Author: اسلم اعوان

نواز لیگ کے قائد میاں نوازشریف اور دیگر رہنماوں کی سزاوں اور گرفتاریوں کے بعد پیپلزپارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کی گرفتاری سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ کے بعد اب پی پی پی بھی ”مفاہمتی“ سیاست کے حصار سے نکل کے مزاحمت کی راہ اختیار کرنا چاہتی ہے۔ اگر ہمارا خیال درست ہے تو پیپلزپارٹی نے صحیح وقت پہ درست فیصلہ کیا۔ بلاشبہ زمانہ اپنے انداز بدل رہا ہے، سماجی اقدار کے ساتھ سیاسی تمدن بھی ایسی غیر معمولی تبدیلیوں کی زد میں ہے جن کی راہ روکنا ممکن نہیں ہو گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس عہد…

Read More

پچھلے ستّر سالوں میں ہم برادر اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ ابھرنے والی مہیب کشیدگی سے دامن چھڑا پائے نہ وقت کی آغوش میں پلنے تنازعات کو تحلیل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ حالات کاجبر دیکھئے کہ1947 میں نوآزاد مملکت پاکستان کی اقوام متحدہ میں شمولیت کے خلاف پڑنے والا افغانستان کا واحد ووٹ جو بظاہر اگرچہ فضول سی کاروائی نظر آتا تھا لیکن یہی معمولی سی پیش رفت دراصل ان بڑے تنازعات کی پیش خیمہ بنی جنہیں بعد میں ہماری بدنصیب آنکھوں نے دیکھا۔ بلاشبہ اس جدلیات کی جڑیں ہمیں تاریخ کے دھندلکوں میں پوشیدہ ملتی ہیں۔ 1796 میں روس…

Read More

چند ماہ قبل مملکت کے بندوبستی نظام میں ضم کئے گئے قبائلی اضلاع پر خیبرپختونخوا کی صوبائی انتظامیہ ابھی اپنی گرفت مضبوط نہیں کر پائی تھی کہ دم توڑتی قبائلیت کی راکھ سے سماجی انصاف، انسانی حقوق اورجمہوری آزادیوں کے نعروں کے ساتھ تحریکیں زور پکڑنے لگیں، جنہیں  کسی پالیسی کے  تحت مرکزی سیاسی دھارے سے مربوط رکھنے کا کوئی میکنزم ہمارے پاس موجود نہیں تھا، تاہم اس مرحلہ پہ ہمارا قومی ردعمل وہی تھا جو کسی بھی ہنگامی صورت حال سے دوچار قوم کا ہوسکتا ہے۔ ریاست بجائے خود بھی فرسودہ طور طریقوں کی اسیر بن کے اصلاح احوال…

Read More

حال ہی میں دو معصوم بچیوں کے جنسی زیادتی کے بعد قتل کے دردناک واقعات کو اگرچہ معاشرے کے مجموعی اخلاقی زوال کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے لیکن فی الحقیقت ان انسانیت سوز جرائم کے ڈانڈے ہمارے قانونی نظام کی زبوں حالی سے جا ملتے ہیں، اب تو بڑھتے ہوئے سماجی جرائم کے خلاف پولیس کا کمزور ردعمل ایسے اشتعال انگیز عوامی ردعمل کا محرک بن رہا ہے جو بالآخر باغیانہ جذبات کو ہوا دیکر ریاست کی آئینی بنیادوں کو کمزور کر دے گا۔ 15 مئی کو پہلا واقعہ وفاقی دارلحکومت کے مضافاتی علاقہ چک شہزاد میں پیش…

Read More

اس وقت ایران امریکہ کشیدگی کے نتیجہ میں شط العرب اور خلیج فارس میں بڑے پیمانے پہ امریکی بحری بیڑوں اور جدیدترین جنگی مشینری کی ترسیل بظاہر کسی بڑے حادثہ کے رونما ہونے کے امکانات کو ظاہر کرتی ہے لیکن یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مغربی طاقتیں ایران پہ جنگ مسلط کر کے خطہ میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کی غلطی نہیں کریں گی۔ امریکی انتظامیہ نے خلیج فارس میں جنگی ساز وسامان کی نقل و حمل کو طویل المدتی مقاصد کا شاخسانہ بتایا جو دنیا بھر کو تیل کی محفوظ ترسیل سے جڑی ہوئے ہیں۔ اس…

