Author: محمد عامر رانا

’تحریکِ طالبان پاکستان‘ (TTP) کے ساتھ معاہدے کے اقدام پر تحفظات رکھنے والے شہریوں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ہلکی پھلکی دہائی تہائی کے بعد عسکری قیادت نے سیاسی رہنماؤں کو یقین دلایا ہے کہ کالعدم تنظیم کے ساتھ آئین سے ماورا کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔ گزشتہ ہفتے ’قومی سلامتی کمیٹی‘ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان کا خفیہ اجلاس بلایا جائے گا، جس میں قائد ایوان یعنی وزیر اعظم، دیگر رہنماؤں کو اس میں شامل کریں گے۔ اس بیان سے یہ تأثر ملا ہے کہ…

Read More

اگر حکومت کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کر بھی لیتی ہے تو اس سے سکیورٹی اداروں کو محض عارضی یا جزوی مہلت ملے گی۔ ہوسکتا ہے گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے دہشت گروہ کے خلاف برسرپیکار سکیورٹی اداروں کا امن مذاکرات سے مقصود یہ ہو کہ پاک افغان سرحدی علاقے کو محفوظ بنایا جاسکے اور سابقہ فاٹا کی مرکزی دھارے کے ساتھ مربوط اشتراک کے پراسس کو تیز کیا جاسکے، لیکن اِس گروہ کے ساتھ ایسا کوئی بھی معاہدہ بہرحال ملک پر منفی اثرات ہی مرتب کرے گا۔ زیادہ تر ماہرین ، سیاستدانوں، سول سوسائٹی…

Read More

امن وامان اور نظم وضبط کو بحال رکھنے کے لیے پولیسنگ کا کام کچھ آسان نہیں ہوتا، بالخصوص سماجی سیاسی انتشار کے وقت یہ ذمہ داری اور بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ اس وقت قانون نافذ کرنے والے افراد کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں، کردار اور حوصلے کا امتحان ہوتا ہے، اور سب سے اہم یہ کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ذاتی سیاسی، مذہبی، نسلی اور سماجی رجحانات و میلانات پر کیسے قابو پاتے ہیں۔ عام طور پہ ان کے ذاتی تعصبات اور جماعتی رجحانات کے ساتھ ’عوامی تأثر‘ سے متعلق خدشات قانون کی حکمرانی کو بحال…

Read More

طالبان حکومت کو افغانستان کے اندر اپنے سیاسی و مذہبی نظم کو نافذ کرنے کی پوری طرح آزادی حاصل ہے۔ وہ ملک میں وہی کر رہے ہیں جسے وہ درست خیال کرتے ہیں۔ اور اس سب کے دوران، (جیساکہ ان کے مخصوص غیرتکثریت پسند طرزِحکمرانی اور خواتین کی تعلیم و پردے سے متعلق فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے) وہ حکومت کرنے کی اہلیت، سکیورٹی سے جڑے مسائل سے نمٹنے اور انسانی حقوق کے تحفظ بارے بین الاقوامی برادری کے خدشات کی توثیق کر رہے ہیں۔ عالمی برادری کا ان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے مایوس کن پس وپیش ایک…

Read More

نوجوانوں کو نظرانداز نہ کیا جائے اگر ہم صحیح معنوں میں بلوچستان کی صورتحال اور اس کی حساسیت کا ادراک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ بلوچ نوجوانوں کی بات سنی جائے۔ صوبے کےاندر وقوع پذیر ہونے والی سیاسی، نظریاتی اور سماجی تبدیلیوں کے بارے میں ان سے بہتر کوئی نہیں بتا سکتا۔ اس ضمن میں قبائلی رہنما، سردار اور نواب جن پر ریاست مسلسل انحصار کیے ہوئے ہے وہ زمینی مسائل و حقائق کے ساتھ اتنے متعلق نہیں ہیں۔ نہ ہی بیوروکریسی اور سکیورٹی ادارے صورتحال کا بامقصد اور درست جائزہ لے سکے ہیں۔ یہی…

