Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»شناخت : پنجاب کا تناظر
    تما م آرٹیکلز

    شناخت : پنجاب کا تناظر

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاکتوبر 20, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔28 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    یه مکالمه پنجاب کی سماجی، ثقافتی اور تاریخی شناخت کے گرد گھومتا ہے، جہاں عامر رانا نے معروف دانشور، ادیب اور کالم نگار مشتاق صوفی سے پنجاب کی فکری و ثقافتی حرکیات، زبان، مذہبی تنوع اور قومی شناخت کے مسائل پرگہری گفتگو کی۔ مشتاق صوفی نے پنجاب کی شناخت پر سامراجی اثرات تقسیم پنجاب کے زخم اور اردو کے غلبے کے نتائج کو تفصیل سے بیان کیا، ساتھ ہی صوبائی اور قومی بیانیے کے تناظر میں پنجابی شناخت کے فقدان پر روشنی ڈالی۔ یہ انٹرویو پنجاب کے ماضی، حال اور مستقبل کے امکانات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم دستاویز ہے، جو خطے کی ثقافتی، لسانی اور سیاسی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے۔

    سوال: جن سوالوں کے جواب ہم تلاش کرنے نکلے تھے وہ ہمیں بلوچستان اور سندھ سے اب پنجاب میں لائے ہیں اور پنجاب میں لاہور۔ اور چونکہ ان سوالوں کی نوعیت جو ہے وہ ہمارے سوچنے کے انداز سے ہے کہ کیسے ہم سوچتے ہیں، اس کا expression کیا ہے۔ تو اس حوالے سے ہم نے سوچا کہ مشتاق صوفی سے بہتر ہمیں کون ہو سکتا ہے کہ بتائیں پنجاب سوچتا کیسا ہے۔ اور یہ پنجابیت جسے باقی پاکستان میں کہتے ہیں وہ ہے کیا۔ اور کیا پنجابی بھی کسی پنجابیت کے concept کے اوپر یقین رکھتے ہیں یا نہیں۔ مشتاق صوفی کافی عرصے سے لکھ رہے ہیں DAWN میں۔ اور بہت ہی اہم ثقافتی اور فکری حوالے سے۔ اور پنجاب کی جو پوری ایک روایت ہے اس کے حوالے سے کالم لکھتے ہیں۔ ڈرامہ سے، شاعری سے تعلق ہے۔ تو تعارف میں نے خواہ مخواہ کروا دیا۔ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ تو پہلا سوال ہم یہی کریں گے کہ کیا پنجابی باقی پنجاب سے علیحدہ سوچتا ہے یا ویسا ہی سوچتا ہے ؟

    جواب: شکریہ رانا صاحب۔ پہلے تو معاف کرنامیری اردو اتنی زیادہ اچھی نہیں ہے۔ کوشش کروں گا۔

    سوال: نہیں شروعات ہم اردو سے کرتے ہیں مگر آگے پنجابی اردو مکس کرتے رہیں گے۔

    جواب: جی ٹھیک ہے۔ سوچتا ! میرا خیال ہے کہ پنجاب فی الحال تو سوچتا ہی کم ہے۔ ان معنوں میں کہ وہ پنجاب بن کر نہیں سوچتا وہ مرکز یا federation بن کر سوچتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو تقاضے مرکز کے ہیں یا جو مرکزی ڈھانچہ جو ہے ریاست کا اس میں ، اس کی کافی نمائندگی ہے شاید ضرورت سے زیادہ ہے۔ اس لیے وہ مرکز جو ہے federation اس کی زبان میں بات کرتا ہے۔ اپنی جو صوبے کی بطور پاکستان کے حصے کے نہیں کرتا۔ تو اس لحاظ سے یہ دیکھنا پڑے گا کہ جو وہ بات کرتا ہے مرکز کے behalf پر کرتا ہے وہ کیا ہے اپنی بات کو چھوڑ چکا ہے۔ سو میرا خیال ہے یہ سمجھنا بڑا اہم ہے۔

    سوال: یہ بڑا ایک اہم سوال بنتا ہے کہ پنجاب کی اپنی بات کیا ہے۔ اور یہ کہ پنجاب کا اقتدار میں یا جو اشرافیہ میں حصہ ہے اس نے پنجاب کی شناخت کو، culture کو متاثر کیا ہے یا یہ پنجاب کے فائدے میں رہی ہیں یہ چیزیں

    جواب: دیکھیں رانا صاحب اس میں میرا خیال یہ ہے کہ اگر آپ تاریخ میں جائیں نا، ویسے تو بہت لمبی ہے۔ جو مسائل ہیں ہمیں۔ اس کی جڑیں جو ہیں وہ آپ اگر قدیم literature پڑھیں تب بھی آپ کو یہ conflict جو ہے زبان کا ، culture کا وہ اس میں بھی نظر آتی ہیں۔ لیکن at least یہ پچھلے سوڈیڑھ سو پونے دو سو سال سے جو سامراجی قبضہ ہوا، گورے آئے اس کے بعد سے تو بالکل واضح ہے جو تضادات ہوئے۔ اس میں ایک تو یہ پنجاب کا بڑا مسئلہ رہا ہے یہاں کا مذہبی تنوع۔ جس میں ہندو، مسلمان، سکھ، بدھ مت بھی تھے جواب ختم ہو گئے ہیں، عیسائی۔ اب ہوا یہ کہ یہ coexist تو کرتے رہے ہیں مگر ان کی harmony ایک ایسی harmony نہیں بن سکی جو ان کو اپنی ایسی مذہبی شناختوں سے اٹھ کر ایک قومی شناخت بنانے میں مدد دے۔ سوان کی mostly شناختیں مذہبی شناختیں ، communal شناختیں رہی ہیں۔ یہ آپس میں ملتے بھی رہے ہیں۔ لیکن ایک پنجابی شناخت جس میں سبھی شناختیں شامل ہوں اس کا فقدان رہا ہے۔ اچھا اس کو انگریزوں نے اور زیادہ گہرا کیا ہے۔ مثلاً جب یہاں آئے انہوں نے غیر ملکی زبانیں سیکھی کی ہیں۔ اٹھارہ سوانچاس میں قبضہ ہوا ہے اس کے بعد انہوں نے obviously ا نہوں نے پروجیکٹ شروع کیے، ریلوے، نہروں کا منصوبہ بنایا۔

