Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»80 کی دہائی کا اسلام، اکیسیوں صدی اور ہم شہری
    کالم

    80 کی دہائی کا اسلام، اکیسیوں صدی اور ہم شہری

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولجون 30, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    میں جب یہ کہتا ہوں کہ ہمار ے اداروں میں 80 کی دہائی سے پہلے کا ماحول ہونا چاہیے تو بہت سے لوگوں کو میرے اسلام اور مسلمانیت پہ شک ہونے لگتا ہے۔

    ان کا خیال ہے بھٹو کا زمانہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ساز گار نہیں تھا اور ضیاءالحق صاحب کا زمانہ اسلامائزیشن کے لیئے آئیڈیل زمانہ تھا۔ تضادِ فکر کا یہ عالم ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے کریڈٹ پہ اسلامی سر براہی کانفرنس کا انعقاد، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا اور 73 کے آئین کی تیاری شامل ہے۔ اس میں علمائے کرام کا تعاون بھی اسمبلی میں حاصل رہا جن میں مولانا شاہ احمد نورانی، مفتی محمود اور غلام غوث ہزاروی اور ان جیسے کئی بڑے نام شامل تھے۔

    ضیاءالحق صاحب کی تشریف آوری کے بعد قوم سے 90 دن کے اندر الیکشن کرانے کا وعدہ کیا گیا اور وہ 12سال بحیثیت صدر برسرِ اقتدا رہے۔ ان بارہ سالوں میں انہوں نے اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے آرڈیننس جاری کیے۔ انہوں نے علماء کرام کے مختلف طبقات کی سرپرستی کی، مختلف گروہ ان کے دور میں مضبوط ہوئے۔ وہ جب دنیاسے رخصت ہوئے اس وقت ملک فرقہ وارانہ دہشت گردی میں گِھر چکا تھا۔ پاکستان پراکسی وار کا گڑھ بن چکا تھا۔ نوے دن کی وعدہ خلافی سے شروع ہونے والا سفر پاکستان کی اندرونی تباہی پہ منتج ہوا۔ ایسے بہت سے کارنامے ہیں جن کے نتائج سے آج بھی ہم نبرد آزما ہیں۔

    80 کے بعد کا پاکستان در حقیقت جمہوری اقدار و سوچ، حقیقی اسلامی روح، جدید ریاست کے تصور، قائد اعظم کے وژن، عوامی آزادی اور اجتماعی دانش سے محروم پاکستان ہے۔

    صدر ضیاء الحق سیاسی اور عوامی حمایت سے اقتدار میں نہیں آئے تھے۔ انہوں نے پاکستان کے نظام جمہوریت و سیاست پہ شب خون مارا تھا۔ اپنے پیش رو آمروں کی طرح پاکستان پہ قابض ہوئے تھے۔ ان کے اس عمل سے پاکستان ایک بار پھر جمہوریت اور سیاسی نظام سے محروم ہوا۔ نتیجتاً مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا، سزائیں دی گئیں او ر پھانسیوں پہ بھی چڑھایا گیا۔ ایک طرف جمہوریت، جمہوریت پسند اور سیاسی آزادی کے علمبرداروں پہ ظلم کیا گیا دوسری طرف ان کے مقابل مذہبی طبقے کی سر پرستی کی گئی۔ جنرل صاحب نے ان اقدامات سے اپنے لیے طولِ اقتدار کی راہیں آسان کیں لیکن اس پالیسی سے ملک میں مضبوط مذہبی گروہ بندیوں کی بنیاد رکھ دی گئی۔ جنرل صاحب نے مذہبی طبقے کی خواہش کے عین مطابق اسلام نافذ کردیا۔ قرار دادِ مقاصد اور آئین پاکستان کے مطابق کلچر، رہن سہن اور طرز ِزندگی تو بظاہر اسلام کے مطابق کردیا لیکن یہ سب جبراً کیا گیا، جس کے بعد کے مراحل میں  مثبت سے زیادہ منفی اثرات معاشرے پہ مرتب ہوئے۔ یعنی آمرانہ سوچ پورے معاشرے کا چلن بن گئ  ۔ڈنڈے اور بندوق سے منع کر نے اور روکنے کا کلچر وجود میں آ گیا۔

    سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ریاست کی حدود کا تعین کرنا ضروری ہے

