Author: ڈاکٹر خالد مسعود

گوالوں نے قانونی نہیں سیاسی موقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے خا لص کا ذکر پاکستان دشمنوں نے چھیڑا ہے۔ حقیقی دنیا میں خالص کا کوئی وجود نہیں یہ اشتہاروں اور خوابوں کی دنیا میں زیب داستان کے طور پرباقی رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں خالص کی بحث کا آغاز یہود و ہنود کی سازش ہے۔ مغربی ممالک ماحولیات کی آلودگی کا پراپاگنڈا کرکے اور خالص پانی اور خالص دودھ کے خواب دکھا کرہماری معیشت کو تب آج کل تقریباً ہر دوسری خبر میں ذکرہوتا ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے…

Read More

آکسفرڈ والے باہر سے آئے الفاظ کو آسانی سے شہریت نہیں دیتے۔ وہ پہلے اس لفظ کے حسب نسب کی پڑتال کرتے ہیں۔اور یہ یقین کر لینے کے بعد کہ مارکیٹ میں اس لفظ کا سکہ چلنے لگا ہے اسے رجسٹر کرتے ہیں۔ رجسٹری کا فائدہ یہ ہے کہ وہ اس لفظ کے چال چلن اور بے جا میل جول پر پابندیاں لگا سکتے ہیں۔ نیا سال مبارک ہو۔ کہا جارہا ہے کہ ۲۰۱۷ دنیا بھر میں تبدیلی بلکہ پوسٹ ٹروتھ کی کایا پلٹ تبدیلی کا سال ہے۔ اس خوش خبری  کی بنیاد آکسفرڈ ڈکشنری کا انکشاف ہے  کہ ۲۰۱۶…

Read More

ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمان بادشاہوں نے سائنس کے دو ہی شعبوں میں دلچسپی لی۔ ایک علم نجوم جس سے بادشاہ کو دشمنوں کےاور اپنے مستقبل کا علم رہتا تھا۔ دوسرے علم طب جس سے بادشاہ کو بیماریوں سے بچنے اور اپنی جسمانی طاقت کا خیال رکھنے میں مدد ملتی تھی ھود بھائی کے حالیہ بیان سے اور اس پر غصیلے  کسیلے تبصروں سے لگتا ہے کہ پاکستان میں سائنس آخری سانسیں لے رہی ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ  سائنس کے بارے میں اس اس قسم کی خبریں علامہ اقبال کی یوم ولادت  کے ارد گرد سننے میں…

Read More

آج کل شارٹ کٹ اسلام اور شارٹ سر کٹ اسلام میں سخت مقابلہ چل رہا ہے۔ شارٹ سرکٹ اسلام دراصل شارٹ کٹ اسلام کا شارٹ کٹ ہے۔ جو آئینی جدو جہد کو لا یعنی قرار دیتا ہے۔ ہم  روزانہ دعا تو  سیدھی  راہ یا صراط مستقیم پر چلنے کی مانگتے ہیں لیکن  تلاش شارٹ کٹ کی رہتی ہے۔  فارسی میں کہتے ہیں   کہ راہ راست برو گرچہ دور است ۔ سیدھے رستے پر چلتے رہو چاہے وہ دور ہی ہو۔ اس کشمکش کی وجہ سے ایک بے اطمینانی سی رہتی ہے کہ  شارٹ کٹ صراط مستقیم کی مخالف سمت کا…

Read More

’’آج کیا پکائیں‘‘ کا سوال انتظامی اور آئینی مسئلہ ہے۔ اس پر پاکستانی دانشوروں نے بہت غور و خوض کیا ہے۔ لیکن نظریاتی پہلووں سے۔ آج کیا پکائیں ہر گھر میں روز مرہ کا سوال ہے لیکن پاکستان کی روز افزوں معاشی اور سیاسی ترقی کی وجہ سے اسے ایسا مسئلہ سمجھا جانے لگا ہے جو دن بدن پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ آج کیا پکائیں کی بجائے آپ کیا کھائیں پر زیادہ بحث ہونے لگی ہے۔ ٹیلی ویڑن پر ماہرین نے کیا کھائیں، کب کھائیں، کیسے کھائیں اور کیوں کھائیں کے سوال…