Read More

گزشتہ ماہ 26 اپریل کے دن کراچی یونیورسٹی میں چینی فیکلٹی سے ملحقہ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قریب گاڑی پر ہونے والا خودکش دھماکہ دراصل چین کی سافٹ پاور پر حملہ تھا۔ دہشت گردوں کو بخوبی علم تھا کہ یہ انسٹی ٹیوٹ چین کے ثقافتی اور تہذیبی اظہاریے کی علامت ہے، اور یہ کہ دوسروں کے مقابلے میں چین دنیا میں اپنا خوشگوار اور نرم گوشہ پیش کرنے کا بہت زیادہ خواہش مند ہے۔ دہشت گردوں نے اس حملے کے اثرات کو بڑھانے اور بین الاقوامی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرانے کے لیے ایک خاتون خودکش بمبار کا انتخاب…

Read More

اقتدار سے ہونے والی جبری بے دخلی عمران خان کے لیے تکلیف کا باعث بنی ہوئی ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کو پائیدار رکھ سکنے میں ناکامی کے بعد وہ مذہبی اور امریکا مخالف نعروں کے زور پہ عوام میں واپس آئے ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے جس طرح اپنی حکومت کے خلاف امریکی سازش کا بیانیہ کھڑا کیا ہے اس سے ان کی خودپسندی اور چالاکی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ وہ عوامیت پسند (پاپولسٹ) سیاست کو بھی ایک الگ سطح پر لے گئے ہیں، زمینی حقائق اور امکانات کی دنیا سے بالکل دور۔ فوج کے شعبہ…

Read More

ایک ایسے وقت میں جب یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ افغان طالبان کی حکومت پاکستان میں ریاست اور معاشرے کے تعلقات پر کیا اثرات مرتب کرے گی، کچھ اہم حقائق پر غور کرنا ضروری ہے۔ جب ایک پارلیمانی کمیٹی نے مذہب کی جبری تبدیلی کے بل کو مسترد کر دیا، جس کی وزارت مذہبی امور نے بھی مخالفت کی تھی، اس کا افغان طالبان سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ پاکستان کی اپنی اکثریتی ذہنیت جو بڑی حد تک انفرادیت پسندی میں الجھی ہوئی ہے۔ پڑوس میں طالبان کی موجودگی صرف اس ذہنیت کی حوصلہ افزائی کرے گی اور…

Read More

پاکستانی شہریت کو اب مذہبیت کے عنصر کی بنیاد پر تولا جا رہا ہے۔ مقتدر اشرافیہ کے نزدیک یہ ایک مثبت رجحان ہے کیونکہ انکے خیال میں اس سے قومی یکجہتی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے بجائے بہتر اخلاقیات اور دیانت داری کو فروغ دینے کے، یہ رجحان تنگ نظری کی افزائش کر رہا ہے۔ مفرور عسکریت پسند احسان اللہ احسان کے ٹویٹ کے جواب پر نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو سوشل میڈیا پر جس طرح دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی اس سے پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین کے ایک بڑے طبقے کی ذہنیت…

Read More

جغرافیائی اور علاقائی باہمی رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ ہونے کے تناظر سے قطع نظر پاک چین اقتصادی راہداری نے اس بات کی بھی امید پیدا کردی تھی کہ اس سے پاکستان کی معاشی اٹھان ممکن ہوگی اور صنعتی شعبے میں نمایاں بہتری آئے گی۔ لیکن یہ امید آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے۔ نہ صرف یہ کہ مقتدر اشرافیہ اس منصوبے کی حقیقی طاقت کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی ہے اور اس کے لیے ٹھوس حکمت عملی وضع نہیں کی بلکہ اس کے ساتھ منصوبے کا ڈھانچہ بھی مربوط و منضبط حیثیت میں متشکل نظر نہیں آیا۔ سی…

Read More