    باقی سارے محکمے establish کرنے اس میں اب skilled manpower کی ضرورت تھی۔ اس کے لیے ان کو ایک خاص training اور تعلیم چاہیے تھی۔ اس کے لیے انہوں نے ایک نئی schooling اور تعلیم شروع کی۔ اس میں انہوں نے انگریزی اور اردو کو اکھٹا کیا۔ اس پر debate چلی اب کچھ عرصہ کہ کون سی زبان ہونی چاہیے۔ بہت تھوڑے تھے جو کہہ رہے تھے کہ پنجابی زبان ہونی چاہیے۔ کیونکہ اگر ہم ان کو پڑھانا چاہتے ہیں جس میں یہ ڈپٹی کمشنر شاہ پور تھا۔ ڈپٹی کمشنر پنڈی تھا، گوجرانوالہ کا تھا۔ لیکن اکثریت کا view تھا کہ انگریزی اردو کو شامل کر دیں۔ اب اس کی وجہ یہ تھی جیسا بعد میں Leitner اور باقی سکالر نے بتایا کہ وہ جو white class یا ruling class آئی تھی۔ وہ یوپی، بہار ، بنگال اور لکھنو میں رہ چکی تھی۔ وہ اس لحاظ سے ہندی اردو اس طرح کی زبانوں سے آشنا تھی۔ نمبر دو، ان کا جو سارا سٹاف تھا وہ یوپی اور بہار وغیرہ کا تھا۔ ان کی اپنی زبانیں ، ہندی، اردو اس ٹائپ کی زبانیں تھیں۔ ایک لحاظ سے ان کو convenience تھی۔

    سوال: تو پنجابی قریب بھی تھی ان زبانوں کے۔

    جواب: قریب بھی تھی۔ لیکن اس سے پہلے پنجاب میں اس کو لکھنے پڑھنے کا رواج نہیں تھا۔ بلکہ ڈپٹی کمشنر جہلم نے جو خط لکھا ہے، موجود ہے کہ یہ insist کرنا کہ یہ اردو بچوں کو پڑھائی جائے ادھر یہ ایسے ہی ہے کہ انگریز دیہاتی بچے کا کہا جائے کہ تم French پڑھو۔ جتنی French غیر ملکی ہے انگریز بچے کے لیے اتنی اردو غیر ملکی ہے پنجابی بچے کے لیے۔ لیکن چونکہ پروفیسر Gottlieb Wilhelm Leitner نے گورنمنٹ کالج بنایا تو اس نے یہ فیصلہ کیا کہ سہولت کے لیے، یہ convenience تھا ان کے لیے۔ ایک اور خط بڑا interesting ہے وہ کمشنر دہلی کا ہے۔ اسی debate کے ذمے آیا ہے۔ اس میں لکھا ہے اس نے کہ یہ غلطی کبھی نہ کرنا کہ پنجابی کو شامل کرو۔ کہ پنجابی جو ہے ان کو ہمیشہ اپنی شناخت یاد کروائے گی ان کو ۔ اس لیے یہ بڑی سیاسی غلطی ہو گی۔ سو ایک تو یہ ہو گیا کہ انہوں یہ کر دی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک further division پیدا کر دی۔ کہ جو communal division کی میں نے پہلے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پنجابی یہ سکھوں کی ہے۔ پنجابی گرمکھی کی ہے۔ جو کہ تاریخی طور پر بالکل ہی غلط تھا۔ گرمکھی اسٹیٹ سولہویں صدی میں قائم کی گئی۔ اور اس سے پہلے ہمارے پنجابی شاعر شاہ حسین، دامو در گلائی اور ان سے کہیں پہلے بابا فرید لکھ چکے تھے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انہوں نے پنجابی کو associate کیا گرمکھی سے اور پھر یہ ۔

    سوال: اچھا یہ پروجیکٹ کیا تھا codification کا زبانوں کی۔ کئی جگہوں پر انگریزوں نے زبانوں کو نہیں بنڈلا۔ بنگال نہیں کی ، سندھی نہیں کی۔ صرف پنجابی کی۔

    جواب نہیں کی، یہ صرف پنجاب میں ہوا ہے۔ سب کو develop کیا۔ بنگال میں بنگالی کو ، سندھ میں سندھی کو۔ یوپی میں اردو کو۔ صرف پنجاب میں نہیں کیا۔ کیونکہ پنجاب کا چھوٹا سا حصہ ان کے پاس تھا۔ اور کے۔ پی آپ کو پتہ ہو گا پہلے : ہی پنجاب کا حصہ تھا۔ تھا۔ سو سو یہ یہا انہوں نے مزید گہرا کیا ہے۔ اس کو سکھوں کے ساتھ associate کر کے ۔ کہ پنجابی اور مسلمانوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کو اردو کی طرف لگا کے۔

