Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»فٹ پاتھ ، بادام اور قابل لوگ
    کالم

    فٹ پاتھ ، بادام اور قابل لوگ

    علی بابا تاجBy علی بابا تاجدسمبر 1, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ ایک شخص نے کسی دوسرے شخص کو فٹ پاتھ پریا بیچ سڑک میں روکا ہوگا اور حال چال پوچھ رہا ہوگا۔حال پوچھنا بڑی اچھی بات ہے اور اپنے اخلاق سے دوسروں کو متاثر کرنا ہرگز بری بات نہیں ہے البتہ اخلاق کا مظاہرہ وہاں کرنا چاہیے جہاں دوسروں کی رفتار اور گفتارمیں فرق نہ آئے۔ورنہ ایسے میں انفرادی فعل کی وجہ سے اجتماع کا اخلاق خراب ہونے کا اندیشہ موجود رہتا ہے۔معاشرتی حدود و قیود میں کوئی بھی عمل انفرادی عمل نہیں ہوسکتا ہے یہ آفاقی اصول ہے۔

    جب بات سمجھ میں نہیں آتی تو ہم اپنے آپ کو طفل تسلی دے کر اپنے دوسرے کاموں میں لگ جاتے ہیں لیکن اگر ہماری بات دوسروں کو سمجھ نہیں آتی تو ہم ڈانگ لے کر اس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر مسئلہ کیا ہے؟ تو مسئلہ کچھ بھی نہیں ہوتا ہم خود بناتے ہیں۔اپنی آنکھوں کے شہتیروں کو دیکھنا اس وجہ سے اچھا ہوتا ہے کہ اس طرح سے دوسروں کی آنکھ کاتنکا زیادہ واضح نظرآنا شروع ہوگا۔

    ایک ایسے معاشرے میں جہاں بادام صرف اس وجہ سے کھائے جائیں کہ عقل آجائے وہاں احساس ختم ہوسکتا ہے۔کوئی بھی معاشرہ اس وقت تہذیب و اخلاق میں اعلیٰ مقام حاصل کرسکتا ہے جہاں خواتین اور ذہنی معذوروں کے وجود کا احترام کیا جائے۔

    ایک بدترین لیڈر (یہاں سربراہ، رہنما بھی لکھا جاسکتا تھا لیکن بوجوہ لیڈر ہی پڑھا جائے) اپنے پیچھے برائی ہی چھوڑتا ہے جسے ختم کرنے کے لئے اس برے شخص کی مدت سے زیادہ عرصہ درکار ہوتا ہے ۔دنیابھر کے کلاس رومز میں ایسے کئی انسان گزرے ہیں جنہوں صرف اپنی ڈیسکوں پرہی اپنا نقش چھوڑا ہے۔ایک جگہ سے کچرا اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے دوسری جگہ لے جایا جائے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جہاں انسان رہتے ہوں وہاں صفائی ہی نہ کی جائے۔گندگی اور سادگی میں بال جیسا فرق ہوتا ہے۔اب اس پر عمل کیا جائے نہ کہ بال کی کھال اتاری جائے۔لکھاریوں کو چاہیئے کہ قارئین پیدا کریں۔ لوگوں میں پڑھنے کی تحریک شروع کی جائے۔بعض لوگ اپنی زیادہ قابلیت کی وجہ سے تساہل پسندوں کو موقع دیتے ہیں کہ وہ کام نہ کرنے کا جواز پائے۔ایک ذمہ دارشخص اس لئے بھی جواب دہ ہوتا ہے کہ یہ بھی اس کی ذمہ داری ہے۔روز کچھ نہ کچھ پڑھنا چاہیے سوچنے کے لئے بے شک وقت نکال لیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاک افغان تعلقات : بدلتی حرکیات اور مستقبل
    Next Article یوم ولادتِ رسولﷺ۔۔۔ایک پُر مسرت دن
    علی بابا تاج

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by