    ریاست کی حدود کیا ہیں؟ کیا ریاست شہریوں کے معا ملات میں مداخلت کر سکتی ہے؟

    کیا غیر ریاستی گروہ یا افراد عوام کی ذاتی زندگی میں مداخلت کر سکتے ہیں؟

    ان سوالوں کا سادہ اور براہ راست جواب یہ دیا جانے لگا کہ امر با لمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ریاست کی ہی نہیں بلکہ دینی جماعتوں اور دینداروں کی بھی ذمہ داری ہے۔ لہذا مذہب کے نام پر مختلف گروہ وجود میں آگئے اور انہوں نے دعوی جتایا کہ لباس سے لے کر تعلیم تک، خوشی سے غمی تک، تجارت سے سیاست تک، ہر معاملے میں ہم بتائیں گے ریاستِ پاکستان کے شہری کیسے زندگی گزاریں گے اور معمولات زندگی کو کیسے لے کر چلیں گے۔ نہی عن المنکر کا عَلم ہر شخص نے تھام لیا کہ ضیاء الحق صاحب کے نافذ کردہ اسلام میں اسی سوچ اور رویے کی گنجائش نکلتی تھی۔

    صدر ضیاء الحق صاحب ظاہری طور پرمتدین دکھائی نہیں دیتے تھے لیکن نمازو روزے کے پابند تھے۔ ان کے نماز و روزے سے ریاست کا تعلق نہیں ہونا چا ہیے تھا اور انہیں اپنی محبتِ دین اور عقیدتِ علماء کو اپنے ذاتی عمل تک محدود رکھنا چا ہیے تھا لیکن انہوں نے اپنے تصورِ دین کے مطابق مختلف فرقوں کے علماءکرام کی نفاذِ اسلام کے لیے مداخلت قبول کی۔ وہاں سے پاکستانی ریاست ’تھیا کریسی‘ کے ڈھانچے میں ڈھلنے لگی۔ اسلام کے نام پہ مذہبی طبقہ حکومت و سیاست پہ اثر انداز ہوا۔ دوسری طرف امریکہ کی چاہت بھی یہی تھی کہ اسے افغانستان میں اپنے مقاصد پورے کرنے تھے۔ اس طرح جنرل مر حوم کے دور میں پاکستان مذہب کی لپیٹ میں آ گیا۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ ہونے کو ہے کہ ہم ان پالیسیوں سے نجات حاصل نہیں کر سکے۔ ایک طرف مذہبی طبقہ ہے جو زورآور ہے، دوسری طرف پاکستانی سماج ہے جس کی اکثریت مسلمان تو ہے لیکن اخلاقیات اور حقیقی اسلامی تعلیمات سے بیگانہ، ستم با لائے ستم یہ کہ ایسے سماج پہ اسلام کے نفاذ کی متنوع کوششیں و تحریکیں، یہ وہ مشکل اور ابہامات کا گھن چکر ہے جس میں ہمیں ضیاءالحق ڈال گئے۔

    اقدار و اخلاق کا اولین مخاطب سماج ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ علماء کرام اس کی اخلاقی تربیت و تعلیم کرتے۔ لیکن ہوا اس کے بر عکس، کہ دینی تعلیمات کو قتدار و ریاست کے ذریعے نافذ کر نے کی کوشش کی گئی۔ جس کا نتیجہ سامنے ہے۔ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں بلکہ اس سے بھی پیچھے ہیں، یہ وہ المیہ ہے جس کا ادراک و فہم بھی ہم میں سے بہت کم لوگوں کو ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شروعات معاشرے کی اصلاح و دعوت کے ذریعے تطہیر سے کریں۔ لوگوں کو آزادی فکر و عمل بھی دیں۔ ریاست صرف وہاں مداخلت کرے جہاں ’’مضرت‘‘ کو دفع کرنا مقصود ہو۔ ریاست کی ذمہ داری اپنے شہریوں کی جان مال اور آبرو کی حفاظت کرنا ہے۔ باقی معاملات میں شہری آزاد ہیں۔ اگر ریاست اس سے آگے قدم بڑھاتی ہے تو وہ اپنی حدود سے تجاوز کرتی ہے۔ جدید مسلم ریاستیں اپنے ہاں ریاست کی حدود طے کرچکی ہیں، ہمیں بھی اس طرف قدم اٹھا نا ہو گا ورنہ 80 کے دہائی کی پاکستان میں اکیسویں صدی کے شہریوں کا رہنا نا ممکن ہو جائے گا۔

    اسلامائزیشن سماج ضیاءالحق
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleاسلاموفوبیا: مسلمانوں کے باقی اقوام کے ساتھ تعلقات کی پیچیدگیاں
    Next Article ہندوتوا کے غیرروایتی حلیف
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by