زندگی تجربات سے بھرپور ہی رہتی ہے۔ سب سے اچھا تجربہ دانشمندوں اور محبت کرنے والے انسانوں کا ساتھ ہے ۔ جہاں آپ اپنے خیالات ، تصورات اور سوچ کو پوری دیانت اور آزادی کے ساتھ بیان کرسکیں۔ ایک ایسے وقت میں جہاں مصائب اور یاسیت نے ہمیں اپنے حصار میں رکھا ہے بلاشبہ اجتماعی دانش کے لیے ہمیں اکٹھا ہونا پڑے گا کہ یہی واحد حل ہے۔ یہ اتفاق نہیں تھا بلکہ حسن اتفاق تھا کہ ایک دن فون آتا ہے کراچی سے، کہا گیاآرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی دسویں عالمی اردو کانفرنس میں مجھے ایک مقالہ پیش…
Author: علی بابا تاج
ہمارا اختیار صرف اتنا ہے کہ ایک وقت میں کھڑے کھڑے ایک پیر اٹھا سکتے ہیں اور دوسرا نہیں، جبر و اختیار کا یہ ایک قدیمی اصول ہے۔ اصول کے خلاف جائیں گے تو ذمہ داری اپنی ہوگی۔ہماری بہت ساری پالیسیوں کا قریب قریب یہی حال ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اولادکو اتنا ڈانٹیں کہ اماں خوش ہو اور اولاد بھی دور نہ ہو۔ کافی دنوں سے ایک بات پر سوچ رہا تھا کہ ایک نامی گرامی کالم نگار کا کالم ”وائرل”ہوگیا۔ لب لباب یہ کہ اگر دوبارہ دھرنا ہوا تو پاکستان کا امیج خراب ہوگا۔ میں بھی اسی چیز…
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ ایک شخص نے کسی دوسرے شخص کو فٹ پاتھ پریا بیچ سڑک میں روکا ہوگا اور حال چال پوچھ رہا ہوگا۔حال پوچھنا بڑی اچھی بات ہے اور اپنے اخلاق سے دوسروں کو متاثر کرنا ہرگز بری بات نہیں ہے البتہ اخلاق کا مظاہرہ وہاں کرنا چاہیے جہاں دوسروں کی رفتار اور گفتارمیں فرق نہ آئے۔ورنہ ایسے میں انفرادی فعل کی وجہ سے اجتماع کا اخلاق خراب ہونے کا اندیشہ موجود رہتا ہے۔معاشرتی حدود و قیود میں کوئی بھی عمل انفرادی عمل نہیں ہوسکتا ہے یہ آفاقی اصول ہے۔ جب بات سمجھ میں نہیں آتی…
کون کس کی زلف کے سر ہونے تک جیتا ہے اسے تو غالب مرحوم و مغفور نے یوں حل کیا کہ جب آپ کی آہ سحرہونے تک اثر کرپائے گی تب۔ یعنی یہ عمر عزیز اسی سڑک پر کسی لال بتی کی پیچھے دوڑتی بھاگتی پھرے گی۔ خیر جب آپ واپس آئیں گے تو پوچھیں گے چن مکھناں نے رات کدھر گزاری تھی؟؟ دیکھا جائے تو ایسے ہی سوالات ہماری اجتماعی ذمہ داریوں کے ذخیرے میں جمع ہیں۔ ذخیرہ اندوزی میں منافع ہی نظر آتا ہے اگر سرمایہ کاری میں سے وقت کو منہا کیا جائے اور خسارے کے اس…
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ ان کے پسماندگان کی تعداد لاکھوں بنتی ہیں اور متاثرین کروڑوں میں موجود ہیں۔ یہ مبالغہ آرائی نہیں آپ خود ذرا اس نکتہ پر غور فرمائیں۔اس بات سے انکار تو کسی کو نہیں ہوگا کہ ظلم ہوا ہے۔مظلوم تو کہنے پر مجبور ہیں البتہ ظالموں کی ذمہ داری لینے کی خو بھی نہیں بدلی ہے۔ وہ نامعلوم افراد کے ذریعے مارتے ہیں پھر نامعلوم مقام سے فون کرکے ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور نامعلوم مقاصد کی تکمیل کا مذموم عزم بھی دہراتے…
