Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»ایک بے تکلف مکالمہ اور تاریخ کی دہرائی
    کالم

    ایک بے تکلف مکالمہ اور تاریخ کی دہرائی

    علی بابا تاجBy علی بابا تاجستمبر 8, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    کون کس کی زلف کے سر ہونے تک جیتا ہے اسے تو غالب مرحوم و مغفور نے یوں حل کیا کہ جب آپ کی آہ سحرہونے تک اثر کرپائے گی تب۔ یعنی یہ عمر عزیز اسی سڑک پر کسی لال بتی کی پیچھے دوڑتی بھاگتی پھرے گی۔ خیر جب آپ واپس آئیں گے تو پوچھیں گے چن مکھناں نے رات کدھر گزاری تھی؟؟ دیکھا جائے تو ایسے ہی سوالات ہماری اجتماعی ذمہ داریوں کے ذخیرے میں جمع ہیں۔ ذخیرہ اندوزی میں منافع ہی نظر آتا ہے اگر سرمایہ کاری میں سے وقت کو منہا کیا جائے اور خسارے کے اس بیوپار میں قوموں کی زندگیوں میں سے تاریخ کو نکال دیں گے تو خیر خیریت ہے۔البتہ یہ ایسے نانا پاٹیکیری ڈائیلاگ کا فائدہ لمحاتی ہے۔

    اردو کا ایک آفاقی شعر ہے جس کو کسی محدودہ میں لانے سے اس شعر کا حسن  تو خراب نہیں ہوتا البتہ اپنی سوچ کی خوبصورتی متاثر ضرور ہوتی ہے۔یہ شعر یوں تو ہر نوبالغ مقرر نے اپنی تقاریر میں پڑھا ہوگا، یہاں اسے درج کرنے کا مقصد یہ کہ اسے پڑھیں ضرور لیکن کسی بھی قسم کی نفسیاتی و روحانی وابستگی سے قطعی طور پر ہٹ کر پڑھیں۔

    وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

    کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

    جی کرتا ہے کہ اس کے مشکل الفاظ کے معنی درج کئے جائے کہ وائے تاسف اور افسوس کے لیے استعمال ہوتا ہے، متاع مال و اسباب کو کہا جاتا ہے زیاں کامطلب نقصان ہے اور احساس زیاں سے مراد یہاں یہ ہے کہ افسوس اس ناکامی پر کہ کارواں کا کارواں لٹتا گیا اور کارواں والوں کے دلوں سے اس نقصان کا احساس تک ختم ہوتا گیا۔ خیر یہاں نہ تو اس کے مشکل الفاظ بیان کرنے کا موقع ہے نہ اسے سلیس اور آسان کرنے کا محل ، البتہ اتنا کہ یہ شعر نہ بوسیدہ ہوا ہے نہ پوسیدہ وجہ شایدوہی ہے کہ ہمیں اپنے سوالات پیارے ہیں۔یہ یاد رکھا جائے کہ تاریخ کسی نظر، نظریے یا خواہش کی پابند نہیں۔یہ آزاد ہے اور آزاد انسانوں کو پسند کرتی ہے۔فرض کرتے ہیں کہ یہ اپنے آپ کو دہراتی ہے تو مڑ کو انہی کو دیکھتی ہے جو خود کو دہراتے ہیں۔اب اگر میں یہ کہوں کہ غالب مرحوم و مغفور کے دیوان میں ہمارے جملہ امراض کے اشارے ملتے ہیں تو برا منت مانیں کہ ایسا ہی ہے۔ ایسے ہی موقع پر انہوں نے یہ کہا ہے:

    دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا

    یاں آپڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں

    بادی النظر میں واقعی  ہمیں بھی یہ خوش فہمی ہے کہ ہماراکھاتہ زندگی سے لبالب ہے۔ایسا نہیں یہ اکاﺅنٹ dormant ہوچکا ہے۔غالب مرحوم و مغفور خدا کے حضور پوری طرح سے شرمندہ و خجل ہیں کہ یہ ٹھیک ہے کہ خدا بے شک رحیم و کریم ہے اور اس نے ہمیں ہر نعمت سے بہرہ یاب رکھا ہے لیکن ہم تو جس طور یہاں اپنی زندگیاں گزار چکے ہیں اب تو شرم آتی ہے کہ اگر دوبارہ زندگی گزارنی پڑ جائے تو کرنے کو ہمارے پاس کیا ہوگا ؟ اب تک کی جو کارکردگی ہے اور کارستانی اس میں تو کوئی دوسری رائے پیش نہیں کرنا چاہتا کہ مجھ سے پہلے آپ نے سوچ لیا ہوگا ، آپ سے پہلے اوروں نے بھی رائے قائم کرلی ہوگی۔اللہ معاف کرے اگر میرے ایک دوست کو اس بے تکلف گفتگو کا پتہ چل جائے تو وہ ہماری اس طرح کی زندگیوں کے کھاتے کو کھوہ کھاتہ بنانے میں تامل نہیں کرے گا۔ شکر ہے اس کا کوئی فیس بک اکاﺅ نٹ بھی نہیں، یعنی وہ ہے ہی نہیں۔

    ایک تو مصیبت یہ ہے کہ شعر کہے بغیر بات ادھوری لگتی ہے تو دوسری طرف جنوبی ایشیا میں شعر کہہ کہہ کر بات کرنے میں تاثر تو پیدا کرلیا گیا ہے لیکن شدت ختم ہوگئی۔ کاش شعر کہنے سے شدت پسندی بھی ختم ہوجاتی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبھارت،چین مخاصمت
    Next Article اسلامی شدت پسند تنظیمیں اور بریکس
    علی بابا تاج

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by