Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»سائنس آخری سانسیں لے رہی ہے
    کالم

    سائنس آخری سانسیں لے رہی ہے

    ڈاکٹر خالد مسعودBy ڈاکٹر خالد مسعودنومبر 14, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔10 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمان بادشاہوں نے سائنس کے دو ہی شعبوں میں دلچسپی لی۔ ایک علم نجوم جس سے بادشاہ کو دشمنوں کےاور اپنے مستقبل کا علم رہتا تھا۔ دوسرے علم طب جس سے بادشاہ کو بیماریوں سے بچنے اور اپنی جسمانی طاقت کا خیال رکھنے میں مدد ملتی تھی

    ھود بھائی کے حالیہ بیان سے اور اس پر غصیلے  کسیلے تبصروں سے لگتا ہے کہ پاکستان میں سائنس آخری سانسیں لے رہی ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ  سائنس کے بارے میں اس اس قسم کی خبریں علامہ اقبال کی یوم ولادت  کے ارد گرد سننے میں آرہی ہیں۔ کہیں ایسا تونہیں کہ  جب سےعلامہ اقبال نے یہ پیشین گوئی  کی ہے کہ فرنگی تہذیب جلد اپنے خنجر سے آپ خود کشی کرے گی  بھائی لوگ ایسی خبروں کے منتظر رہنے لگے ہیں۔

    گذشتہ ما ہ سے امریکہ میں ٹرمپ کے ظہور کا چرچا عام ہوا  تب بھی امریکہ کے بعض خیر خواھوں نے اسےامریکہ میں خود کشی کا رجحان  قرار دیتے ہوے تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا خیال ہے کہ ٹرمپ ہی وہ خنجر ہے جس سے علامہ اقبال کی موعودہ خود کشی عمل میں آئے گی۔ اقبال زندہ ہوتے تو وہ سختی سے تردید کرتے کہ ٹرمپ تو خود ہی کشتہ سلطانی و ملائی و پیری ہے۔ وہ بتاتے کہ یہ تو دیو استبداد ہے جو جمہوری قبا میں پائے کوب ہے۔ رقیبوں نے ٹرمپ کو قرب قیامت کی نشانی بتاتے ہوے اسے دجال کا ظہور بھی بتایا ہے۔ ہمارے خیال میں ان ستارہ شناسوں میں کوئی بھی اقبال شناس نہیں جو اس عقدے کو حل کرسکے۔

    علامہ اقبال نے یہ نہیں بتایا کہ خنجر سے مراد کیا ہے تو اس میں کوئی حکمت ہوگی۔ ہمارے   دینی دانشور مسلسل یہ وضاحت کرتے رہے ہیں کہ خود کشی سے مراد فرنگ کی  بےحیائی اور جنسی بے راہروی ہے۔ تاہم بعض دیدہ ور حکما سائنس کی مذہب  دشمنی کی  کا حوالہ بھی  دیتے رہے ہیں۔ فلسفہ اور سائنس اسی لئے شجر ممنوعہ رہی ہیں کہ بنی آ دم اس کے قریب نہ پھٹکیں مبادا جہان تازہ آباد کرکے پھر سے نافرمانی کے مرتکب ہوں۔ سائنس کی تعلیم و تدریس سے کماحقہ اجتناب لازم تھا لیکن  ان حکما کی کسی نے نہ سنی۔  سکولوں کالجوں میں بے دھڑک  سائنس پڑھائی جاتی رہی۔ اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ دیدہ دلیری یہ کہ الٹا دینی مدارس میں سائنسی علوم کو ترقی کی اکسیر بتا کر علوم جدیدہ کی تدریس پر زور دیا گیا۔  اللہ کا شکر ہے کہ معدودے  چند مدارس نے سائنسی علوم کو مدارس میں داخلے کی اجازت دی ہے۔ اکثر مدارس نے جادو اور سحرکے ساتھ فلسفہ کو بھی دینی علوم سے خارج رکھا۔ جنات کو کبھی ممنوعات میں شمار نہیں کیا  گیا لیکن  قابل داخل نصاب بھی نہیں سمجھا۔

