ہمیں یہ سوال کرنے کی اجازت تو نہیں کہ ملک کو افغانیوں کی اس جنگ میں کس نے دھکیل کے وسیع پیمانے پہ موت کا خوف اور بھوک وافلاس پھیلائی، جس نے پاکستانیوں کی روح کو تاریک کر دیا،اس سے بھی بڑھ کر مہیب دہشتگردی نے معاشرے کو ریگولیٹ کرنے والی سویلین فورس کی ہیئت ترکیبی بدل ڈالی، جس کے نتیجے میں تشدد کی ایسی لہرپیدا ہوئی جس میں اگرچہ ستر ہزار سے زیادہ شہری جاں بحق،ہزاروں زخمی اور سینکڑوں عمر بھر کیلئے معذور ہوئے لیکن یہ ساری ٹریجیڈی سماج کی فطری لچک میں تحلیل ہو گئی اور افق کے…
Author: اسلم اعوان
عام طور پہ ہماری قومی سیاست کا محور مقتدرہ کو سمجھا گیا،اسی لئے ماضی میں بحالی جمہوریت کی ساری تحریکیوں کا نشانہ اسٹیبلشمنٹ رہی۔ایسا پہلی بار دیکھنے کو ملا ہے کہ پنجاب سے اٹھنے والی طاقتور سیاسی مزاحمت کا ہدف جی ایچ کیو کی بجائے عدالتی فعالیت بن رہی ہے،اس حقیقت سے اغماض ممکن نہیں کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس پیچیدہ عہد میں بھی اگر عدالتی فیصلوں کو سیاسی محرکات پہ پردہ ڈالنے کیلیے استعمال کیا جائے گا تو عدلیہ خود کو سیاسی تصادم سے الگ نہیں رکھ پائے گی۔شاید اسی لیے نواز لیگ کی اس غیرمتوقع چال نے”اسٹیٹس کو”کی…
مقتدرہ اور حکمران جماعت میں شدید تناؤ کے باوجود سیاسی عمل کا بہاؤ رکا نہیں،ہماری سیاست نے سمندر کی مانند اوپر سے پرشور ہونے کے باوجود سطح کے نیچے زندگی کو قدرے پرسکون رکھا۔اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف تحریکیں محدود دائروں میں محو خرام رہیں اور میڈیا میں جاری کشمکش صرف رائے عامہ پہ اثرانداز ہونے کی حکمت عملی بن گئی۔ چنانچہ تمام تر خدشات کے باوجود وقت مقررہ پہ سینٹ الیکشن کے انعقاد نے سیاسی افق سے کسی حد تک اندیشوں کے دھندلکوں کو صاف کر دیا تاہم میڈیا کی عجائب پسندی کے باعث رائے عامہ پہ بے یقینی…
سیاسی جماعتوں اور مقتدرہ کے درمیان حصول اختیار کی روایتی کشمکش کے جلُو میں دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کا مرحلہ قریب آن پہنچا ہے اور اقتدار کی سیاست کرنے والی جماعتیں نہایت احتیاط کے ساتھ کارزار انتخاب میں اترنے کی تیاریوں میں مشغول ہیں۔ پچھلے ستّر سالوں میں وقت کی رفتار نے سیاسی نظریات میں دراڑیں پیدا کر کے انتخابی سیاست کو پیچیدہ تر بنایا تو بے رحم آمروں کے ہاتھوں پے در پے شکستوں کے بعد قومی سطح کے سیاستدان حوصلہ ہار بیٹھے۔قومی قیادت صداقت کے ہر محاذ سے راہ فرار اختیار کر کے مصلحت کی تنگ…
ملکی سیاست میں تیزی سے رونما ہونے والی ہمہ جہت تبدیلیوں کے ساتھ بدلتی سیاسی ترجیحات کو از سر نو مدون کرنے کا عمل لاشعوری طور پر اس متعین قومی پالیسی کو تحلیل کر دے گا جس نے پچھلے چالیس سالوں سے مملکت خداداد سمیت پورے جنوبی ایشیا کی جیوپولیٹیکل صورت حال کو اپنی گرفت میں لیے رکھا۔ایسا لگتا ہے کہ بظاہر غیر مربوط واقعات کی مدد سے تقدیر ہمیں کسی غیر متوقع تبدیلی کے دروازے تک پہنچا دے گی۔قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ سمیت پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کو قبائلی علاقوں تک وسعت دینے کا بل منظور…
