Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»تعلیم یافتہ مڈل کلاس اشرافیہ
    کالم

    تعلیم یافتہ مڈل کلاس اشرافیہ

    ڈاکٹر عرفان شہزادBy ڈاکٹر عرفان شہزادنومبر 16, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    اشرافیہ صرف جاگیردار، سرمایہ دار، حکمران اور سیاست دانوں میں منحصر نہیں ہوتی۔ جس منظم گروہ کو بھی سماج میں کسی بھی لحاظ سے طاقت اور رسوخ حاصل ہوجاتا ہے اور وہ عوام سے ہٹ کر ایک گروہ یا طبقے کی صورت اختیار کر لیتا ہے وہ اشرافیہ ہے۔ طاقت کی نفسیات اس میں وہ تمام خصوصیات پیدا کردیتی ہے جو اشرافیہ کا خاصہ ہیں۔ یہ نفسیات خود کو سماج کا کرتا دھرتا اور بالادست سمجھتی ہے۔ یہ بظاہر نرم خُوبھی ہو سکتی ہے مگر عموما گروہی مفادات ہی اس کا طرز عمل طے کرتے ہیں۔ سماج کی باگیں اپنے قابو میں رکھنا، لوگوں کو خود سے مادی ہی نہیں، ذہنی طور پر کم تر سمجھنا، انھیں اپنی سوچی ہوئی ڈگر پر چلانا، اور سب سے بڑھ کرہر حال میں اپنے طبقاتی مفادات کی حفاظت کرنا وغیرہ اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔اشرافیہ کا سماج کے عام آدمی کے ساتھ باہمی احساس کا اشتراک اصلاََ نہیں ہوتا۔

    ہمارے جیسے سماج میں جہاں طبقاتی تقسیمیں اور ان کی عصبیت ہی مفاد ات کے تحفظ کی ضامن ہو، نہ کہ شہری ہونے کی قدر، ایسے معاشرے میں تعلیم یافتگان کا طبقہ باہمی طور پرمشترکہ اساسات اور احساسات رکھنے کے باعث اپنی سطح پر ایک اشرافیائی گروہ جیسا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ یہ عام طور پر متوسط طبقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اسے ہم مڈل کلاس اشرافیہ کہہ سکتے ہیں۔ تعلیم یافتہ ہونے کا زعم ان میں وہی احساس برتری پیدا کرتا ہے اور جو کسی بھی اشرافیہ کا خاصہ ہے۔

    بلاشبہ تعلیم اپنے جوہر میں تو ان خصائص کی حامل نہیں ہوتی کہ وہ عصبیتی رویوں کی طرف میلان رکھے تاہم جب ریاست و سماج کے مجموعی مزاج میں ’طاقت‘ کا عنصرحقوق اور وقار کے حصول کی بنیاد بن جائے تو پھر اس کی حقیقی جہت مسخ ہوجاتی ہے اورتب یہ سماج اور عوام سے بیگانہ بنانے میں کردار خطرناک حد تک اور بہت موثر طریقے سے ادا کرسکتی ہے۔ غیر سماجی علوم کے ماہرین تو اکثر سماج سے بیگانے پائے ہی جاتے ہیں، سماجی علوم جن میں مذہبی علوم بھی شامل ہیں، کے متعلمین بھی سماج ناآشنا اور سماج مخالف رجحانات رکھتے ہیں۔

    ہمارے جیسے سماج میں جہاں طبقاتی تقسیمیں اور ان کی عصبیت ہی مفاد ات کے تحفظ کی ضامن ہو، نہ کہ شہری ہونے کی قدر، ایسے معاشرے میں تعلیم یافتگان کا طبقہ باہمی طور پرمشترکہ اساسات اور احساسات رکھنے کے باعث اپنی سطح پر ایک اشرافیائی گروہ جیسا رویہ اپنائے ہوئے ہے

    اس کی ایک  وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں تعلیمی ادارے کی چار دیواری میں ان علوم کو کتابی علم کی حد تک پڑھنے، برتنے اور اس کے بعد جائے ملازمت کی چار دیواری میں مقید رہنے والے، اپنی ان تمام مصروفیات کی وجہ سے سماج سے براہ راست تعامل سے محروم اور سماجیاتی حس سے بے بہرہ رہ جاتے ہیں۔ انہیں اس محرومی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ یہ تعلیم یافتگان اپنی الگ دنیا بسالیتے ہیں جو سماج سے متعلق ہو کر بھی غیر متعلق ہوتی ہے۔ زندگی اور فلسفہ زندگی کے بارے میں ان کے خیالات غیر حقیقی یا نیم حقیقی لیکن ان کے لیے خوش نما ہوتے ہیں۔سماج، سیاست، معیشت، مذہب جیسے کثیر الجہات موضوعات پر ان کے خیالات سادہ فکری یا غیر حقیقی فلسفوں اور نظریات پرمبنی ہوتے ہیں، جن کا پرچار موقع ملنے پر یہ نہایت اعتماد سے کرتے ہیں۔ رسمی تعلیم سے محروم اور کم تعلیم یافتہ لوگ ان کے الفاظ اور اعتمادسے فریب کا شکار ہو تے ہیں کہ ان کے نظریات، فلسفے، تجزیے اور حل حقیقتَاَ درست ہوں گے۔ حالانکہ وہ کم ہی حقیقت پسند ہوتے ہیں۔

    بیرون ملک سے تعلیم حاصل کر کے آنے والوں میں یہ مسئلہ دو چند پایا جاتا ہے۔ ان کے ادارہ جاتی اور دفتری نظریات نیز ایک دوسرے سماج کی ایک الگ تناظر اور سماجی ارتقا کے ایک الگ مرحلے میں پروان چڑھنے والی قانونی اور سماجی اقدار اور مظاہر کو یہ اپنے سماج میں نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے وہ ناواقف ہوتے ہیں۔ وہ اپنی جگہ درست ہوسکتے ہیں لیکن ان کے اندر کا احساس انہیں اپنے ماحول سے جوڑ نہیں رہا ہوتا،نہ وہ اس کو حقیقی معنوں میں سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ ان کے مثالیت پسندانہ خیالات جب حقیقت اور عمل کی دنیا میں پٹنے لگتے ہیں تو غرور علم پھر بھی انھیں یہ باور نہیں کرنے دیتا ہے کہ شاید وہ ٹڈے کی ٹانگ پر ہاتھی کا خول چڑھا رہے تھے۔ وہ اپنے سماج  ہی کو مورد ِالزام ٹھہراتے ہیں جو ان کی قابلیت کو سہار نہیں سکتا۔ پالیسی سازی کا منصب ایسے افراد کے ہاتھ آنا سماج اور عوام کے لیے تباہ کن ہوتا ہے۔

    جمہوریت اور تعلیم کے فروغ کے بعد سے تیسری دنیا کے ممالک اسی مخمصے سے گزر رہے ہیں۔ بیسویں صدی کے نصف آخر سے شروع ہونے والا یہ مظہر ان گنت انسانی المیوں کو جنم دے چکا ہے۔ سماج  اور سیاست پر مڈل کلاس اشرافیہ کے تجربات ابھی تک جاری ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleہماری جامعات کا ثمرآور کردار کہاں ہے؟
    Next Article چلیں، ہم متنازعہ ہی سہی
    ڈاکٹر عرفان شہزاد

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by