    سوال: یہ جو ہندی، اردو موومنٹ چلیں تھیں یو پی کے اندر۔ کہ انہوں نے کہا کہ اردو تو مسلمانوں کی زبان ہے۔ اس کا بھی impact آیا یہاں پر۔
    جواب: یہ بعد کا ہے۔ یہ جب بعد میں separatist نظریات بننا شروع ہوئے کہ یہ ہم الگ قوم ہیں۔ ہمیں الگ ہونا چاہیے۔ ویسے تو ہندو بھی سن انیس سو اکیس میں سوار کر کہہ رہا تھا کہ ہم الگ قوم ہیں اور یہاں پنجاب میں ، لاہور میں لالا راجپوت رائے کہہ رہا تھا ہندو اور مسلمان الگ قوم ہیں۔ انہیں اکٹھا نہیں رہنا چاہیے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہندو بھی کہہ رہے تھے اور مسلمان بھی کہہ رہے تھے کہ اکٹھا نہیں رہنا چاہیے۔ دونوں طرف جو الگ ہونا چاہ رہے تھے وہ دونوں طرف کہہ رہے تھے۔ مگر اس میں یہ ہوا کہ جس کو گہرا کیا زبان کے لیے ، وہ بعد میں آگے بڑھایا گیا۔ جو پاکستان کی تحریک اور جو یو پی میں جو مسلمان قومیت کا جو تصور اس کو آگے بڑھایا گیا اور اردو کو استعمال کیا بطور tool ۔ وہ بھی اس لیے کہ زبان ساتھ ہے مذہب کے جو ڑ دی گئی۔

    سوال: تو وہ پنجاب کے اشرافیہ نے اس کو buy کر لیا۔

    جواب: تعجب کی بات یہ ہے کہ پنجاب سب سے آخر میں آکر پاکستان میں شامل ہوا ہے۔ سندھ اور کے۔ پی تو بہت پہلے سے تھا۔ ٹھیک ہے ! اور بلوچستان آپ کو پتہ ہے 48،1947 میں جاکر شامل ہوا ہے۔

    سوال: لیکن ادھر میں جو کوئٹہ میں اپر مڈل کلاس تھی، یہ زلزلے کے بعد وہاں بھی مسلم نیشنلزم پیدا ہو گیا تھا۔ وہ بھی ظفر اللہ خان اور ان کے ساتھ ساتھ۔

    جواب: ہاں وہ پشتون لیکن وہ بہت محدود تھا۔ لیکن جو اس کو carry کیا ہے جو جنگ تھی British colonialism کے خلاف۔ اس کو یو پی کی اشرافیہ اور پھر پورے پنجاب کی اشرافیہ اور سندھی اور پختون اشرافیہ نے جو بعد میں جاکر conflict کا ذریعہ ہے۔ اردو زبان کو پھر انہوں نے own کیا۔ یو پی کی تو یہ زبان تھی۔ تو وہ سارا ملبہ جو پیچھے سے آیا تھا نا وہ پاکستان کا حصہ بن گیا۔ جس کو پھر ۔ اور جو مسئلہ جو پنجاب کے ساتھ تھاوہ تھا division of Punjab۔ اس نے مسئلے کی سنگینی کو بڑھا دیا۔ جو 1947 میں ہوئی division آپ کو پتہ ہے کہ اس میں کوئی ہمیں لاکھ کے قریب لوگ مارے گئے۔ بچے قتل ہوئے۔ عور تیں ماری گئیں۔ ساری کمیونٹی کی۔ ایک کی نہیں۔ یہ مسئلہ سب کے ہی خلاف بنا۔ کیا ہندو، کیا مسلمان، کیا سکھ کیا عیسائی۔ تو اس division کے نتیجے میں کہتے ہیں کہ دو کروڑ کے قریب آبادی نے بارڈر کر اس کیا۔ کہتے ہیں کہ یہ پہلا زخم تھا کہ جس کے بعد پنجابیوں نے اپنی identity چھوڑ کے وہ پاکستانی identity اپنالی۔

    میں۔ identity issues ہے آپ کے نزدیک factor تھی یہ بھی بڑا division سوال: تو یہ جو

    جواب: جی خاص طور پر پنجاب کے لیے۔ کہ اگر division of Punjab نہ ہوتی۔ تو یہاں کی صور تحال کافی مختلف ہوتی۔ پھر پنجاب میں تقریباً 35 سے 45 فیصد نان مسلم ہوتے، ہندو ہوتے، سکھ ہوتے، عیسائی ہوتے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ۔

    سوال: یعنی diversity زیادہ ہوتی۔

    جواب: religious diversity ہوتی، cultural ہوتی۔ اور جو پنجاب میں قتل و غارت ہوئی یہ نہیں ہونی تھی۔ پھر جو ایک کمیونٹی کا دوسری کمیونٹی کے ساتھ رویہ ہے ، وہ بھی وہ نہ ہوتا جو آج ہے۔ تو division نے خاص کر کہ پنجاب کی division نے بہت ایک role ادا کیا ہے پنجابیوں کو ان کی شناخت سے دور کرنے کا۔ اس نے پنجابی شناخت کی تباہی بربادی کے بعد انہوں نے اپنی شناخت ڈھونڈی ہے پاکستانی شناخت۔ اب پاکستانی شناخت کا کہنے کا مطلب۔ میری طرف سے یہ کہنا ہے کہ پاکستان کی جو شناخت ہے، وہ جن اعضاء یا constituents پر کھڑی کی گئی۔ وہ ایک حد تک تو effectively کام کیا۔ کہ ہم مسلمان ہیں، ہمارامذہب الگ ہے، ہمارا culture الگ ہے۔ اس نے ایک حد تک تو یہ کیا کہ مسلمانوں کو اکٹھا کر دیا۔ اور ہندو اور نان مسلم سے ایک immunity قائم کر دی اور ایک narrative build ہو گیا۔ اچھا لیکن وہ جن بنیادوں پر یہ identity بنی تھی۔ جب پاکستان بن گیا تو وہ بنیادیں اب ineffective ہو گئیں۔ وجہ جب پاکستان بن گیا تو وہ مسلم majority کا ملک تھا۔ ایک یہ ہو گیا۔ دوسرا یہ کہ یہ کوئی ایک مخصوص گروہ کا علاقہ نہیں تھا۔ یہاں مختلف تحریکیں اور کمیونٹی تھیں۔ مثلاً پنجابی تھے، پٹھان تھے ، بلوچ تھے ، سندھی اور کشمیری تھے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی اپنی سال سو سو سال پرانی ثقافتیں ہیں۔ تو جب پاکستان بنا تھا تو وہ جو فارمولا ہندو سے الگ کرتا۔ وہ یہاں استعمال کیا مگر اس کا مطلب یہ ہوا کہ
    Denial of their nationalities rights
    They denied their linguistic rights, denied their cultural rights.
    وہ بن گیا۔

