یه مکالمه بلوچستان کی سماجی، سیاسی اور تاریخی پیچیدگیوں پر ایک گہری اور فکر انگیز گفتگو پیش کرتا ہے، جس میں عامر رانا نے معروف تاریخ دان، محقق، ادیب، شاعر اور طبی ماہر ڈاکٹر شاہ محمد مری سے بلوچستان کی معاشی طبقاتی تقسیم، مڈل کلاس کے کردان عسکریت پسندی کی منتقلی اور سماجی و سیاسی تحریکوں کے ارتقا پر بات کی۔ ڈاکٹر مری نے بلوچستان کے طبقاتی تضادات سرداروں کے اثرات، ادب و سیاست کے امتزاج اور پنجاب کے دانشوروں کی غیر ذمه داری پر کهل کر روشنی ڈالی۔ یہ انٹرویو بلوچستان کے ماضی، حال اور مستقبل کے امکانات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم دستاویز ہے، جو خطے کی سماجی و سیاسی حرکیات اور قومی شناخت کے سوال کو اجاگر کرتا ہے۔
سوال: ہم بات کر رہے ہیں بلوچستان کی صورتحال کی اور اسے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے لیے ہم آج معروف تاریخ دان، محقق، ادیب، شاعر اور اپنے شعبہ صحت میں ماہر ڈاکٹر شاہ محمد مری سے ملے ہیں۔ جب پچھلی دفعہ ہم ملے تھے تو ڈل کلاس کے حوالے سے بات چل رہی تھی، جیسے پنجاب میں ایک تاثر ہے، اسی طرح بلوچستان میں بھی کہ جو عسکریت پسندی ہے ، وہ منتقل ہو گئی ہے قبائلیت سے مڈل کلاس اور مکر ان کی طرف۔ پچھلی دفعہ ڈاکٹر صاحب نے سوال اٹھایا تھا کہ یہ مڈل کلاس آئی کہاں سے؟ اور ہم یہی سے بات چیت کا آغاز کرتے ہیں۔
یہ مڈل کلاس ہوتی کیا ہے اور یہ پاکستان کی مڈل کلاس اور بلوچستان کی مڈل کلاس کیا ہے اور آئی کہاں سے ہے؟
جواب: دیکھیں جی ، کلاس تو دو ہیں۔ کلاس کیا ہے ؟ کلاس معاشی پیداوار کا حصہ ہو تو وہ کلاس ہے۔ کلاس تو دو ہیں: ایک وہ جو پیداوار کے ذرائع کا مالک ہو، اگر کوئی زمین ہے تو اس کا مالک کوئی جاگیر دار ہو یاز میندار ، تو وہ کلاس اور زمین کا مالک ہے۔ دوسرا وہ جو اس زمین پر کام کرتا ہے اور اس سے پیداوار نکالتا ہے۔
تو بنیادی طور پر دو کلاس ہیں: اپر کلاس اور لوئر کلاس۔ اس کا ایک نام ہے ظالم کلاس اور دوسرا مظلوم کلاس، ایک کا نام ہے زور آور کلاس اور دوسرے کا نام ہے پسا ہوا کلاس۔ ایک کا نام ہے حکمران طبقہ اور ایک کا نام محکوم طبقہ ۔ اس کے درمیان جو ہے، وہ غلط الفاظ استعمال کرتے ہیں ہمارے صحافی، دانشور کہ مڈل کلاس۔ یہ کلاس نہیں ہے، دو کلاس ہیں : مظلوم اور سرمایہ دار ، پاکستان اور جاگیر دار۔
یہ دو کلاس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ ہمیشہ متصادم رہی ہیں۔ ان کا کوئی حل نہیں۔ درمیان میں آپ آجائیں کہ مصالحت کروائیں گے تو اس کا کوئی مصالحت نہیں۔ اسے بولتے ہیں بنیادی تضادات۔ باقی بھی تضادات ہیں، مثلاً؛ میں نے کسی اور رنگ کے کپڑے پہنے ہیں ، آپ نے کسی اور رنگ کے ، آپ نے کوئی اور عینک پہنی ہے، میں نے کوئی اور ، تضاد ہو گیا نہ ؟ مگر یہ بنیادی تضاد نہیں، یہ غیر بنیادی تضاد ہے ، دو منٹ میں حل ہو جائے گا۔
مگر جو بنیادی تضاد ہے جو سرمایہ دار اور مظلوم کا یا کسان اور جاگیر دار کا، وہ بنیادی تضاد ہے۔ اس کا کوئی حل نہیں۔ اس کا جنگ یا لڑائی کے بغیر کوئی حل ہی نہیں ہو سکتا۔ اور جب تک فتح نہیں ہو گی یا مظلوم کلاس جو پہلے سے تباہ ہے وہ مزید تباہ ہو گی یا سرمایہ دار تباہ ہو گا یا اس وقت دونوں تباہ ہو جائیں گے یا پھر ایک کو فتح ہو گی۔ تو یہ بنیادی دو طبقوں کے تضادات ہیں۔
جو تیسر ا مڈل کلاس طبقہ ہوتا ہے ، وہ کلاس نہیں ہوتا۔ اس کے لیے انگریزی میں ایک لفظ استعمال کرتے ہیں (stratum)۔ اور فلسفی طور پر بھی کوئی مڈل کلاس موجود نہیں۔ دو کلاس ہیں : ایک حکمران کلاس اور دوسرا محکوم کلاس۔ درمیان میں کوئی کلاس نہیں۔ درمیان میں جو طبقہ ہے جو ہمیں نظر آتا ہے، وہ تمام کا تمام حکمرانوں کا دست راست ہوتا ہے۔
مثلاً، صحافی کس کی خدمت کرتا ہے ؟ دو کلاس لڑ رہی ہیں آپس میں گتھم گتھا ہیں، نظر آتا ہے یا نہیں، وہ لڑ رہی ہیں، صدیوں سے لڑ رہی ہیں اور بہت عرصہ تک لڑائی جاری رہے گی۔ تو صحافی کا دانش اس لڑائی کی طرف آتا ہی نہیں۔ ہمار ا فلم میکر اس لڑائی کی طرف جاتا نہیں ہے۔ اچھا، ہمار ا شاعر ، افسانہ نگار اس طرف نہیں جاتا۔ وہ اور طرف لے جاتا ہے : محبت ہے ، فلاں ہے ، روس ہے ، یوکرین ہے ، ادھر ادھر جاتا ہے۔ یہ جو اندر لڑائی ہے، دو طبقوں کی لڑائی جاری ہے ، تو اس طرف وہ نہیں آتا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو تمام مڈل کلاس ہے ، جسے آپ بولتے ہیں، جسے میں فلسفی طور پر کہتا ہوں کہ غلط لفظ ہے، یہ مڈل اسٹریٹم ہے۔ اس کا پیداوار میں کوئی حصہ ہیں ہے۔
