Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»سانحہ گھوٹکی: مداوا یا مزید نفرت؟
    کالم

    سانحہ گھوٹکی: مداوا یا مزید نفرت؟

    ڈاکٹر عرفان شہزادBy ڈاکٹر عرفان شہزادستمبر 19, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ملک میں اقلیتیں مسائل کا شکار ہیں، یہ حقیقت ہے۔ موقع پا کر ان کی جان مال آبرو پر حملے کرنے والے فسادی افراد بھی سماج میں موجود ہیں، یہ بھی سچ ہے۔ لیکن ان کے دکھ اور ان کے خوف کی وجہ سے ان سے ہمدردی رکھنے والے بھی اسی سماج میں موجود ہیں، یہ بھی ایک حقیقت ہے اور یہ بھی کہ ان ہمدردوں کی تعداد ایسے فسادیوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سے بھی انکا نہیں کیا جاسکتا کہ ہر سماج میں مثبت اور منفی رویے رکھنے والوں کے درمیان تناسب یہی ہوتا ہے۔ مثبت فکر اور رویےرکھنے والے بڑی اکثریت میں ہوتے ہیں جب کہ منفی رویے رکھنے والے نفرت کے نمائندے ایک قلیل اقلیت ہوتے ہیں۔ مگر حادثے برپا کرنے میں فسادی اس لیے کامیاب ہوتے ہیں کہ وہ منظم ہو جاتے اور گروہی اقدامات سے اپنا اثر نمایاں کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جبکہ مثبت فکر اور رویے رکھنے والی اکثریت کوئی  منظم گروہ نہیں ہوتے، پورے سماج میں بکھرے ہوتے ہیں۔ وہ اگر اکٹھے ہوں بھی تو حادثے کے بعد ہی ہو پاتے ہیں۔ ان کی تنظیمیں بھی ہوتی ہیں مگر مثبت رویے کے حامل اکثر لوگ عام روٹین کی زندگی بسر کرتے ہیں اور کسی تنظیم کے سرگرم رکن بننے میں عموما اتنے کوشاں نہیں ہوتے۔

    سانحہ گھوٹکی کے متاثرین سمیت ملک کی دیگر اقلیتوں کے دکھوں کے مداوے کے دو طریقے تجویز کیے جا سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ انہیں کہہ دیا جائے کہ اس ملک سے چلے جائیں جہاں ان کی جان، مال اور آبرو محفوظ نہیں ہے اور جہاں انہیں انصاف ملنے کی توقع بھی کم ہے۔ یا وہ اپنا علاقہ مخصوص کرالیں جدھر انتظامیہ ان کے اپنے لوگوں کی ہو۔

    دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مثبت فکر رکھنے والے ہمدرد لوگ آگے آئیں۔ اپنے ہم مذہب فسادیوں کی مذمت کریں اور غیر مسلم اقلیتوں کا حوصلہ بڑھائیں کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔

    پہلے طریقے کو ہم میں سے اکثر لوگ قبول نہیں کریں گے۔ اور یہ درست بھی ہے۔ کوتاہیاں ہیں تو انہیں درست کیا جانا چاہیے۔ اپنی زمین چھوڑ جانا یا اپنے ارد گرد دیواریں کھڑی کر کے محصور ہوجانا کوئی صحت مند حل نہیں۔ یہ دونوں طریقے فسادیوں کی فتح ہے۔

    مسائل ہر سماج میں ہوتے ہیں۔ انسانیت کے محسن وہ ہوتے ہیں جو انسانوں کو کے درمیان پیش آجانے والی ان تقسیمات کو رفو کرتے ہیں، ان کے زخموں کے اندمال کرنے کا انتظام کرتے ہیں اور انسانیت کے قاتل وہ ہوتے ہیں جو جلتی پر تیل چھڑکتے ہیں

    یہ بھی ممکن ہے کہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر ان غیر مسلموں میں کو ئی قوم پرست علیحدگی پسندی کا بیج بو دے۔ اس بارے میں ہمارا ردعمل وہی ہونا چاہیے جو ایک قوم کی وحدت برقرار رکھنے والے بالغ نظر لوگوں میں ہوتا ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ مسائل کا حل علیحدگی میں نہیں بلکہ مسائل کو حل کرنے میں ہے۔ جس کے لیے قانون کی بالادستی قائم کرنا ہے، بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرنے کے اقدامات کرنے ہیں، اور نفرت کے منابع کو تعلیم اور قانون کی طاقت سے بند کرنا ہے۔

    ہر دور کے بالغ نظر افراد اور زعما سماج کے مختلف دھڑوں میں در آنے والی ان تقسیمات کو اپنی  مثبت فکر اور رویوں سے یوں ہی پاٹتے آئے ہیں اور ہر دور کے تنگ نظر، مفاد پرست سماج کے ان مثبت عناصر کے ساتھ مل کر ان کی  کنڑی بیشن کو مضبوط کرنے کی بجائے، نفرت کے بیوپاریوں کی پیدا کردہ ان تقسیمات کو مزید وسیع کرتے اورانہیں خلیج بناتے آئیں ہیں۔ وہ ایسے حادثوں کو مزید حادثوں کو جنم دینے کا سبب بناتے رہے ہیں۔ وہ سماج کے مثبت عناصر کی ہمدردی اور سعی کو نظر انداز کر کے  اقلیتی فسادیوں کو مخالف قوم کے مکمل نمائندے بنا کر نفرت کی بھٹیاں بڑھکاتے رہے ہیں۔

    مسائل ہر سماج میں ہوتے ہیں۔ انسانیت کے محسن وہ ہوتے ہیں جو انسانوں کو کے درمیان  پیش آجانے والی ان تقسیمات کو رفو کرتے ہیں، ان کے زخموں کے اندمال کرنے کا انتظام کرتے ہیں اور انسانیت کے قاتل وہ ہوتے ہیں جو جلتی پر تیل چھڑکتے ہیں۔ سماج کے مثبت عناصر کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، مثبت رویوں کو شکست دیتے ہیں۔ یہ کھڑے تو فسادیوں کے خلاف ہوتے ہیں مگر درحقیقت یہ انہیں کا ایجنڈا پورا کرتے ہیں۔ انہین پہچانیے یہ اکثر قومی ہمدردی اور اس سے حاصل ہونے والے تقدس کے لبادوں میں چھپے ہوتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleڈراؤنا اور دہشت خیز جھٹکا
    Next Article پوٹھوہار، جہاں زندگی نے اپنا اولین گیت گایا
    ڈاکٹر عرفان شہزاد

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by