    اب اس میں پنجاب اس میں پہلے میں نے ذکر کیا کہ ایک crisis سے گزر چکا تھا۔ تو وہ جو اس نے ایک پاکستانی identity لی ہوئی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ پنجاب کے لیے یہ آسان تھا۔

    سوال : مطلب کہ جب پاکستان بنا تو اس کی قیمت پنجاب نے اپنی identity دے کر کی۔

    جواب: جی بالکل، بالکل۔

    اچھا یہ آپ نے کئی باتیں ایسی کی ہیں جن پر میں چاور ہا تھا کہ بات ہو۔ بلوچستان میں کافی زبانیں ہیں جیسے بلوچی،
    براہوی، پشتو بھی بول لیتے ہیں۔ ایک بلوچ کو سرائیکی بھی آتی ہے۔

    جواب: صحیح بول رہے ہیں وہ پانچ ، چھ زبانیں ایسے ہی بول لیتے ہیں۔

    سوال: جی لیکن بلوچستان میں زبان کی بنیاد پر ان کا ایک نیشنلزم نہیں بنی۔ ان کی نیشنلزم ایک ethnicity کی بنیاد پر ہے۔ ان کی شناخت کی بنیاد پر ہے۔ تو پنجاب میں آپ نے ذکر کیا کہ زبان کا ایک factor آگیا۔ مذہب کے ساتھ۔ تو اس نے ہمیں دبائے رکھا۔ تو اس کو کیسے compare کرتے ہیں۔ بلوچستان اور پنجاب کو۔ پنجاب کی کوئی ethnic foundation نہیں بن سکی۔ اس کی کیا وجہ بنی۔

    جواب بات آپ کی صحیح ہے۔ ایک ہی ethnic identity ہے ایک حدود کے اندر کوئی باہر سے نہیں آئی۔ ایک ہی جگہ پر رہنے والے۔ تو ethnic identity جو نہیں بن سکی۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذہب کا اس میں بڑا role ہے۔

    سوال: آپ کہہ رہے ہیں کہ پہلے سے ہی یہ موجود تھا۔ تقسیم سے پہلے سے۔

    جواب: جی پہلے سے بھی یہ موجود تھا سارا۔ اس نے قومی شناخت جو ethnic بنی تھی وہ نہ بن سکی۔ اسی وجہ سے اب رہتے ہیں۔ پنجابی مل کر ۔ کہ یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔ اور جب ہو رہا تھا۔ تب کسی کو خیال نہیں آیا۔ نہ سکھ کو
    نہ مسلم کو نہ ہندو کو ۔ اب رورہے ہیں سارے مل کر۔

    سوال: یہ لائن کسی حد تک درست ہے جو باقی پاکستان میں پائی جاتی ہے کہ ہمیں دو lenses سے دیکھتے ہیں۔ ایک liberal یا nationalist کے lenses سے دیکھتا ہے۔ اور اگر ہمیں ایسا پاتا ہے تو ہماری مذہبی شناخت کے اوپر سوال کرتا ہے۔ اور دوسرا میں colonial lenses سے دیکھتا ہے۔ اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے۔

    جواب: یہ دیکھیں جو ہم نے ایک شروع میں بات کی کہ یہ federation کا نقطہ نظر ہے۔ یہ مرکز کا نقطہ نظر ہے۔ جو establishment ہے ہماری۔ یہ ان کا نقطہ نظر ہے جس کو پنجاب نے اپنایا ہوا ہے۔ اب جو ہماری demography ہے ، جو power structure ہے ہمارا۔ اس میں پنجاب کی ویسے ہی آبادی زیادہ ہے۔ تو وہ power structure میں مضبوط ہے۔ تو جب وہ دیکھتا ہے تو مرکز کی نظر سے دیکھتا ہے۔ کیونکہ اگر آپ پنجابی کی نظر سے دیکھتے ہیں تو آپ . تو آپ کبھی بھی مرکز ز کے نظریے کو نہیں اپنا سکتے۔ اس لیے پنجابی کا جو زیادہ نقطہ نظر وہ ہو اس نے مرکز کا اپنایا ہوا ہے۔ کیونکہ اس میں اس کو سیاسی اور معاشی فائدے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ نمبر دو، مذہبی جو معاملہ ہے نا کہ وہ ان کو مذہبی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک recent phenomenon ہے۔ یہ غالباً ضیا سے شروع ہوا ہے یا بھٹو سے شروع ہوا ہے۔ اور ضیا نے اس کو peak تک پہنچایا ہے۔ اور اس پر بھی آپ غور کریں ناجو ہمارا language کا الجھاؤ ہے۔ جیسے زبان میں یو پی کا زیادہ role تھا۔ تو کیا مذہب میں نہیں تھا۔ جیسے آپ دیکھیں یہ بریلوی، دیو بند ، فلاں۔

    سوال: جی بالکل یہ وہاں سے ہی سارے آئے۔ اور ان کے مرکز لاہور میں بن گئے۔

    جواب: یہ جماعت اسلامی والے آگئے یا تبلیغی ہیں۔ ان کے مرکز سب لاہور میں ہیں۔ سارے آپ دیکھیں گے کہ وہاں سے آئے ہیں۔ اور آپ دیکھیں گے کہ مسئلے ابھی کے بنے ہوئے ہیں۔ یہ سب پہلے نہیں تھے۔ انگریز کے آنے سے بنے۔ تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ زبان کا اثر مسلم لیگ نے جیسے یو۔ پی سے کیا۔ اسی طرحcommunal اثر ، فرقہ وارانہ اثر بھی باہر سے آیا ہے۔ اور پنجاب نے اس کو accept بھی کیا ہے۔ اور مرکز نے اس کو استعمال بھی کیا ہے۔ جیسے سب جانتے ہیں کہ مذہبی تناؤ، مسلک کو سیاسی استعمال بھی کیا گیا ہے۔ اور اس کو زندہ بھی کیا گیا ہے۔

