پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ باضابطہ طور پر دستاویزات کا ایک مجموعہ(ڈوزیئر) شیئر کیا ہے جس میں دہشت گردی کے دیگر واقعات کے علاوہ 2021 ءمیں لاہور میں ہونے والے جوہر ٹاؤن دھماکے میں بھارت کے ملوث ہونے کی تفصیلات اور شواہد شامل ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عسکریت پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں انتباہ دینے والے بیان کی منظوری کے بعد، ہندوستان اور پاکستان کے سفیروں نے ایک دوسرے پر دہشت گردی کے زبردست الزامات لگائے ہیں۔پاکستان کی جانب سے یہ ڈوزیئر ایک ایسے موقع پر شئیر کیا گیا…
Author: محمد عامر رانا
امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کی طرز پرملک میں داخلی سلامتی کا ڈھانچہ قائم کرنے کا مطالبہ گزشتہ ہفتے اس وقت دوبارہ گونج اٹھا جب وفاقی دارالحکومت میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہوا۔متعدد رکاوٹوں کے باوجود مالی منفعت سے بھرپور اور بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا داخلی سلامتی کا بنیادی ڈھانچہ پاکستانی سکیورٹی اداروں کو ہمیشہ متاثر کرتا ہے۔ بیوروکریٹک ذہنیت نے مقامی سیاق و سباق، ضرورت اور موجودہ مالی اور ادارہ جاتی حدود کو مدنظر رکھے بغیر مغرب سے متاثر ہوکر نئے اقدامات تجویز کرنے کی عادت ڈال رکھی ہے۔ان کے ہاں…
کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے چند ماہ قبل حکومت کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی کو ختم کرنے کے باضابطہ اعلان کے بعدسیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے فوری اور قابل اطمینان ردعمل کی فوری ضرورت ہے۔گروپ کے ساتھ نمٹنے کے بارے میں کوئی بھی نیا فیصلہ ایک جامع انداز میں کیا جانا چاہئے اور اسے عوامی گفتگو میں لایا جانا چاہئے اور پھر اس پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے۔یہ محض سیکورٹی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ہماری وسیع تر سیاسی، اسٹریٹجک اور جیو اکنامک ترجیحات کا ایک اہم عنصر ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ…
ایسا لگتا ہے کہ عمران خان نے دانستہ اسلام آباد کی جانب اپنی پارٹی کے لانگ مارچ کی رفتار کو کم کر دیا ہے۔بہر حال قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیےمظاہرین کو تحفظ فراہم کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کا چیلنج بڑھتا جا رہا ہے، خاص طور پر قاتلانہ حملے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے زخمی ہونے کے بعد سےسکیورٹی کے لیے مزید انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ان حالات کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت کو ہائی الرٹ کر دیا گیاہے۔ پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی حکومتوں نے بنیادی طور پر…
پاکستان بالآخرایک درست سفارتی سمت میں واپس آ رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے بیجنگ اور ریاض کے کامیاب دورے نے ملک میں معیشت کی بحالی کے لیے ایک امید پیدا کی ہے۔آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی جانب سے لندن اور واشنگٹن کے چینلز کا استعمال کرتے ہوئے مغرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں بیرونی دباؤ کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہیں، جو گزشتہ کئی ماہ سے نظر آ رہا تھا۔اس کے علاوہ پاکستان اب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی ’گرے لسٹ‘ میں سے بھی نکل گیا…
پاکستان کی معیشت دہائیوں سے دباؤ کا شکار ہے۔ ملک کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے ہمیں ناگزیر بنیادی ساختیاتی اصلاحات لانے کے لیے قدم ابھی بڑھانے ہیں اور کاروبارِ معیشت کو سمت ابھی دینی ہے۔ تاہم، وہ ہو یا نہ ہو ملک میں کاروبارِ نفرت پھل پھول رہا ہے، اور ریاست اور معاشرہ دونوں اس سے فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف کے احمدی مخالف بیانات، جن کا مقصد سابق وزیراعظم عمران خان کو بدنام کرنا اور ان کے خلاف عومی رائے کو مشتعل کرنا…
21 سال پہلے، امریکا میں ہونے والے نائن الیون کے حملوں نے مسلم معاشروں میں سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کے ایک سلسلے کی بنا رکھی تھی۔ مشرق وسطیٰ اُس وقت نقطہِ اشتعال پہ تھا، کیونکہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ القاعدہ کے نظریے کی جڑیں دراصل یہاں کے سیاسی تنازعات اور اِس خطے میں رائج مذہبی فکر میں پیوست ہیں۔ بعد کے سالوں میں اٹھنے والی ‘عرب بہار’ کی لہر خطے میں جمہوری تبدیلی لانے میں ناکام رہی۔ اب، خلیجی ریاستوں کی بادشاہتیں ازخود اپنی کوششوں کے ذریعے ان تبدیلیوں کو متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہیں جن…
یوم آزادی کے موقع پر منعقد کی جانے والی سرکاری تقریب کے اندر رقص کی پرفارمنس پر مذہبی عناصر اور معاشرے کے کچھ طبقات کی جانب سے کافی مذمت کی گئی اور اس عمل کو شرمناک اور نظریہ پاکستان کے خلاف قرار دیا گیا۔ انہوں نے 14 اگست کی سالانہ تقریبات کے دوران اس طرح کے ’قابل اعتراض اقدامات‘ کی اجازت دینے پر حکومت پر سخت تنقید کی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ آزادیِ اظہار مولویوں سمیت تمام پاکستانی شہریوں کا جمہوری حق ہے۔ لیکن یہ ردعمل بہرحال ایک تلخ تضاد کی عکاسی کرتا ہے جسے ریاست اور سماج…
چند دن قبل کابل کے اندر القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری ایک امریکی ڈرون حملے میں مار دیے گئے۔ ظواہری ایک گھر میں موجود تھے جو مبینہ طور پر افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے ایک قریبی ترین معاون کی ملکیت ہے۔ یہ افغان طالبان کے لیے شرمندگی کا مقام ہے جو افغانستان میں عالمی دہشت گرد تنظیم کو کسی قسم کا تعاون فراہم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد طالبان کی سنجیدگی اور دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں معاہدوں پر پورا اُترنے کے لیے ان کی صلاحیت سے متعلق عالمی برادری کی تشویش میں…
مذہبی سیاسی جماعتوں کی سیاست مذہبی نعروں اور بیانیوں کے گرد گھومتی ہے، جبکہ ان کی انتخابی فعالیت و کارکردگی کا محور بھی زیادہ تر مخصوص نظریاتی تناظرات ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں کہ جہاں مقتدر اشرافیہ مذہبی جماعتوں کو سیاسی داؤپیچ کے لیے استعمال کرتی ہے، تو اول الذکر جماعتیں مذہبی طور پر بپھرے ہوئے ماحول کی تشکیل کے لیے غذا فراہم کرتی ہیں۔ حال ہی میں ہونے والے پنجاب کے ضمنی انتخابات کے اندر تحریک لبیک پاکستان (TLP) کی خراب کارکردگی کا جائزہ بھی اسی مقدمے کی روشنی میں لیا جاسکتا ہے۔ ٹی ایل پی نے 2018ء کے…
