اس سلسلے میں ایک نیا محاورہ بنایا جاسکتا ہے کہ’’ کھجور تو کھجور، گٹھلیوں میں بھی نور‘‘یہ محاورہ ہم نے ’’آم کے آم، گٹھلیوں کے دام ‘‘کے مقابلے میں حصولِ ثواب کی غرض سے بنایا ہے۔ ہمارے ہاں مشہور ہے کہ کھجور کھانا سنت ہے۔ اس بات کو ایک مسلّمہ کی حیثیت حاصل ہے۔ کھجوریں بیچنے والے ریڑھی بانوں نے بھی اپنی ریڑھیوں پر لکھ کر لگایا ہوتا ہے کہ کھجورکھانا سنت ہے۔ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا یہی سنا ہے۔ لہٰذا ہم ثواب کی نیت سے خدا جانے کتنی کھجوریں کھا چکے ہیں۔ ایک بہت بڑے اور نامور…
Author: ثاقب اکبر
’’ میں آپ سے ایک بات کہوں، میں نے بار ہا اپنی طبیعت کو ٹٹولا ہے، میں زندگی کی احتیاجوں میں ہر چیز کے بغیر خوش رہ سکتا ہوں لیکن موسیقی کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آوازِ خوش میرے لیے زندگی کا سہارا ، دماغی کاوشوں کا مداوا اور جسم و دل کی ساری بیماریوں کا علاج ہے۔‘‘ مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی حیثیت تو اپنے مقام پر مسلم ہے لیکن ان کے مقام علمی کا کوئی بھی انکار نہیں کرتا۔ ایک بڑا طبقہ انھیں امام الہند کے نام سے بھی یاد کرتا ہے۔ مشرب کے لحاظ سے ان کو…
‘‘میں اِس کے درپے نہیں کہ سمجھوں اور پھر ایمان لاﺅں بلکہ میں ایمان لاتا ہوں تاکہ سمجھ سکوں۔’’ گذشتہ ماہ ہمارے ایک عزیز کی شادی خانہ آبادی کی تقریب تھی۔ بارات جب دلہن لے کر واپس آ رہی تھی تو کچھ راستہ پیدل چلنا ضروری تھا چونکہ اس راستے پر کوئی گاڑی نہیں آ سکتی تھی۔ لہٰذا معمول کے مطابق دلہن کو لانے کے لیے ایک ڈولی (پالکی)کا انتظام کیا گیا تھا۔ بارات میں شریک کچھ افراد کا کہنا تھا کہ ‘‘سنت’’ کے مطابق دلہن کو پیدل چلایا جائے۔ ڈولی میں اسے لے کر جانا خلاف سنت اور بدعت…
حضرت داﺅد علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب کو قرآن حکیم نے زبور کا نام دیا ہے، اسے مزامیر بھی کہتے ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے تھے اور زبور عبرانی زبان میں تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ شاعری کی زبان میں تھی ‘‘ میں جہالت کے گہرے اندھیرے میں پیدا ہوا اور میرے روحانی گرو نے گیان کی روشنی سے میری آنکھیں کھولیں۔میں ان کو عقیدت و احترام کے ساتھ نمسکار پیش کرتا ہوں’’۔ ‘‘ اے میرے پیارے کرشن، آپ بیکسوں کے دوست ہیں اور تخلیق کا سرچشمہ ہیں۔ آپ گوپیوں کے سوامی اور…
علمائے اسلام کے مابین اس بات پر اتفاق ہے کہ پوری تاریخ انبیاءمیں دین اپنی کلیات کے اعتبار سے تبدیل نہیں ہوا لیکن شریعتیں تبدیل ہوتی رہی ہیں دین کے بعض پہلو تو ایسے ہیں جہاں زمان و مکان اثر انداز نہیں ہوتے، ہاں البتہ معارف اور فہم کی گہرائی اور وسعت میں فرق آسکتا ہے، جیسے علوم کی بنیادیں ہوتی ہیں۔ علوم کی کلیات عام طورپر نہیں بدلتیں، جیسے علم الحساب پرائمری سطح کے بچے کے لیے جو بنیادیں فراہم کرتا ہے، وہی اگلے مرحلے پر وسعت اور گہرائی کے ساتھ طالب علموں پر کھلتی رہتی ہیں۔ مڈل کا…