    سوال: اچھا ایک اور بات ہے جو ہماری ایک دوست ہیں۔ امر سندھو کو تو آپ جانتے ہیں وہ سندھ کی دانشور
    ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ سندھ کے اندر یہ جو تھوڑی سی secular values ہیں ان کا تعلق ہماری زبان سے بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری زبان میں اتنے dialects نہیں ہیں۔ اور ایک آدمی وڈیرے سے اسی زبان میں بات کر سکتا ہے جیسے عام آدمی سے کرتا ہے۔ پنجاب میں یہ نہیں ہے۔ ایک تو اردو کا فرق آگیا ہے۔ اور اوپر سے بریلوی زبان میں بھی اتنی variations ہیں۔ کہ ایک عام طبقے کا آدمی اپنی بات بڑے
    کے سامنے اس انداز سے communicate ہی نہیں کر پاتا۔ اس کو آپ کیسے دیکھتے ہیں۔

    جواب: یہ بھی half truth ہے۔ یہ امر سندھو نے کہا ؟ کہ پہلی بات تو یہ ہی غلط ہے کہ سندھ میں dialects نہیں ہیں۔ کافی dialects میں سندھ میں۔ نیشنلزم کی وجہ سے ان کو دبایا گیا ہے۔ آپ نے دیکھا ہے سندھ میں جو لوگ ہیں ان کا دعویٰ کچھ بھی ہو، کوئی progressive ہے، کوئی leftist ہے، کوئی Marxist ہے۔ وہ جب بات کرتا ہے تو وہ سندھی نیشنلسٹ کی زبان میں بات کرتے ہیں۔

    سوال: وہاں کا مولوی بھی نیشنلسٹ ہے۔

    جواب: وہی میں بات کر رہا ہوں کہ مذہبی ہو یا right left وہ سارے نیشنلسٹ نظر آئیں گے۔ اور اسی نیشنلسٹ ہونے کی وجہ سے جو ان کے ہاں تنوع ہے وہ اس کو suppress کرتے ہیں۔ مثلا دیکھیں وہ سرائیکی province کا کہتے ہیں کہ پنجاب میں ہونا چاہیے۔ ان کو rights نہیں ملتے وغیر ہ وہ بات کرتے ہیں۔ تو ان کے پاس جو سرائیکی موجود ہیں کبھی انہوں نے ان پر بات کی ہے۔ جو actually ہے ہی ان کا۔ یہ سرائیکی یہاں لفظ ہی 62 میں آیا ہے۔ اصل میں سرائیکی جو وہاں بولی جاتی ہے ملتی جلتی زبان اس کا نام سرائیکی ہے۔ اس کو کبھی انہوں نے نہیں مانا۔ نہیں encourage نہیں کیا۔ جو یہ اربوں روپیہ سندھیوں پر لگا رہے ہیں۔ وہ کبھی انہوں نے سرائیکیوں پر لگایا۔ تو یہ سارا پروپیگینڈو کے نیشنلسٹ کا۔ وہاں suppress کرتے ہیں۔

    سوال : لیکن وہاں تو نیشنلزم پیدا ہو رہا ہے۔ زبان ہے۔

    جواب: میں نہیں سمجھتا وہ زبان سے پیدا ہوا ہے۔ اصل میں سندھی نیشنلٹ پولیٹیکل وجوہات سے پیدا ہوا ہے۔ یعنی زبان کی وجہ سے demographic changes آئی ہیں۔ ان سے کراچی حیدر آباد چھن گیا۔ وہاں مہاجر آگیا، پٹھان آگیا۔ تو یہ شہر سندھ میں ہیں مگر سندھیوں کے نہیں ہیں۔ تو یہ جو تبدیلی آئی ہے پاکستان بننے کے بعد ۔ تو وہ نیشنلزم کی بنیاد ہے۔ زبان نہیں ہے۔ زبان کا ایک دفعہ مسئلہ بنا پھر وہ settle ہو گیا۔ ٹھیک ہے زبان سے مگر سیاسی، سماجی وجوہات ہیں سندھی نیشنلزم کی۔ پھر مرکز کے ساتھ جو ان کا تعلق۔ مجھے یاد ہے میں آپ کو ایسی interesting بات بتاؤں۔ یہ 705 کی بات ہے جب شیخ ریاض چانسلر تھے سندھ یونیورسٹی کے۔ عامر سلیم نے ان کا ترجمہ کیا ان کی کتاب کا شاعری کی۔ تو I was very young عامر صاحب یا شیخ صاحب کو انہوں نے کہا ہو گا۔ وہ شیخ صاحب کا مجھے خط آیا کہ یہ آپ میری کتاب پر لکھیں اور کام شروع کریں۔ تو میں چلا گیا سندھ اور وہاں میں شیخ صاحب سے بھی ملا۔ جو interesting بات مجھے لگی کہ ایک دن میں حمیدہ صاحبہ سے مل کر نکلا ہوں۔ وہ چیئر پر سن تھی ہسٹری ڈیپارٹمنٹ کی۔ تو میں نکلا ہوں۔ ان کا جو cafeteria ہے ادھر چلا گیا۔ تو ایک نوجوان اٹھ کر میرے پاس آیا کہ میں کافی دیر سے دیکھ رہا ہوں۔ آپ پنجابی ہیں، لاہور سے آئے ہیں۔ کہنے لگا میں نے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔ میں نے کہا چائے پی لیتے ہیں۔ کہنے لگا کہ یہ جو سارے سندھی جن سے آپ مل رہے ہیں نا۔ یہ بڑے انقلابی نعرے لگاتے ہیں۔ یہ ہے وہ ہے، انقلاب کریں گے۔ مگر یہ بڑے ظالم ہیں۔ یہ سرائیکی کو اٹھنے کی اجازت نہیں دے رہے۔ ان کو اٹھنے نہیں دے رہے یہ۔ تو یہ نعرے ان کے ہیں اور suppression ان کی اور ہے۔

