بھارت کو چین کے ساتھ محاذ آرائی کے بعد ایک بار پھر ہزیمت کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت سخت دباؤمیں ہے۔ اس کی حکومت کا لب و لہجہ وہ نہیں جو پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دنوں میں ہوتا ہے بلکہ مودی کا یہ بیان کہ چین نے بھارت کی کسی چوکی پر قبضہ نہیں کیا اور نہ ہی چینی فوجی بھارتی سرحدوں کے اندر آئے،پرکافی لے دے ہورہی ہے۔ بیس انڈین فوجیوں کی ہلاکت اور دس فوجیوں جن میں اعلیٰ افسر بھی شامل ہیں ان کی گرفتاری۔ بھارت کی عسکری تاریخ کا ایک درد…
Author: محمد عامر رانا
ہمارے خطے کا جیوپولیٹیکل( جغرافیائی سیاسی)منظرنامہ تیزی سے بدلتاچلا جارہا ہے،رجائیت پسند طبقے کا خیال ہے کہ اس تیزی سے بدلتے منظر نامے کی بدولت وہ پاکستان کے جیو سٹریٹیجک(تزویراتی)نقطہ نظر میں تبدیلی کو محسوس کررہے ہیں۔بعض یہ یقین رکھتے ہیں کہ مذکورہ تبدیلی بڑے پیمانے پرجیو اکنامک( جغرافیائی معیشت) کے گردگھوم رہی ہے،اگر ایسا ہی ہے تو یہ بہت واضح نظریاتی تبدیلی ہوگی۔لیکن ہمارے ریاستی اداروں کے بیانات میں اس تیزی سے بدلتے منظرنامے کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا،یا شاید وہ اس کو مختلف طریقے سے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے خراب معاشی اشارے ایسے خیالات کو وزن…
پاکستان میں عام آدمی کے لئے انصاف کی بات ایک گھسا پیٹا موضوع لگتا ہے۔ اخبار اور ٹی وی سکرین کے لئے ایسی خبروں میں زیادہ کشش نہیں ہوتی اور سوشل میڈیا پر باسی کڑی میں ابال کی طرح کبھی کبھار اس پر ٹرینڈ چلتا ہے اور چند گھنٹوں میں دم توڑ دیتا ہے۔ عدالتیں ‘تھانے ‘ہسپتال‘ فیکٹری کھیت کھلیان، پہاڑ، صحرا اور حتیٰ کہ دفتر اور گھر کے اندر تک کمزور استحصال کا شکار ہے۔ مختلف ادارے اور تنظیمیں اعداد و شمار جمع کرتی اور شائع کرتی ہیں۔ عام آدمی کے لئے انصاف ریاست اور سماج کی ترجیح نہیں…
کرونا کی وباء نے ماہ مبارک رمضان میں لوگوں کی نمازروزے جیسی سرگرمیوں کو زیادہ متاثر نہیں کیا ۔ پہلے پہل صوبائی حکومتیں لاک ڈاؤن میں نرمی کے حق میں نہیں تھیں لیکن جب ملک گیر سطح پہ عوامی رائے عامہ اس امر پہ مجتمع ہوگئی کہ لاک ڈاؤن نرم کیا جائے تو بالآخر حکومتی سطح پہ یہ فیصلہ لیا گیا اور یوں ملک بھر میں ماہ رمضان پورے مذہبی جوش و خروش سے منایا گیا۔ جیسا کہ اس مہینے میں روایت ہے کہ مذہبی علماء ٹیلی ویژن اسکرینوں پہ براجمان رہتے ہیں ، مولانا طارق جمیل ، جوکہ ملک…
