عدم تحفظ اور تشدد کے مظاہر و رجحانات کا آنے والے وقت میں کیا منظرنامہ ہوگا اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں ہوتا، بالخصوص پاکستان جیسے ممالک میں جہاں سکیورٹی کا چیلنج نہایت پرپیچ ہے اور اس کے مقابل ریاست کا ردعمل عجلت پسندانہ اور ابہام کا شکار ہے۔ تمام پیش بین خدشات کے برخلاف گزشتہ سال کے دوران ملک میں امن وامان کی صورتحال نسبتاََ مستحکم رہی جس کا کریڈٹ قانون نافذ کرنے والے ادارے لے سکتے ہیں۔ مگر عسکریت پسندی کے تیزی سے بدلتے منظرنامے کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ 2021ء بھی ایک آزمائشی…
Author: محمد عامر رانا
نئے سال میں داخل ہوتے ساتھ ہی وقوع پذیر ہونے والے دو حادثات نے ایک بار پھر پسماندہ اور کمزور شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے ریاست کی ناکامی کو واضح کیا ہے۔ 30 دسمبر کو کرک میں ہندو سمادھی کی توڑ پھوڑ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک کی اکثریت کس طرح اب بھی اقلیت کو خوف کا احساس دلاتی اور ان سے کیسا برتاؤ کرتی ہے۔ اسی طرح، وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مقتول شیعہ ہزارہ کان کنوں کے اہل خانہ کی تعزیت کے لیے کوئٹہ جانے سے ہچکچاہٹ نے بھی اس خیال کو تقویت…
سال 2020ء کو خوف اور بے یقینی جیسے حالات کے لیے یاد رکھا جائے گا۔ اگرچہ کووڈ-19 نے انسانوں کو پہلے سے زیادہ ڈیجیٹل اور عالمگیریت کی حامل طرز زندگی میں ڈھالا ہے، تاہم اس وبا نے انسانوں کی یہ کمزوری بھی ظاہر کی ہے وہ ابھی تک اس قابل نہیں ہوسکے کہ وہ عالمی سطح کے بحرانی اوقات میں بھی سماج کے مذہبی، نسلی، سیاسی نظریاتی اور نفرت کو ہوا دینے والے ان جیسے دیگر مسائل پر قابو پاسکیں۔ یہ سال اس بات کی یاددہانی بھی کراتا رہے گا کہ فطرت کے دائرے میں زندگی کی حیثیت کمزور رہتی…
اگر مجوزہ منصوبہ بندی کے مطابق گوادر کے اطراف میں آہنی باڑ لگادی جاتی ہے تو یہ پاکستان میں سیکورٹی خدشات کی اساس پر پہلا ’حصاربند‘ شہر بن جائے گا۔ اس اقدام کے فوائد و نقصانات سے قطع نظر، اسی طرح عوامی ردعمل اور اپوزیشن کی تنقید کو بھی بالائے طاق رکھتے ہوئے اس منصوبے سے جو چیز نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹے کے لیے ریاست کے نقطہ نظر کا رُخ کیا ہے۔ عموماََ باڑ باندھنے کا اقدام سرحدوں پر سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے بطور آخری حربے…
دوحہ میں شروع ہونے والے بین الافغان مذاکرات نے افغانستان میں سیاسی مصالحت کی نئی امیدیں پیدا کردی ہیں ۔ بظاہر ان مذاکرات میں شریک تمام فریقین اس امر سے آگاہ دکھائی دیتے ہیں کہ یہ ایک طویل اور ناہموار مرحلہ ہے اور اس سارے عرصے کے دوران انہیں ممکنہ طور پر اپنے موقف کو بار بار صورتحال کے تناظر میں تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک اہم معاملہ جو امریکہ طالبان ڈیل کے دوران بھی اور اب بین الافغان مذاکرات میں بھی درپیش رہے گا وہ افغان طالبان کا افغانستان میں موجود غیرملکی جنگجوؤں سے تعلقات کا ہے۔ ایسے…