    سوال: اچھا یہ نیشنلزم کے اندر ہی ہوتا ہے کہ وہ suppress کرتا ہے یہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو۔

    جواب: اس کا مقصد eliminate کرنا ہوتا ہے نا اور ایک بنانا ہوتا۔ جیسے ہم کہتے ہیں نا کہ ہم مسلمان ہیں تو وہ بھی کہتا ہے کہ وہ ہندو ہے۔

    سوال: اچھا ہمارا دو جگہوں پر یہ کام نہیں ہوا۔ ایک ہمارا کھلو سے لے کر نیچے تک سکر دو۔ ہنزہ شاہد different ہے اور دوسرا بلوچستان
    ہماری کیونکہ ایک دم سے transition ہے۔ ان کی مختلف ہے۔ کا suppression وہاں آئی نہیں۔ وہاں پر transition urbanization tribal مسئلہ نہیں ہے۔ چھوٹے چھوٹے conflict آتے ہیں۔ مگر اس طرح سے نہیں ہے۔ تو پنجاب کو آپ کیسے دیکھتے ہیں۔

    جواب: اصل میں پنجاب تو کئی زمانوں سے اس مسائل سے گزر چکا ہے۔

    سوال: آپ دیکھیں بلوچستان میں کافی مسائل ہیں۔ identity کا تو مسئلہ سب کو ہی ہے۔ مگر یہ
    disparity variation کا، زبان کا ethnic cultural

    جواب: اب دیکھیں بات آپ کی generally ٹھیک ہے مگر ذرا آپ اس کو گہرائی میں بات کو دیکھیں۔ وہ اصل میں تو براہوی کا وطن ہے۔ بلوچ تو وہاں بعد میں settle ہوئے ہیں۔ یہاں جو اس زمین کے اثر وارث ہیں وہ براہوی ہیں۔ اور براہوی قدیم ہڑپہ تہذیب کے لوگ ہیں۔ پھر language پاکستان میں جو ہیں وہ ایک براہوی اور دوسرا تامل۔ کبھی انہوں نے کہا ہے کہ براہوی کو promote کرنا ہے۔ بلوچ شناخت میں ہی ضم کر لیا گیا
    ہے۔

    سوال: لیکن 18th amendment کے بعد اس مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے۔

    جواب: مگر پھر بھی جب یہ تحریکیں چلتی ہیں تو یہ differences کو جتاتی ہیں۔ پھر یہ چونکہ tribal ہے تو اس میں acceptance آگئی ہے کافی حد تک۔

    سوال: تو پنجاب میں یہ acceptance کسی حد تک ہے۔ پنجاب بھی بڑا diverse ہے، culture کے لحاظ سے اور administration بھی نارتھ ، ساؤتھ یا سینٹرل میں۔

    جواب: آپ اگر دیکھیں جہاں تک زبان کا مسئلہ ہے کلاسک جو لکھاری ہیں ان کو آپ دیکھیں اگر ہار ہوئیں صدی سے لے کر انیسویں صدی کے آخر تک۔ یا بیسویں صدی کے آغاز تک۔ اگر آپ دیکھیں پنجاب کے جتنے بڑے poets writers میں انہوں نے ایک زبان evolve کی ہے۔ اور وہ ایسی زبان ہے پورے پنجاب میں کبھی کسی نے نہیں کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آتی۔ ماسوا کوئی بہت پرانی ہو جیسے بابا فرید بخش کی۔ کیونکہ یہ بہت پرانی ہے۔ اور اب زبان evolved ہوئی ہے۔ باقی جتنے بھی اس کے نیچے dialects ہیں۔ اب کہنے کا مطلب ہے کہ وہ روایت اب ختم ہو گئی۔ انگریز آنے کے بعد سکولوں میں انگلش اور اردو آگئی۔ پنجابی ختم ہو گئی۔ اب جب لوگوں نے دوبارہ لکھنا شروع کیا ہے تو differences بہت ہیں۔ اب اکثر writers اپنے region کے dialect میں لکھ رہے ہیں تو باقیوں کو وہ سمجھ اس طرح نہیں آتا۔ اب میں آپ کو یہ بات بتاؤں کہ سرائیکی یہ claim کرتے ہیں کہ شاہ حسین سرائیکی ہے اس لیے نہیں کہ وہ سرائیکی ہیں یا نہیں ہیں۔ اس لیے یہ ہے کہ وہ جو زبان لکھ رہے تھے سولہویں صدی میں لاہور میں بیٹھ کر وہ لکھ رہے تھے۔ وہ وہی زبان تھی جو west میں، west پنجاب میں بولی جاتی تھی۔ اب لاہور جو ہے وہ مرکز رہا ہے۔ انگریز آگئے، مغل رہے تو اب ان کا عمل دخل رہا ہے۔ تو اس کی زبان میں بھی تبدیلیاں آئیں ہیں۔ اب اس کی شکل اس لیے بدل گئی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اب جو writers لکھ رہے ہیں وہ اپنے dialect میں لکھ رہے ہیں۔ اب یہ بات یہ ہے کہ مگر interesting بڑھا ہے۔ اب communication اور interaction دیکھیں کہ learning process کم ہوا ہے۔ اب جو ہمارے بڑے بزرگ تھے۔ آپ دیکھیں کہ وہ مختلف علاقوں سے لفظ لے لیتے تھے۔ وہاں کے dialects ان کو آتے تھے۔ لیکن اب وہ ممکن نہیں۔ پنجابی نام کی کوئی dialect نہیں ہے۔ پنجاب میں جالندھر کی زبان ہے جو فیصل آباد کے لوگ بولتے ہیں۔ ماتھا جیسے لاہو ر ہے، امر تسر ہے، قصور ہے، سیالکوٹ ہے۔ ماجھا سینٹرل میں بولتے ہیں۔ پھر آپ تھوڑا اوپر چلے جائیں تو آپ کو پوٹھوہاری ہے، اور اوپر چلے جائیں تو چھچھی ہے۔ نیچے آجائیں چکوال سائڈ پر تو دھنی ہے۔ پھر جو ہماری پرانی بار ہیں۔ سندل بار ، نیلی بار ہے پھر گنجی بار ہے۔ ٹھیک ہے۔ پھر ویسٹ میں جو علاقہ ہے وہاں کا dialect ہے۔ پھر ملتانی ہے، بہاولپور والی سائڈ کی۔ اس کو اب سرائیکی کہا جاتا ہے۔ تو یہ ہر علاقے کا نام ہے۔ مگر پنجابی کسی علاقے کی زبان کا نام نہیں ہے۔ یہ بس جو ادبی، literature میں لکھی پڑھی جاتی تھی اس کا نام ہے۔ اب اس کو revive کرنا writers کا کام ہے۔ گورنمنٹ تو نہیں کرتی نا۔