سوال: مڈل کلاس ایک ایسی فریم ہے جیسے محبت ایک فریم ہے۔
جواب : جی بالکل، یہ ایک ایسی ہی فریم ہے۔ مثلا گلاس کی تعریف میں نے کہا تھا کہ پیداوار میں اس کا حصہ لیتا ہو۔ میں ڈاکٹر ہوں، میں پیداوار میں حصہ نہیں لے رہا، میں گندم تو پیدا نہیں کرتا۔ یہ طبقہ نہیں ہے۔ طبقہ صرف وہ دو ہیں جن کا پیداوار میں حصہ لے رہا ہو یا مالک کی حیثیت سے یا مزدور کی حیثیت ہے۔ یہ جو درمیان میں ہے، جس کا میں ذکر کر رہا تھا کہ لڑائی کی طرف نہیں آتا، تو اس کا کیا مطلب؟ وہ کس کی خدمت کر رہا ہے ؟ تمام کا تمام اپر کلاس کا ساتھی ہوتا ہے۔
اپر کلاس اب بلوچستان میں ہے یا پاکستان میں ، یہ تو حکمران طبقہ ۔ ضیاء الحق کا زمانہ آیا تھا تو ہمارے بلوچستان کے تمام سردار ، تمام جا گیر دار ضیاء الحق سے ملے۔ اس سے پہلے بھٹو تھا، سب کے سب بھٹو کے ساتھ۔ اس کے بعد ضیاء کا اسلامی نظام آگیا اور یہ پارلیمنٹ اس نے بنایا تھا، سب اس کے پیچھے لگ گئے۔ تو اس مڈل کلاس کا کوئی دھرم ایمان نہیں ہوتا، کوئی کمٹمنٹ نہیں ہوتا، کوئی نظریہ نہیں ہوتا۔ طاقتور کو دیکھتا ہے۔ اگر طاقت مزدور کے پاس ہے تو وہ مزدور کے پاس آگیا۔ یہ سب اکٹھے ہو کر اس کے ساتھ دے دیتے ہیں۔
ولی خان نے ایک دفعہ بات کی تھی، بہت دلچسپ ہے کہ ہماری حکومت آجائے گی تو ہمارے دشمن ہیں، وہ نیشنل عوامی پارٹی بن جائیں اور پارٹی وہ پارٹی لے جائے اور میں دیکھتا رہ جاؤں، ایسا ہے۔ جب مظلوموں کی حکومت آجائے گی تو یہ تمام دانشور اس کا ساتھ مل کر انقلابی بن جاتے ہیں اور اس وقت سب کے سب اپر کلاس کے ساتھ ہیں۔ تو مڈل کلاس ایسی تو نہیں ہے۔
وہ مڈل کلاس ایک عرصے سے بلوچستان میں سامنے آ رہا تھا، تو چیزوں نے رکاوٹ ڈالی تھی۔ یہ بہت دلچسپ ہے۔ معاشرے کے ارتقا کو دو آدمیوں نے روکا : ایک سردار نے روکا، خواہ وہ اچھا سر دار تھا یا برا سر دار تھا، ارتقا کو روکا۔ اس نے برا سردار تو رو کے گاہی، جو ہمارے اچھے سردار تھے، جن کا نام شہزادہ صاحب نے لیا، جو تین سردار تھے ، ان میں سے دو اصلی تھے، تیسر ا پھر بھی تو انہوں نے بھی ارتقا، خاص کر سیاسی ارتقا کو روکا تھا، جس کی وجہ سے ہمارا سماج ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکا۔ مگر جوں ہی ان کا انتقال ہو گیا، ہمارے جتنے بھی بڑے بڑے سردار تھے ، مر گئے۔ گزشتہ دس میں سالوں میں ایک ملک الموت نے وراثتی اٹھائی، نہ ہمارے دانشور کو چھوڑا، نہ ہمارے تاریخ دان کو، نہ سردار کو ، نہ عالم کو، نہ فاضل کو نہ موسیقار اور نہ فنکار کو۔ گزشتہ میں سال ملک الموت کے سال تھے۔ اس نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ آپ کسی سے پوچھیں کہ عبد اللہ جان جمالدینی کون تھا، بہادر خان رودینی کون تھا، نادر قمبرانی کون تھا، اور عاقل مینگل کون تھا؟ جو میر ادانشور کا ایک گلدستہ تھا، وہ سب اب نہیں رہے۔ اسی طرح ہمارے سرداروں کا اچانک ہمیں اندازہ ہوا کہ بزرگ نسل گئی، اچھی ہے یا بری۔ آپ اچھا سمجھتے ہیں یا برا سمجھتے ہیں، اچانک لوگوں کو اندازہ ہو گیا کہ وہ اب نہیں رہے۔
اب اچانک سی کی دھوپ تھی اور نوجوان، جن کی تربیت ہی نہیں کی گئی تھی، وہ رہ گئے۔ نہ نظریاتی طور پر نہ تنظیمی طور پر تیار تھے۔ اور اس حوالے سے لوگ شعور یافتہ تھے کہ اسے آگے کیسے لے کر چلتا ہے۔
اسے سنبھالنے کے لیے قبائلی لوگ تیار ہی نہیں تھے کہ وہ سنبھال سکیں اور اس وجہ سے وہ تحریک سینٹرل بلوچستان اور جنوبی بلوچستان کی طرف چلی گئی۔ مشرقی بلوچستان، بزدار ، لغاری، مری، بگٹی ہیں ہی کچھ نہیں۔ تو تیسرے درجے کا پورا کا پورا تحریک وہاں منتقل ہو گیا : ادبی تحریک، صحافتی تحریک، اور سیاسی تحریک بھی چلی گئی۔
سوال: مزاحمت کے ساتھ ادب نے بھی حصہ لیا ؟
جواب : جی بالکل، آپ کی بات بالکل صحیح ہے۔ کبھی ادب آگے، سیاست اس کے پیچھے، کبھی سیاست آگے ہے، ادب اس کے پیچھے ہے، کبھی دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہوتے ہیں۔ مگر جو مڈل کلاس کی آپ کہہ رہے تھے ، اس کی کوئی آواز نہیں ہوتی۔ ہمارے بلوچوں کو اندازہ ہو گا کہ ہمارے مکران میں کوئی سرداری نہیں ہے، سردار ہیں۔ وہ کیا کرتے تھے ؟ میر ا قبائلی سردار تھا، اسے اپنا سیاسی لیڈر مانتے تھے اور پالش کر کے پھر مجھ پر تھوپتے تھے۔ میں اس دائرے میں اپنے سردار ، جسے مکران سپورٹ کر رہا تھا، اسے ایک تنقیدی رہنما اور فلسفی کے طور پر مجھ پر مسلط کیا۔ جو سردار میں نے بھیجا، وہ چار آنے کا تھا، جو آپ نے بھیجا، وہ چھ آنے کا ہو گیا۔ جو ایک شیطانی دائرہ تھا، جس کا میں سامنا کر رہا تھا۔ یہ سردار گیا، مگر ان بھی حیران، میں بھی حیران۔