    بھلا ہو  پاکستان کے میڈیا کا جس نے  جنات، بھوت پریت، جادو اور ٹونے ٹوٹکے جیسے اہم لیکن معتوب علوم کو ان کا کھویا مقام دلانے کی کوششش کی ۔ ان کے سلسلہ وار پروگراموں سے پتا چلا کہ سائنس کی تعلیم نے ہمیں اپنی ِملّی اور ثقافتی اقدار سے کتنا دور کر دیا تھا۔ ملک کی  اشرافیہ یونیورسٹیاں جو سائنس کی تدریس میں تن من دھن سمیت ڈوب چکی تھیں ان کا ضمیر بھی جاگا۔  ندامت میں شرابور احساس کے ساتھ   کہ انہوں نے جنات  جیسے مقدس موضوعات اور کالے جادو جیسے خفیہ علوم کی تدریس سے بے اعتنائی برتی ہے ان موضوعات پر علمی مذاکرات کا اہتمام کیا۔ تاکہ نوجوان نسل کا جو قیمتی وقت اور قوم کا جو سرمایہ سائنس کی بے جا محبت کی نذر ہوا ہے اس  نقصان کا ازالہ ہو سکے۔  پوری قوم  جو اس  بھول کا خمیازہ بھگت رہی ہے اب تلافی ما فات کا سوچ رہی ہے۔

    قوم کے درد مند طبقات کو احساس ہو چلا ہے کہ ایٹمی طاقت کے ٹیکوں اورسائنسی ترقی کی اعلی ترین منزل حاصل کر نے کے باوجود ِملّی  وجود کی نقاہت بڑھتی جا رہی ہے۔  سیانوں کا بھی کہنا ہے کہ اس ملک پر سائنس کے آسیب کا سایہ ہے۔ روز مرہ کا تجربہ بھی یہی ہے کہ جب انگریزی علاج سے آرام نہ آ ئے تو آخری آرامگاہ سے پہلے عاملوں، سیانوں، سنیاسیوں، اور ٹونے ٹوٹکے والوں کی طرف رجوع لازم ہو جاتا ہے۔

    غوروخوض  سے معلوم ہوتا ہے کہ فرنگی تہذیب کی خود کشی جس خنجر سے مقدر ہے وہ علوم جدیدہ اور سائنس  ہی ہیں۔ اس کی تائید قرب قیامت کی اہم نشانیوں سے بھی ہوتی ہے۔ قیامت کی ایک  اہم نشانی یہ بتائی گئی ہے کہ مسلمان یہود کی ہر ہر بات میں پیروی کریں گے۔ علامہ اقبال نے بھی یہ بتاکرکہ فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے یہ اشارہ دیا تھا کہ خنجر موعودہ یہود کے ہاتھ میں ہے بلکہ وہ خود خنجر ہیں ۔ ان دونوں نشانیوں پر غور کرنے کے بعد ہم  جب اس نتیجے پر پہنچے کہ فرنگی تہذیب کا خاتمہ یہود کے ہاتھوں ہوگا تو سکھ کا سانس لیا کہ یہ بھاری ذمہ داری اب ہماری نہیں رہی۔ فیصلہ ہوا کہ اب کسی بات میں یہود کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیں۔

    یہود کی پہل کے باوجود ہم نے  سائنسی علوم میں پیش رفت اور ایٹمی طاقت بننے کی خواہش کو سینے میں دبائے رکھا ۔ تاہم بر صغیر کے حوالے سے قرب قیامت میں ہنود کا معاملہ مختلف ہے۔ ان کی پیروی کی بجائے ان پر غلبہ پانے کی بشارت موجود ہے۔ چنانچہ ہم نے سائنس کے میدان میں ہنود  سے پیچھے رہنا گوارا نہیں کیا۔ اب جو ہنود نے بھوت پریت اور کالا جادو کو سائنس کی حیثیت  دے دی ہے تو ہم پر واجب ہے کہ ان سے مقابلہ کریں اور آگے نکلیں۔ بالی وڈ  نے جادو اور ٹونے ٹوٹکے اس طرح متعارف کرائے کہ ہالی وڈ نے ھیری پاٹر کے نام سے جادو کی علمی حیثیت کا علانیہ اعتراف کیا ۔ واضح رہے کہ  ھیری پاٹر اصل میں ہندو صنمیات کا ھری پتر ( خدا کا بیٹا) ہے جو جادوگر بن گیا تھا۔ ہماری جامعات نے طے کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم بھی اس دوڑ میں شامل ہو جائیں۔اور یہاں  بھی جنات، جادو، تعویذ گنڈے اور روحانی علاج کا علمی مطالعہ شروع ہوا۔

