Author: علی بابا تاج

شاپر ڈبل کردیں بھائی!۔۔۔ یہ جملہ ہم میں سے ہر شخص شعوری و لاشعوری طور پر کوئی بھی سودا سلف لیتے وقت ادا کرتا ہے۔ اب آتے ہیں کہ اس کا بعد ہم کرتے کیا ہیں ان ڈبل شاپروں کا۔۔۔ گھر آتے ہی ایک آدھ شاپر کی گرہیں کھولتے ہوئے انہیں پھاڑ ڈالتے ہیں اور ڈسٹ بن میں ڈال لیتے ہیں۔ ساتھ ہی ہر گھر میں ایک ایسا شاپنگ بیگ بھی ہوتا ہے جس میں انواع و اقسام کے چھوٹے بڑے شاپنگ بیگ پڑے ہوتے ہیں وہ بھی اس امید پہ کہ یہ کسی دن تو کام آئیں گے۔ پاکستان…

Read More

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ”The limits of my language mean the limits of my world ” زبان کی اہمیت پر شاید دنیا کے کسی اور جملے میں اس سے زیادہ جامع اور اس سے زیادہ سادہ بیان ملتا ہو۔ اگرچہ میری بات اس جملے کے ساتھ ختم ہوجانی چاہیے تھی لیکن چند ایک گزارشات پیش کرنا ضروری ہے کہ جن سے مادری زبان کی اہمیت اور بالخصوص پاکستان میں اس کی صورت حال پر بالاختصار بات کی جاسکے اور کچھ نئی پرانی تجاویز بھی دی جاسکیں۔ پاکستان میں جن مسائل سے ہم بخوبی شناسائی رکھتے ہیں ان…

Read More

کوئٹہ بلوچستان کی ادبی و شعری صورتِ حال میں نوجوانوں کا حصہ بقدرِ جثہ بہت شاندار رہا ہے۔ ناموں کی ایک طویل فہرست میں احمد وقاص کا نام بلاشبہ نمایاں ترین ناموں میں شامل ہے۔ احمد وقاص نے مستقل مزاجی کے ساتھ نہ صرف شعر و ادب کے میدان میں اپنے آپ کو فعال رکھا ہے بلکہ اپنی شعری تصانیف کے توسط سے براہ راست اور بھرپور ساجھے داری بھی کی ہے۔ احمد وقاص کی تازہ تصنیف پر لکھنے سے پہلے بتاتا چلوں کہ کوئٹہ میں ابھی میری نسل اور قریب قریب میرے ہم عمروں نے اڑان بھری ہی تھی…

Read More

جب سے انسان کی پیدائش ہوئی ہے اورجب سے وہ اپنے وجود سمیت تمام خارجی وجودات سے رُوبرو ہوا ہے تب سے اسے مختلف سوالات نے گھیر رکھا ہے۔مختلف النوع سوالات کے اس گھمن گھیر سے نکلنے کے لیے اس کی بے پایاں شعوری کوششوں میں سے ایک کوشش اشیا و مظاہر کو سمجھنے اور ان کی شناخت کرنے کی رہی ہے۔یہ بات مسلمہ ہے کہ انسان چشمِ بصیرت کھولتے ہی اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہے، خود کو ٹٹولتا ہے ،اپنا سایہ دیکھتا ہے اور آئینے سے روبرو ہو کر حیرانی کا اظہار کرتا ہے۔پہلے پہل یقینا…

Read More

کوئٹہ کا سب سے بڑا مسئلہ بدامنی کے بعد پانی کا بحران ہے۔ یہاں کے باسیوں کی بقا اور زندگیوں کا دارومدار اسی پر ہے۔ سیاست اسی پر جیتی جارہی ہے اور اسی پہ ہاری جارہی ہے۔ چھوٹی موٹی گھریلو بچت تک اسی پر ہورہی ہے کہ نجانے کب پانی کا ٹینکر منگوانا پڑے۔ پانی کے بحران پر ایک بہت بڑا کاروبار مضبوط شکل میں سامنے آرہا ہے۔ کوئٹہ جس سے سمندر ہزاروں کلومیٹر دور ہے تو قریب قریب ہزار سال پہلے تک بھی کوئی دریا بہتا ہوا چھو کر بھی نہیں گزرا ہے۔ وہی چشمے تھے جو اب فقط…