’’شہزاد اکبر کون ہے؟‘‘ جب یہ سوال 2010ء کے لگ بھگ پوچھا جاتا تھا تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہوتا تھا کہ بیرسٹر آزاد رائے رکھنے والا آدمی ہے ،دراصل بیرسٹر شہزاد اکبر اتنی اچانک سے منظر عام پر آیا کہ اس کے کوائف اور حسب نسب کے بارے میں سیاسی اور سفارتی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی تھیں۔ امریکی حکومت اور خصوصاً سی آئی اے کے خلاف پانچ سو ملین ڈالر کا دعویٰ دائر کرنا بڑا حوصلے کا کام تھا اور اس نے یہ دعویٰ وزیرستان سے اپنے موکل کریم خان کے کہنے پر ڈرون…
عید ایک خوف کے عالم میں گزرے گی ۔یہ تو معلوم تھا لاک ڈاؤن کے عملاً خاتمے کے بعد کورونا کی وبا نے جو کروٹ لی ہے‘ تہوار کے دن کے جو چند معمولات کے بارے میں منصوبہ بندی کی تھی وہ کھٹائی میں پڑتے دِکھ رہے تھے۔لیکن پی آئی اے کے طیارے کے حادثے نے سوگ کا اضافہ بھی کر دیا ہے بلکہ اس سوگ نے تو کورونا کی وبا ءکا خوف بھی بھلا دیا ہے۔ وقت کی بات ہے ایک سانحے کے دکھ کو کم کر نے کے لئے ایک نئے حادثے کا سہاراہوا ہے ۔شاعر اس پر…
اس وقت جب دنیا کورونا کی وبا ءکے خلاف جنگ میں مصروف عمل ہے، اقوام عالم اور عالمی تنظیمیں وبا ء کے انسانوں "معیشت اور سماج اور نفسیات” پر منفی اثرات کا جائزہ لینے میں جتی ہوئی ہیں ، وبا ءکے خوف کے سائے میں بھی سکیورٹی خطرات موجود ہیں، گو غیر روایتی سکیورٹی چیلنجز پر دنیا کی توجہ کم ہے۔ مثال کے طور پر کورونا وبا ءکے دوران بھی دہشت گردی کے خطرے میں کوئی کمی نہیں دکھائی دیتی بلکہ کچھ علاقوں میں تو دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا جیسا کہ افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے…
سیاست اور صحافت دو ایسے موضوعات ہیں جن پر کوئی بھی لمبی چوڑی ابحاث کر سکتا ہے۔ ان موضوعات پر مہارت حاصل کرنے کے لئے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہماری زندگیاں ویسے بھی سیاست کرتے ہی گزرتی ہیں ۔کون سا ایسا ادارہ ہے ‘ دفتر‘ سکول‘ مدرسہ‘ یونیورسٹی‘ مارکیٹ یا فیکٹری جہاں ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے سیاست نہ ہوتی ہو۔ جتنا وقت سیاست کرنے میں گزارتے ہیں اپنے کام اور اصل موضوع پر دیں تو پاکستان کی تعلیم‘ صحت ‘ معیشت ‘ صنعت اور گورننس کے ناصرف سارے مسئلے حل ہو جائیں بلکہ تخلیق کی توانائی…
کرونا وائرس کی عالمی وباء نے دنیا بھر کے عوامیت پسند رہنماؤں کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے ۔چاہے وہ امریکہ ہو برطانیہ ہویا پاکستان ، صاف ظاہر ہوگیا ہے کہ ان رہنماؤں کے پاس نہ تو کوئی وژن ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی صلاحیت ہے کہ وہ اپنی اقوام کو اس مشکل موقع پر کوئی رہنمائی کرسکتے ہیں۔ یہ صورتحال ان معاشروں ، ان کے اداروں اور نظام کے لئے ایک امتحان سے کم نہیں ہے ۔ ابھی تک یہ عوامیت پسند رہنماء وہی روزمرہ کا راگ الاپ رہے ہیں اور اناپ شناپ بیانئے کے…
"اس وقت کرونا وباء سے متعلق درجن بھر سے زائد سازشی نظریات سوشل میڈیا پہ گردش کررہے ہیں ۔”