قرآن و سنت آسمانی تعلیمات کا سرچشمہ ضرور ہیں لیکن کیا یہ تعلیمات فقط عرب دنیا کے لیے ہیں اورکیا دیگر زبانیں بولنے والوں کو ان کی زبانوں میں ان تعلیمات کو بیان نہیں کیا جاسکتا؟ قرآن حکیم کے مطابق زبانوں کا اختلاف اللہ کی آیات میں سے ہے۔ اللہ کی کوئی زبان نہیں. شریعت اور آئین کا موضوع حالیہ سالوں میں اس لئے بھی ابھر کر سامنے آیا ہے کیونکہ کئی شدت پسند تنظیموں نے اپنے اپنے ملکوں کے آئین کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ان کا مو¿قف ہے کہ قرآن و حدیث کی موجودگی…
امید کرتے ہیں کہ اس ”نسخہ کیمیا“ سے فرقہ پرستی، انتہا پسندی اور شدت پسندی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ہم میر سے بھی زیادہ سادہ ہیں۔ گاہے ہم اپنے درد کا علاج انھیں سے دریافت کرنے پہنچ جاتے ہیں جو درد بانٹے کا کاروبار کرتے ہیں فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے کی جانے والی بعض کوششوں کو ”اسی عطار کے لونڈے سے دوا“ لینے کے مترادف قرار دیا جاسکتا ہے۔ شاید میر کی یہ تعبیر بھی صحیح صورت حال کی پوری عکاسی نہیں کرتی۔ ہم تو فرقہ پرست عناصر کو اور بھی قوی کرتے جارہے ہیں اور امید…
عربی زبان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کسی کے علم و فضل کی بنیاد پر اس کے لیے مبالغے کا صیغہ استعمال کرنا ہو تو ”علّام“ کہا جاتا ہے اور جب مبالغے کی بھی انتہا ہو جائے تو ”علاّمہ“ کا لفظ بروئے کار لایا جاتا ہے۔ بعض القاب ایسے ہوتے ہیں کہ عام انسان انھیں پڑھ کر حیرت میں کھو جاتا ہوں۔ کبھی تو ایک شخص کے نام کے ساتھ اتنے ڈھیر سارے القاب ہوتے ہیں کہ اصل نام کا پتہ ہی نہیں چلتا اور سمجھ نہیں آتی کہ موصوف کو کس لفظ سے پکاریں۔ ایسے میں دل…
انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے پہلے عیسائی گورنر باسوکی جحاجا پرناما کا ٹویٹر پیغام اہمیت رکھتا ہے۔ انھوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ صادق خان! آپ کو لندن کا میئر بننا مبارک ہو۔ یہ جمہوریت، میرٹ اور رواداری کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ لندن کے نومنتخب مسلمان میئر صادق خان نے اپنی کامیابی پر خود جو تبصرہ کیا ہے وہ ہرتبصرے سے گہرا، بامعنی اور حقیقت پر مبنی ہے۔ یہ اس لیے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ ان کے لیے یہ انتخابی عمل فقط دیدہ و شنیدہ نہ تھا بلکہ چشیدہ تھا۔ انتخابات میں اپنی کامیابی…
عمل اجتہاد میں حکم زمان و مکان سے ہم آہنگ نہ ہو تو وہ اجتہاد ہی نہیں کہلا سکتا ۔ کبھی موضوع بدل جانے سے حکم بدل جاتا ہے اور کبھی موضوع نہیں بدلتا خارجی حالات تبدیل ہو جاتے ہیں جو حکم کی تبدیلی پر منتج ہوتے ہیں ۔ علامہ اقبال نے اسلام کے تصور اجتہاد کے بارے میں اپنے خطبے کی اساس اجتہاد کے حوالے سے اپنے اس نظریے پر رکھی ہے کہ یہ اسلام کا اصول حرکت ہے۔ اقبال کے اس تاریخی خطبے پر گذشتہ تقریباً ایک صدی میں بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے۔ جہاں اقبال…