سوال: مگر ان میں یہ مڈل کلاس کہاں سے آیا ؟
جواب: بلوچستان میں مڈل کلاس کہاں سے آیا، یہ بہت بڑا جھگڑا، بہت بڑے عرصے سے چل رہا ہے۔ خاص کر جب مارنگ بلوچ آئی ہے ، تب سے ہم اس پر بات چیت کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے ہم بولتے تھے کہ طبقات، تو لوگ کہتے تھے کہ طبقہ نہیں ہے۔ ہمارا موقف تھا کہ زندہ معاشرہ بغیر طبقے کے ہو ہی نہیں سکتا۔ قبرستان میں کلاس نہیں ہوتی، قبر کے اندر کلاس نہیں ہوتی، لیکن زمین کے اوپر ہوتی ہے۔ کسی کا پکا ہو گا، کسی کا سنگ مرمر کا، تو وہ کلاس۔ لوگوں کا خیال تھا کہ نہیں ہو گا، لیکن ہمارا اندازہ تھا طبقات ہیں اور مڈل کلاس تو بہت ہی موجود ہے۔ ان کو عزت نہیں دی گئی، ان کا گناہی نہیں گیا۔ تین چار آدمی ہمارے ترجمان ہوا کرتے تھے اور ہم نے انہی کے حوالے کیا تھا۔ ہم نے سیاست کی فرنچائز ان کو دے دی۔ ہم ان سے نہ لے سکے ، لیکن قدرت کی طرف سے ان کی موت ہوئی، ہم پھنس گئے۔
اب مڈل کلاس کہاں پر ہے ؟ ہمارے ہاں چار پانچ علاقے بہت ہی پیداواری ہیں، جسے آپ صنعتی بھی بولتے ہیں۔ ایک مائننگ کی صنعت ہے، یہ اتنا بڑا ہے کہ اس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس کا ٹریڈ یونین نہیں، اس لیے اسے ہم گنتے ہی نہیں۔
ہمارادوسرا انڈسٹری میرین لائن یا فشنگ ہے یا اس کی دس ہزار اور اقسام ہیں ، جن میں کشتی سازی، جال، شپ بریکنگ ہے۔ ان کو لگ گئی کسی کی نظر۔ آپ کو تو پتہ ہے کہ کس کی نظر لگ گئی ہے۔
اور تیسر ا چھوٹے موٹے دوائی کے کارخانے، پیکنگ کے کارخانے، ایک آدھ ہمارے پاس ٹرانسپورٹ انڈسٹری ہے اور خاص کر گڈز ٹرانسپورٹ ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا شاید گڈز ٹرانسپورٹ ہمارے پشتون علاقے میں ہے۔ کیا کوئٹہ کے درمیان سو کے قریب بسیں چلتی ہیں۔ اس کا مالک اگر اپر کلاس نہیں تو چلو مڈل کلاس تو ہے۔ یہ اتنا بڑا کلاس ہے، جسے ہم جز لائز ہی نہیں کر رہے ہیں، اسے ہم اکٹھا نہیں کر رہے۔ بات چیت کا موقع ہی نہیں مل رہا یا اس طرح ہے : یہ فلاں پارٹی کا یا فلاں کا، یہ اس قبیلے کا یا اس قبیلے کا، یہ اس مذہبی فرقے کا یا اس مذہبی فرقے کا۔ ہم لوگوں نے ایسا گند کیا تھا کہ جو مڈل کلاس کا ایک مثبت کردار بنتا ہے سماج میں ، وہ دریافت ہی نہیں ہوا۔ مثلاً، نظریاتی طور پر اگر یہ گند کر رہا تھا اور اپر کلاس کی خدمت کر رہا تھا، مگر اس کردار کے لیے اگریہ اور اپر کر رہا بھی اسے چار پانچ چیزوں کی ضرورت ہے۔ آپ سردار کے ، نواب کے ، خان کے ، یا لکھنو کے نواب کے ، آپ دربار میں بیٹھیں گے ، لیکن آپ کو کچھ تو ان کی خدمت میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ اگر میں شاعر ہوں تو شاعری کروں گا کہ دربار میں مجھے بٹھا لے ، دانشور ہوں تو دانش کروں گا۔ ہمارے ہاں مڈل کلاس کی ریکوائرمنٹ نش کروں گا۔ ہمارے ہاں مڈل کلاس کی ریکوائر منٹ ہے۔ اگر آپ صحافی ہیں تو تو آپ کو معلوم ہو گا کہ یوکرین میں کیا چل رہا ہے ، ٹرمپ صاحب کیا کریں گے ، تو تو کچھ کی ضرورت ہو گی۔ اگر ڈاکٹر ہے تو اس کی اپنی requirements ہیں۔ وہ اپنی خدمات پیش کرے گا، تب ہی یہاں رو سکتا ہے۔ اپنے اپنے شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کے لیے کچھ زیادہ ہی محنت کرنا پڑتا ہے۔ تو سرداری نظام ہے تو آپ کی ضرورتیں محدود ہیں۔ تو درمیان میں وہ طبقہ ختم ہو گیا، تو آرام سے اپنی اپنی ضرورتوں کا بندوبست کرو گے۔ کہیں سے یہ موبائل لاؤ گے ، آپ یہ کیمرہ لائے ہیں، یہ آپ کی ضرورتیں ہیں۔ اس کو ہی سماجی ترقی کہتے ہیں۔ یہ جو مڈل کلاس کی اپنی ترقی ہے، اپنے پیشے کے ساتھ ترقی ہے ، وہ اپنے پیشے کے ساتھ منسلک ہے۔ وہ خود سماج میں کردار ادا کرتا ہے۔ آپ کوئی چیز لائیں گے ، وہ آپ تک محدود نہیں رہے گی، پھر اور لوگوں تک جائے گی۔ وہ پہلے رکا ہوا تھا، اب وہ مڈل کلاس لیڈ کر رہا ہے ، جس کا آپ پوچھ رہے تھے۔
