Author: ڈاکٹر عرفان شہزاد

کارلٹن جے ایچ ہیز ((Carlton J H Hayes, 1882-1964 ایک امریکی مورخ تھے۔ وہ قومیت کے حامی تھے مگر پھر ان کے خیالات اس بارے میں مکمل طور پر تبدیل ہو گئے۔ اپنے دور میں قومیت کے نام پر برپا ہونے والی دو عظیم جنگوں کی تباہ کاریاں ان کے سامنے تھیں۔ انہوں نے قومیت کے تصور میں موجود منفیت اور مقامیت کا ادراک کیا اور اس کے نہایت شان دار تجزیے پیش کیے۔ انہوں نے قومیت کو تاریخِ انسانی کی بدترین برائیوں میں سے ایک شمار کیا۔ زیرِ نظر مضمون کارلٹن ہیز کے مضمونNationalism as a Religion کے تصورات…

Read More

23 مارچ پاکستان کے لیے دو وجوہات سے اہم ہے۔ ایک اس لیے کہ 1940 میں اس دن آل انڈیا مسلم لیگ نےبرصغیر کے شمال مغربی مسلم اکثریت پر مشتمل علاقوں کے لیے الگ ملک کا مطالبے پر مبنی ایک قرار داد منظور کی اور دوسرا اس وجہ سے کہ 1956 میں اسی دن پہلا آئین منظور ہوا۔ 1956 سے پہلے 23 مارچ کو کسی سرکاری دن کے طورپر نہیں منایا جاتا تھا۔ 1956 سے آئین کی منظوری کی یاد میں 23 مارچ کو یوم جمہوریہ کے طور پر منایا جانے لگا۔ اسی تاریخ سے ہم نے تاجِ برطانیہ سے…

Read More

ایمپیتھی بہت نایاب خوبی ہے۔ دوسرے کا مسئلہ، احساس اور نقظہ نظر وغیرہ ایسے معلوم کرنا اورسمجھنا جیسے وہ آپ کا مسئلہ، احساس اور نقظہ نظر ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ سیاست میں مبالغہ آمیزی ایسے ہی جائز بلکہ لوازم میں سے ہے جیسے شاعری میں۔ دونوں کی کامیابی کا بڑا انحصار اس پر ہوتا ہے۔ تیسری چیز ہجوم کی ہیجانی نفسیات ہے، جو حالات یا بغیر حالات کے بھی لیڈر پیدا کردیتا ہے۔ یہ نفسیات جب قائم ہو جاتی ہے تو ہجوم ہوا کے دوش پر اڑنے والی ریت کی مانند ہو جاتا ہے۔ جذبات کی رو پھر…

Read More

یہ ایک مسلّمہ حقیقت  ہے کہ انسانی جان دنیا کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ اس کے خالق نے ایک انسانی  جان کی قیمت پوری انسانیت کی قیمت کے برابر قرار دی ہے، بتایا ہےکہ جس نے ایک جان کو ناحق قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ لیکن یہ مہیب ارشاد بھی ایک کلیشے بن کر رہ گیا ہے۔ انسانی جانوں کی قربانی کے لیے اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں یورپ میں  ایک بت قومیت کے نام سے تشکیل دیا گیا جس کا فسوں پھر باقی دنیا میں پھیل گیا۔ عام لوگوں کو باور کرایا گیا کہ…

Read More

سماج میں علم و ہنر اور قابلیت کا مرکز مڈل کلاس ہوا کرتی ہے۔ کیونکہ ان کی بقا کا مدار ہی علم و ہنر کے حصول میں ہوتا ہے۔ طاقت کا منبع اشرافیہ کے پاس ہوتا ہے۔ اشرافیہ ہمیشہ  مڈل کلاس کو بوقت ضرورت اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔ شہنشاہ اکبر اور اس کے نو رتن ہی دیکھ لیجیے۔ شہنشاہ اکبر پڑھا لکھا نہیں تھا، لیکن اس نے اپنے دربار میں اپنے وقت کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے اعلی ترین دماغ اکٹھے کیے تھے۔ یہ تعداد میں نو تھے، جو تاریخ میں نو رتن کے نام…

Read More

حالتِ کمزوری، محکومی اور مظلومی میں مسلمانوں کے لیے قرآن کی کیا ہدایات ہیں، یہ وہ موضوع ہے جسے عصرِ حاضر میں تقریباً مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اپنے سے کئی گنا طاقت ور مقابل کو للکارنا، جدید ٹیکنالوجی کی محیّر العقول طاقتوں سے لیس دشمن کو اپنے فرسودہ ہتھیاروں سے تباہ کرنے کے عزم کا اظہارکرتے رہنا اور شکست پر شکست کھا کر بھی دشمن کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے دعاوی کرنا، غیرت اور ایمان کا مترادف اور عین جہاد ٹھیرا دیا گیاہے۔دوسری طرف حقائق یہ ہیں کہ ایک جائزے کے مطابق صرف 2014…

Read More

قومیت کا جدید تصور، قبائلی عصبیت کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ قبائلی عصبیت کا تقاضا ہوتا ہے کہ قبیلے کا سردار قبیلے کی نسل ہی سے ہو۔ سردار کے چناؤ میں قابلیت سے زیادہ  اس کا ہم نسل ہونا لازمی سمجھا جاتا ہے۔ قبائلی معاشرت کو اجنبی یا صرف غیر متمدن علاقوں کا کلچر سمجھنا درست نہیں، ہمارا اپنا سماج قبائلی نفسیات کی خصوصیات کا حامل ہے اور جمہوریت کا سبق پاؤں پاؤں سیکھ رہا ہے۔ ہمارا برادری سسٹم، دراصل قبائلیت ہی ہے۔ ہماری سیاسی جماعتیں قبائلی نفسیات کا مکمل مظہر ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں میں دیکھا جا سکتا ہےجمہوریت…

Read More

مولانا مودودی کا لٹریچر پہلے سے وہاں موجود تھا، حاکمیتِ اسلام کا نعرہ پورے آہنگ سے بلند کیا گیا تھا۔ ریاست اور علما کو کوئی نیا لٹریچر تخلیق کرنے کی زحمت بھی کرنا نہیں پڑی تھی۔ جماعت اسلامی کے نظریات کو میدان عمل میسر آ گیا آج مذھبی عسکریت پسندی کے لا وارث بچے کو کوئی اپنے نام سے منسوب کرنے کو تیار نہیں، لیکن ایک ایسا بھی وقت گزرا ہے کہ جب اسے گود لینے کے لیےاہل مدارس میں مسابقت برپاتھی۔ یہ 80 اور 90 کی دہائی کی بات ہے جب صدر ضیاءالحق کے زیر سرپرستی جہادی بیانیہ قوم…

Read More