مشرقی و مغربی سرحدات پر ابھرتے خطرات اور عالمی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی پیکار ہمیں ایک قوم کی طرح متحد کر دے گا یا پھر ہمارا داخلی انتشار مملکت خداداد کو پھر کسی حادثہ سے دوچار کرے گا ؟بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سن دوہزار اٹھارہ کی الیکشن مہم ملک کے مستقبل کا تعین کر دے گی ،لیکن سوال یہ ہے کہ خوشگوار امیدوں کے باوجود مملکت کی داخلی سیاست میں ستر سالوں سے برپا کشمکش کی موجیں تھمتی کیوں نہیں؟ مارشل لاء کے ادوار کو چھوڑ کے ہر جمہوری عہد میں تراشیدہ اپوزیشن کا حکومتی اتھارٹی پر مسلسل…
حالیہ عدالتی فعالیت کی بدولت ملک میں ستر سالوں سے جاری سیاسی کشمکش فیصلہ کن مر حلہ تک آ پہنچی ہے لیکن اسٹیٹس کو کی قوتیں اس کی جدلیات کو تحلیل کر کے اسی پرانی ڈگر پہ لانا چاہتی ہیں جس میں سیاستدانوں کو اپنی حقیرانہ حثیت پہ قانع ہونا پڑے اور ایک مخصوص گروہ بدستور قومی پالیسیز اور ریاستی اتھارٹی پر حتمی اجارہ داری سے لطف اندوز ہوتا رہے۔تاہم سیاسی ارتقاء کے فطری محرکات اپنے نتائج ضرور پیدا کریں گے۔اگر نواز شریف نہیں ہوں گے تو وظائف زندگی کی استواری کیلئے فطرت کسی اور کو چن لے گی کیونکہ…
سیاسی قیادت کی بے ثباتی نے فاٹا اصلاحات جیسے حساس معاملہ کو روایتی طور طریقوں میں الجھا کے ہمارے اجتماعی مصائب میں ایک نئے تنازعہ کا اضافہ کر دیا،کالا باغ ڈیم کے بعد اب فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کا عمل بھی سیاسی عدواتوں،دوطرفہ الزام تراشیوں اور سازشی تھیوریز کی نذر ہو جائے گا،ہمیشہ کی طرح آج بھی کوئی نادیدہ قوت میڈیا کی مدد سے جذباتی فضاء بنا کے خانہ ساز فیصلوں کو مسلط کرنے کی کوشش میں قوم کے اجتماعی شعور کو ٹھکرا رہی ہے،سچ پوچھیئے تو جلدی میں فیصلے کرنے والے ہی دیر تک کف افسوس مَلتے…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ،جارج واشنگٹن کی تصویر تلے کھڑے ہو کے یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کر تے ہوئے جب یہ کہہ رہے تھے کہ اس کام کے لئے یہی موزوں وقت ہے تو بلاشبہ دنیا کے معروضی حالات انکے اس فیصلہ کی تصدیق کر رہے تھے،جس نے مغرب کے صلیبی چہرہ سے ایک بار پھر سیکولر ازم کا ماسک نوچ کے دنیا کوکبھی نہ تھمنے والی مذہبی جنگوں کے دہانے پہ لا کھڑا کیا۔امریکی انتظامیہ کا یہ قدم دراصل دنیا کے تین بڑے مذاہب کے درمیان تاریخی تنازعات کو ازسر نو زندہ کرنے کا محرک بنے گا،اس حقیقت…
سعودی عرب مالی بحران کے بعد اب انتظامی انتشار کے دلدل میں اترنے والا ہے۔ شاہی خاندان کے حالیہ تنازعات انہی انتظامی مشکلات کا مظہر ہیں۔آل سعود نے 1930 میں شہنشاہ کی جانشینی کا جو میکانزم تشکیل دیا تھا ،وہ خاندان کی عددی وسعت کی وجہ سے قابل عمل نہیں رہا اور معاشی طور پہ زوال پذیر مملکت اب زیادہ دیر تک ہزاروں شہزادوں کی غیر محدود اتھارٹی اور بھاری اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گی۔شاید خلافت عثمانیہ کی وارث آل عثمان کی طرح اب سعودی سلطنت کو بھی بقاء کی خاطر آل سعود کے خون کی ضرورت پڑے۔اس…
