معاشی ترقی ایک اہم مضمون ہے۔ وہ عوامل جو معاشی ترقی کا سبب بنتے ہیں، معیشت دانوں کی تحقیق کا بنیادی موضوع ہیں۔ سرمایہ، محنت اور ٹیکنالوجی یہ تین بنیادی عوامل ہیں معاشی ترقی کے ضمن میں جن کی اہمیت پر تقریباً تمام معیشت دان متفق ہیں۔ یہ تین بنیادی عوامل جب پوری توانائی اور بھرپور صلاحیت کے ساتھ کام کرتے ہیں تو معاشی ترقی ممکن ہو پاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاملہ اتنا سادہ ہے؟ اگر ہے تو پھر کچھ ممالک اتنے امیر کیوں ہیں اور کچھ غریب کیوں؟ اس کا جواب معیشت دان یہ دیتے…
Author: میگزین رپورٹ
نجود علی یمن سے تعلق رکھنے والی ایک بچی ہے جس کی شادی اس کے بچپن میں کسی ادھیڑ عمر شخص سے کردی جاتی ہے جو بجائے خود ایک ظلم ہے مگر اس پر مستزاد یہ کہ اس پر شوہر کی جانب سے کام کاج اور دیگر امورِ خانہ داری سے ساسس سسر کی خدمت تک کی سبھی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ مزید یکہ اس پر ظلم و زیادتی اور تشدد کو بھی روا رکھا جاتا ہے۔ اس ظلم وجبر سے نجات کے لیے گھر سے نکلنے اور طلاق لینے میں کامیابی تک کے مراحل کو…
نوآبادیاتی نظام سے آزاد ہونے والے ممالک کے سیاسی عمل میں قومی یکجہتی اہمیت کا حامل سوال رہا ہے۔ سوشلسٹ ممالک کی ناکامی کے بعد یہ سوال باقی نہیں رہاکہ کوئی ملک صرف نظریاتی طور پر متحد رہ سکتاہے۔دراصل کسی بھی قوم یا ملک میں ذیلی قومیتی وفاداریاں، نسل، زبان، مذہب اور علاقہ لازمی عنصر ہوتے ہیں۔اور ان سے جڑے مسائل کو ٹھیک طرح سے حل کیے بغیر قومی یکجہتی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ پاکستان بھی مختلف ثقافتی اور سماجی گروہوں کی مجموعی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیاجن میں بلوچستان اورسرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے سرداروں سے لے…
سیاست، ادب اور تاریخ کے مطالعے، خاص طور پرملکی اور بلوچ قوم پرستانہ سیاست پر گہری نظر رکھنے کے حوالے سے ہمارے خطے میں اکثر بلوچ نوجوانو ں کی مثال دی جاتی ہے۔ ماضی میں جب بائیں بازو کی سیاست اور اشتراکی نظریہ کی جدوجہد اپنے عروج پر تھی تو بلوچ نوجوانوں کا ایک گروپ طبقاتی تقسیم، معاشی استحصال اور اجارہ دارانہ نفسیات کے خلاف اٹھنے والی جدوجہد سے بہت متأثر تھا۔ سرمایہ داری نظام کے استحصالی رویے کا شکار تمام مظلوم و محکوم اقوام کے ساتھ ساتھ ہمارے ہاں بلوچ نوجوان بھی اپنے بقا کی جنگ لڑنے اور اپنے…
ڈاکٹر ساجد جاوید سرگودھا یونی ورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ ہیں۔ ان کی تازہ کتاب’’اردو لسانیات اور مستشرقین‘‘ عکس پبلیکیشنز لاہور نے شائع کی ہے جسے اردو ادبیات میں نمایاں اضافہ کہا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر ساجد جاوید کی یہ کتاب ان کی شبانہ روز کوششوں، اردو زبان سے ان کے لگائو اور تحقیق و مطالعے جیسے مشکل اور کٹھن کام میں ان کی حد درجے دلچسپی کی عکاس ہے۔ ان کی یہ تصنیف قاری کو نہ صرف اردو بلکہ دیگر مقامی زبانوں کے تاریخی پس منظر سے بھی آگاہی فراہم کرتی ہے۔ اپنی تصنیف میں فاضل مصنف تاریخی…