    سوال: تو یہ سرائیکی کا مسئلہ کیسے شروع ہوا؟ یہ identity کا مسئلہ ہے ادھر بھی لگتا ہے کہ resources
    ہے۔ issue کا

    جواب: basically اس میں underdeveloped ہونے کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ uneven development جو ہے فساد کی جڑ ہے۔ اور سرمایہ داری میں پرانے نظام میں کچھ علاقے زیادہ ترقی کر جاتے ہیں۔ اس کی بھی وجوہات ہوتی ہیں۔ resources کی، تعلیم کی، آپ واہوا کی، یہ سارے factors مل کر role ادا کرتے ہیں۔ تو جو نا برابر ترقی ہوئی نا۔ کیونکہ ہمارا South اور West میں فرق ہے۔ South میں اس طرح سے ترقی ہو نہیں پائی جس طرح سے ہونا چاہیے تھی۔ کیونکہ وہاں job نہیں ملیں۔ اور مڈل کلاس کو تو job چاہیے تھیں۔ اپر کلاس کو تو ضرورت نہیں ہوتی۔ مگر مڈل کلاس کو تو ہوتی ہے۔ تو وہاں job کم تھی۔ مواقع کم ملے۔ اس وجہ سے بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ اب اگر سیاسی بے چینی ہو تو کچھ چیزوں کو ابھار نا آسان ہوتا ہے اس میں ایک مذہب ہوتا ہے، ایک زبان ہوتی ہے، ایک culture ہوتا ہے۔ تو اس نے role ادا کیا ہے۔ اور اصل مسئلہ سماجی اور معاشی ہے۔ اور زبان، culture نے اس کو ایک رنگ دے دیا ہے۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ South پنجاب پر زیادہ کام ہونا چاہیے اور زیادہ resources خرچ ہونے چاہیے۔ اصل میں اس کا ایک حل تھا۔ اور وہ administrative حل تھا۔ اور وہ شروع ہوا پر ختم نہیں ہوا۔ آپ کو یاد ہو گا۔ اٹھارہویں ترمیم ہوئی۔ پھر اس کے بعد آپ کو یاد ہو گا وہ کمیشن کیا تھا۔

    سوال: د NFC

    جواب: ہاں وہ NFC اور اس کے بعد ہر صوبوں کو ان کے resources ان کو مل جاتے ہیں۔

    سوال: اس کا فارمولا طے ہے لوگوں کے تحفظات ہیں اپنے۔

    جواب: ہاں اور اس میں پنجاب نے اپنا یا پانچ فیصد forgo بھی کیا اس میں ۔ اب ہوا یہ ہے کہ resources وہاں نکلے ہیں۔ وہ صوبوں کو transfer ہو جاتے ہیں۔ اب ہوا یہ ہے کہ اب وہ resources کراچی، پشاور ، لاہور اور کوئٹہ میں آکر رک جاتے ہیں۔ وزیر اعظم سے نکلے ہیں۔ اور CM کے چنگل میں آگئے ہیں۔ ادھر تھوڑی سی بات ہے کیا جیسے مرکز سے صوبوں کو فنڈ ملے ہیں۔ تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہ چیف منسٹر پر نہ رہے کہ کسی شہر کو کتنا پیسہ دینا ہے۔ اب اس کا اصول یہ ہے کہ صوبوں کو یہ پیسہ local bodies کو دینا چاہیے۔ جب یہ پیر transfer ہو جائے گا تو مسئلہ کم ہو گا۔ مگر اب یہ صوبائی گورنمنٹ پر ہے۔ وہ بیٹھے ہیں۔

    سوال : لیکن اس سے ایک نقصان بھی ہوا بھی mineral act جو آئے ہیں ان کا حق دوبارہ وفاق کو دیا ہے۔
    تو اس طرح کی چیزیں جو ہو رہی ہیں۔

    جواب: میرا خیال ہے کہ یہ نامناسب ہے۔ نئے ایسے قانون نہیں بنے چاہیے کہ جس پر وفاق کا ہاتھ ہو۔

    سوال: کے۔ پی سے اس پر کافی مزاحمت آئی ہے۔ آپ سے آخری سوال یہ ہے کہ پنجاب باقی پاکستان کو کیسا دیکھنا چاہتا ہے۔ ان کی شناخت اور identities کو قبول کر کے آگے چلنا چاہتا ہے یا ان کو اپنے رنگ میں
    رنگنا چاہتا ہے ؟