سوال: جس کی دو شکلیں ہیں: ایک مائننگ کی جو حقوق کی لڑائی کی تحریک ہے اور دوسرا وہ جو تشدد کی طرف مائل ہوا ہے اور تشدد والا یا پہاڑ والا ہے۔ وہ کیسے ہوا کہ اچانک پہاڑوں پر چلے گئے؟
جواب: جب دو طرف جنگ ہو رہی ہو ، ایک طرف سرکار اور دوسری طرف بلوچ لیبریشن آرمی ہے، اور دونوں بہت غصے میں ہیں، پھر وہ شاید ایک دوسرے کو نہ مار سکیں، لیکن عام لوگوں پر ان کا غصہ بہت آرام سے نکلتا ہے۔ ہماری بلوچی زبان میں ایک کہاوت ہے : یہ کہ دشمن کو نہیں مار سکتے، لیکن بنیوں کو مارو گے ۔ ” یہ ہمارے ہاں صورتحال ہے۔ اب اس سوال کا جواب کون دے سکتا ہے ؟ ظاہر اگر نا تو کسی نے پڑے گا۔ وہ اگر غصے میں ہیں تو کیا کر سکتے ہیں ؟ یہ جو تشد د ہے، جسے لوگوں نے جرم اور نئی چیز بنا یا ہوا ہے ، اب چونکہ قوم پرستی ہے، لیکن مارکسزم میں تو تشدد کے بغیر چیزوں کو حل ہی نہیں کر سکتے۔ میں آپ سے کہہ رہا ہوں، دو طبقات ہیں اور وہ آپس میں لڑ رہے ہیں اور اس کا کوئی حل ہی نہیں۔ یہ لڑ کر ہی اپنی فتح حاصل کر سکتے ہیں۔ جمہوریت جمہوریت کرتا ہے اور آخر میں جا کر اسے لڑنا پڑتا ہے۔ اور یہ تشدد کوئی نئی چیز نہیں جو ہمارے بلوچوں میں آئی۔ چونکہ نیشنلزم کا نقاب ڈالا ہوا ہے ، اس لیے تو یہ بہت بڑا معاملہ ہے۔ یہ تو پورا انقلابی لڑائی ہے۔ آپ بہت متاثر ہیں کہ ہمالیہ سے بہت اونچا اور شہد سے میٹھا ہے ، فولاد سے مضبوط ہے۔ وہ اتنا پیسہ لایا، آپ کا کیا خیال ہے کہ موزے تنگ جمہوریت سے لایا ہے ؟ لانگ مارچ کیا، لڑا، جنگ کیا۔
اچھا، ویتنام کا، جس کا میں اور باتیں کر رہا ہوں ، اور سب سے بڑا سوویت یونین کا انقلاب بغیر تشدد کے ہوا؟ نام بلوچ کا ہے اور پنجابی بیچارہ حیران ہو جاتا ہے۔ لڑنا تو اسے چاہیے تھا۔ پنجابی کسان، مزدوروں کی تحریک اتنی مضبوط ہونی چاہیے تھی کہ ہمارے لوگ ادھر جانے چاہیے تھے۔ بد قسمتی سے وہاں وہ چپ ہے اور ادھر سے یہ شروع ہے اور نام نیشنلزم کا رہا۔
سوال: یہاں پر نام پنجاب کا آیا، آپ کیا کہیں گے؟
جواب : لاہور کے دورخ ہیں اور ہر جگہ ایسا ہی ہے۔ فرانس بہت بڑی کالونی ہے، مگر فرانس نہ ہوتا تو موچی من کا نام ہم نہیں سنتے۔ وہ وہاں گیا، ان کی کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہو گیا، پھر واپس آیا۔ امریکہ ، ہم کہتے ہیں سامراج ہے۔ اگر امریکہ نہیں ہوتا تو ہمارے کتنے انقلابی تھے جو مر کھپ گئے ہوتے۔
یہاں برطانیہ حاکم تھا، حکمران تھا، مگر ساتھ میں ہم اس سے سیکھ رہے تھے۔ ہمارا جو سب سے بڑا ہیر و ہے ، وہ یوسف عزیز مگسی تھے، بہت بڑا نام تھا۔ وہ برطانیہ چلا گیا۔ یہاں سے سرکار نے نکالا تھا کہ سیاست کر رہے ہو، گڑھ بڑھ کر رہے ہو، برطانیہ جاؤ، ایک سال وہاں گزارو۔ ہمارے معاشرے میں یہ بیچارہ وہاں چلا گیا۔ اس کا بیچارہ لیڈی سیکرٹری، وہ کمیونسٹ پارٹی کی ممبر تھی۔ ہمارے ہیرو نے ان کے نظریات اپنا لیے۔ اب اگر برطانیہ نہ ہوتا تو یوسف عزیز مگسی کا نام نہ ہوتا، یوسف عزیز مگسی نہ ہوتا تو تحریک کا تسلسل نہ ہوتا۔
لاہور ایک ہاتھ سے خیر ہے، ایک ہاتھ سے شر ہے ، تباہی ہے، بر بادی ہے۔ مثلاً ہمارے بلوچستان کا سب سے بڑا شاعر میر گل خان نصیر ، وہاں سے پڑھ کر آیا۔ وہ اگر لاہور نہ ہوتا تو گل خان نہ ہوتا، گل خان نہ ہوتا، شاعری نہ ہوتی، سیاست نہ ہوتی، کوئی اور نام شاید ہوتا۔ علی گڑھ ہے ، برا ہے، لیکن اگر علی گڑھ نہ ہوتا، میر کھوسہ نہ ہوتا۔ علی گڑھ نہ ہوتا، ہمارے میر غوث بخش بزنجو ، جو وہاں کا پڑھا ہوا ہے، نہ ہوتا۔ سرسید سے ہمیں چڑ تھی۔ میں پنجابیوں سے بولتا ہوں، وواحمد خان گزرے ہیں: ایک احمد خان کھرل ہے اور ایک احمد خان سر سید ہے۔ لاہور سرسید کے پیچھے لگا ہوا ہے ، احمد خان جو انگریز سے لڑا، اس کے پیچھے نہیں۔
تمام بڑے بڑے لوگ آپ کو سکھاتے ہیں، آپ کو پڑھاتے ہیں، نظریات سے متعارف کراتے ہیں، تنظیم سازی سے واقف کراتے ہیں، اور ساتھ چونکہ وہ بیڈ کوارٹر ہوتا ہے اور جب مار نا پڑ جائے، مار بھی لیتے ہیں۔ میں اس وقت یہاں سے سیکھ رہا ہوں۔ پنجاب کے لوگ بر صغیر میں سب کم علمی واقفیت رکھنے والے لوگ ہیں۔ ان کو اندازہ ہی نہیں کہ یہاں (بلوچستان) میں کیا ہوتا ہے، کیا نہیں۔ ان کو اندازہ ہی نہیں کہ ایک ترقی پسند تحریک یہاں پر چل رہی ہے ، چاہے تشدد ہو یا غیر متشدد ہو۔