Read More

قارئین! آپ پاکستان میں جس بھی شہر یا دیہات میں رہتے ہیں، کبھی آپ نے اپنے اردگرد غور کیا ہے کہ جتنے بھی سائن بورڈز لگے ہیں ان پر کتنے اور کیسے کیسے پوسٹر چسپاں ہیں اور دیواروں پر کیا کیا کچھ لکھا اور لگا ہوا نظرآتا ہے؟ آپ نے کبھی سوچا کہ یہ سب ہمارا مشترکہ اثاثہ ہیں؟ آخر وہ لوگ کون ہیں جو ان کو بدنما کرتے ہیں؟ اور آپ کون ہیں جو اس پر چپ سادھ چکے ہیں؟ کیا ایسا ہونا چاہیئے؟   ہم ایسا ہر گز نہیں چاہتے ہیں کہ ہمارا اردگرد کا ماحول بدنمائی کی مجسم…

Read More

فیصلے میں آیا پانی پر جھگڑا ہوا ، گواہوں نے ہر ایک سے بڑھ چڑھ کر گواہی دی تاآنکہ کیس مشکوک ہوگیا۔ فیصلہ پسند نہیں آیا اور پانی کا کیس ملک بھر میں آگ لگا گیا۔لوٹ مار ہوئی، املاک، گاڑیاں جلائی گئیں اور وحشت کا راج شروع ہوا۔ مرنے مارنے کے لیے اشتعال دلایا گیا اورفتووں اور فتووں کے بغیر ملک بھر میں مختلف لوگوں نے مرغی کی ایک ٹانگ پر کھڑے رہ کر میں نہ مانوں والی رٹ لگانی شروع کی ۔ایک متشددانہ رویے کے لیے سازگار معاشرہ میں لوگوں کی جان اور ان کا مال محفوظ کہاں رہ…

Read More

کسی بھی جگہ جہاں دفعہ ایک سو چوالیس کا اطلاق ہوتا ہے وہاں چار یا چار سے زیادہ افراد بلاتخصیص جنس و عمر موبائل فون میں مصروف نظر آتے ہیں اور اردگرد سے بے خبر رہتے ہیں جو بظاہر دنیا سے آگاہی اورملک میں آئی ہوئی تبدیلی کی خبروں کا شوق فرما رہے ہوتے ہیں۔بیچ بیچ میں کوئی لطیفہ اور خبر ایک دوسرے کو سنا بھی رہے ہوتے ہیں اور ہوں ہاں اورچھوٹے موٹے تبصروں پر بالعموم اکتفا کیا جاتا ہے۔ خدا نہ کرے کہ پرانے پاکستانی اور نئے پاکستانی آپس میں الجھ پڑے تو ڈالر کی قیمتوں پر ہی…

Read More

کیا وحشت ہے؟ ہر روز ایک خبر نکل آتی ہے، سات مہینے کے بچے سے بھی زیادتی ہوتی ہے تواسی میں ستر سال کا بوڑھا بھی اپنی شرمناک حرکت کی وجہ سے پکڑا جارہا ہے۔ سوال یہ  ہےکہ ہمارے معاشرے میں یہ وبا پھیلی کیسے؟ گلی گلی مورال پولیسنگ کرتے لوگ ہیں، سال بارہ مہینے اخلاقیات کا دھندہ چل رہا ہے۔ سزا و جزا حکومت کے ہاتھ میں بھلے سے کم نظر آتی ہے لیکن لوگ فوری ردعمل میں اکھٹے ہوکر مارپیٹ میں اپنا حصہ ضرور ڈالتے ہیں۔ بے شک بعد میں واقعہ کا پتہ چلے وقوعہ پر ہونا چاہییے۔جب…

Read More

ہمارے دوستوں میں ایک بہت ہی اچھے دوست جن کے تعارف میں روایتی طور پر یہ کہا جائے کہ وہ بنیادی طور پر شاعر ہیں اور فکشن  میں آج کل بڑا نام کماچکے ہیں، شاید کافی نہ ہو لیکن وہ ہیں اختر رضا سلیمی جو ایک حساس دل رکھنے والے انسان اور مہربان دوست  ہیں۔ اپنے گہرے مشاہدے اور مطالعہ کی وجہ سے ہمیں بہت عزیز ہیں۔ اسلام آباد آنا ہو تو کوشش ہوتی ہے کی ان کی دوستانہ صحبت کا ناغہ نہ ہو، ابھی ان کا تازہ ترین ناول "جندر "چھپ چکا ہے۔  ناول اگرچہ ضخیم نہیں لیکن جوں…

Read More