یہ ابلاغ کی دنیا ہے یہاں سچ بھی دلیلوں کا محتاج ہے۔ اکثر اوقات سچ کے متوازی ایسی ایسی دلیلیں دی جاتی ہیں کہ جھوٹ پر بھی سچ کا گمان ہوتا ہے ۔یہ سب کچھ کبھی میڈیا کے ذریعے ہوتا تھا مگر اب سوشل میڈیا نے مین سٹریم میڈیا کی ہیئت ہی بدل کر رکھ دی ہے ۔دنیا میں اب ہر فرد جس کا سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ ہے وہ دنیا کے سچ اور جھوٹ پر برابر اثر انداز ہونے کی اہلیت رکھتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دنیا میں آنے والی سیاسی و سماجی تبدیلیوں میں اس میڈیا کاکردار…
Author: میگزین رپورٹ
مصنفہ پی لنگ ہانگ ہارورڈ یونیورسٹی میں میوزیکل ایتھنولوجی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں۔ ان کا یہ مضمون ہیرالڈ میں شائع ہوا۔اس مضمون میں انہوں نے سندھ کے مشہور صوفی بزرگ شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار پر بیٹھے راگی فقیروں کے حالات کا تذکرہ کیا ہے یہ راگی کون ہیں ؟ کہاں سے آتے ہیں اور کن منزلوں کے مسافر ہیں ؟ اس کا جائزہ اس فیچر میں لیا گیا ہے۔ شاہ لطیف کے کلام میں سرمست یہ راگی جب گاتے ہیں تو روح میں جلترنگ بج اٹھتے ہیں مگر ان کی اپنی روحیں کس قدر چین میں…
نجود علی یمن سے تعلق رکھنے والی ایک بچی ہے جس کی شادی اس کے بچپن میں کسی ادھیڑ عمر شخص سے کردی جاتی ہے جو بجائے خود ایک ظلم ہے مگر اس پر مستزاد یہ کہ اس کو شوہر کی جانب سے کام کاج اور دیگر امورِ خانہ داری سے ساسس سسر کی خدمت تک کی سبھی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ مزید یکہ اس پر ظلم و زیادتی اور تشدد کو بھی روا رکھا جاتا ہے۔ اس ظلم و نجبر سے نجات کے لیے گھر سے نکلنے اور طلاق لینے میں کامیابی تک کے مراحل…
یہ مضمون فرانسس فوکویاما کی کتابIdentity: The Demand for Dignity and the Politics of Resentment کے پہلے باب The Politics of Dignity کا ماخوذ اردو ترجمہ ہے۔ ان کی یہ کتاب ستمبر 2018ء میں منظر عام پر آئی ہے ۔فرانسس فوکویاما Freeman Spogli Institute for International Studies (FSI)میں سینئر فیلو ہیں ۔جان ہاپکننزیونیورسٹی اور جارج میسن یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد رہ چکے ہیں ۔اس سے قبل 1992ء میں ان کی کتاب The End of History and the Last Man کے دنیا کی بیس سے زائد زبانوں میں تراجم شائع ہو چکے ہیں جبکہ اس کے علاوہ بھی ان کی…
مغربی سماج کی بنیادیں انفرادی حقوق کے احترام پر استوار ہیں۔ بغیر کسی بیرونی دباؤیا مداخلت کے انفرادی خواہشات ا ورعزائم کی آزادانہ تکمیل یہاں کی اہم سماجی قدروں میں سے ایک ہے۔اگرچہ یہ چیزدنیا کو ایک بہترجگہ بناتی ہے تاہم پھر بھی کچھ حدودو قیود لاگو ہوتی ہیں۔جان وین کے عجیب و غریب کرداروں کی طرح انفرادیت پسندی بھی پردہِ سیمیں پرجتنی خوشنما نظر آتی ہے اتنی حقیقتاً نہیں ہے۔ ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ نمو پانے اور پنپنے کے لیے ’’میں‘‘ کی بجائے ’’ہم‘‘ ہونا لازم ہے اور یہیں سے ہی تمام مسائل کے سوتے پھوٹتے ہیں۔سباستیان…
پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کے لیے فکری و علمی مکالمے کا اہتمام جاری رکھے ہوئے ہے ۔اسی سلسلے میں دسمبر 2018ئمیں ایک قومی سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کا عنوان ’’پاکستان میں مسلکی تفہیم کی حرکیات‘‘ تھا۔ جس میں نامور مفکرین نے شرکت کی ۔پاکستان میں جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ وہ اپنے سفارتی دورانیے میں آٹھ سال عراق ، افغانستان اور دیگر مسلم ممالک میں تعینات رہے ہیں جہاں انہوں نے مسلکی تشدد کے مظاہردیکھے ہیں۔…
پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز 2006ء سے معاشرے میں عدم برداشت ، قیام امن، انتہا پسندی کے خاتمے جیسے موضوعات پر مکالمہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔اس سال بھی کالج اور یونیورسٹی اساتذہ کے ساتھ ’’سماجی ہم آہنگی مذہبی رواداری اور تعلیم ‘‘کے موضوع پر 28اور 29اکتوبر 2018ء کو ایک دوروزہ ورکشاپ اسلام آباد میں منعقد ہوئی ۔ورکشاپ کا آغا ز محمد اسماعیل خان نے موضوع کے تعارف سے کیا انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ہم نے دس مکالمے کئے جن کے بعد سامنے آنے والی تجاویز کو’’ محفوظ اور ہم آہنگ پاکستان ‘‘کے نام سے شائع کیا…
پاکستان میں لسانیات کے حوالے سے ڈاکٹر طارق رحمان ایک معتبر نام ہے۔ آپ سماجی لسانیات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان میں ”پاکستان میں انگریزی ادب کی تاریخ” (1991)، ”پاکستان کی لسانی سیاست” (1996) اور ”زبان، نظریہ اور اقتدار: پاکستان اور شمالی ہندوستان میں زبان کی تعلیم” (2002)، ”ہندی سے اردو تک: سماجی اور سیاسی تاریخ” (2011) آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کی ہیں۔ ”جنوبی ایشیا میں جہاد کی تعبیر کی علمیاتی تاریخ” ان کی تازہ تصنیف ہے جو امریکہ کی معروف یونیورسٹی پرنسٹن اور ڈی خروئٹرکے اشتراک سے شائع ہوئی ہے۔ یہ اشتراک اعلی معیار کی علمی…
’’ہجر تیرا جے پانی منگے‘‘ زاہد حسن کی کہانیوں کا نیا مجموعہ ہے جو حال ہی میں شائع ہو ا ہے۔ زاہد حسن پنجابی فکشن لکھتے ہیں، چارناولوں؛ عشق لتاڑے آدمی، غلیچا انن والی، قصہ عاشقاں اور تسّی دھرتی سمیت اس افسانوی مجموعہ کو ملا کر اب تک ان کی دس کتب شائع ہو چکی ہیں۔ اردو اور پنجابی میں تحقیق، ترجمہ اور شاعری پر ان کا کام اس کے علاوہ ہے۔ کسی بھی زبان اور کسی بھی صنف میں لکھتے ہوئے اپنی بنیادی پہچان بنانا پہلا کام ہے جو کسی بھی لکھنے والے کے لیے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔…
جغرافیائی سیاست کے بطن سے ابھری زخم خوردہ ،غرورزدہ شناخت نے دنیا کا امن خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پنکج مشرا کا شمار معروف بھارتی لکھاریوں میں ہوتا ہے جن کی تاریخ، سماجیات اور مشرقیات پر گہری نظر ہے۔وہ اب تک کئی کتابیں لکھ چکے ہیں جن کی نہ صرف یہ کہ عالمی سطح پر پزیرائی ہوئی ہے بلکہ انہیں ان پر کئی عالمی ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔مشرا ادب اور سیاست کے موضوعات پر نیویارک ٹائمز میں کالم بھی لکھتے ہیں۔مشرا کا مندرجہ ذیل مضمون سفید فام برتری کا تصور اور ا س کے نتیجے میں دنیا میں رونما…