دیکھیں، اگر میں ان سے متفق ہوتا، میں اس وقت ان کے ساتھ پہاڑوں میں ہوتا۔ ظاہر ہے، میرا کوئی چھوٹا موٹا اختلاف ہو گا جو میں یہاں بیٹھ کر بات کر رہا ہوں۔ مگر پنجابیوں کی بات کرتا ہوں، بلوچ ایک قوم کی صورت میں لڑ رہی ہے ، آج سے نہیں ، وہ تو پہلے 1948 سے لڑ رہے ہیں، جب آپ نے ان کا گلا گھونٹ دیا، ان کا جھنڈا اتار دیا۔ چار سو سال سے آزاد ملک میں اچانک آپ کو قید ہونا پڑا۔ میر ا جھنڈا اتارا اور اپنا لگایا، نہ میرارہ گیا، نہ آپ کا۔ کیونکہ عوام کے دل کے اندر آپ کا جھنڈا ہے تو ٹھیک ہے ، ور نہ بس ہے۔
وہ اگر آپ جسے ہمارے دوست اوش ت اوشو بولتے ہیں، اگر پڑھا ہو، ایک زمانے میں اس کے کیسٹ آتے تھے ، وہ بہت کمال کا مقرر تھا۔ تو اس نے ایک فقرہ بولا، مارکس نے بھی ہندوستان کے بارے میں ایک فقرہ بولا : عجیب قوم ہے یہ کہ جانوروں، گائے، بندروں کی عبادت کرتے ہیں، یہ کیسی قوم ہے ؟ اور اوشو نے بولا : لیسی قوم جو کپڑے کے ایک ٹکڑے پر لڑتی ہے ؟ یہ مسلم لیگ اور یہ کا نگر لیں اس پر جھنڈوں پر لڑتے ہیں، ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں۔ تو جھنڈا کیا ہے ؟ جھنڈا ایک اظہار ہے۔ جب آپ نے ایک قوم کا جھنڈا یہ کیسی اتارا اور اپنا لگایا، نہ آپ کا رہا، نہ میرا۔
تو عرض یہ ہے کہ مارچ 1948 کے بعد یہ لڑائی جاری ہے۔ کسی اندھے کو نظر نہیں آتا، نہیں آئی، مگر یہ پنجاب کے عام آدمی کو کیسے سمجھاؤ گے کہ یہ لڑائی کس طرح کی ہے اور اس کے کچھ وجوہات ہیں۔ بلوچ نسل در نسل تو نہیں لڑ رہا، پھر تو سمجھ میں آتا ہے ، ورنہ عام لوگ ہیں، انسان ہیں، روٹی منہ سے کھاتے ہیں، گلے سے نہیں کھاتے۔ تو پھر جو لڑ رہے ہیں، ان کی کوئی وجہ تو ہو گی۔ مگر پنجاب کے ننانوے فیصد لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ ادھر کوئی لڑائی ہو رہی ہے۔ یہ جو ٹی وی میں دکھاتے ہیں، وہ الگ بات ہے ، ورنہ عام لوگوں کو پتہ ہی نہیں۔ کسان، مظلوم ، مظلوموں، ٹریڈ یونینز ، طلباء کو پتہ ہونا چاہیے تھا کہ یہ ایک لڑائی یہاں پر جاری ہے۔ حکمران طبقہ ، جس میں میرے سردار بھی شامل ہیں ، نے ہمیں اتنا الگ الگ رکھا ہوا ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے ، مجھے پتہ نہیں، یہاں کیا ہو رہا ہے ، انہیں پتہ نہیں۔
دیکھیں، بلوچ کو پتہ ہی نہیں کہ وہاں کسان پر سب سے بڑا بحران آگیا۔ انہیں پتہ ہی نہیں کہ ان کے گندم کے خریدار ہی نہیں اور اب وہ حیران ہیں کہ اس کا میں کیا کروں ؟ زخیرہ میں نہیں کر سکتا، بچوں کی شادیاں ہیں، خرچہ ہے ، قرضہ ہے، اسی فصل پر ۔ اب جب فصل ہی نہیں بک رہی، تو کسان تو تباہ و بر باد۔ ادھر بلوچ کو تو پتہ ہی نہیں۔ ٹھیک ہے ، اس میں بلوچ کا قصور بھی ہے کہ انہیں پتہ ہونا چاہیے تھا۔ اسے تو بالکل پتہ نہیں، وہ لسی پی کر سویا ہوا ہے۔ کبھی اگر تمہارے گھر تک آیا اور تم ماتم کرو گے ، پھر کیا کرو گے ؟
تو دیکھیں، ہم پنجاب کو بھائی چارے سے ہٹ کر ، وہ بیچارے نوے فیصد غریب ہیں، کچھ بھی نہیں ان کے پاس: نکاسی، بجلی، گیس، بچوں کے پاس تعلیم نہیں ہے، مگر اس کے باوجود محاکم ہیں۔ آپ نے پوچھا کہ آپ بلوچستان کو پنجاب سے کیسے دیکھتے ہیں ؟ تو میں پنجاب کو معلومات سے عاری سمجھتا ہوں۔ اگر ہوتا تو وہ درندے اور بے پر واہ تو نہیں ہوتے کہ ادھر ان کے بچوں، عورتوں، نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں کیسے دیکھتے ؟ کیسے تم روٹی کھا رہے ہو ؟ کیسے تمہار القمہ گلے سے اتر رہا ہے ؟ چونکہ اسے پتہ نہیں، لہٰذا اس کا مجرم میں بھی ہوں، آپ بھی ہیں اور پنجابی دانشور ہیں۔ پنجابی دانشور دنیا کا، بر صغیر کا سب سے بڑا مجرم ہے۔ میں پنجابی کو اس طرح دیکھتا ہوں، میں پنجابی دانشور کی نظر سے دیکھتا ہوں اور پنجابی دانشور کی نظر کا مطلب ہے کہ وہ غیر ذمہ دار ہے ، وہ اپنے فرائض سر انجام نہیں دے رہا ہے۔
سوال: بلوچستان میں سیاسی تحریکیں بہت پیدا ہوئی ہیں۔ کیا یہاں سماجی تحریکیں پیدا ہوں گی؟
جواب : یہ دلچسپ سوال ہے۔ سماجی تحریک کو سیاسی تحریک سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ جس سیاسی تحریک میں دانشوری، شاعری، صحافت ، ناول نگاری، موسیقی ہو ، تو یہ خود ایک بہت بڑی سماجی تحریک ہے۔
خاص طور پر خواتین نے جو اسٹریٹ تحریک شروع کی ہے، میں اسے صرف خواتین کا نہیں کہتا، اس میں تمام مرد اس تحریک سے منسلک ہیں۔ انہوں نے ایک سماجی انقلاب کا آغاز کیا ہے۔ ان دو سالوں میں بلوچستان نے سماجی انقلاب دیکھا ہے۔ کوئی تصور نہیں کرے گا کہ قبائلی سماج میں خوا خواتین باہر نکلیں اور سیاسی تحریک کی سر براہی کریں۔ ہم جیسے لوگوں کے لیے یہ ایک انقلاب ہے۔
