Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»اقلیت کے خلاف سماجی جبر تبلیغ کے عمل کو غیر مؤثر بنا دیتا ہے
    کالم

    اقلیت کے خلاف سماجی جبر تبلیغ کے عمل کو غیر مؤثر بنا دیتا ہے

    ڈاکٹر عرفان شہزادBy ڈاکٹر عرفان شہزادجنوری 27, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    احمدی پاکستان کے آئین میں غیرمسلم قرار ہیں اور ملک کا ہر مسلمان یہی عقیدہ رکھتا ہے۔ تاہم قادیانیت کے وجود کے حوالے سے ایک خاص طرح کا مزاج بھی پایا جاتا ہے جس کی بنا پر ہمیشہ تناؤ کی کیفیت نظر آتی ہے۔ اس تناؤ کا مظاہرہ ہمیں گلیوں بازاروں میں بھی آویزاں نظر آتا ہے جس کا فائدہ اگر بغور دیکھا جائے تو مسلم طبقے کو کسی طور بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس تناؤ اور غیرضروری سختی کا مظاہرہ احمدی مذہب کی پختگی کا ذریعہ بنتا ہے اور تبلیغ کا فریضہ بھی بے اثر ہوکر رہ جاتا ہے کیونکہ پھر رویوں میں تعصب در آتا ہے۔ ایک عام احمدی جب دیکھتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نےمسیح  ہونے کا دعوی کیا ہے اورپھر یہ دیکھتا ہے کہ ان  کے ساتھ اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ حقوق کے حوالے سے زیادتی کا وہی وتیرہ مسلم پیشوا اور عوام نے اختیار کر رکھا ہے جو یہود کی مذہبی پیشوائیت اور عوام نے ان کے کہنے پر مسیح علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں کے خلاف اختیار کیا تھا تو یہ مماثلت اور مظلومیت کا احساس اس میں اپنے ایمان و عقیدے پر وہ پختگی پیداکرتا جسے پھر کسی دلیل کی ضرورت نہیں رہتی۔

    تناؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے وا لامزاحمت کا نفسیاتی ردعمل ایک بالکل معمولی چیز کو بھی ضد میں آکر عقیدے جیسی پختگی دے دیتا ہے، لوگ خود ساختہ نظریات پر جان دینے کو تیار ہو جاتے ہیں، یہاں تو پھر احمدیوں کے سامنے مسیح علیہ السلام اور ان کےپیروکاروں کی مثال میں اپنے  تئیں دینی سند بھی موجود ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ  مسلمانوں نے ’’دین کے تحفظ‘‘ کے نام پر اپنے لیے یہودی پیشواؤں کا کردار اختیار کر نا پسند کیا ہے۔

    یہود نے مسیح علیہ السلام کو سولی چڑھانے کی سر توڑ کوشش اور ان کے پیروکاروں کا ناطقہ بند کرنے کی سعی اپنے تئیں دین کے تحفظ کے نام پر کی تھی۔ ان کی ’غیرتِ دین‘ کا حال جاننا ہو تو انجیل کا مطالعہ کیجیے۔ خود مسیحی پیشوائیت نے جب طاقت و اقتدار حاصل کر لیا تو اس نے بھی مسیحیت کی مروجہ تعلیمات کے خلاف یا مختلف بات کہنے  پر جبر سے کام لیا۔ بائبل سے بظاہر مختلف سائنسی نظریات پیش کرنے پر ظلم و ستم کا وہ بازار گرم کیا کہ خود یہود کی مسیحیوں پر ستم کشی کی تاریخ شرما گئی۔

