پاکستان میں دسویں درجے کی تعلیم میں او لیول اور میٹرک، دو تعلیمی نظام رائج ہیں۔ میٹرک کا نصاب اور امتحان قومی وفاقی بورڈ علاوہ صوبائی تعلیمی بورڈز کے تحت بھی ہوتاہے جب کہ او لیول کا نصاب اور امتحان زیادہ تر کیمبرج یونیورسٹی لندن کے تحت منعقد کیا جاتاہے۔ متعددسکولوں میں دونوں نصاب متوازی طو رپر متعلقہ طلبہ کو پڑھائے جاتے ہیں۔ دونوں نصابوں، طریقہ ہائے تدریس اور طریقہ ہائے امتحان میں بہت فرق ہے جس سے طلبہ کے علم، فہم اور اپروچ پر مختلف طرح سے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دونوں کی افادیت میں بھی بہت فرق پایا…
Author: ڈاکٹر عرفان شہزاد
کسی حادثے یا ناکامی کی صورت میں خود اعتمادی اور بے اعتمادی کے رد عمل میں بہت فرق ہوتا ہے۔ خود اعتمادی ایسے کسی منفی واقعہ سے سبق سیکھتی، اس کا سامنا کرتی اور اس پر قابو پاتی ہے، جب کہ بے اعتمادی ایسے کسی واقعے کے دوبارہ ہو جانے کے خوف کا شکار ہو کر بے عمل ہو جاتی اور ایسے کسی حادثے کا دوبارہ سامنا کرنے سے گھبراتی ہے۔ مثلاََ بچپن میں کسی کو بلی، کتے وغیرہ نے زخمی کر دیا ہو یا کسی تار سے کرنٹ لگ گیا ہو تو یوں بھی ہوتا ہےکہ وہ ساری زندگی…
ہراسانی محض جنسی نوعیت کے کسی محرک کا نتیجہ نہیں ہوتی، یہ طاقت اور فائدہ کشی کی نفسیات سے پھوٹتا رویہ ہے جو کئی صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ فریق مخالف کی حق تلفی، اس کی خلاف مرضی، اس سے فائدہ مندی یا لذت اندوزی کے بعد اسے ایسے خوف زدہ کرنا کہ وہ حرف شکایت زبان پر نہ لا سکے، ہراسانی کہلاتا ہے۔ طاقت اور فائدہ اٹھا سکنے کی پوزیشن میں بیٹھا شخص دوسرے فریق کی کمزور پوزیشن یا ممکنہ طور پر اسے کمزور پوزیشن میں ڈال سکنے کی توقع پر ہراسانی کرکے اپنا مفاد پورا کرتاہے۔ ہراسانی محض…
احمدی پاکستان کے آئین میں غیرمسلم قرار ہیں اور ملک کا ہر مسلمان یہی عقیدہ رکھتا ہے۔ تاہم قادیانیت کے وجود کے حوالے سے ایک خاص طرح کا مزاج بھی پایا جاتا ہے جس کی بنا پر ہمیشہ تناؤ کی کیفیت نظر آتی ہے۔ اس تناؤ کا مظاہرہ ہمیں گلیوں بازاروں میں بھی آویزاں نظر آتا ہے جس کا فائدہ اگر بغور دیکھا جائے تو مسلم طبقے کو کسی طور بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس تناؤ اور غیرضروری سختی کا مظاہرہ احمدی مذہب کی پختگی کا ذریعہ بنتا ہے اور تبلیغ کا فریضہ بھی بے اثر ہوکر رہ جاتا ہے…
ڈاکٹر عرفان شہزاد فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اسلامیات میں استاد ہیں۔زیرنظرمضمون میں انہوں نے اس مصنوعی بیانیے کو موضوع بنایا ہے جسے اپنانے کی وجہ سے پاکستان میں مختلف مذہبی شناختوں کا حامل سماج ایک سرزمین پر رہنے کے باوجود تقسیم کا شکارہے۔یہ بیانیہ صرف عقائد کی بنیاد پر الگ الگ خانوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے اجنبی ہی نہیں بناتا بلکہ انجام کار انتہاپسندی کوبھی راستہ دیتا ہے اور مشترکہ ثقافتی دائرے کوبھی حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔مصنف نے برصغیر،بالخصوص پاکستان میں اس بیانیے کے پروان چڑھنے کے تاریخی مرحلے اور اس کے اثرات…
