وزیراعظم عمران خان کے امریکی انتظامیہ کے ساتھ اپنے تلخ تعلقات کی بحالی کے لیے مذاکرات اور دونوں مملکتوں کے مابین نیٹو فورسز کی افغانستان سے محفوظ واپسی پہ اتفاق رائے کے باوجود امر واقعہ میں کسی جوہری تبدیلی کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں، بلکہ افغان تنازعہ کو جلدی میں نمٹانے کی کوشش اس خطہ میں کئی نئے تنازعات کو جنم دینے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ حالیہ میل میلاپ کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ نیٹو فورسیز کی افغانستان سے واپسی کا فیصلہ کر لینے کے باوجود مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ کی اس تعلّی…
Author: اسلم اعوان
اس وقت،سابق آئی جی موٹروے پولیس ذوالفقار چیمہ کے کالموں پہ مشتمل کتاب ”دوٹوک“ میرے سامنے ہے، جس میں شامل قومی اور سماجی مسائل پہ بے لاگ تبصروں اور سیاسی ایشوز پر ان کے بیباک خیالات کو پڑھ کے میرے احساسات کو نئی تازگی ملی ہے۔ ان کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ محض اچھے منتظم اور دیانتدار پولیس آفیسر ہی نہیں بلکہ زندگی کے شعور سے لبریز اور خیر و شیر میں تمیز کرنے والی قوت مشاہدہ کے حامل بہترین نقاد بھی ہیں۔ جس کا عکس ان کے ”ایک، خطرناک، مگر یاد گار تقریر“ اور”کیس تو ٹریس…
ہمارے مہربان دوست، ہزارہ رینج کے آر پی او، محمد علی بابا خیل کا شمار خیبر پختون خوا پو لیس کے ایماندار اور فرض شناس افسران میں ہوتا ہے۔ وہ ذاتی طور پہ سماجی اقدار سے آشنا اور نہایت باوقار شخصیت کے مالک ہیں۔ بابا خیل پولیس میں آنے سے کچھ عرصہ قبل صحافت سے بھی وابستہ رہے، اسی لیے پولیس سروس جوائن کرنے کے بعد بھی انہوں نے خود کو لکھنے پڑھنے سے منسلک رکھا، تاہم اب ان کی تحریروں کے موضوعات پولیسنگ اور پولیس اصلاحات تک محدود رہ گئے ہیں۔ بلاشبہ وہ ایک باکمال افیسر کی طرح پولیس…
پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت جنوبی ایشیا کے امن اور سیاسی مستقبل کا تعین کرے گی۔ دنیا کی دوسری بڑی مسلم آبادی کی حامل ایٹمی قوت اور طاقتور جہادی نظریات کا مرکز ہونے کے علاوہ اس کرہ ارض کی اہم ترین جغرافیائی پوزیشن رکھنے والی یہ قوم عالمی سیاست پہ اثرانداز ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، خاص طور پہ اگلے دس سالوں میں مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا میں آنے والی وہ ممکنہ تبدیلیاں، جن سے پوری دنیا کا مستقبل معلق ہو گا، پاکستان کے کردار سے جڑی نظر آتی ہیں (خود پاکستان کا مستقبل بھی انہی عالمی تنازعات…
تحریک انصاف نے پچھلے دور حکومت میں جتنے ترقیاتی کام شروع کرائے ان میں سے کچھ منصوبے تو تاحال پایا تکمیل کو نہیں پہنچے، جیسے سو ارب روپے مالیت کا بی آر ٹی منصوبہ یا پھر ڈیرہ اسماعیل خان میں نکاسی آب کا میگا پراجیکٹ جو گزشتہ پانچ سالوں سے شہریوں کے لیے سوہان روح بنا ہوا ہے۔ کئی ایسے منصوبے بھی ہیں جن کی تکمیل کے باوجود افادیت صفر رہ گئی، جیسے صوبہ بھر میں اضلاع کی بیوٹیفکیشن کے منفرد پراجیکٹ کا حال ہوا۔ پچھلے دورانیہ میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے ترقیاتی کاموں کی ابتدا دس ارب…