کولن وارڈ معروف برطانوی انارکسٹ لکھاری ہیں۔ انہیں سماجیاتی تاریخ کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون ان کی کتاب Anarchism: A very Short Introductionکی تلخیص ہے جس میں انارکی کی درست تفہیم پر روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ واضح کیاگیا ہے کہ ایک انارکسٹ سماج کیسے قائم ہوسکتا ہے۔ دنیا میں انارکی کی اصطلاح کو زیادہ تر منفی مفہوم کے ساتھ جوڑا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا مطلب انتشار، خانہ جنگی یا فساد ہے۔ لیکن یہ اس کا حقیقی مطلب نہیں ہے۔ اس کا اصل استعمال ریاستوں کے استحصالی جبر…
عوامیت پسندی (Populism) کی ویسے تو مختلف تعریفات کی جاتی ہیں لیکن مجموعی طور پر اسے ایک ایسی لہر کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو استحکام کو متأثر اور موجود جمہوری نظم کو اتھل پتھل کرتی ہے۔یہ اگرچہ ایک حیثیت میں عوامی لہر بھی کہلاتی ہے لیکن اس کی محرک شعوری وفکری جدوجہد نہیں ہوتی، بلکہ اس کا پس منظر غصہ اور بے چینی ہوتے ہیں جس کا استعمال کرکے کچھ لوگ اقتدار حاصل کرتے ہیں۔ پاپولسٹ افراداشرافیہ مخالف اور بعض لبرل جمہوری اقدار کے ناقد ہوتے ہیں۔ ماضی میں کئی پاپولسٹ حکومتیں قائم رہی ہیں۔ اس وقت ایک…
پروفیسرفرانسس کرسٹوفر رولینڈ روبن سن ماہرِ سماجیات اور تاریخ دان ہیں۔ وہ رائل ہالوے یونی ورسٹی آف لندن، برطانیہ کے شعبہ تاریخ سے وابستہ ہیں۔ وہ اسلام اور جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی تحقیقات کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ ان کا زیرِ نظر مضمون پاکستان سے تعلق رکھنے والے ماہرِ لسانیات ڈاکٹر طارق رحمان کی کتاب ’’جنوبی ایشیا میں جہادکی تعبیرات کی علمیاتی تاریخ‘‘ پرتنقیدی تبصرے کے طور پر لکھا گیا ہے جو لندن میں قائم ایک تحقیقی ادارے Bloomsbury Pakistanنے انگریزی زبان میں شائع کیا جس میں پروفیسر فرانسس روبن سن ان کے نقطہِ نظر اور ان کی…
میڈیلین البرائٹ امریکی سیاستدان اور سفارتکار ہیں۔ وہ پہلی خاتون امریکی سیکرٹری کے عہدے پر متمکن رہیں۔ان کی کتاب Fascism: A Warningسے تلخیص شدہ اس مضمون میں دنیا کے مختلف خطوں میں فسطائی علامات کی حامل حکومتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ پاپولسٹ سیاسی جمہوریتوں اور فسطائی حکومتوں کے مابین بہت باریک فرق ہوتا ہے۔ ان دونوں نظاموں کے مابین قربت آسان ہوتی ہے۔ فسطائی حکومت کا قیام مشکل بھی ہوسکتا ہے اور یہ کسی ایک برے واقعے یا بحران کے نتیجے میں ایک دم بھی وجود میں آسکتی ہے۔ وہ واقعاتی حوالوں کی بنا پر…
انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے دنیا بھر میں مختلف اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔ بنیاد پرستی کا خاتمہ، غیر فعالیت،رجوع، مفاہمت، مصالحت، قومی دھارے میں واپسی، مکالمہ، انتہا پسندی سے گلوخلاصی جیسی اصطلاحات اگرچہ مقصدیت کے اعتبار سے باہم مترادف ہو سکتی ہیں لیکن ان کا لائحہِ عمل ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔مختلف معاشروں میں مختلف اصطلاحات کا استعمال بنیادی طور پردراصل کسی سماج میں ان اصطلاحات سے منسلک مخصوص سماجی و سیاسی سرگرمیوں کے ادراک کااظہارہے۔ مگردواصطلاحات، بنیادپرستی کاخاتمہ (Deradicalization)اورانتہاپسندی سے گلو خلاصی (Disengagement) کا استعمال عموماًزیادہ ہوتا ہے۔ ان دونوں اصطلاحات سے انفرادی یا اجتماعی دستبرداری…
