Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»افغان طالبان اپنی قدامت پسندی کے اسیر
    کالم

    افغان طالبان اپنی قدامت پسندی کے اسیر

    محمد عامر راناBy محمد عامر رانامئی 16, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    طالبان حکومت کو افغانستان کے اندر اپنے سیاسی و مذہبی نظم کو نافذ کرنے کی پوری طرح آزادی حاصل ہے۔ وہ ملک میں وہی کر رہے ہیں جسے وہ درست خیال کرتے ہیں۔ اور اس سب کے دوران، (جیساکہ ان کے مخصوص غیرتکثریت پسند طرزِحکمرانی اور خواتین کی تعلیم و پردے سے متعلق فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے) وہ حکومت کرنے کی اہلیت، سکیورٹی سے جڑے مسائل سے نمٹنے اور انسانی حقوق کے تحفظ بارے بین الاقوامی برادری کے خدشات کی توثیق کر رہے ہیں۔ عالمی برادری کا ان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے مایوس کن پس وپیش ایک نمایاں وجہ ہے کہ وہ اب تک اپنے حقیقی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے سے باز رہے ہیں۔

    افغانستان کے اقتدار پر قبضے کے نو ماہ بعد شاید طالبان کو اچھی طرح احساس ہوگیا ہے کہ ان کی حکومت کو عالمی سطح پر فی الحال تسیلم کیے جانے کے کوئی آثار نہیں ہیں، جب بھی ان کے اقتدار کو تسلیم کرنے کا موقع آیا، تو اس کے لیے پہلے ان کو اپنے نظریاتی اصولوں پر سمجھوتہ کرنا ہوگا جس کے لیے وہ برسوں لڑتے رہے ہیں۔

    بظاہر، افغان طالبان دنیا سے متعلق اپنے نقطہ نظر کو تبدیل کرنے اور جدید عہد کے متقاضی ایک سیاسی چہرہ بننے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ سیاسی چال کے طور پہ یا اپنے نظریاتی تقاضوں کی اساس پہ، اب انہوں نے رفتہ رفتہ اپنے حقیقی ایجنڈے پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ ان اقدامات کا حقیقی محرک کیا ہے وہ آنے والے دنوں میں واضح ہوجائے گا۔ جیساکہ توقع کی گئی تھی، ابتدا افغان خواتین پر پابندیوں کے ساتھ کی گئی۔ ان پر بہت سی سرکاری ملازمتوں کے حصول، ثانوی تعلیم کے حصول اور شہر سے یا ملک سے باہر اکیلے سفر کرنے پہ پابندیاں عائد کرنے کے بعد، اب ایک نیا حکمنامہ جاری کیا ہے: عوامی مقامات پر عورتیں خود کو سر سے پاؤں تک ڈھانپنے کے لیے برقع پہنیں۔

    افغانستان طالبان کی قیادت میں ایک ایسی ریاست بن چکا ہے جسے زیادہ تکلف میں پڑے بغیر اور من مرضی کے اقدامات کے ساتھ مکمل آزادی و تعاون سے لطف اندوز ہونے کی خواہش ہے۔ بین الاقوامی برادری کے ساتھ ربط و میل جول  کچھ مخصوص ذمہ داریاں بھی کندھے پر لاگو کرتا ہے، جن میں انسانی حقوق اور دو طرفہ تعلقات کے ضمن میں عالمی قانونی و سیاسی اصولوں کو تسلیم کرنے کا مطالبہ شامل ہوتا ہے۔ اس سے بعض اوقات ریاستوں کے اندرونی سماجی اور سیاسی اصول وروایات متأثر ہوتے ہیں۔

    ستم ظریفی یہ ہے کہ طالبان کی اُفتادِ طبع افغانستان کو ناکامی سے دوچار کررہی ہے لیکن پاکستان میں ان کے حامی افغانستان میں سخت مذہبی حکمناموں کے نفاذ پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔

    طالبان کا خیال تھا کہ وہ خواتین کی تعلیم اور تکثیریت پسند سیاسی ڈھانچے کی تشکیل بارے ڈانواڈول قسم کے وعدے کرکے عالمی برادری کو چقمہ دیدیں گے۔ انہوں نے سوچا ہوگا کہ امریکا کی جانب سے منجمد اثاثوں کو جاری کرنے اور چند اہم ریاستوں کی طرف سے باضابطہ تسلیم کیے جانے کے بعد وہ اپنے اصل ایجنڈے کی تنفیذ کے لیے آگے بڑھیں گے۔ کچھ لوگ شاید سمجھتے ہوں کہ طالبان کی قدامت پسند ذہنیت کو عالمی حقائق کے مطابق ڈھالنے میں وقت لگے گا، لیکن یہ بات کیسے نظرانداز کی جاسکتی ہے کہ وہ تو سکیورٹی سے متعلق اپنے پڑوسی ممالک کے تحفظات کو دور کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔

    طالبان حکومت عسکریت پسند  گروہ ’دولت اسلامیہ خراسان‘ کی طرف سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے اور یہ عنصر اب افغانستان کے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔  ’داعش خراسان‘ وسیع تر علاقائی اور نظریاتی عزائم کا حامل گروہ ہے اور یہ طالبان حکومت کے لیے اندرونی مسائل پیدا کر رہا ہے۔ حالانکہ بین القوامی برادری بالخصوص چین، روس، پاکستان، اور وسطی ایشیائی ریاستیں پرامید تھیں کہ طالبان حکومت داعش خراسان کے علاقائی عزائم کی راہ میں مؤثر رکاوٹ بن سکے گی۔