    سماجی جبر ’سٹیٹس کو‘ کی حفاظت کے لیے استعمال میں لایا جاتا ہے

    تاہم، حقیقت یہ ہے کہ دین پر اتنا برا وقت کبھی نہیں آ سکتا ہے کہ اس کی بقاء کے لیے خدا کو کسی کی ضرورت پڑ جائے۔ دین تب بھی محفوظ تھا جب حقیقی مسیح علیہ السلام تبلیغ رسالت کے لیے آئے تھے اور اب بھی محفوظ ہے جب ایک نام نہاد مسیح موعود ہونے کا دعویٰ مرزا غلام احمذ قادیانی نے کیا۔ نہ قرآن کبھی گم ہوا ہے نہ اس کو سمجھنے والے افراد، نہ عوام اتنے سادہ ہیں کہ جس نے انگلی پکڑ لی اس کے ساتھ چل پڑیں گے اور نہ یہ ناممکن ہے کہ انھیں دین کی تعلیمات سے روشناس کرا کے شعوری طور پر ایسے کسی انحراف سے روکا جا سکے۔

    اپنے عقائد و نظریات کے خلاف یا مختلف بات کے کہنے سننے پر پابندی لگانا محض اپنے سٹیٹس اور سٹیٹس کو کا دفاع کرنا ہے جسے دین کے دفاع کے عنوان سے مذہبی پیشوائیت ہمیشہ سے پیش کرتی آئی ہے۔ مسلم پیشوائیت اس سے مختلف رویہ کیسے اپنا سکتی تھی۔ اس کا بس بھی جہاں چلا اس نے کمی نہیں کی۔ معتزلہ کے خلاف جبر اور پھر معتزلہ کا دیگر مسلمانوں کے خلاف جبر تاریخ کا حصہ ہے۔ شیعہ سنی نے بھی جتنا ممکن ہوا ایک دوسرے کودبانے کی خوب کوشش  کی۔ اب جا کر ایک حد تک سمجھوتہ ہوا ہے۔ موجودہ دور میں اگر مسلسل تناؤ کا ماحول پیدا نہ کیا جاتا تو یہ مسئلہ سماجی سطح پر کوئی خاص تلاطم برپا نہ کر پاتا۔ ایسے ہی جیسے اور بہت سے ایسے دیگر فرقے اور مکاتب موجود ہیں جن کے نظریات و عقائد قادیانیت سے بھی زیادہ  انحرافات رکھتے ہیں مگر ان کی موجودگی سے نہ دین کو خطرہ پیش آ رہا ہے اور نہ مذہبی پیشوائیت کا سٹیٹس کو خطرہ میں پڑا ہے۔ یعنی کسی مسئلے کو دین کے تحفظ کے لیے خطرہ بنانا یا نہ بنانا مذہبی پیشوائیت کا انتخاب ہے جسے مختلف سیاسی اور سماجی عوامل کی بنا پر اُمت کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔

    دین اور عقائد کے معاملے میں رائے اور فیصلہ آجانے کے بعد سماجی یا حقوق کا جبر، سراسرخلافِ اسلام ہے۔ مذہبی معاملات کی اساس پر سماجی یا حقوق میں جبر غیر مسلموں کی طرف سے ہو یا خود مسلمانوں کی طرف سے، یہ ’فتنہ‘ ہے جس کے خلاف لڑنے کا حکم ہے۔ سماجی جبر ’سٹیٹس کو‘ کی حفاظت کے لیے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ خدا انسان کو ارادے کی آزادی دے کر، کفر و ایمان میں اختیار دے کر اس کی اجازت ہرگز نہیں دیتا کہ اب سماجی آزاد ی اور حقوق کا گلہ گھونٹ دیا جائے۔ یہ تو اس کی اسکیم کے ہی خلاف ہے اور یہ خلاف ورزی ہمیشہ فریق ثانی کے ساتھ مسلسل تناؤ پیدا کیے رکھتی ہے جس سے تبلیغ کا فریضہ اور اس کے نتائج متأثر ہوتے ہیں کہ تبلیغ کا عمل کام ہی نہیں کرتا کہ دوسرا فریق اس مسئلے کو اور طرح سے دیکھنے لگ چکا ہوتا ہے۔ جان لیجیے کہ خدا کا دین سماجی جبر کا محتاج نہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article’’ریاستی تعامل کے بنیادی ڈھانچے اور سماجی حیثیت کے تعین کے لیے ازسرِنو بے لاگ مکالمے کی ضرورت ہے‘‘
    Next Article بھارت کا دستوری بحران
    ڈاکٹر عرفان شہزاد

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by