کچھ ایسےاقدامات ہیں جو ممکنہ طور پر حالیہ دنوں میں بڑھنے والی متشدد دہشتگردانہ کاروائیوں کی وضاحت کرسکتے ہیں۔ حالیہ کچھ دنوں میں ہونےوالے واقعات ایسے ہیں کہ جن کے سبب پاکستان میں تشدد پسندی کا منظرنامہ خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان سے علیحدہ ہوجانے والے دو متحارب گروہوں نے ایک بار پھر اس تنظیم سے اتحاد کرلیا ہے۔ خطے میں سرگرم نام نہاد دولت اسلامیہ نے اپنے نئے سربراہ کا اعلان کیا ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں برسرپیکار قوم پرست عناصر ایک بار پھر سندھ میں سرگرم ہوئے ہیں۔ امکانی طور پر بلوچ اور سندھی…
بہت سی مسلم اکثریتی اقوام ایک بار پھر نہ ختم ہونے والے "مسلم امہ کی سیاست”کے عہد میں داخل ہیں۔ تاہم اپنے ہاں کی داخلی مشکلات پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے وہ اپنی جیو پولیٹیکل ترجیحات کو بھی اپنی معاشی و سیاسی حقیقتوں کے پیش نظر نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں ۔ مسلم امہ کا تصور مذہبی اتحاد کے طور پرہمیشہ سے ہی مسلم دنیا کےمرکز میں موجود رہا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ اس تصور میں تعمیرِ نو بھی ہوتی رہی ہے جس دوران ریاستی و غیر ریاستی عناصر نے اس میں نئی توجیہات تراشی ہیں۔ حال…
پاکستان ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ ہونے سے بچنے کے لئے بھر پور کوشش کر رہا ہے۔ شروع سے ہی ریاستی ادارے ایف اے ٹی ایف کی شرائط کوایک قابل سزاسیاسی ہتھیار سمجھے ہوئے ہیں اور ان پر عملدرآمد کررہے ہیں جوں جوں دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے حکومت مرحلہ وار ان تمام کمزوریوں کو دور کررہی ہے جو کہ دہشتگردی کی مالیات کے انسداد(سی ٹی ایف) کے لئے حکومتی اداروں میں تاحال موجود رہی ہیں ۔یہ مرحلہ طویل ضرور ہوسکتا ہے مگر اس کی قیمت شہری آزادیوں پر قدغن کی صورت ہرگز نہیں ہونی چاہیئے۔ ایف اے…
"کبوتر بازی اور غزل بازی میں کیا فرق ہے”؟ جب تین چار شاعر اکٹھے ہو جاتے اور کوئی اپنے نئے شعر سنا رہا ہوتا تو وہ درمیان میں یہ سوال اچھالتا۔ غزل دھری کی دھری رہ جاتی اور بحث شروع ہو جاتی۔ ایک شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے مخصوص انداز چچلی انگلی میں سگریٹ پھنسا کر مٹھی سے زور دار کش لگاتا۔ایسا بارہا ہوا اور شاعر ہر بار اس کے جال میں پھنس گئے۔ بات ویسے پھینکنے والی نہیں کہ کبوتر بازی اور غزل کہنے کے عمل میں کیا مماثلت ہے؟ کبوتر اڑانے کے فن میں بھی مخصوص گردانوں میں…
افغان طالبان کے اس اصرار نے کہ افغانستان میں القاعدہ کا وجود نہیں، دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ طالبان کے اس بیان سے رواں برس ان کی جانب سے کئے گئے امریکہ طالبان امن معاہدے میں ان کی جانب سے کئے گئے وعدوں پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا جن پرانہوں نے بطور فریق رضامندی ظاہر کی تھی۔ اگرچہ طالبان کی جانب سے ” انکار "کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کرنے کی تاریخ پرانی ہے لیکن ان کی جانب سے یہ بیان کہ افغانستان میں القاعدہ کا کوئی وجود نہیں ہے، ان کی بڑھتی ہوئی سیاسی…