Read More

جیسے وزیراعظم عمران خان نے سول بیوروکریسی اور کابینہ میں بڑے پیمانے پہ ردّ و بدل کر کے معاشی بحران سے نمٹنے کی خاطر اپنی حکومتی ٹیم کی ازسرنو صف بندی کر لی، اسی طرح مسلم لیگ نواز نے بھی مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے پارٹی کی تنظیم نو کے ذریعے بڑی پالیسی شفٹ لے کر قومی سیاست میں بھرپور مزاحمتی کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اگرچہ سب کو معلوم ہے کہ سیاسی نظام میں رونما ہونے والی یہ تبدیلیاں ارباب بست و کشاد کے کنٹرول میں رہیں گی لیکن پھر بھی تغیرپذیر عوامل حکومتی ڈھانچے اور…

Read More

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کی طرف سے جار کردہ اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ چھ سالوں کے دوران ہوٹلوں اور ورکشاپس میں کام کرنے اور بھیک مانگنے والے کمسن بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی استحصال کے 28 ہزار656 کیسیز رپوٹ ہوئے ہیں۔ اگرچہ ملکی قوانین کے مطابق چھوٹی سطح کے کارخانوں، موٹر ورکشاپس،خراد مشینوں اور ہوٹلوں میں کام کرنے والے بچوں کے علاج معالجہ اور تعلیم کا بندوبست آجر کی ذمہ داری ہے لیکن  یہاں مزدور بچوں سے ان کی جسمانی استعداد سے زیادہ مشقت لینے کے باوجود سہولیات کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جاتی۔ صوبائی حکومت خیبرپختونخوا…

Read More

ہمارے سماج میں جس سرعت کے ساتھ سیاسی تبدیلیوں کے عمل کو ہوا دی گئی اس سے عدم استحکام کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں،انیس سو نوے کی دہائی میں سیاسی جماعتوں نے کھینچاتانی کے نامطلوب نتائج اور جنرل مشرف کے مارشل لاء کے تلخ تجربات کے بعد میثاق جہموریت کر کے عوام کے حق حاکمیت کے تحفظ اور آئین و قانون نظام کو مستحکم کرنے پہ اتفاق کر لیا لیکن ایک تو بے نظیر بھٹو نے جنرل مشرف سے این آر او کر کے جمہوری قوتوں کے مابین سیاسی ہم آہنگی کو گزند پہنچائی دوسرے نواز شریف نے میمو…

Read More

پچھلے پندرہ سال سے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کی غیرمعمولی طوالت نے قبائل کے مضبوط ڈھانچے کو منہدم  کر کے  پولیٹکل سسٹم کو درھم برہم کر دیا ہے جو ڈیڑھ سو سال سے قبائل کی حیات اجتماعی کو ریگولیٹ کرتا رہا۔اسلئے حالات کا جبر جب  ان متحرک و فعال قبائل کو آئی ڈی پیز بنا کے بندوبستی علاقوں کی طرف کھینچ لایا تو یہاں کی متضاد سوسائٹی نے معاشی،سیاسی اور فکری تنوّع دیکر قبائلیوں کی نوجوان نسلوں کو زندگی کے ہمہ گیر شعور سے مربوط کر دیا اور یہی لذت خیال بلآخر اس  پشتون بہار کا سبب بنی…

Read More

طویل اور اعصاب شکن کشمکش کے بعد بلآخر  سینٹ الیکشن کے انعقاد نے سیاسی جدلیات میں وہ توازن قائم کر لیا جو سسٹم کی ہموار روانی کے لیے  لازمی تھا۔ول ڈیورانٹ نے کہا تھا کہ سیاست زندگی نہیں بلکہ عکس زندگی ہے،سینٹ انتخابات کے دوران پروان پانے والی وہ نامطلوب سرگرمیاں جو ہمارے رومان پرور سیاستدانوں کے دِلوں کو گھائل کر گئیں،دراصل ہماری حیات اجتماعی کے وہ تلخ حقائق تھے جو  ہمارے سامنے آ گئے ہیں۔یہی کچھ پہلے بھی ہوتا رہا لیکن اس میں نئی بات یہ ہے کہ پہلی بار اس قسم کی جوڑ توڑ کے خلاف کھلی مزاحمت…

Read More