معاشرہ وہی کامیاب ہوتا ہے جہاں عدل اور انصاف اساس کے طور پر شامل ہوتا ہے۔ سستا اور فوری انصاف ہی انسانوں کے احساس تحفظ کو بڑھاوا دیتا ہے اور انہیں وہ اعتبار دیتا ہے جس پر ایک انسان دوسرے انسان کے لیے مفید اور ہمدردانہ وجود رکھنے میں عار محسوس نہیں کرتا ۔ اس دنیا میں بہت سی اقوام ایسی ہیں جن کی تاریخ کو سیاہ ترین اوراگریہ کہا جائے کہ شرمناک رہی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔دوسری اقوام پر ظلم الگ لیکن انہوں نے اپنوں میں اور اپنوں پرسیاسی سماجی سطح پر ایسے ایسے ظلم ڈھائے ہیں…
بزرگوں سے سنا تھا کہ اس ملک میں کبھی سائیکل پر بتی نہ لگانے پر سخت چالان ہوتا تھا۔اسی طرح کبھی لوگ آوارہ گردی کے کیس سے ڈرتے تھے اب تو دہشت گردی کے کیس سے کم پر کوئی اپنی جگہ سے بھی نہیں ہلتا۔ ہمارایہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ جو لوگ اپنی ناک پر سے عام دنوں میں مکھی تک اڑا نہیں سکتے ہیں وہ غیر مثبت اور منفی ماحول کافوری حصہ بن جاتے ہیں جہاں اس کے جیسے بہت سے لوگ شامل ہوں۔ بالخصوص تخریبی اور متشدد ردعمل میں کسی سے بھی پیچھے نہیں رہتے ۔بلوائی غضب…
کچھ مسائل ہمارے اپنے ہی اجتماعی لاشعوری محرکات سے وابستہ ہیں جو اب اتنے پختہ ہوچکے ہیں کہ اب لگتا یہی ہے کہ ہم خود ہی نہیں چاہتے ہیں کہ کچھ سمجھ کرہی اس جہان فانی سے آنکھیں موند لیں ہمارے انسانوں کے عظیم فلسفی ژاں پال سارترنے نجانے کس ترنگ میں یہ کہا تھا کہ ہمیں آزاد رہنے کی سزا دی گئی ہے۔ یہاں ہم چونکہ مختلف النوع غلامیوں کے شکار لوگ ہیں سو اسی لیے آج تک اس بات کونہیں سمجھ پائے ہیں اور نہ ہی اسے محسوس کرسکے ہیں۔بیشتر علوم انسانی سے ہمیں جہاں دیدہ و نادیدہ…
’’ وطن عزیز کو ہیرو بھی کباڑی کے کوٹ کی طرح انگریزوں کے استعمال شدہ ہی ملے ۔جبکہ اصل ہیروکو بے رحمی سے نظر انداز کیا گیا‘‘۔ اردو کے نامور لکھاری اور افسانہ نگار آغا گل بلوچستان کے عشق کی وادیوں کے پیچ و خم کے پرانے راہی ہیں ۔ انہوں نے اپنے قلم اور موضوعات میں بلوچستان کے حسن اور یہاں کے متنوع پہلوؤ ں پر کوئی دقیقہ فروگزار نہیں کیا ہے۔بات وفاکی ہو یا بلوچستان سے اغماض برتنے والوں کی بے وفائیوں کی انہوں نے بلا کمی و کاستی اس سخت جان دھرتی کا حق کماحقہ ایک قلمکار…
یعنی جب موسیؑ نے اس چرواہے کو تلاش کیا تو اسے کہا کہ تیرے لیے خوشخبری ہے کہ تو کوئی آداب اور ترتیب اپنے اور خدا کے مابین مت رکھو جو بھی تیرا اداس دل چاہے کہہ دے۔ تیرا کفر بھی دین ہے اور یہ دین نور جان ہے تیرا امن دنیا کے امن کا ضامن ہے۔ کلام کرنا ایک فن بھی ہے اور مجبوری بھی۔ آج جتنی پیچیدگی پیدا ہوئی ہے وہ بولنے سے پیدا ہوئی ہے اور وہ بھی غلط بولنے سے۔ ابلاغ بولنے والا کا مسئلہ ہے نہ کہ سننے والوں کا ، وجہ چاہے سننے میں…