    مسلمانوں کے عروج کے زمانے  میں سائنس کی ترقی کا بھی آج کل بہت ذکر ہے۔  کبھی آپ نے غور کیا کہ اسلامی تہذیب کے لئے سائنس خنجر کیوں ثابت نہیں ہوئی۔اس موضوع پر سرسری تحقیق سے ہی ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمان بادشاہوں نے سائنس کے دو ہی شعبوں میں دلچسپی لی۔ ایک علم نجوم جس سے بادشاہ کو دشمنوں  کےاور اپنے مستقبل کا علم رہتا تھا۔ دوسرے علم طب جس سے بادشاہ کو بیماریوں سے بچنے اور اپنی جسمانی طاقت  کا خیال رکھنے میں مدد ملتی تھی۔ مسلمان سائنس دان اس راز کو جانتے تھے اس لئے سائنس کی مذہب دشمنی کو چھپانے میں کامیاب رہے ۔

    ہماری تحقیق کے مطابق عربی زبان میں طب کا لفظ قدیم قبطی زبان سے آیا جہاں اس کے معنی سحر، جادو، حیران کن کام، معجزہ ، دانائی اور حکمت تھے۔ عربی لغات کی کتابوں میں طب (ط پر زبر اور ب پر تشدید) کے معنی جادو کرنا بتایا جاتا ہے۔   صحیح بخاری جلد ۸، کتاب ۷۳، اور حدیث ۸ میں مطبوب کا لفظ سحر زدہ یا جادو کے زیر اثرکے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔  شروع میں علاج معالجہ کرنے والوں کو طبیب یا حکیم ان کی دانائی اور حیران کن علوم سے واقفیت کی وجہ سے کہا جاتا تھا۔ بعض میں یہ لوگ فلسفہ میں دلچسپی کی وجہ سے پکڑے گئے اور معتوب ہوے۔

    انگریزی کا لفظ ٹیبو (ممنوع)  عربی لفظ طب سےبہت قریب ہے۔ یہ بھی افریقہ سے آیا معلوم ہوتا ہے۔   یورپ کی زبانوں میں یہ لفظ  سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں آیا اور ٹیبو، ٹبو، یا تابو بن گیا۔  کہا جاتا ہے کہ انگریز سیاح جیمز کک جب بحرالکاہل کے ایک جزیرے ٹونگا ٹاپو میں پہنچا تو اس کے نام پر تعجب ہوا۔ بتایا گیا کہ یہ مقدس جزیرہ ہے اس لئے اسے ٹونگا ٹاپو کہتے ہیں۔ پولینیشین زبانوں میں ٹاپو کے لا تعداد معنی ہیں بعض معنے باہم متضاد بھی ہیں۔ مثلاً یہ مقدس اور ممنوع ، پاک اور نجس، حیران کن اور حرام تمام معنوں میں بولا جاتا ہے۔ ٹونگا ٹاپو مقدس جنوب بھی ہے اور ممنوع جنوب بھی۔ ٹونگا زبان میں اس کا تلفظ  ٹپو ہے ۔اس زبان میں ب کی آواز نہیں اس لئے پ کی آواز ب اور پ کے درمیان ہے۔ ۔ یہ تعبیر بھی صحیح ہو سکتی ہے لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لفظ افریقہ یا مصر  کی قبطی زبان سے آیا ہو جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔

    حال ہی میں دو اور تحقیقات بھی سامنے آئی ہیں جن میں انگریزی لفظ میڈیسن کی تاریخ کی کھدائی کی گئی ہے۔ جدید دور میں فرانسیسی محقق فوکو دیوانگی کے ماہر شمار کئے جاتے ہیں۔ ان کے پیرو کاروں کے خیال میں میڈیسن کا رشتہ میڈ نس سے جڑا ہے۔ دیوانگی کا علاج کرنے والے کو میڈک کہا جاتا تھا۔ قدیم فارسی کے لفظ درمان کی وجہ تسمیہ بھی ملتی جلتی ہے۔ درمان اصل میں درد مان یعنی درد کا علاج کرنے والے انسان کو کہتے تھے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق میڈیسن کا تعلق ابن سینا سے ہے۔ اصل میں یہ لفظ مدد سینا  یعنی ابن سینا یا اس کی کتاب القانون فی الطب سے مدد تھا جو کثرت استعمال سے میڈیسن ہو گیا۔

    ہمیں ان توجیہات سے انکار نہیں ۔ ہم افریقہ کے حوالے پر اصرار اس لئے کر رہے ہیں کہ حال ہی میں جنوبی افریقہ جانا ہوا تو وہاں بھی جامعات میں سائنس کی جگہ بلیک میجک کو اس کا مقام دلانے کی بات ہو رہی تھی۔ گزشتہ دو سال سے  یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن   میں جو یہاں کی اعلی ترین یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے  سیاہ فام نسل کی  قدیم عظمت کی بحالی کی تحریک چل رہی ہے۔ پہلےجنوبی افریقہ کی جامعات میں  سفید فام شخصیات کےان مجسموں کی مخالفت کی تحریک اٹھی جنہوں نے افریقہ میں سفید فام نسل کی برتری قائم کی۔ طلبا کا مطالبہ تھا کہ ان مجسموں کو  جامعات سے ہٹایا جائےجو سفید فام اقدار کی برتری کی علامت ہیں۔ اس سال اکتوبر میں طلبا نے ہڑتالیں کرکے تمام جامعات کو بند کر دیا اور مطالبہ کیا کہ جامعات میں تعلیم کو مفت کیا جائے۔ ان مظاہروں نے شدت اختیار کی اور توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات بھی پیش آئے۔ تحریک ابھی جاری ہے۔ نومبر کے پہلے ہفتے میں کیپ ٹاؤن یونیورسٹی میں سائنس فیکلٹی میں انتظامیہ اور طلبا کے مابین گفت و شنید اس وقت تعطیل کا شکار ہو گئی جب سائنس کے شعبے سے متعلق چند طلبا نے یہ مطالبہ کیا کہ  جامعات میں سفید فام سائنس کی بجائے بلیک میجک کے علوم  پڑھائے جائیں ۔ طلبا نے کہا کہ سائنس مغربی جدیدیت کی پیداوار ہے۔ یہ استعماری اقدار کے قیام اور استحکام کے لئے پڑھائی جارہی ہے۔ استعمار کی باقیات سے چھٹکارے کے لئے سائنس کی تعلیم روک کر افریقی علوم کو رواج دیا جائے۔ یہ تحریک پورے جنوبی افریقہ میں سائنس مسٹ فال کے ہیش ٹیگ کے ساتھ پھیل رہی ہے۔ فال کی اصطلاح قرب قیامت میں شیطانی قوتوں کی شکست کا حوالہ بھی ہے۔

    ھود بھائی کو شاید خبر نہیں کہ پاکستان ہی نہیں  ساری دنیا میں سائنس مسٹ فال کی تحریکیں چل رہی ہیں۔  مغربی تہذیب  خود کشی کے لئے تیار ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب دنیا بھر میں ھیری پاٹر یونیورسٹیاں جادو کا گہوارہ بنیں گی۔  اس بار ہم مغرب کو یہ موقع نہیں دینا چاہتے کہ ان یونیورسٹیوں کے ذریعے دوبارہ  اپنی بالا دستی قائم کرے اور پاکستان میں ان یونیورسٹیوں کی شاخیں قائم ہونے سے پہلے ہم   خود کیوں نہ جادو کی تعلیم  عام کریں۔ ہم تو ان علوم کے اساتذہ میں پہلے ہی خود کفیل بھی ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleخونی چوک
    Next Article جنرل ضیاءاور جبڑا چوک
    ڈاکٹر خالد مسعود

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by