    طالبان قیادت نے بلند بانگ دعوے کیے تھے کہ وہ چند ہفتوں کے اندر داعش خراسان کا صفایا کردیں گے۔ تاہم اس گروہ نے مبینہ طور پہ نہ صرف پاکستان، تاجکستان اور ازبکستان میں اپنی کاروائیوں میں اضافہ کیا ہے بلکہ اس نے خود طالبان کے لیے بھی سکیورٹی کے چیلنج کو پیچیدہ بنادیا ہے۔ داعش افغانستان بھر میں شیعہ برادری کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے جس سے طالبان کے خلاف غصہ بڑھتا جا رہا ہے، انہوں نے تمام افغانوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

    پاکستان کو خصوصی طور پہ کالعدم تحریک طالبان کے بارے میں بہت زیادہ تشویش ہے، جسے طالبان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ یہ گروہ پاکستان میں سکیورٹی اہلکاروں کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔ صرف اپریل کے مہینہ میں تحریک طالبان پاکستان اور اس سے منسلک عسکریت پسندوں نے 19 دہشت گردانہ حملے کیے اور ایک سرحد پار سے حملہ کیا گیا۔ پاکستان نے افغان حکومت سے کہا کہ وہ ’پاک افغان سرحدی علاقے کو محفوظ بنائے اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کرے‘۔ اس سے قبل افغان حکام نے خوست اور کنڑ صوبوں پاکستان کو فوجی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ پاکستان نے افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان کی قیادات کو نکالنے کے لیے طالبان کو قائل کرنے کی جو کوششیں کیں ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

    افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے عناصر کو حوالے کرنے یا انہیں پاکستان پر حملہ کرنے سے روکنے کے لیے کوئی خاطرخواہ کوششیں بروئے کار نہیں لائیں۔ اگرچہ ٹی ٹی پی نے عید کے لیے ہونے والی جنگ بندی میں توسیع کی تھی جس کا مقصد حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کرنا تھا، مگر کچھ میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان پہلے ہی جنگ بندی اور امن مذاکرات کو جاری رکھنے کی قیمت چکا چکا ہے، جیساکہ ابھی حال ہی میں دو عسکریت پسند کمانڈر مسلم خان اور محمود خان افغان ثالثوں کے حوالے کیے گئے۔ جنوبی وزیرستان میں ایک بڑے جرگہ نے پاک فوج اور ٹی ٹی پی کے مابین مذاکرات کرانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، ان کا موقف ہے کہ دونوں اظراف کے درمیان تصادم کا سب سے زیادہ نقصان قبائلیوں کو ہوتا ہے۔

    جرگے کو کچھ حقیقی خدشات ہوسکتے ہیں۔ لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ تحریک طالبان پاکستان بارے ریاست کی پالیسی کیا ہے: کیا ریاستی ادارے خطرے کو جڑ سے اکھاڑنا چاہتے ہیں یا اسے ایک ایک غیرمتشدد تحریک میں بدلنا چاہتے ہیں جو قوم پرستی پر مبنی کسی بھی تحریک کا مقابلہ کرسکے؟ مقاصد جو بھی ہوں یہ البتہ واضح ہے کہ ایک دہشت گرد گروہ کے ساتھ مذاکرات نے اسے ایک مجاز حیثیت عطا کی ہے اور پاکستان کے سکیورٹی چیلنج کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سرحد پر کشیدگی اور اس کے نتیجے میں پاک افغان دو طرفہ تعلقات میں تناؤ صرف عسکریت پسندوں کے حق میں ہے جس سے انہیں موقع ملے گا کہ وہ صورتحال سے فائدہ اٹھائیں اور مزید افراتفری کا ماحول پیدا کرسکیں جس میں کہ وہ بہتر طور پہ اپنا کام انجام دے سکتے ہیں۔

    افغانستان کے اقتصادی اور سفارتی چیلنجز سے نمٹنے میں طالبان کی ناکامی اور اس سے برآمد ہونے والے نتائج کے بارے میں بھی پاکستان کو تشویش ہے۔ ’انٹرنیشنل کرائسس گروپ‘ کی ایک حالیہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کی معاشی ابتری پاکستان کو تجارتی تعلقات بحال کرنے کے مواقع سے محروم کر رہی ہے، اور یہ اقتصادی ابتری لاکھوں غریب افغانوں کو پاکستان میں پناہ اور روزی روٹی کی تلاش کے لیے آنے پر مجبور کرسکتی ہے۔

    بتدریج پاکستان کا طالبان پر اثرورسوخ کم ہوتا جا رہا ہے، لیکن بین الاقوامی برادری اب بھی پاکستان سے یہ توقعات لگائے ہوئے ہے کہ وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے انسانی حقوق کا احترام کرنے اور انسداد دہشت گردی کے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے طالبان کو قائل کرے۔ تاہم افغان خواتین پر پابندیوں کے اقدامات سمیت حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان اپنے نظریاتی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اپنا قدامت پہلو آشکار کرتے رہیں گے۔ داعش خراسان نے طالبان کے لیے بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدوں کا ایفا اور بالخصوص سکیورٹی کے معاملات میں پڑوسی ممالک کی توقعات کی تکمیل کو مشکل بنا دیا ہے۔

    ستم ظریفی یہ ہے کہ طالبان کی اُفتادِ طبع افغانستان کو ناکامی سے دوچار کررہی ہے لیکن پاکستان میں ان کے حامی افغانستان میں سخت مذہبی حکمناموں کے نفاذ پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔

    بشکریہ: روزنامہ ڈان، مترجم: شفیق منصور

    افغانستان طالبان
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسِکھ برادری ہدف کیوں؟
    Next Article ’’میرجان‘‘ ایک ناول نہیں بلکہ تاریخ ہے جسے ہمیشہ زندہ رہنا ہوتا ہے
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by