سوال: جنگجوؤں اور تصادم میں خواتین تو سامنے آجاتی ہیں، کوئی لیڈ بھی کر لیتا ہے۔ ہم تو بات کر رہے ہیں کہ
بلوچستان میں امن کا بھی تھوڑا بہت دورانیہ رہا ہے۔ اس دورانیے میں کوئی بڑی سماجی تحریک کیوں پیدا نہیں ہوئی ؟ جو ریفارم کی بات کریں، مارنگ کا کردار ٹھیک ہے، جنگ کی تو کیفیت ہے، ایسی تحریک جو تعلیم کے لیے، خواتین کے حقوق کے لیے ، سماجی ویلفیئر کے لیے کام کریں، صحت کی بہتری کے لیے کام کریں، کوئی ایدی کوئی با چا خان ؟
جواب: دیکھیں، جو ابتدائی معاشرہ ہوتا ہے، اس میں ایک شخص چار چھ لوگوں کا کام کرتا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا دیہاتی معاشرے میں ایک سکول ماسٹر ہوا کرتا تھا۔ ہم اس کی کتنی عزت کرتے تھے۔ جو ہم اس کی عزت کیوں نہیں کرتے؟ کیونکہ درخواستیں بھی وہی لکھتا تھا، نائی بھی وہی تھا، فیصلہ بھی وہی کرواتا تھا اور بچوں کو پڑھاتا بھی تھا۔ آٹھ نو کام ایک آدمی کر رہا تھا۔ جو ابتدائی معاشرے ہوتے ہیں، اس میں بہت سے کام ایک ہی کرتا تھا۔
میں یوسف عزیز مگسی کی بات کر رہا تھا، یہ ایک زبردست آدمی تھا۔ اس نے گرمی میں لوگوں کو پانی پلانے کا بند و بست کیا تھا، لائبریری بنائی ہوئی تھی اور اگر کوئی کتاب لے جاتا تھا تو دیر ہونے کی صورت میں یوسف عزیز مگسی، جو کہ ایک نواب تھا، خود اس شخص کے دروازے تک جاتا اور وہ کتاب لے آتا۔ اس کے علاوہ جو بلوچوں کی شلواریں کہیں کہیں گز کی ہوتی تھیں، اس نے اسے کم کر دیا، محدود حلقے میں ایک بہترین عدالتی نظام کا قیام کیا تھا۔
عبد الحمید خان اچکزئی اور یوسف عزیز مگسی اکٹھے سیاست کرتے تھے۔ وہ وہاں جناب میں تھا اور یہ شمال میں تھا۔ جو مگسی نواب بن گیا اور اس نے یہ سارے اصلاحات نافذ کیے ، تو عبد الصمد خان اچکزئی کو یہ یقین نہیں آیا کہ لوگ اس لیے اس کی تعریف کرتے ہیں کہ یہ نواب ہے۔ تو یہ بھیس بدل کر وہاں چلا گیا اور اس علاقے میں گھوما، چیزوں کا مشاہدہ کیا اور واپس آکر کہا کہ میرا بھائی، جو میں نے سنا تھا، وہی کام کر رہا ہے۔
پھر یہ جو کا نگریس کی تحریک چلی، سرخ پوش تحریک چلی، قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی رہی بلوچستان میں۔ ان کے منشور کو آپ دیکھیں، آپ حیران ہو جائیں گے کہ مثلاً اس میں لکھا ہے کہ آپ مقامی کپڑے پہنیں گے۔ ہر ممبر کے لیے ضروری تھا کہ آپ چار سے پانچ انپڑھ لوگوں کو پڑھائیں گے۔
دنیا میں کہیں یہ شرط نہیں تھی، لیکن ہماری پارٹیوں میں یہ شرط تھی کہ لوگوں کو پڑھنا لکھنا سکھائیں گے۔ تو یہ سماجی تبدیلی اور انقلاب ہے جو سیاست کے ساتھ اس طرح منسلک ہے کہ آپ اسے جدا نہیں کر سکتے۔
اسی طرح شاعری میں یوسف عزیز مگسی بہت بڑا شاعر تھا۔ آپ اسے سیاست، سماجی تحریک یا شاعری پر لیجائیں، آپ کی مرضی۔ اس کے دور میں اس کی جماعت آٹھ اخبار ایک ہی وقت میں نکالتے تھے۔ کوئی بر صغیر کی تاریخ میں مجھے بتائے کہ کون اتنا کر سکتا ہے ؟ اس میں لاہور کا ایک زمیندار اخبار بھی تھا۔ اس زمانے میں یہ اخبار جب بھی بند ہو جاتا تھا، تو یوسف عزیز مگسی تھا، اسے تین ہزار دے کر شروع کر وا دیتے تھے۔
سوال: پاکستان کے چھتر سالوں میں باتوں کا مرکز اسلام ہے۔ اس نے انٹلیکچھ کر، پالیسی سازوں، اور سماج کی صلاحیتوں کا استعمال کیا اور پورے ادار جاتی طور پر مذہب اس بحث کا حصہ رہا، جبکہ بلوچستان شاید اس بحث کا حصہ نہیں رہا، اس لیے مین اسٹریم میں نہیں آیا ہو گا؟
جواب: دیکھیں، جب محمد بن قاسم آیا تو ہم بلوچ پہلے سے ہی مسلمان تھے ۔ ہم تلوار کے ذریعے مسلمان نہیں ہوئے، بلکہ تبلیغ جیسے چیزوں سے متاثر ہو کر ہم مسلمان ہوئے۔ اور جب عربوں نے حملہ کیا بلوچستان مکران پر ، تو وہ عرب کے ساتھ جنگ کر رہے تھے۔ تماشہ یہ ہے کہ عرب اپنے عرب کے ساتھ لڑ رہا تھا۔ ہمارے جو حکمران دسویں اور نویں صدی میں عرب تھے۔
یہ آرین آپ کا بہت بڑا قبیلہ اور برادری ہے۔ اسی طرح ہمارے ہاں بھی ایسا ہے۔ دوا گر بڑے قبائل ہوں تو وہ آپس میں کسی کی بادشاہی نہیں مانتے۔ جس طرح راجپوت بولے گا میں بڑا ہوں، آرین بولے گا میں بڑا ہوں، تو کیا ہو گا؟ تیسرا آدمی کوئی ایسا آکر بادشاہی قائم کرے گا جو قبائلی طور پر مضبوط نہیں ہو گا۔ یہ جو ہمارا خان قلات ہے، قبائلی طور پر انتہائی کمزور ہے۔ اس پر کسی کو اعتراض نہیں کیونکہ ہمارے بڑے بڑے قبائل ہیں جو ایک دوسرے کی بادشاہت کو قبول نہیں کرتے۔