خدا کے ہاں نجات یافتہ اور سزا یافتہ کسی خاص ظاہری شناخت کا حامل شخص نہیں بلکہ خاص رویوں کا حامل شخص ہے۔ عقیدے سے زیادہ رویے کا مسلم ہونا یا نہ ہونا اصل معیار ہے جس پر فلاح و کامیابی کے وعدے کیے گئے ہیں۔ خدا نے عذاب کی وعیدیں محض غیر مسلموں کو نہیں سنائیں، سرکش اور غفلت پر مصر افراد کو سنائیں ہیں۔ جنت کی بشارتیں بھی صرف درست عقائد پر نہیں سنائی گئیں۔ خدا کا پیغام دیانت داری و شعور سے قبول کرنے اور اس کی بلا چون و چراں اطاعت کرنے والوں کو سنائی گئی…
اشرافیہ صرف جاگیردار، سرمایہ دار، حکمران اور سیاست دانوں میں منحصر نہیں ہوتی۔ جس منظم گروہ کو بھی سماج میں کسی بھی لحاظ سے طاقت اور رسوخ حاصل ہوجاتا ہے اور وہ عوام سے ہٹ کر ایک گروہ یا طبقے کی صورت اختیار کر لیتا ہے وہ اشرافیہ ہے۔ طاقت کی نفسیات اس میں وہ تمام خصوصیات پیدا کردیتی ہے جو اشرافیہ کا خاصہ ہیں۔ یہ نفسیات خود کو سماج کا کرتا دھرتا اور بالادست سمجھتی ہے۔ یہ بظاہر نرم خُوبھی ہو سکتی ہے مگر عموما گروہی مفادات ہی اس کا طرز عمل طے کرتے ہیں۔ سماج کی باگیں اپنے…
ہمارے ہاں عوام، جن میں تعلیم یافتگان کا بھی بڑا طبقہ شامل ہے، اس نظریے پر یقین رکھتے ہیں کہ تعلیم کو کاروبار بنا لینا کوئی قابل تحسین نہیں ہے۔ تعلیم کی اُجرت نہیں ہونی چاہیے یا اسے بہت کم ہونا چاہیے۔ گویا کراہت کے ساتھ اضطراری طور پر اسے گوارا کرنا چاہیے۔ ان کے خیال میں تعلیم ایک مقدس پیشہ ہے، بلکہ اسے پیغمبروں کا پیشہ باور کرایا جاتا ہے، اس بنا پرتعلیم کو کاروبار بنا لینا قابل مذمت ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کی بھاری فیسوں کو اسی لیے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پہلی بات یہ سمجھ…
مولانا فضل الرحمن کی شہرت جمہوریت اور آئین پسند منجھے ہوئے سیاست دان کی ہے۔ ان کا ایجنڈا درست ہے یا غلط، اس سے قطع نظر، ان کا حکومت گرانے کا اعلان اوراس کے لیے ان کا دھرنے دینے کے اقدام کی جمہوری نظام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کسی بھی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی سٹریٹ پاور کے زور پر اپنی ناپسندیدہ حکومت کو گرا دے۔ یہ روایت بد قسمتی سے عمران خان نے خود شروع کی جس کا خمیازہ پورے ملک کو عدم استحکام اور اس کے نتیجے میں سماج اورمعیشیت کی…
ملک میں اقلیتیں مسائل کا شکار ہیں، یہ حقیقت ہے۔ موقع پا کر ان کی جان مال آبرو پر حملے کرنے والے فسادی افراد بھی سماج میں موجود ہیں، یہ بھی سچ ہے۔ لیکن ان کے دکھ اور ان کے خوف کی وجہ سے ان سے ہمدردی رکھنے والے بھی اسی سماج میں موجود ہیں، یہ بھی ایک حقیقت ہے اور یہ بھی کہ ان ہمدردوں کی تعداد ایسے فسادیوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سے بھی انکا نہیں کیا جاسکتا کہ ہر سماج میں مثبت اور منفی رویے رکھنے والوں کے درمیان تناسب یہی ہوتا ہے۔ مثبت…
