کسی قوم کی تاریخ میں اس کی اشرافیہ کی تاریخ کو ہی قومی تاریخ کی حیثیت لکھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ تاریخ کے درست مطالعہ کے لیے یہ اپروچ غلط ہے۔ عوام کا بیانیہ اس میں کہیں شامل نہیں ہوتا۔ اشرافیہ اور عوام سماج کے دو مختلف دھارے ہیں جو طاقت ور کے اثر سے کبھی ساتھ بھی بہنے لگتے ہیں لیکن اصلاََ اور مزاجاََ یہ ایک دوسرے سے الگ اور متوازی بہتےہیں۔ عوامی تاریخ نہیں لکھی گئی مگر تاریخ، ادب شاعری وغیرہ میں عوامی تاریخ کے کافی اجزا مل جاتے ہیں۔ تاریخ کو عوام کے زاویے سے پڑھنے سے…
Author: ڈاکٹر عرفان شہزاد
تاریخ انسانی کے زرعی دور میں جب کہ بیشتر آبادی زراعت کے پیشے کےساتھ وابستہ ہوتی تھی، سماج کےعام آدمی کے معاشی حالات میں بہتری لانے کا کوئی طریقہ کارموجود نہیں تھا۔ مملکت خواہ سونا اگلتی لیکن کسان اپنی فاضل فصل کو ذخیرہ کرکے کوئی دیرپا فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا۔ وہ اپنی زمین کا مالک نہ تھا۔ فاضل فصل کا سارا فائدہ جاگیردار اور پھر اشرافیہ بشمول بادشاہ کو ہوتا تھا۔ تجارت اسی بنا پر صرف اشراف کے لیے کی جاتی تھی جن کے پاس یہ فاضل مال ہوتا تھا۔ اور یہ تجارت زیادہ تر لگثری اشیا سے متعلق…
یہ ایک مِتھ ہے اور درست نہیں ہے کہ بیٹیاں والدین سے بیٹوں سے زیادہ پیار کرتی ہیں اور ان کی خدمت کرتی ہیں۔ اس متھ کے پیچھے صدیوں پرانا ثقافتی رویہ اور تعامل ہے۔ بیٹوں اور بیٹیوں میں محبت اور خدمت کے اظہار میں فرق پایا جاتا ہے اور یہ فرق ہمارا روایتی معاشرتی رویہ پیدا کرتا ہے۔ صدیوں پرانے جاگیردارانہ سماج کی روایت کے مطابق باپ کا سخت گیر ہونا اور بیٹیوں کا محافظ و نگہبان ہونے کا تصور باپ کے لیے ایک آئیڈیل تصور سمجھا گیا ہے۔ متوسط اور غریب طبقے کے لیے بھی باپ کا یہی…
1867 میں بنارس میں اردو ہندی تنازع کے تناظر میں سر سید احمد خان نے برطانوی ڈویثنل کمیشن کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ”At present there is no open hostility between the two communities (Hindus and Muslims), but on account of the so-called "educated” people, it will increase immensely in future. He who lives will see.” (Hector Bolitho, Jinnah Creator of Pakistan, Oxford University Press, p 35) ’ ہندو اور مسلم دونوں قوموں کے درمیان فی الحال کوئی جارحیت نہیں پائی جاتی مگر نام نہاد "تعلیم یافتہ” افراد کی وجہ سے مستقبل میں جارحیت میں بے پناہ اضافہ…
ہمارے ہاں عمومی طور پر تعلیم کا ایک محدود تصور پایا جاتا ہے۔ سائنس اور سوشل سائنسز کو تعلیم سمجھا گیا ہے جب کہ رسمی یا غیر رسمی طور پر ہنر مندی کا حصول تعلیم میں شمار نہیں کیا جاتا۔ اس مضمون میں تعلیم کا وہی عمومی تصور زیر بحث ہے جس میں ہنر مندی شامل نہیں۔ تعلیم آج ہر کس وکس کا مسئلہ بنا دی گئی ہے۔ یہ ایک مبالغہ آمیز سماجی رجحان بن گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سماج کا ہر فرد تعلّمی رجحان لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ تمام تر کوشش کے باوجود اور تعلیم پر…