ہمارے قبائل کا خواہ وہ بگٹی، مری، بنگلزئی یا مینگل ہو ، سردار وہ ہو گا جو انتہائی کمزور اور چھوٹے قبائل کا ہو گا۔ تو اس لیے ہم نے عرب کو اپنا حکمران بنایا ہوا تھا۔ اور جب عرب آئے ، تو وہ آپس میں لڑنے لگ گئے ، تو مسلمان مسلمان کے خلاف لڑنے لگے ، تو ہمارے ساتھ یہ ڈرامہ نہیں ہوا۔ تو اس لیے محمد بن قاسم آیا تو وہ ہمارا ہیر و نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب 1947 آیا، تو یہ بھی اوپر سے آیا، ہمارا معاملہ نہیں ہے۔ لیکن ہمارا بنیادی معاملہ ہی گڑھ بڑھ ہے۔ مثلاً پھر میں ایک بات کرتا ہوں آب بات کرتا ہوں آپ سے ، جو بر صغیر کا ترقی پسند لکھاری ہے ، تو دو قومی نظریے کا کوئی علمبردار ہے ، تو وہ یہ لوگ ہیں۔ اب میں ایک نئی بات کر رہا ہوں آپ سے ، یعنی دائیں باز و والا تو ہے ہی، یہ جو ہمارے بائیں بازو کے لوگ ہیں ، اس وقت دو قومی نظریے کے علمبردار ہیں، تو وہ یہ لوگ ہیں۔
مثلاً میں آپ کو ایک فقرہ کہتا ہوں کہ یہ دیکھو، یورپ نے اتنی ترقی کر لیا وغیرہ وغیرہ، ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔ میں سوال کرتا ہوں، یہ ہم سے کیا مطلب ہے ؟ اب ہم سے کون ؟ اب ہم سے مطلب کہ ادھر یورپ ہو گیا، ادھر ایک جگہ ہے ہم ؟ ہم جی مسلمان۔ مسلمان پیچھے رہ گئے۔ میں کہتا ہوں، البانیا کا، ترکی کا مسلمان پیچھے رہ گیا؟ پاگل تو نہیں ہو ، مسلمان تو homogeneous معاشرہ تو نہیں۔ تو عرض یہ ہے کہ جو نظریاتی معاملہ آگیا، شناخت کا معاملہ آگیا، تو یہ 1947 کے بعد یاد آگیا۔ پاکستان دو دن نہیں چلے گا ان حکمرانوں کے ساتھ ، جن میں زرداری شامل ہے، جس میں یہاں کا سردار اور پنجاب شامل ہے ، دو دن بھی نہیں چلے گا اگر یہ اسلام کا نام چھوڑ دیں۔ اسلام کے زور سے عام آدمی کو آسانے نے پھنسایا ہوا ہے۔ اس وجہ سے اپنی تمام بد معاشیاں کر رہا ہے۔ ہر کام کرے گا اور اسلام کا پردہ لگا لے گا اور ظلم کرتا رہے گا، نا انصافی کرے گا۔
ضیاء الحق، مرد مومن، مرد حق کوئی انسان یہ نہیں بولتا کہ ضیاء الحق فلسطین میں گیا اور لوگوں کو مارا، آپ کا ہیر و ہے۔ اتنا بونڈا مزاج پنجاب کے عوام کا بنایا گیا کہ آپ حیران ہو جائیں گے کہ کیسے لوگ ہیں کہ ضیاء الحق کے ساتھ ، اتنا ناروا اور ظالم انسان کے ساتھ ! اس کے ہیرو غوری، غزنوی، جو دنیا کا سب سے بڑا ڈا کو ، حملہ آور ، اور لٹیرا ہے ، ان لوگوں کا ہیر و ہیں۔ اور جب آپ کا اپنا ہیرو نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ پنجاب کے چودہ کروڑ افراد ایک خوبصورت تاریخ کا مالک ہیرو نہ ہو ، ممکن ہی نہیں۔ وہ اپنا ہیرو ڈھونڈتا ہی نہیں ، وہ اپنے ہیرو کو ہیرو سمجھتا ہی نہیں، لہذا وہ اپنا ہیر و بر آمد کرتا ہے اور کرے گا کہ افغان یا عرب سے۔
عرب سے ایک حملہ آور تھا، محمد بن قاسم، اور بڑا نہیں تھا۔ ادھر تو ہر آدمی بیوی سے ناراض ہو جاتا تھا، لشکر لے کر لاہور پر قبضہ کر لیتا تھا۔ اسلامی تعرض تعمیر ، مغل تعرض تعمیر ۔ اب وہ مغل کون ؟ ڈا کو تھا۔ بابر سے لے کر ا ہمایوں، شیر شاہ، سب کے سب ایسے ہی تھے۔ اور کس کے ان کے ہیر و ہیں ؟ اور یہ باقاعدہ افغانستان نے احتجاج کیا کہ جب آپ نے میزائلوں کے نام غوری رکھا اور دوسرے کا نام کچھ اور لکھا، انہوں نے احتجاج کیا کہ بھائی صاحب، آپ کیا کرتے ہیں؟ یہ تو میرے لوگ ہیں، تم نے اپنا نام کیوں رکھا ؟ اب آپ ہکا بکا رہ گئے۔
یہ اپنے مردم کش، اپنی صلاحیتوں کو قتل کرنے والے لوگ ہیں۔ حبیب جالب ایک شاعر ، آپ یقین کریں، دس ہزار لوگ ایک طرف کریں، مجھے حبیب جالب اچھا لگے گا۔ اتنا بڑا آدمی ہے کہ آپ تصور نہیں کر سکتے کہ کتنا بڑا آدمی ہے اور اس کو کوئی کھنٹا ہی نہیں، شمار ہی نہیں کرتے۔ ایک دفعہ اے این پی کا کار کن موٹر سائیکل پر “ ہوئے جالب ، میں تینوں لب دیے ” انگریزی شراب لے آیا۔ ہم بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے ، تو جالب نے کہا کہ حنیف، میں نے تیرے ساتھ سیاست بھی نہیں کرنی، تیرے ساتھ پینے بھی نہیں۔ شرابی آدمی کو آپ شراب لاؤ اور وہ کہے میرا تمہارے ساتھ سیاست والا معاملہ نہیں، میں نہیں پیتا۔
