزانی کے بیٹے ہیں۔ وہ ایک عرصے سے عراقی کردستان کو ایک الگ مملکت بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ کردستان کی الگ مملکت کا تصور تو بہت پرانا ہے اور…

Read More

 2015میں پانچ عالمی طاقتوں اورجرمنی نے مشترکہ طور پر ایران کے ساتھ ایک تاریخی جوہری معاہدہ کیا جسے بعدازاں 14جولائی 2015میں سلامتی کونسل نے منظور کرکے اسے ایک عالمی قانونی دستاویز بنا دیا۔ اس معاہدے کو جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کہتے ہیں۔ پانچ عالمی طاقتیں امریکہ،روس، چین،برطانیہ اور فرانس ہیں جنھیں سلامتی کونسل میں ویٹو پاور حاصل ہے۔ اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے کئی برس کے طویل اور حوصلہ آزما مذاکرات سے گزرنا پڑا۔یہاں تک کہ اس معاہدے کومذاکرات کے نتائج کا معجزہ کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے سے ایران کے جوہری پروگرام پر…

Read More

ایران اور ترکی کے مابین تاریخی طور پر اتار چڑھاﺅ آتا رہا ہے۔ تاہم جدید تاریخ میں 22اپریل1926 کو ایران اور ترکی کے مابین دوستی کا پہلا معاہدہ ہوا، اس پر تہران میں دستخط کیے گئے۔دوستی،غیر جانبداری اور ایک دوسرے کے خلاف عدم جارحیت اس معاہدے کے اصول قرار پائے۔ اس معاہدے میں طے پایا کہ دونوں ملکوں میں موجود ایسے عناصر کے خلاف مشترکہ کارروائی کی جاسکے گی جو حکومتوں کے خلاف مصروف عمل ہوں اور امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہوں۔ دونوں ملکوں کو اس وقت بھی داخلی طور پر کرد اقلیتوں سے مسائل درپیش تھے۔ 2جولائی…

Read More

قربانی کا تصور تمام مذاہب میں رہا ہے اور اس کا مقصد خالقِ کائنات کی رضا اور آلام و مصائب سے نجات رہا ہے۔ قربانی کے مذہبی تصور کی کئی جہتیں ہیں جنہیں سید ثاقب اکبر،چیئرمین البصیرہ اکیڈمی نے اس مضمون میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ بعدازاں اس پر بحث کی ہے کہ اسلام کا تصور قربانی باقی مذاہب سے کس طرح مختلف ہے اور اس کا فلسفہ کیا ہے۔ یہ مضمون قربانی کے فلسفے کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگا۔ (مدیر) قربانی کا تصور جہاں بھی پایا جاتا ہے اس کے گرد عام طور پر تقدس کاایک ہالہ…

Read More