نکاح کے لیے عمر کی تحدید کا مسئلہ پاکستان میں اہم قضیے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ملکی قانون میں نکاح کے لیے لڑکے کی کم سے کم عمر 18 سال اور لڑکی کے لیے 16 سال مقرر کی گئی ہے۔ نئے بل میں لڑکی کے لیے بھی کم سے کم عمر 18 سال کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ اور قید کی سزا ئیں رکھی گئی ہے۔ سینٹ نے یہ بل منظور کر لیا ہے تاہم روایتی مذہبی طبقے کی طرف سے اس کی مخالفت کی جار ہی ہے۔ مخالفت کی…
ہمارے ملک کی اکثر جامعات میں نابینا طلبہ کو ابتدائی سہولیات بھی میسر نہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے مطلوبہ تعلیمی معیار حاصل کرنا از حد مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس تعلیمی کم مائیگی کی وجہ سے ملازمت اور پیشہ ورانہ میدان میں بھی انھیں دوسروں سے پیچھے رہ جانے کا خدشہ لاحق رہتا ہے۔ قدرت کی طرف سے آنکھوں کی نعمت سے محرومی کا تقاضا تھا کہ ادارے اس کی تلافی کی ہر ممکن کوشش کرتے، مگر افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ جامعات میں اس بارے میں کوئی آگاہی دیکھنے میں نہیں آئی۔…
ہیرو نما کردار ہر عہد میں موجود ہوتے ہیں۔ اگرچہ جدید دنیا عملیت پسندی اور منطقیت کے رجحانات کی حامل ہے لیکن کرشماتی اور مقناطیسی شخصیت کی پذیرائی اب بھی کی جاتی ہے۔ ان لوگوں کی اول و آخر خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ انسانی نفسیات اور میلانات کے ساتھ کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے پیچھے چلنے والے معاشرہ کے مایوس لوگ ہوتے ہیں یا کسی آئیڈیالوجی کے حامل۔ ہرعہد میں مسلمانوں سمیت ہرقوم کے ایک طبقے کا ہیرو بھی توانائی سے بھرپور ایسا فرد رہا ہے جو کبھی گھوڑے کی پشت پر پیٹھ کر دشمن کے…
قرآن مجید کے حفظ کی رسم صدیوں سے مسلم سماج میں رائج ہے۔ عام تأثر یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کی حفاظت کا ذریعہ اور باعث اجر و سعادت ہے ۔ ہماری دانست میں اس تصور کے اندر کچھ غلط فہمیاں موجود ہیں، جن پر نظرثانی کی دعوت دی جاتی ہے۔ حفظ قرآن کی رسم کے بارے میں جو حوالے اور اسباب ذکر کیے جاتے ہیں ہم ان کامختصر جائزہ لیں گے۔ واضح رہے کہ اس کا مقصد قرآن کریم کے حفظ کی حوصلہ شکنی نہیں ہے بلکہ مدنظر یہ ہے کہ اس عمل پر زیادہ وقت صَرف کرنے…
پرامن بقاے باہمی کے لیے مذہب اور ثقافت کے مفاہیم کو درست طورسمجھنا بہت ضروری ہے۔ مذہب، عقائد اور ان سے جڑے چند مخصوص اعمال کا نام ہے جبکہ ثقافت انسان کے رہن سہن و بول چال سے وابستہ مخصوص جغرافیائی خصوصیات کے اظہار کا نام ہے۔ مذہب ثقافتی مظاہر کے وسیع ترین دائرے میں سے ایک محدود حصہ پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اس لیے دو مختلف مذاہب کے لوگوں کی ثقافت مذہب سے باہر ایک جیسی ہو سکتی ہے جیساکہ پاکستان میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے نام، لباس، بول چال وغیرہ میں کامل یکسانیت نظر آتی ہے۔ مختلف مذاہب…