ان دنوں پیپلزپارٹی اپنے جواں سال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے لیے مختلف شہروں میں جلسوں کا انعقاد کر کے خیبر پختونخوا میں پارٹی کی نشاۃ ثانیہ میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ بلاول بھٹو کو چارسدہ کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے حق نواز پارک میں جلسہ عام سے خطاب کرا کے ذوالفقارعلی بھٹو کی روایت دہرانے کی رسم نبھائی گئی لیکن یہ جلسہ کوئی بڑی امید کا پیش خیمہ ثابت ہوسکا۔ بلاول بھٹو پچھلے کئی ماہ سے قبائلی اضلاع میں ابھرنے والی پی ٹی ایم کی حمایت کے ذریعے پشتون سماج میں پیپلزپارٹی کے لیے جگہ بنانے کی سرگرانی…
مولانا فضل الرحمٰن کی اے پی سی میں اختلافات کی خبروں کے بعد حکومت اگر اپوزیشن جماعتوں کے خلاف احتسابی کاروائیوں کو محدود کرکے چھوٹے گروپوں کو مینیج کرلیتی تو سیاسی اضطراب میں کچھ کمی آسکتی تھی مگر افسوس کہ نیب اور اے این ایف جیسے سرکاری اداروں کی فعالیت کی بدولت قومی سیاست معمول کے وظائف کی طرف پلٹنے کی بجائے تھکا دینے والی کشمکش کی طرف بڑھتی جا رہی ہے۔ البتہ رانا ثنااللہ کی اینٹی نارکوٹکس فورس کے ہاتھوں گرفتاری کی ٹائمنگ کافی اہم تھی۔ اس ایشو کی میڈیا میں بھرپور کوریج کے باعث سپریم جوڈیشل کونسل کی…
سہ ماہی تجزیات کے گذشتہ شمارہ میں شفیق منصور کا شناخت کے موضوع پر طویل تحقیقی مقالہ،ہم کون ہیں؟ہماری شناخت کیا ہے؟نظر سے گزرا،جس میں فاضل مضمون نگار نے شناخت کے بحران کو زیادہ گہرائی میں جا کے دیکھنے اوراسے انسان کا ایسا اساسی مسئلہ ثابت کرنے کی کوشش کی،جیسے اسی سے پورے نظام زندگی اور انسانیت کی بقاء وابستہ ہو۔مقالہ نگار کہتے ہیں’’چونکہ آزادی مقدم ہے، اس لیے شناخت کے تعین سے قبل ایسی ذہنی آزادی کا موجود ہونا لازمی ہے جس میں انسان شعوری طور پہ اپنی شناخت کا تعین خودکر سکے،موجودہ شناختیں مخصوص اداروں اور جماعتوں کی…
اپوزیشن جماعتوں کی وہ آل پارٹیز کانفرنس بلآخر منعقد ہو گئی جس کے انعقاد کو مولانا فضل الرحمٰن حکومت گرانے کی تحریک کا نقطہ آغاز باور کراتے رہے لیکن عملاً یہ پیش رفت خود اپوزیشن کی ذہنی تقسیم کو نمایاں کرنے کا وسیلہ بنی۔ اے پی سی سے یہ ثابت ہوگیا کہ اپوزیشن جماعتیں نہ صرف پراگندہ خیال اور کمزور ہیں بلکہ انتہائی گہرے فکری و سیاسی تضادات میں بھی الجھی ہوئی ہیں۔ یہ تو واضح ہے کہ موجودہ بندوبست کی سب سے بڑی بینفشری ہونے کے ناطے پیپلزپارٹی کافی آسودہ ہے۔ پی پی پی کو اپنی سیاسی بیس یعنی…
پچھلے کئی ہفتوں سے مرکزی دھارے کے میڈیا کی پوری توجہ قومی بجٹ سے جڑے مباحث اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی جعلی بنک اکاونٹس کیس میں گرفتاری کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹی کانفرنس کے انعقاد جیسی سرگرمیوں پہ مرتکز رہنے کی وجہ سے ضم شدہ قبائلی اضلاع کی سولہ صوبائی نشستوں پہ انتخابات کی سرگرمیوں کو پوری کوریج نہیں مل سکی۔ تحریک انصاف کے سوا دیگر ملک گیر جماعتوں کی عدم دلچسپی بھی قبائلی اضلاع کے انتخابات کو پس منظر میں دھکیلنے کا سبب بنی۔ ہماری پارلیمنٹ نے 31 مئی 2018 کو 25 ویں…