Read More

پانامادستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ حالیہ معاشی اور معاشرتی تباہی کی اصل ذمہ دار عالمگیر اقتصادی پالیسیاں ہیں جن کو قانونی پشت پناہی حاصل ہے۔ اپریل 2016میں پاناما دستاویزات کی اشاعت سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ مالی بد عنوانی ایک عالمگیر مسئلہ ہے جس میں ترقی پذیر ہی نہیں ترقی یافتہ ممالک بھی ملوث ہیں۔پوری دنیا ہو شربا مہنگائی اور مالی بدعنوانیوں کا شکار ہے اور غربت میں ناگفتہ بہ اضافے کی وجہ سے ہر ملک کے عوام چیخ اٹھے ہیں۔غربت میں اضافہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی شدید مسائل پیدا کر رہا ہے۔پانامادستاویزات…

Read More

مغربی میڈیا کسی پاکستانی کی تعریف کردے توہمارے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پہلے تو ہم ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ لگے کہ قابل فخر شخص ہم میں سے نہیں ہے۔ یا تو اتنی تعریف کرتے ہیں کہ وہ موصوف پاکستانی نہ لگے۔ ایسا نہیں کہ ہم قابل فخر قوم نہیں یا ہم نے کبھی کوئی قابل فخر کارنامہ سرانجام نہیں دیا۔ دنیا جانتی ہے کہ  مغرب نے جو بھی ترقی کی وہ ہماری نقل کرکے حاصل کی ہے۔  ہم ان باتوں پر فخر سے گریز اس لئے کرتے  ہیں کہ ہم دنیا پر یہ احسان جتلانا نہیں چاہتے۔…

Read More

ایدھی نے جیتے بھی شرمندہ رکھا مر کر بھی شرمندہ کر گئے۔ ایدھی کے معیار پر ہم نہ جی سکتے ہیں نہ مر سکتے ہیں۔ ایدھی مرتے مرتے بھی ہم سب کو شرمندہ کر گئے۔ آخر میں ان کے بدن میں صرف آنکھیں رہ گئی تھیں جو کسی کے کام آسکتی تھیں۔ ایدھی وہ بھی عیدی دے گئے۔ گیتوں میں برہا کی  ماری تو کا گا سے یہ ِبنتی کرتی سدھاری تھی کہ تن کا سارا ماس چن چن کھائیو پر دو نینا مت کھائیو۔ وہ آخری سانس بھی پیا مِلن کی آس میں ِبتانا چاہتی تھی۔ ایدھی تو سب…

Read More

عریانیت ظاہر کی آنکھ کو نظر آتی ہے۔ اوریانیت دل کی آنکھ کو دکھائی دیتی ہے۔ عریانیت لباس سے چھپائی جا سکتی ہے لیکن اوریانیت چھپائے نہیں چھپتی۔ پچھلے دنوں ایک اشتہار میں ایک باپ کی نافرمان بچی کو کرکٹ کے میچ میں اچھلتے کودتے دکھایا گیا ۔ میڈیا میں بچی کی نافرمانی  اور اچھل کود کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ وہ لباس میں بھی بہت سے لوگوں کو قابل اعتراض حرکتیں کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ہم دہشت گردی کی مذمت کرتے تو نہیں تھکتے کہ اس میں جا ن ومال کا نقصان ہے لیکن اس…

Read More

بعض قدامت پسند دانشور پارلیمانی جمہوریت کا راگ الاپ کر عوام کو مرغی سے لطف اندوز ہونے کی بجائے دال کھانے پر مجبور کر رہے ہیں آج کل ملک میں یہ مطالبہ زور پکڑرہا ہے کہ اب یہاں پارلیمانی جمہوریت کی بجائے صدارتی جمہوریت کا نظام  لانا چاہیے۔ بعض دانشور اب بھی پارلیمانی جمہوریت پر اصرار کر رہے ہیں۔ ہمیں ان کی  مشکوک بصیرت پر تشویش ہے کہ مرغی کی موجودگی میں دال کھانے پر اصرار کر رہے ہیں۔ بہانہ مہنگائی کا ہے لیکن درحقیقت وہ یہود و ہنود کی سازش کا شکار ہیں۔ پرانے زمانے میں یہود بھی من…

Read More