Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»سافٹ امیج ، انکار کی نفسیات اور حقیقت
    کالم

    سافٹ امیج ، انکار کی نفسیات اور حقیقت

    علی بابا تاجBy علی بابا تاجدسمبر 10, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ہمارا اختیار صرف اتنا ہے کہ ایک وقت میں کھڑے کھڑے ایک پیر اٹھا سکتے ہیں اور دوسرا نہیں، جبر و اختیار کا یہ ایک قدیمی اصول ہے۔ اصول کے خلاف جائیں گے تو ذمہ داری اپنی ہوگی۔ہماری بہت ساری پالیسیوں کا قریب قریب یہی حال ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اولادکو اتنا ڈانٹیں  کہ اماں خوش ہو اور اولاد بھی دور نہ ہو۔
    کافی دنوں سے ایک بات پر سوچ رہا تھا کہ ایک نامی گرامی کالم نگار کا کالم ”وائرل”ہوگیا۔ لب لباب یہ کہ اگر دوبارہ دھرنا ہوا تو پاکستان کا امیج خراب ہوگا۔  میں بھی  اسی چیز پر سوچ رہا تھا۔امیج یا تصویر کیا ہوتی ہے؟ ایک ملک کا اپنا امیج کیا ہوتا ہے ؟ پھر ہر بات پر کوشش کرنا کہ پاکستان کا سافٹ امیج قائم ہونا ضروری ہے۔ یقیناًضروری ہے بلکہ ہمارا مقصد اور ہدف بھی یہی ہونا چاہیئے۔شرط صرف یہ ہے کہ اس سافٹ امیج کو ہم بھی سمجھیں۔

    سب سے پہلے عرض ہے کہ یہ سافٹ امیج والی اختراع ہماری اپنی اصطلاح ہے ،مجھے کم از کم ایک طالب علمانہ تجسس کے بعد بھی اس کی سند نہیں مل پائی۔ البتہ اس کا ادراک بھرپور ہے کہ اس کی ہمیں اتنی دہرائی کروائی گئی ہے کہ اس کی توضیح و تشریح کو ماننا ہی پڑرہا ہے ۔ اس کو کس نے اور کیا سوچ کر بنایا ہوگا اس کے پیچھے نہیں جاتے ،لیکن عموما گرافیکس اور فلم سازی میں استعمال ہونے والی یہ  اصطلاح  ہماری زندگیوں کو خیالی دنیا میں لے کر گئی ہے۔سائینٹفک اور تعقل پسندی کے علاوہ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم کہیں کچھ مجسم کرسکیں۔تصور بنیادی عنصر ہے اس کے بغیر ترقی و پیش رفت فی زمانہ مفقود ہے۔ایسا سوچنا محض ایک خواہش ہی ہوسکتا ہے۔
    یہ جو ہمارے قومی کالم نگار نے جس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ کسی ایسے کام سے امیج خراب ہوسکتا ہے تو یقیناًدرست کہا ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اوپری اوپری امیج بنانا ہی ہمارا کام رہ گیا ہے؟ ہمارے سارے اجتماعی کاموں میں کام ہو نہ ہو، نام ضرور ہونا چاہیے اور وہ نیک نامی پر ہی منتج ہو،  نہ کم نہ زیادہ بے شک نیت ہی اس کا م کی خراب رہی ہو۔ نفسیاتی طور پر ہم نے انکار کی نفسیات کو اختیار کیا ہے یعنی ہر حقیقت کو ڈینائی ہی کرتے آرہے ہیں۔ راقم کا خیال ہے کہ اگر حقیقت کو تسلیم کرکے اس پر صادقانہ کام کیا جائے تو سافٹ امیج بنانے پر صرف ہونے والی توانائی یوں ضائع نہ جائے۔ ایسے سافٹ امیج کا کیا فائدہ جو ہم دوسروں کے لیے بناتے ہیں اس سے بہتر ہے کہ ہم اپنی صورت حال کی تعمیر پر توجہ دیں۔
    سافٹ امیج سے یاد آیا کہ جن حالات کے یہاں سبھی شکارہیں اور معاشرہ تنزل کے جن مدارج کو طے کرچکا ہے، اس میں طفل تسلیوں اور ڈانٹ ڈپٹ سے کام نہیں چلے گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا دور ہے، حقیقت سے روبرو ہونا، سیکھنا اور اپنی سمت درست رکھنے میں کوئی برائی نہیں۔ تصور کریں اور نتائج کے بارے میں سوچیں تو راستہ صاف دکھائی دے گا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleغلبہ اسلام کی جدوجہد اور اسلامی تحریکوں کے تصورات
    Next Article نواز شریف کا نظریہ
    علی بابا تاج

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by