ادھر ہمارے ساتھ مچھ جیل میں یہ آدمی رہا ہے۔ ایک بلوچ اپنے آپ کو ایک بڑا گوریلا کہتا تھا۔ وہ ہر شام وہ بلوچ انگریزی شراب پیتا تھا جیل میں۔
تو جالب نے کہا کہ کہاں سے لاتے ہو ؟ تو اس نے کہا مچھ میں ہندو بہت ہیں۔ تو جالب نے کہا ان کو پیمنٹ کرتے ہو ؟ تو اس نے کہا ہندو کو کہاں پیمنٹ ، میں حکم دیتا ہوں ، وہ لے آتا ہے۔ اب یہ جالب جیل میں، اس نے ایک جواب دیا کہ اچھا، آپ جیل میں ہیں اور ہندو پر ظلم کر کے مفت کا پیتے ہو ؟ آج کے بعد میں تیرے ساتھ شراب نہیں پیوں گا۔ ایسا قانون والا، ایسا حصول والا آدمی آپ کا ہیر و نہیں۔
بد بختوں، مجھے چھوڑو، میں اسے اپنا ہیر و بناؤں۔ اب میرا مسئلہ یہ ہے کہ اپنی پر اکسی لے کر یہاں بادشاہ بناتے ہیں، یہ لوگ۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ مجھے جھوٹ دیتے ہیں ؟ کوئٹہ کے چوکوں پر میں مجسمہ نہیں لگاتا، جس نے بلوچستان پر شاعری کی ہے ، ویسے ہی مظلوموں کا ساتھی ہو۔
میں پنجابیوں سے بار بار کہتا ہوں کہ پنجابیوں، اپنی شناخت لاؤ، لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہم تو لائیں گے، لیکن حکمران لانے نہیں دیتے۔ اپنی شناخت لائے تو اسلام گیا۔ بھلے شاہ، گرونانک ، دولا سے بڑا آدمی کوئی ڈھونڈ سکتے ہو ؟ پنجاب کی یونیک، عوامی ، درخشاں تاریخ ہے۔ حاکم جیسے کی تاریخ لعنتی ہے ، ظلم کرتا ہے، دکھ، تکلیف دیتا ہے۔ مظلوم ، عام عوام کی زبردست تاریخ پرانی آبادی، یہ نہریں تو اٹھارویں صدی میں آئیں۔ اس سے پہلے ہمارے جیسے لوگ تھے ، بارش ہو گئی تو ٹھیک ورنہ ۔ پنجابی کو خدا ہدایت دے، اب میں کیا بولوں ؟ ہمار اگلا ان کے ہاتھ میں ہے، ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ایک بات اور ، دوسری بات یہ ہے کہ آرکیالوجی نے ثابت کیا ہے کہ تاریخ بالکل وہ نہیں ہے جو ہم اور آپ پڑھتے رہے ہیں۔
مہر گڑھ دریافت ہوا، سب کو پتہ ہے، نو ہزار سال قبل کی ثقافتی ورثہ ہے۔ یہ ورثہ نہ تباہ ہوا، نہ زلزلہ آیا۔ ایک ورثہ آج بھی کھڑا ہے، صرف ہجرت ہوئی ہے۔ یہ سویلائزیشن کبھی بھی نہیں مرے۔ یہ موئن جو دڑو سے بھی قبل کی ہیں۔ پھر ہجرت کر کے مہر گڑھ کی طرف چلا گیا اور پھر جڑ پہ چلا گیا، جو کہ ساہیوال کے بہت قریب
ساہیوال میں ایک کا نفرنس میں میں نے کہا، ایک کزن بلوچستان سے اپنے کزنز سے ملنے کے لیے سیالکوٹ آیا ہوا ہے۔ تو آپ لوگ خامخواد لگے ہوئے ہو، اسلام ہے، مسلم لیگ ہے۔ میں نے تمہیں ساری تاریخ سنادی ہے۔
آر کیا لوجی جو آگہی ہے، ایک سائنس ہے۔ بین الاقوامی مباحثہ ، سیمینار ہوتے ہیں۔ آپ نے discover کیا، کتاب لکھ لیا، تو ہم لوگوں نے مان لیا ؟ ہم لوگ آپس میں کزن ہیں۔ ٹھیک ہے، کزن بھی آپس میں لڑے ہیں۔ تم غلط آثار کیوں لا رہے ہو مفت میں ؟ ہم تو بنیادی طور پر ایک قوم ہیں، ایک کزنز ہیں۔ لڑ رہے ہیں، خیر ہے۔ مری، بگٹی آپس میں لڑے، بگٹی آپس میں خود لڑے۔ یہ جو بگٹی صاحب وزیر اعلی ہیں، تو دوسرے نواب بگٹی سے لڑا۔ وہ تضاد ہے ، وہ تضاد اتنا ہو گیا کہ اس کی نفرت پورے بلوچستان میں نازل ہو گئی۔ تو بنیادی طور پر ایک نسل، ایک قوم کے لوگ ہیں۔ ہم انہوں نے حکمرانی کے لیے مجبور بطور ایک آلہ ، مذہب کا استعمال کرنا پڑا اور پنجاب کے عوام کو جاہلیت میں دھکیلنا ہے۔
دو tool اس کے پاس ہیں۔ اس لیے یہاں جتنی بھی ترقی پسند تحریک آپ چلائیں، ادھر وہ ثابت کریں گے کہ یہ تو روس سے پیسے لیتے ہیں ، ان کے چہروں کا نور غائب ہے ، ہندوستان سے پیسے لیتے ہیں ۔ اور وہ بیچارہ یقین کر لیتا ہے۔ اسے ہندوستان کے علاوہ کسی چیز کا پتہ ہی نہیں۔
تو لہٰذا ہمارے لیے پنجاب کے دانشور کی بد تمیزی، اس کے بے عملی سے ، اس کے inactive ہونے سے ، اس کے غیر ذمہ دار ہونے سے، تنظیمیں نہ بنانے سے، تو مڈل کلاس ذمہ دار ہے اس تمام مصیبت کا، جس کا بلوچ سامنا کر رہا ہے، جس کا خود پنجابی سامنا کر رہا ہے۔ اگر مڈل کلاس انسان بن جائے، شعور دے، صحافت میں، مضامین میں، اور صرف شعور دینا کافی نہیں، ان کو آرگنائز کرنا بھی مڈل کلاس اور دانشور کا کام ہے۔ So پنجاب کا دانشور دشمن اول ہے ، ہمارا، آپ کا، سب کا، کہ وہ بکا ہوا ہے ، وہ کوئی کام نہیں کرتا۔ ایک دو فیصد کو چھوڑ کر، جو majority دانشور ہے، پنجابیوں کا ، امریکنز کا، یہ دونوں بہت گندے لوگ ہیں۔
عامر رانا: بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب، وقت کی کمی ہے۔ ہم آتے رہیں گے آپ کو تنگ کرنے کے لیے۔