    جواب: جو پرانی ڈگر ہے وہی ہے۔ کہ ہم سب مسلمان ہیں ، ہم سب پاکستانی ہیں۔
    سوال: مذہبی شناخت بچا سکتی ہے state کو؟
    جواب: نہیں میرا نہیں خیال۔ اگر مذ ہبی شناخت بچا سکتی ہوتی تو عربوں کی اتنی ساری ریاستیں کیوں ہوتیں۔ کیونکہ وہ مسلمان ہیں۔ dialect بھی عربی کا ایک جیسا بولتے ہیں۔ علاقہ بھی ایک سا ہے۔ تو وہ کیوں نہیں ہوتے ایک ریاست۔ اور پاکستان اگر محض مذہب کی بنیاد پر تھا تو بنگلہ دیش کیسے بن گیا۔ تو محض مذہب اکٹھا نہیں کر سکتا۔ اور کافی سارے تاریخی، ثقافتی، سماجی، معاشی factors ہوتے ہیں۔ جو اکٹھا رکھ سکتے ہیں۔ مذہب اکیلا نہیں رکھ سکتا۔ اب پنجاب ابھی تو محض مذہب کے رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ تو وہ کہتا ہے کہ ہم سب مسلمان ہیں، ہم سب پاکستانی ہیں۔ تو وہ تنوع کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔

    سوال: اپنی بھی اور باہر کی بھی؟

    جواب: اپنی تو وہ ختم کر چکا ہے۔ اب وہ آہستہ آہستہ جو پنجابی نوجوان ہیں انہوں نے کچھ کام کیا ہے پچھلے کچھ سالوں میں۔ تو ان کے اندر ایک احساس ضرور موجود ہے اپنی زبان کے ساتھ ہم نے نا انصافی کی ، culture کے ساتھ نا انصافی کی ہے، اور تاریخ کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ یہ شعور اب آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ تو میرے خیال سے یہ ایک مثبت تبدیلی ہے جو ہم نے کی ہے۔ پھر سب سے بڑا مسئلہ اب پنجابیوں کے ساتھ یہ کیا ہے کہ تاریخ کے ساتھ ان کا جو تعلق ہے وہ ختم کیا ہے۔ اس کا ہمیں بہت نقصان ہوا ہے۔ زبان اور تاریخ ہے۔ اب زبان اور تاریخ آپس میں جوڑے ہوئے ہیں۔ کہ زبان جو ہے وہ تاریخ کو زندہ رکھتی ہے۔ اب تاریخ subcontinent ہے جوڑی ہوئی ہے۔ یہ urban Indus civilization آپ دیکھ رہے ہیں وہ civilization جو انڈیا سے جوڑی ہے۔ اس civilization کی تاریخ پر سندھ اور پنجاب کا اختلاف ہے۔ میں اب یہ کہہ رہا ہوں کہ یہاں civilization تھی تو اس کے بدلے میں یہاں آریا آئے۔ نیا region بنا اور اس کی پہلے جھلک ہمیں یہاں ملتی ہے۔ کیونکہ اتنی بڑی جو شہری تہذیب تھی اس کی interaction ہوئی ہے آریا سے تو یہ تہذیب مکمل شکل میں آئی ہے نا۔ اور جو South والے جو ہیں یہ بھی ہڑپہ سے بہت پرانی agrarian تاریخ تھی۔ تو تاریخ تو ہماری بہت شاندار اور پرانی تھی۔ اس کو ہم نے خود بھلا دیا ہے۔ کہ آپ اپنی مرضی سے اس کو چھوڑنے کا مطلب ہے کہ جتنے تاریخی اثاثے ہیں چاہے وہ historic persons کی شکل میں ہوں، literature کی شکل میں ہوں۔ monument کی شکل میں ہوں۔ اس لیے وہ چھوڑنے سے یہ ہوا ہے کہ ہمیں دوسروں کی مختلف تہذیب ہمیں accept کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔

    سوال: یہ بڑا اہم نقطہ ہے کہ acceptance کم اس لیے ہوتی ہے ؟

    جواب: کم ہے acceptance کیونکہ اگر ہم یہاں یہ مان لیں کہ اپنی distinction یہ ہے تو دوسرے کی بھی ماننے میں آسانی ہو گی۔ اب میرا خیال ہے کہ چیزیں بہتر ہو رہی ہیں۔ پنجاب کے دانشوروں کا کردار سامنے آرہا ہے۔ مگر اب ایک اور مسئلہ شروع ہے petty nationalism کی بھی ایک شکل سامنے آرہی ہے۔ سرائیکی اور پنجابی کے درمیان۔ اس میں سندھی سرائیکیوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اب وہ پنجابیوں کو گالی دیتے ہیں۔ اور پنجابی جو پانچ دریاؤں کی سرزمین میں وہ ان کو گالیاں دیتے ہیں۔

    سوال: پنجاب میں میرا خیال ہے کہ کوئی بڑی تحریک بنی نہیں ہے۔ فکری تحریک۔

    جواب: بننے دی بھی نہیں ہے۔ اور ایک بیانیہ پنجابیوں پر بھی تھو پا گیا اور پھر پورے ملک میں ان کا ایک نظریہ بیٹھا ہے۔ مگر نا امید نہیں ہیں۔ کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے۔

    عامر رانا: آہستہ آہستہ ہلچل شروع ہو گئی ہے۔ چلیں جی۔ positive note پر آپ کا بہت شکریہ ۔ چاہ رہا تھا کچھ سوال ہیں وہ اور بھی کریں۔ جیسے انڈین پنجاب پر ۔ کہ وہاں پر چھہتر سال کیسے گزرے۔ ادھر بھی اتھل پتھل رہی ہے۔ سیاسی طور پر بھی اور سماجی طور پر بھی۔ اس کا impact پاکستان کے پنجاب پر کیوں نہیں آیا۔ اگلی بار جب آپ سے ملیں گے تو ان سوالات پر بات کریں گے۔ شکریہ آپ کا۔

    جواب: بہت شکریہ رانا صاحب آپ کا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبلوچستان میں شناخت کے پیچیدہ مسائل
    Next Article پنجاب میں مذہبی شناخت کے رجحانات
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by